نواب رئیسانی اور بلوچستان کا ناکام مقدمہ

بلوچستان کی دھرتی کو ہم ماں سمجھتے اور ماں کہتے ہیں۔ ماں کی طرح اس کی عزت و تکریم کرتے ہیں۔ اس کے ریگستانوں اور پہاڑوں سے پیار کرتے ہیں۔ اس دھرتی پر بسنے والی تمام ماؤں کے دکھ کو سمجھتے ہیں۔ ہر بیٹے کی طرح اس کی تکلیف پر بے چین ہو جاتے ہیں۔ لیکن آج یہ سسکیاں لے کر رو رہی ہے۔ شاید اس لیے کہ اس کا مان ٹوٹ چکا ہے۔ اس پر بھروسا نہیں کیا جا رہا۔ کیا یہ بانجھ ہو چکی ہے۔ کیا اس دھرتی ماں نے کوئی ایسا سپوت نہیں جو اس کے حقوق کا دفاع کر سکے اس کا قرض لوٹا سکے۔ اس کے پرانے زخموں پر مرہم رکھ سکے۔

Read more

ایماندار وزیراعلی کی بلی تھیلے باہر

بلوچستان نے بطور صوبہ بڑی عجیب قسمت پائی ہے۔ اس کی صلہ رحمانہ آغوش میں جنم لینے والے نہ قوم پرست، نہ پیر پرست، نہ اسلام پرست، اور نہ ہی وفاق پرست۔ سیاست کرنے والے اس کے اپنے فرزندوں نے اس بدقسمت صوبے کے مفادات کا تحفظ کیا اور نہ ہی کبھی اس پر صلہ رحمی کی بلکہ ماں کے احساس محرومی کو کیش کرنے کی کوششیں کی بلوچستان میں کرپشن پر شور ہوتا تو احتسابی عمل کے شروع ہونے کی نوید سنا دی جاتی ہے اور کاغذی دنیا میں انکوائریاں جاری رہتی ہیں اور پھر اگلا سیزن آتا ہے پھر کرپشن کا شور ہوتا ہے۔ پھر اگلی انکوائری شروع ہوجاتی ہے اور یوں یہ کاروبار جاری رہتا ہے۔ آج تک کسی ذمہ دار کا تعین ہوا ہے۔ نہ ہی کسی کو سزا ہوئی ہے کیونکہ کوئی بھی واردات کرنے کے لیے پہلے بڑی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ اس کے جزئیات پر پوری تفصیل سے گفتگو ہوتی ہے۔ اور کوشش ہوتی ہے کہ وار خطا نہ ہو۔ ہر پہلو سے اس کا جائزہ لے کر پھر وار کیا جاتا ہے۔

Read more

بلوچستان پر شاطر افسران کا قبضہ

بلوچستان کی اعلی و ارفع بیوروکریسی  کی بساط پر  کھلاڑی بڑے شاطر ہوتے ہیں ان کی ہر چال کے پیچھے ایک جال ہوتا ہے۔ اور ماہر کھلاڑی کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کی چالوں کو عام شائقین یا مخالف کھلاڑی سمجھ نہ سکے۔ وہ اپنے مہروں کی موو کو پلاننگ سے ایسے ترتیب دیتا…

Read more

لٹو تے پھٹو

پوری دنیا میں تقریباً تمام بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز اپنے پرانے مال کو بیچنے کے لیے لوٹ سیل کا ٹیگ لگا دیتے ہیں۔ جس سے مال سستا یا ڈسکاونٹ پر مل جاتا ہے۔ جبکہ امریکہ میں تو لوٹ سیل یا بلیک فرائیڈے سے مراد یوم شکرانہ ہے جو کہ (نومبر کی چوتھی جمعرات) کے بعد آنے…

Read more

باپ کے نافرمان بچے

ہر عام و خاص بلوچستانی یہ سمجھتا ہے کہ موجودہ بلوچستان میں اگر کوئی نظریاتی جماعت ہے اور نظریات کے لوگ کسی سیاسی شکل موجود ہیں تو بلوچستان عوامی پارٹی ہے جہاں اس قدر نظریاتی لوگ ہیں کہ جو اپنا سر تو کٹا سکتے ہیں لیکن نظریات پر سمجھوتے کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔…

Read more

یہ توہین حکومت نہیں توہین عدالت ہے

بلوچستان میں ریاست و حکومت میں جو فرق ہے اس کے بارے میں میرے دل میں کھٹک ہے۔ کیونکہ دنیا میں آج سے دو سو سال قبل یہ صورت حال موجود تھی جہاں صرف ”حکومت“ ہی کا وجود تھا، ”ریاست“ کا کوئی تصور نہ تھا۔ کوئی شخص حکومت کے خلاف کھڑا ہوا تو فوراً اسے…

Read more

بلوچستان میں وزرا تشدد پر کیوں اتر آئے؟

اعلی قیادت کا مالی و جنسی کرپشن سے پاک دامن ہونا نظام کی بقا کے لئے ناگریز ہے جبکہ بلوچستان میں سب مختلف ہے۔ اگر آپ کی پشین ریسٹ ہاؤس میں کسی مالی کے ساتھ جان پہچان ہو تو آپ کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اعلی افسران میں سے کون کسی نامحرم خاتون کے ساتھ…

Read more

بلوچستان میں کرپشن نہیں، شور مچانا جرم ہے

جب آپ کا قلم کاغذ کا سامنا کرنے سے شرماتا ہو اور لکھنے سے شرمسار ہو لیکن کرپٹ نظام جس کے متعلق آپ بار باراپنے قلم کو لکھنے پر مجبور کررہے ہوں لیکن کرپٹ مافیاز کو اس کا احساس تک نہ ہو تب بات شرمندگی اور بے حیائی کی سی کیفیت اختیار کر لیتی ہے…

Read more

حقائق سے کتراتے ہوئے حکمران

میں وزیراعلی بلوچستان جام کمال کے اکثر اخباری بیانات کو ان سے ان کی میڈیا ٹیم کا منسوب کردہ سمجھ کر نظرانداز کردیتا ہوں۔ جبکہ ان کے ٹوئٹر اکاونٹ سے ٹوئٹ کو ان کی اپنی سوچ، رہنمائی، پیار یا غصہ کا اظہار سمجھتا ہوں۔ کل میری حیرت کی انتہا نہیں رہی جب وٹس ایپ پر…

Read more

ناکام کھلاڑی اور سلیکٹر کا امتحان

میرا ماننا ہے کہ حکمرانوں کو ہمیشہ تنقید کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ کچھ ان کی خواہشات بھی ہوتی ہیں کبھی انہیں بھی آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ کورونا وائرس سے نمٹنے میں جس طرح ہمارے حکمرانوں نے جاں فشانی سے کام کیا ہے اور اپنے آرام کا خیال نہیں رکھا اس کی مثال حالیہ تاریخ میں مشکل سے ہی ملے گی۔ لہذا کچھ آرام کے لیے فرصت ضروری تھی اس لیے ہمارے حکمران نے جھل مگسی کا رخ کیا جہاں آج کل بہار کا موسم ہے اور شکار بھی مل جاتا ہے۔

Read more