اپوزیشن اور حکومتی گٹھ جوڑ کا شکار، بلوچستان

سمجھنے سے قاصر ہوں کہ پڑھا لکھا اور ایماندار شخص اگر خود ایماندار بھی ہے پڑھا لکھا بھی ہے تو سرکاری کاغذات میں غیر ایماندارانہ لوگوں کی باتیں نہ صرف سنتا ہو بلکہ اس پر من و عن عمل بھی کرتا ہو۔ تو دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری کی پوری دال کالی ہے۔ ابھی کل ہی میں نے ایس این ای میں غیر قانونی پوسٹوں کی تخلیق کے حوالے سے بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی

Read more

عدالتی فیصلے اور بلوچستان حکومت

بڑی تعداد میں فیصلوں کے باوجود کل صوبائی کابینہ نے 184 نئی اسکیمات منظور کر لیں جن کو سابق ایڈیشنل چیف سیکرٹریز ڈویلپمنٹ عبدالرحمن بزدار اور صبور کاکڑ نے شامل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ایڈووکیٹ جنرل صاحب بھی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ جنہوں نے ان اسکیمات کو شامل کرنے میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 84 کا حوالہ بھی دیا۔ کیا کہنے لیگل opinion کے اور لیگل ٹیم کے؟ ارباب اختیار کے بقول نئی اسکیمات کسی بھی وقت

Read more

بلوچستان میں کرپشن کی حوصلہ افزائی

محکمہ صحت کا قلمدان پڑھے لکھے وزیراعلی بلوچستان کے پاس ہے لیکن بدانتظامی اور کرپشن کی خبریں نہ صرف چار سو پھیلی ہیں بلکہ محکمے میں کام کرنے والے اہلکاروں کی گرفتاریاں اور انکوائریوں کے لئے طلبی کے نوٹسز سوشل میڈیا کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ ابھی کل نیب بلوچستان نے محکمہ صحت میں کرپشن کی تحقیقات کے لئے سابق اسپیشل سیکرٹری صحت کپتان ریٹائرڈ طاہر ظفر عباسی کو طلب کر لیا ہے۔

Read more

وفاقی برہمن میں بلوچستان

ہندوستان سے تاج برطانیہ کے سورج کو غروب ہوئے تہتر سال سے زیادہ مدت ہو چلی ہے۔ لیکن ہمارا موجودہ بیوروکریٹک نظام محض چند معمولی تبدیلیوں کے ساتھ کم و بیش اسی طرح چلا آ رہا ہے۔ اس میں کوئی ابہام نہیں ہے کہ ان چند معمولی تبدیلیوں نے بھی اس بوسیدہ نظام کے وقار اور افادیت کو بہت حد تک مجروح کیا ہے۔ بیوروکریسی وہ حکومتی تنظیم ہے کہ جسے امور مملکت کو آئین اور قانون کے مطابق چلانا ہوتا ہے اور اپنے سیاسی آقاؤں کو بھی آئین اور قانون کی ایڈوائس دینا ہوتی ہے۔

امور مملکت کو چلانے کے لیے قوانین مرتب کیے جاتے ہیں اور ان قوانین کو عوام کی بہتری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور اس کی آڑ میں اپنے چند گروہی مفادات کے تحفظ کے لیے قوانین بنائے جاتے ہیں۔ جس طرح ہندو مذہب میں ذات پات کا سسٹم ہے اسی طرح کا ملتا جلتا سسٹم ہماری بیوروکریسی کا بھی ہے۔ بیوروکریسی میں برہمن کا رتبہ مرکزی حکومت سے بھجوائے گئے افسروں کو حاصل ہے۔ جنہیں پہلے ڈی ایم جی اور آج کل پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کا نام دیا گیا ہے۔

Read more

توہین عدالت اور بد ترین گورننس

کسی بھی حکومت یا اس کے محکموں کے خلاف کتنے مقدمات عدالتوں میں چل رہے ہیں، یہ بظاہر ایک عام سا سوال لگتا ہے، لیکن یہی سوال کسی بھی حکومت کی گورننس کو پرکھنے کا سب سے آسان اور سائنٹفک طریقہ ہے۔ جب کوئی حکومت، قانون اور ضابطے کے مطابق چلائی جاتی ہے، تو نا انصافی، بد انتظامی اور کرپشن کی شکایات بہت کم ہو جاتی ہیں، کیوں کہ ہر شخص کو اطمینان ہوتا ہے کہ اس کا کام کچھ عرصے کے بعد ہی سہی لیکن قانون اور ضابطے کے مطابق ہو جائے گا۔

لیکن جب بد انتظامی، کرپشن، میرٹ کی پامالی اور اقربا پروری عروج پر ہو، تو بے بس اور نا انصافی کے شکار لوگوں کے پاس عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچتا۔ میرے ایک دوست سرکاری وکیل کے بقول اس وقت صوبائی حکومت اور اس کے مختلف محکموں کے خلاف ان دو سالوں میں سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں مقدمے صوبے کی مختلف عدالتوں میں چل رہے ہیں اور سنا ہے سرکاری سطح پر حکومت کا دفاع کرنے کے لیے موجودہ وکلا کی تعداد نا کافی ہو چکی ہے۔ شاید اس میں اضافے کے لیے صوبائی حکومت کو درخواست بھی کی جا چکی ہے۔

Read more

آئینی جنگ کون لڑے گا؟

اہم آئینی عہدوں پر تعینات شخصیات نے عہدوں کے تقدس کو پامال کر کے رکھ دیا ہے۔ خفیہ ملاقاتیں اور خلاف قانون اقدامات زبان زد عام ہیں۔ یوں لگتا ہے یہ لوگ آئین شکن اداروں میں غلط راستے سے گھس گئے ہیں اور نظام کو یرغمال بنا لیا ہے۔ صوبے میں انارکی کی صورت احوال ہے اور صوبہ بنانا ریپبلک کا منظر پیش کر رہا ہے۔ بچے بچے کو معلوم ہے کہ کس نے کس سے ملاقات کی، لیکن ڈر کا ایک ایسا ماحول ہے کہ کوئی شخص کھلے عام یہ بات نہیں کرتا۔ نجی محفلوں میں یہ باتیں خوب دل کھول کر کی جاتی ہیں۔ آپ حساس شخص ہیں تو اس کو منافقت قرار دیتے ہیں کہ یہ سب باتیں تو برملا کرنے کی ہیں۔

یہ سب زیر لب کیوں کر رہے ہیں یا کیسا خوف ان پر طاری ہوا ہے کہ غلط اقدامات میں مدد بھی دیتے ہیں اور خود ندامت کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ پبلک سروس کمیشن کے لئے چیف سیکرٹری بلوچستان کے ارسال کردہ 17 ناموں کی فائل،وزیر اعلی بلوچستان نے واپس کر کے 6 نام اپنی طرف سے شامل کر کے، چیف سیکرٹری بلوچستان کو ان کا انٹرویو کرنے کا حکم دیا۔ حیران کن طور پر چھے نام وزیر اعلیٰ نے دیے اور 17 کی ریکمنڈیشن جو چیف سیکرٹری بلوچستان نے کی تھی، میں سے نئی لسٹ میں 5 ارکان کی پوزیشنوں کے لئے 8 نام وزیر اعلیٰ بلوچستان کو ارسال کیے گئے، جن میں صرف 3 ارکان کی تعیناتی کی سفارش کی گئی۔ اس میں 70 سالہ سلام بلوچ، فضل داد کاکڑ اور مدثرہ اسرار کے نام شامل ہیں۔ جب کہ چیف سیکرٹری بلوچستان کی جانب سے بھجوائے گئے دوسرے ناموں میں نصیب اللہ بازئی، عبداللہ، رانا نصیر احمد، سرور جاوید کے نام شامل تھے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے دانستہ طور پر 5 پوسٹوں میں سے دو پوسٹ خالی رکھ کر اپنے معاملات اور اپنوں کو نوازنے کا فیصلہ کیا ہے۔

Read more

بلوچستان کی فکر آخر کس کو ہے؟

جام کمال کی حکومت کو بلوچستان پر مسلط ہوئے دو سال اور غالباً دو ماہ ہو چکے ہیں۔ اگر ان کی بحیثیت حکمران خوبیوں کا جائزہ لیا جائے تو سوائے پرو اسٹیبلشمنٹ اور قدرے تعلیم یافتہ ہونے کے تیسری کوئی خوبی نظر نہیں آتی۔ اب اگر پرو اسٹیبلشمنٹ والی بات کی جائے تو ہمارے صوبے کے بہت سی نامور ہستیاں اس لسٹ میں شامل نظر آتی ہیں۔ تاہم ایک عوامی حکومت کی خصوصیات سے عاری جام کمال کی حکومت کا ایک ہی کمال ہے کہ یہ اب تک عوامی منشا کے برخلاف قائم ہے۔ جس میں شاید ان کا کمال کم ہے البتہ سلیکٹرز کی کاوشیں اور کمال زیادہ لگتا ہے۔

ایک دوست کے بقول اگر جام حکومت پر سایہ کیے ہوئے ہاتھ اٹھ جائیں تو اسمبلی میں زوروشور سے جام کے حق میں بولنے والے سب سے پہلے مخالف میں بول رہے ہوں گے اور شاید لسبیلہ تک جانے کے لیے بھی اپنے ذاتی ڈرائیور کو بلانا پڑے گا۔ پنجاب خوش قسمت ہے کہ ان کے لکھاری ہر چیز پر نظریں مرکوز کیے ہوئے ہیں اور صوبے کی بہترین بیوروکریسی کے باوجود انہیں وزیراعلی عثمان بزدار کی کارکردگی ناقص نظر آتی ہے۔

Read more

شرمندگی کا شکار بلوچستانی ایئر ایمبولنس

کمزور اختلاف رائے اور منافقانہ ڈمی سیاست نے بلوچستان کو ہر سطح پر مزید کمزور بنا دیا ہے یہاں پر اختلاف رائے کی کمی ہے کہ الفاظ کے ہیر پھیر کے ماہر لوگ کچھ اس ڈھٹائی سے سرعام بکری کو شیر اور شیر کو بکری بنا دیتے ہیں عالم یہ ہے کہ کروڑوں کے مجمعے میں بڑی آسانی سے داد دی جاتی ہے اور سب اس کوحقیت تسلیم بھی کرلیتے ہیں اور ہرطرف تالیوں کی گونج اس جعلی اور جھوٹے

Read more

خلافت کمالیہ کا بلوچستانی ایئر ایمبولینس

بلوچستان حکومت کے بجٹ کا سرسری جائزہ لینا بیٹھا ہوں یوں لگا جیسے اچھے مقرر نے الفاظ کے ہیر پھیر سے سب کو مطمئن اور رائے عامہ اپنے حق میں کرنے کی کوشش کی ہے میں نے ابھی صوبائی وزیر خزانہ ظہور بلیدی کی بجٹ تقریر کے کچھ صفحات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے معلوم ہوا کہ جام کمال کی حکومت نے عوام کے ساتھ ساتھ اپنے پارلیمنٹرین کو بھی ماموں بنانا شروع کر دیا۔ پچھلے سال۔ 923۔ 419 ارب

Read more

ایک اسسٹنٹ کمشنر کی دوران ڈیوٹی بے بسی کی موت

کئی دونوں سے لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن قلم الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہا ہے۔ نظام کا وجود اپنے اختتام کی آخری سسکیاں لے رہا ہے۔ 8 جون کو تقریباً 6 بجے شام مجھے میسیج موصول ہوتا ہے جس کے الفاظ کچھ یوں تھے۔

بایزید بھائی میں وکیل کاکڑ اسسٹنٹ کمشنر (خالق آباد) منگوچر کا بھائی ہوں ان کو ڈیوٹی کے دوران کورونا کا مرض لاحق ہوگیا تین دن تک وہ اپنی جائے تعیناتی پر بے یارو مددگار اپنی سرکاری رہائش گاہ پر پڑے رہے بعد میں ہمیں ان کی بیماری کی خبر ہوئی تو ہم ان کو علاج کی غرض سے کوئٹہ لے کر آئے اور وہ 26 مئی 2020 سے شیخ زائد ہسپتال کوئٹہ میں بد قسمتی سے داخل ہیں۔

بھائی نے آپ کا نمبر دیا ہے اور آپ سے رابطہ کرنے کو کہا ہے۔ ہم مایوس اور بے بس ہو کر آپ کو میسیج کر رہے ہیں۔ کل رات کو یک دم سے پورے ہسپتال میں آکسیجن سلنڈر میں پریشر ختم ہوگیا ہے جس سے تین کورونا کے مریضوں کی اموات واقع ہوئی ہیں۔ وہیں وکیل کاکڑ کی طبیعت بھی سخت بگڑ گئی اور مسلسل بگڑتی جا رہی ہے۔ آکسیجن کے کم پریشر کی وجہ سے ہمیں بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

Read more

جلال الدین اکبر کا جام کمال کو مناظرے کا چیلنج

بلوچستان میں ہر رنگ کی سلیمانی ٹوپی جیب میں رکھ کرنسلوں سے بلا خوف و خطر حکومت کرنے والے آخر کون لوگ ہیں ان کا احتساب کبھی ہوگا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب نہ کرپشن کرنے اور نہ حساب کتاب کرنے والے قانونی ذمہ داروں کے پاس ہے۔ چلتی کا نام گاڑی ہے جیسی صورتحال کے تحت یہ صوبہ چلایا جا رہا ہے ماضی میں وزراء اعلی اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حاصل اختیارات کے

Read more

بلال احمد نورزئی اور طاہر ہزارہ کا مدلل بیان

میں متعصب ہوں نہ مجھے کسی سے کوئی ذاتی چپقلش ہے۔ تمام انسانوں کی طرح میرے احساسات و جذبات ہیں۔ میں جانتا ہو کسی حقیقت پسند لکھاری کے لئے تحریر اور حقیقت پسند مقرر کے لئے تقریر، اس وقت سخت ترین بن جاتی ہے، جب تحریر یا تقریر اس کے لسانی، سیاسی، مذہبی یا پھر دنیاوی، یا کوئی مشترک مفاد منسلک ہونے کا شبہ کیا جا سکے۔ ایک طرف وہ لوگ ہوتے ہیں جن پر الزام ہوتا ہے۔ دوسری طرف وہ ہوتے ہیں جن کے مفاد کو نقصان پہنچتا ہے، تو ایک بنتی بدلتی عوامی آرا کی صورت پریشر اور طرف داری کا الزام لگایا جاتا ہے۔

Read more

نواب رئیسانی اور بلوچستان کا ناکام مقدمہ

بلوچستان کی دھرتی کو ہم ماں سمجھتے اور ماں کہتے ہیں۔ ماں کی طرح اس کی عزت و تکریم کرتے ہیں۔ اس کے ریگستانوں اور پہاڑوں سے پیار کرتے ہیں۔ اس دھرتی پر بسنے والی تمام ماؤں کے دکھ کو سمجھتے ہیں۔ ہر بیٹے کی طرح اس کی تکلیف پر بے چین ہو جاتے ہیں۔ لیکن آج یہ سسکیاں لے کر رو رہی ہے۔ شاید اس لیے کہ اس کا مان ٹوٹ چکا ہے۔ اس پر بھروسا نہیں کیا جا رہا۔ کیا یہ بانجھ ہو چکی ہے۔ کیا اس دھرتی ماں نے کوئی ایسا سپوت نہیں جو اس کے حقوق کا دفاع کر سکے اس کا قرض لوٹا سکے۔ اس کے پرانے زخموں پر مرہم رکھ سکے۔

Read more

ایماندار وزیراعلی کی بلی تھیلے باہر

بلوچستان نے بطور صوبہ بڑی عجیب قسمت پائی ہے۔ اس کی صلہ رحمانہ آغوش میں جنم لینے والے نہ قوم پرست، نہ پیر پرست، نہ اسلام پرست، اور نہ ہی وفاق پرست۔ سیاست کرنے والے اس کے اپنے فرزندوں نے اس بدقسمت صوبے کے مفادات کا تحفظ کیا اور نہ ہی کبھی اس پر صلہ رحمی کی بلکہ ماں کے احساس محرومی کو کیش کرنے کی کوششیں کی بلوچستان میں کرپشن پر شور ہوتا تو احتسابی عمل کے شروع ہونے کی نوید سنا دی جاتی ہے اور کاغذی دنیا میں انکوائریاں جاری رہتی ہیں اور پھر اگلا سیزن آتا ہے پھر کرپشن کا شور ہوتا ہے۔ پھر اگلی انکوائری شروع ہوجاتی ہے اور یوں یہ کاروبار جاری رہتا ہے۔ آج تک کسی ذمہ دار کا تعین ہوا ہے۔ نہ ہی کسی کو سزا ہوئی ہے کیونکہ کوئی بھی واردات کرنے کے لیے پہلے بڑی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ اس کے جزئیات پر پوری تفصیل سے گفتگو ہوتی ہے۔ اور کوشش ہوتی ہے کہ وار خطا نہ ہو۔ ہر پہلو سے اس کا جائزہ لے کر پھر وار کیا جاتا ہے۔

Read more

بلوچستان پر شاطر افسران کا قبضہ

بلوچستان کی اعلی و ارفع بیوروکریسی  کی بساط پر  کھلاڑی بڑے شاطر ہوتے ہیں ان کی ہر چال کے پیچھے ایک جال ہوتا ہے۔ اور ماہر کھلاڑی کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کی چالوں کو عام شائقین یا مخالف کھلاڑی سمجھ نہ سکے۔ وہ اپنے مہروں کی موو کو پلاننگ سے ایسے ترتیب دیتا ہے کہ جس سے اسے زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو۔ اور مخالف کھلاڑی کو شہ مات ہو جائے۔ کیونکہ اگر مخالف کھلاڑی چالوں کو سمجھ

Read more

لٹو تے پھٹو

پوری دنیا میں تقریباً تمام بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز اپنے پرانے مال کو بیچنے کے لیے لوٹ سیل کا ٹیگ لگا دیتے ہیں۔ جس سے مال سستا یا ڈسکاونٹ پر مل جاتا ہے۔ جبکہ امریکہ میں تو لوٹ سیل یا بلیک فرائیڈے سے مراد یوم شکرانہ ہے جو کہ (نومبر کی چوتھی جمعرات) کے بعد آنے والا جمعہ ہے۔ بلیک فرائیڈے کو اگرچہ سرکاری تعطیل نہیں ہوتی، تاہم کیلیفورنیا اور بعض دیگر ریاستوں میں سرکاری ملازمین کسی دوسری وفاقی تعطیل (مثلاً

Read more

باپ کے نافرمان بچے

ہر عام و خاص بلوچستانی یہ سمجھتا ہے کہ موجودہ بلوچستان میں اگر کوئی نظریاتی جماعت ہے اور نظریات کے لوگ کسی سیاسی شکل موجود ہیں تو بلوچستان عوامی پارٹی ہے جہاں اس قدر نظریاتی لوگ ہیں کہ جو اپنا سر تو کٹا سکتے ہیں لیکن نظریات پر سمجھوتے کا سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔ کیونکہ اسی نظریات کے تحت سب نظریاتی لوگ راتوں رات دور دراز علاقوں سے ایک نظریہ پر اکٹھے ہوئے تھے اب یہ نظریہ چھوڑنا ان

Read more

یہ توہین حکومت نہیں توہین عدالت ہے

بلوچستان میں ریاست و حکومت میں جو فرق ہے اس کے بارے میں میرے دل میں کھٹک ہے۔ کیونکہ دنیا میں آج سے دو سو سال قبل یہ صورت حال موجود تھی جہاں صرف ”حکومت“ ہی کا وجود تھا، ”ریاست“ کا کوئی تصور نہ تھا۔ کوئی شخص حکومت کے خلاف کھڑا ہوا تو فوراً اسے باغی قرار دے کر گردن اڑانے کا حکم جاری ہوا۔ صدیوں بعد اہم تبدیلی جو سامنے آئی وہ یہ کہ ”ریاست“ ایک بالکل علیحدہ شے

Read more

بلوچستان میں وزرا تشدد پر کیوں اتر آئے؟

اعلی قیادت کا مالی و جنسی کرپشن سے پاک دامن ہونا نظام کی بقا کے لئے ناگریز ہے جبکہ بلوچستان میں سب مختلف ہے۔ اگر آپ کی پشین ریسٹ ہاؤس میں کسی مالی کے ساتھ جان پہچان ہو تو آپ کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اعلی افسران میں سے کون کسی نامحرم خاتون کے ساتھ کوئٹہ سے گاڑی خود چلاتے ہوئے رات گئے تک وہاں موجود رہتے ہیں۔ بلوچستان میں حکومت کی کارکردگی نہ ہونے کا عام آدمی کا رونا

Read more

بلوچستان میں کرپشن نہیں، شور مچانا جرم ہے

جب آپ کا قلم کاغذ کا سامنا کرنے سے شرماتا ہو اور لکھنے سے شرمسار ہو لیکن کرپٹ نظام جس کے متعلق آپ بار باراپنے قلم کو لکھنے پر مجبور کررہے ہوں لیکن کرپٹ مافیاز کو اس کا احساس تک نہ ہو تب بات شرمندگی اور بے حیائی کی سی کیفیت اختیار کر لیتی ہے اور لمحے بھرخوف سے بھرا گماں گزرتا ہے کہ کرپشن کرنے والوں کی یہ بے خوفی دراصل اس بات کی غمازی ہے کہ یہ ریاستی

Read more

حقائق سے کتراتے ہوئے حکمران

میں وزیراعلی بلوچستان جام کمال کے اکثر اخباری بیانات کو ان سے ان کی میڈیا ٹیم کا منسوب کردہ سمجھ کر نظرانداز کردیتا ہوں۔ جبکہ ان کے ٹوئٹر اکاونٹ سے ٹوئٹ کو ان کی اپنی سوچ، رہنمائی، پیار یا غصہ کا اظہار سمجھتا ہوں۔ کل میری حیرت کی انتہا نہیں رہی جب وٹس ایپ پر وزیراعلی کے ٹوئٹر اکاونٹ کا ایک اسکرین شاٹ نظر سے گزار ا، جس میں انہوں نے ڈاکٹرز سے اظہار یکیجتی کے لئے عوام سے درخواست

Read more

ناکام کھلاڑی اور سلیکٹر کا امتحان

میرا ماننا ہے کہ حکمرانوں کو ہمیشہ تنقید کی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ کچھ ان کی خواہشات بھی ہوتی ہیں کبھی انہیں بھی آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ کورونا وائرس سے نمٹنے میں جس طرح ہمارے حکمرانوں نے جاں فشانی سے کام کیا ہے اور اپنے آرام کا خیال نہیں رکھا اس کی مثال حالیہ تاریخ میں مشکل سے ہی ملے گی۔ لہذا کچھ آرام کے لیے فرصت ضروری تھی اس لیے ہمارے حکمران نے جھل مگسی کا رخ کیا جہاں آج کل بہار کا موسم ہے اور شکار بھی مل جاتا ہے۔

Read more

بلوچستان رحم کا طلب گار ہے

جمہور کسے کہتے ہیں؟ جمہور کی رائے کیا ہے؟ جمہور کی حکمرانی کا مطلب کیا ہے؟ ان سب سوالوں کا اگر ایک ہی لفظ میں جواب دیا جائے تو اسے جمہوریت کہا جاتا ہے۔ جمہوریت ایک طرز حکومت ہے جسے آسان الفاظ میں عوام کی حکومت کہا جا سکتا ہے۔ آمریت کے برخلاف اس طرز حکمرانی میں تمام فیصلے عوامی نمائندے کرتے ہیں۔ جمہوری نظام حکومت میں عوام کے دلوں میں نظام ریاست کا احترام پیدا ہوتا ہے کیونکہ اس

Read more

ڈاکٹر آستانہ کی بلوچستان آمد

موٹا بھائی میرے دوست کم اور استاد زیادہ ہیں۔ میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا ہے اور سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں وہ خود سرکاری افسر بننا چاہتے تھے لیکن شاید قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ موٹا بھائی افسر نہ بن سکے لیکن موٹا بھائی نے اپنی ناکامی کا بدلہ لینے کے لئے بیٹے کو افسر بنانے کا فیصلہ کیا لیکن اب موٹا بھائی کی یہ خواہش بدل گئی ہے۔ وہ شکر ادا کرتے ہیں کہ افسر

Read more

جام کمال کا کرونا وائرس کو تفتان سے کوئٹہ میں لاکر لڑنے کا اعلان

سمجھ نہیں آتا کہ صوبائی حکومت کیا کر رہی ہے اور کیا کرنا چاہتی ہے کرونا وائرس کے ڈر سے پاک ایران باڈر پر رکھے ہوئے لوگوں کو صوبائی دارالحکومت کے اہم ترین علاقے حاجی کیمپ مغربی پاس کوئٹہ میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کوئٹہ کے محل و وقوع سے باخبر لوگ جام کمال کو بہتر بتا سکتے ہیں کہ اسی علاقے میں بلوچستان سے ملک بھر خصوصا کراچی، پشاور اور لاہور جانے والی بسوں کے اڈے واقع

Read more

بلوچستانی حکمرانوں کو قبرستان کا خوف

ہر شخص کو کوئی نہ کوئی خوف لاحق رہتا ہے۔ کسی کو اونچائی سے ڈر لگتا ہے۔ تو کوئی بادلوں کی گرج چمک سے خوف محسوس کرتا ہے۔ کسی کو تنگ جگہوں سے خوف آتا ہے۔ تو کوئی سانپ اور چھپکلی سے ڈرتا ہے۔ بعض لوگوں کو اندھیرے سے خوف آتا ہے۔ تو کوئی موت سے ڈرتا ہے۔ حالانکہ موت ایک اٹل حقیقت ہے جس نے ہو کر رہنا ہے۔ سائیکالوجسٹ کہتے ہیں کہ خوف کی وجہ سے انسان کا

Read more

بلوچستان میں اقربا پروری کی حکومت

صوبے میں گزشتہ 18 ماہ سے شفافیت کا راگ سننے کو ملتا ہے اس راگ کی حقیت اکثر خود حکومتی اقدامات اور دفتری حکم نامے بے نقاب کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اتوار کے دن صوبائی حکومت نے بند سول سکریٹریٹ کھول کرایک اعلی حکومتی بیوروکریٹ کے قریبی رشتہ دار جو کہ سکریڑی ہیں اور یوں گھمنڈ اور غرور کا شکار ہیں کہ بلوچستانی کہ عوامی منتخب نمائندوں سے بھی ملنا گوارا نہیں کرتے ہیں کے دوست اور ایک ایسے

Read more

بلوچستان میں خود پرستوں کی حکمرانی

میرا جب بھی کافی پینے کے ساتھ فلسفیانہ گفتگو سننے کو دل کرتا ہے تو اپنی دونوں خواہشات پوری کرنے کے لئے میں ان کے پاس پہنچ جاتا ہوں وہ کہنے کو تو بڑے افسر ہیں لیکن ان کی باتیں سننے کے بعد وہ افسر مخالف لابی کے صف اول کا سپورٹر لگتا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ اچھے افسران کا قصور کیا ہے؟ یہاں کے انتظامی معاملات کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہے دادرسی کہاں ہوتی ہیں

Read more

کارل مارکس کو جام کمال کا جوابی خط

جب سوسائٹی میں کسی بھی طبقے کی غالب اکثریت کسی مقصد کی خاطر بالادست اور قبضہ گیر طبقے کے خلاف ڈٹ جائے تو میں اسے تحریک ہی کہوں گا۔ ہر تحریک کے پیچھے ایک مقصد یا نظریہ ہوتا ہے۔ ترقی پسند تحریک لینن اور مارکس کے نظریات سے متاثر ہوکر شروع کی گئی۔ اسی طرح تحریک پاکستان کا مقصد برصغیر میں مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ مملکت کا قیام تھا۔ اب بلوچستان میں بھی اچھے اور سینئر افسروں نے خاموش

Read more

فیضو لالا، قدوس بزنجو اور ایک چائنک چائے

بلوچستان میں سیاست، یہاں کے اقدار اور روایات دم توڑ رہی ہیں اور سیاست نظریات اور خدمت کے بجائے کاروبار بنتی جا رہی ہے۔ نوجوانوں نسل ماضی کی بلوچستان اسمبلی اور یہاں کی روایات سے بے خبر ہوگئے ہیں۔ ملکی سطح پر پورے صوبے کی جگ ہنسائی ہورہی ہے۔ فیضو لالا کوئٹہ کی ماضی کی سیاست کا ایک متحرک کردار جو ایم اے جناح روڈ پر بیٹھ کر رفتگان کو یاد کرتا ہے۔ ان سے چلتے چلتے سر راہ ملاقات

Read more

بے زبان بلوچستانی او ر قومی میڈیا

آج کل میڈیا کا دور ہے۔ گو کہ اردو میں میڈیا کو ذرائع ابلاغ کہا جاتا ہے۔ لیکن میڈیا کا لفظ اتنا مستعمل ہے کہ ذرائع ابلاغ کہتے ہوئے کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ بلکہ سننے اور پڑھنے والے بھی میڈیا کے لفظ سے زیادہ مانوس ہیں۔ اب تو لگتا میڈیا کا لفظ اردو لغت میں شامل کر لیا گیا ہے۔ آج سے تین دہائی قبل تک اخبارات، رسائل، کتابیں اور ریڈیو ہی میڈیا کے موثر ذرائع تھے۔ پھر ٹی

Read more

برفانی طوفان میں حکومت نااہل اور مسلم باغ کے باشندے ہیرو ثابت ہوئے

ہم منظم معاشرے کا حصہ ہیں جس میں ایک نظام کے تحت ملکی معاملات چلائے جاتے ہیں اور نظام حکومت چلانے کے لیے ہرشہری اپنے حصے کاٹیکس ادا کرکے ریاست کی مدد کرتا ہے یوں ایک طریقہ کار کے مطابق ہمارے ٹیکس کی رقم ریاست کے پاس جمع ہوتی ہے اور اس سے ملکی نظام چلانے کے لئے جمہوری طریقہ کار اپناتے ہوئے عام آدمی بذریعہ ووٹ اپنے نمائندوں کو منتخب کرتا ہے اور انہیں عوامی نمائندگی کا اخیتار دیتا

Read more

تصوراتی حکمرانی اور حکمرانوں کے اللے تللے

بلوچستان کے ہر گاؤں میں خبر پھیلی ہے کہ کاغذوں کے بجائے بلوچستان اب سوشل میڈیا میں خوبصورت نظر آرہا ہے۔ ڈیڑھ سال کا عرصہ ہوا ہے کہ بلوچستانی مرد و زن بہترین بلوچستان کی تلاش میں سرگرداں کاغذ و قلم کی دنیا سے ہجرت کرنے پر مجبور ہیں اور سوشل میڈیا پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں کیونکہ یہاں حکومت سوشل میڈیا کی ہے آپ کو ہر نئی چیز اور حکومتی اعلان اور اقدامات سوشل میڈیا پر ملتا ہے اس

Read more

توہین عدالت کی مرتکب بیوروکریسی

کسی بھی ملک کو چلانے کے لیے ایک مضبوط اور ایماندار بیوروکریسی کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ اگر بیوروکریسی مستعد ہوگی اور اپنے کام سے مخلص ہو گی تو حکومت کی نیک نامی ہوتی ہے اور عوام مطمئن رہتے ہیں۔ بیوروکریسی کی مثال کسی بھی بلڈنگ میں سٹیل فریم کی مانند ہوتی ہے جتنا سٹیل فریم مضبوط ہو گا بلڈنگ اتنی ہی مضبوط ہو گی۔ بد قسمتی سے بلوچستان میں بیوروکریسی کا سٹیل فریم انتہائی کمزور اور ذنگ آلودہ

Read more

بلوچستان کے مسائل کی نشاندہی اور نامعلوم کالیں

گھٹن کا یہ عالم ہے کہ آپ کسی سماجی نا انصافی کے خلاف قلم اُٹھاتے ہیں تو سو بار سوچتے ہیں کہ کہیں کچرہ اٹھانے کا ذمہ دار شخص کسی با اثر حلقے کا دوست تو نہیں کہ کل اپ کو تحریر سے بحالت مجبوری راہ فرار اختیار تو نہ کرنا پڑے گی۔ تب ایسی حالت میں آپ کے لئے کسی بھی مسئلے پر لکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ بلوچستان کے حالات سے نابلد لوگ شاید نہیں جانتے ہیں کہ

Read more

بلوچستان تعلیمی مافیا کے نرغے میں

بلوچستان میں تعلیمی اداروں کی تباہی کے اصل ذمہ دار بلوچستان کے نالائق سیاسی قائد ہیں۔ جو کبھی اپنی منصبی ذمہ دار یاں لینے کو تیار نہ ہوئے یا پھر اپنے اردگرد شاطر لوگوں کے بہکاوے میں اگر ان کی سفارشات کے مطابق تعلیمی اداروں کے اہم عہدوں پر تعیناتیاں کیں اور یوں ایک خلا پیدا ہوا اور اس کا فائدہ نظام میں موجود لابیوں کو ہوا جنہوں نے نظام کے اندر اپنے کالے کرتوتوں کے ذریعے اپنی جڑوں کو

Read more

بلوچستان تباہی و بربادی کے دہانے

بلوچستان میں ہماری اشرافیہ اور حکومت ہمیشہ میرٹ کا لاگ الاپتی نظر آتی ہے۔ لیکن جس طرح میرٹ کے لفظ کی عزت کا جنازہ اس دور میں نکلا ہے اور یہ لفظ جس طرح بدنام ہوا ہے۔ اس کی مثال گزشتہ ادوار میں ملنی مشکل ہے۔ پہلے اگر نا انصافی ہوتی تھی تو نظر آتی تھی اس کے خلاف واویلا ہوتا تھا۔ کورٹ نوٹس لے لیتی اور کچھ نا کچھ انصاف مل جاتا تھا۔ اور اگر نا ملتا تو احتسابی

Read more

بلوچستان میں بے ضابطہ بھرتیاں

میڈیا پر آرچری کا راگ الاپنے والے تیرانداز وزیراعلی بلوچستان سے انتظامی معاملات میں اس قسم کی نشانہ بازی کیوں نہیں ہورہی جیسی ایک سپاہی کی میدان جنگ میں ہوتی ہے۔ صوبے کے انتظامی معاملات میں ان کا ہر نشانہ چوک کا شکار ہو رہا ہے یا شاید وہ بندوق دوسرے کے کندھے پر رکھ کر استعمال کر رہے ہیں۔ گذشتہ ایک سال سے بلوچستان کی عوام کے کان یہ سن سن کر پک گئے ہیں کہ صوبے میں حکومتی

Read more

بلوچستان میں تعلیمی غارت گری

آج کے ترقی یافتہ بلوچستان (بقول حکمران) میں تعلیم کے ساتھ جو سلوک اس کے کرتا دھرتا ہم قوم نشینوں نے روا رکھا ہے۔ اسے آپ تاتاریوں کی غارت گری سے تشبیہ دے سکتے ہیں۔ جس طرح تاتاری جب کسی ملک پر حملہ کرتے تھے تو وہ اس ملک کی ہر چیز کو اس طرح تہہ تیغ کر دیتے تھے کہ وہ علاقہ برسوں غربت اور بربادی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتا تھا۔ لگتا یہ ہے۔ کہ بلوچستان کے

Read more

بلوچستان کی متعصب حکومت؟

تعصب دراصل ایک رویے کا نام ہے۔ جسے جانبدارانہ رویہ بھی کہا جاتا ہے۔ اگر مہذب معاشرے میں آپ کسی کو متعصب کہہ دیں تو گویا آپ نے اسے گالی دے دی۔ متعصبانہ رویے سے ہی معاشروں میں شدت پسندی جنم لیتی ہے۔ جس کی وجہ سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ اور بعض موقعوں پر لوگ جانبدارانہ رویے کی وجہ سے اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے ہر قسم کی جدوجہد کو جائز سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ میں نے

Read more

حکومت بلوچستان کی کارکردگی

میرا ماننا ہے کہ میں کوئی بہت پڑھا لکھا شخص نہیں ہوں۔ نہ ہی مجھے اچھے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا ہے۔ لیکن ایک بات کی ہمیشہ کوشش کی ہے کہ علم و دانش والے شخصیات کی صحبت کا ثمر اور ان سے جو کچھ حاصل ہو وہ آپ تک سادہ الفاظ میں پہنچا سکوں۔ میری اس قلمی جدوجہد کے پیچھے کچھ حاضر ریٹائرڈ بیوروکریٹکس، یونیورسٹی اور کالج کے اساتذہ، سوشل ورکرز کے تجربات اور مشاہدات

Read more

بلوچستان میں گندم کی خریداری: کمال کا انصاف

اردو کا محاورہ ہے۔ بندر کی بلا طویلے کے سر۔ اللہ بھلا کرے وزیراعلی بلوچستان کا جن کی نظام میں موجودگی کا ثمر ہے کہ مجھے اس محاورے کی سمجھ آئی۔ یہ داستان ہے ایسے صوبے کی ہے جو کہ گندم کی خریداری کے لئے گزشتہ کئی دہائیوں سے بینکوں سے قرضہ لے کر گندم تو ختم کرچکا ہے لیکن۔ 5 ارب روپے اس مد میں نہ صرف مقروض ہے بلکہ ہر تین ماہ بعد 18 کروڑ روپے اس پر

Read more

نوجوان بگٹی کا شکوہ

میں مختلف دفاتر کا چکر لگا کر تھک چکا تھا۔ سوچا تھکاوٹ کو دور کرنے کے لیے چائے کی چسکی لی جائے۔ سیکرٹیریٹ کی کنٹین کے باہر چائے پینے کے لیے بیٹھ گیا۔ میری نظر اپنی دائیں جانب بیٹھے ”بگٹی واسکٹ“ پہنے ایک نوجوان پر گئی۔ بگٹی واسکٹ اور لباس کی اپنی پہچان ہے جو پہننے والے کو سب سے منفرد بناتا ہے۔ اس نوجوان کے چہرے پر نمایاں پریشانی کو بھانپ کر سوچا ذرا اس کی دلجوئی کی جائے۔

Read more

کرپشن کا مثبت پہلو

کرپشن ایک ایسا رویہ یا طرز عمل ہے جس کا اظہار ہمیں قدیم انسانی معاشروں میں بھی ملتا ہے۔ جس طرح اس کی مختلف قسمیں ہیں اسی طرح اس کی تعریف بھی مختلف سکالرز نے مختلف کی ہے۔ مثلا کارل فریڈرچ ( Carl Fredrich ) اس کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ”جو بھی عوام کے مال سے ذاتی فائدہ اٹھائے اسے کرپشن کہا جائے گا۔“ جب کے وان کلیورن ( Van kklvaren ) اسے ”عوام کا استحصال“ کہتا

Read more

بلوچستان: جام سوئم کی حکمرانی کے نرغے میں

بلوچستان کے عوام تین نسلوں سے حکمرانی کرنے والے جام خاندان کے چشم وچراغ جام سوئم سے ان کے اولین وعدوں اور آئین کی پاسداری کی ہنوز منتظر ہے۔ پڑھے لکھے وزیراعلیٰ کا ویژن کچھ یوں ہے کہ قوموں کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ادا کرنے والے محکمہ تعلیم جس کا سالانہ بجٹ 75 ارب روپے اور محکمہ صحت جس کا بجٹ سالانہ 22 ارب 38 کروڑ 30 ہزار 98 روپے ہے کے قلمدان اپنے پاس رکھنے کی

Read more

ٹوئٹر کا مقروض بلوچستان

میں مانتا ہوں کہ امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹر ہینڈل سے متاثر فعال وزیراعلیٰ بلوچستان نے گزشتہ ایک سال سے ٹویٹر ہینڈل کو اتنا فعال رکھا ہوا ہے کہ ان کی میڈیا ٹیم وزیراعلی کی کارکردگی سے باخبر رہنے کے لئے ان کے اکاونٹ کو دیکھ کر حکومتی کارکردگی کی خبر جاری کرتی ہے۔ بوسیدہ کاغذی نظام سے نکل کر حکومت جدید سوشل میڈیا پر چل رہی ہے۔ کم خواندہ وزراء نے حکومتی اقدامات اور فیصلوں سے باخبر رہنے کے لئے دوسروں کی مدد سے ٹویٹر اکاونٹ بنا کر چلانے کے لئے منشی رکھ لئے ہیں تاکہ حکومتی فیصلے گھر بیٹھے معلوم ہوں۔

Read more

بلوچستان کا ٹوئٹری راجا

بلوچستان جہاں گزشتہ ایک سال سے حکومت کی طرف سے اصلاحات کا ڈھونگ ٹوئٹر پر پیٹا جا رہا ہے۔ وہیں پر صوبے میں حکومتی معاملات پرانے حکومتوں سے بھی بدتر بنا دیے گئے ہیں۔ ہر چاپلوسی کرنے والے افسر کو اچھی پوسٹنگ، جبکہ غلط حکومتی احکامات سے انکاری افسر ان کو کُھڈے لائن لگایا جارہا ہے۔ موجود وزیراعلی بلوچستان اپنے سے پہلے بلوچستان سابق وزرائے اعلی جن میں ان کے دادا اور والد محترم بھی شامل ہیں کی طرز حکمرانی سے بھی سخت نالاں نظر آتے ہیں۔

Read more

بلوچستان: معدنیات اور محرومیاں

قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ بلوچستان جس کے عوام کو احساس محرومی نے اس قدر شدت سے جکڑ رکھا ہے کہ اس جکڑن سے سیاسی شخصیات تک کی ذہنی نشوونما بھی متاثر ہوئی ہے۔ یہاں کے مسائل اور ان کے حل کے بارے میں رکاوٹوں کی بات کی جائے تو ان کی نظر میں ناقابل علاج اگر کوئی مسئلہ ہے تو وہ احساس محرومی ہے۔ بلوچستان کی سیاسی قیادت کو سوچ و فکر سے محروم ہونے کو اگر احساس

Read more

تعلیم دشمن بلوچستان؟

بلوچستان میں تعلیم کو برائے فروخت بنا دیا گیا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ نظام میں چیک اینڈ بیلنس کا فقدان رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ہر شخص کا ذاتی حیثیت میں اپنے سرکاری دفتر اور ادارے کا اچھے اور برے کے فیصلے از خود کرنا ہے۔ پیسے دو، پوسٹنگ کے بعد کچھ بھی کرو، آپ کا کوئی بال بیکا نہیں کرسکتا۔ یوں لگتا ہے کہ یہاں پر کسی کو نہ خوف خدا ہے نہ خوف نظام ہے، نہ

Read more

وزیراعلیٰ بلوچستان کو تعلیم میں دلچسپی نہیں

یقینا آپ کی کھیل دوستی قابل تعریف ہے، پورا صوبہ گواہ ہے کہ آپ کھیلوں پر خصوصی توجہ دیتے ہیں اور اس کے لئے اپنے مصروف ترین شیڈول سے وقت نکا لتے ہیں چاہے آپ کو جھل مگسی جانا ہو، گوادر جانا پڑا ہو یا پھر کراچی اپنی مکمل ایمانداری سے ٹائم نکال کر صحت مندانہ تفریحات میں یا شرکت کی یا پھر ان کھیلوں کے دیکھنے کے عمل کو یقینی بنایا۔ چاہے وہ گاڑیوں کی ریس ہو یا پھر

Read more

بلوچستان میں سر عام توہین عدالت

پی ایس ڈی پی کے حوالے سے ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت ہو رہی ہے۔بلوچستان ایک ایسا صوبہ جہاں پر حکومتی معاملات رشتہ داریوں اور دوستیوں کی نذر کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے خراب نظام کو مزید خراب کیا جا رہا ہے۔ ہر حکومتی افسر یہ سمجھنے لگا ہے کہ تعلقات کی بنا پر وہ اپنے افسر کی بات نہ مانے تو اس کی کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ اگر وہ توہین عدالت کرے تو وہ محفوظ رہ سکتا ہے۔

Read more

بلوچستان میں تعلیمی نظام: عطائیت کے نرغے میں

بلوچستان سے غربت افلاس و احساس محرومی کے خاتمے کا اگرچہ بہترین نسخہ تعلیم کا فروغ ہے لیکن گاؤں کے یونانی طبیب ایسے بطور علاج نسخے تحریر کرنے سے گھبراتے ہیں۔ کیونکہ چالاک طبیب سمجھتا ہے کہ اگر وہ مریض کی صحیح تشخیص کرے گا تو کل گاؤں کا صحت مند نوجوان اس کے مقابلے میں ڈاکٹر بن کر ان کو آبا و اجداد سے ورثے میں ملی طب کی دکان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کرنے اور دوسرے روزگار

Read more

سب انجنیئرز کی اسامیاں اور بلوچستان کی تباہی

اگر آپ بلوچستان میں رہتے ہیں اور اخبار باقاعدگی سے پڑھتے ہیں حالات واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہیں تو پریشان ہونا آپ کی زندگی کا لازمی جز بنے گا۔ کیونکہ آپ اپنی زندگی میں روزانہ کی بنیاد پر نت نئے طریقے اور حکومتی اقدامات اور ایسے فیصلے جو پنچایت میں بھی نہ ہوتے ہوں حکومتی سطح پر ہوتے ہوئے دیکھتے آپ انگشت بدندان رہتے ہیں اور آپ کی رائے، رائے عامہ سے محروم معاشرہ قبول کرنے کو تیار بھی

Read more

بلوچستان کی تعلیم پر قابض اساتذہ

الف لیلہ کی کہانیوں سی داستان لیے محکمہ تعلیم بلوچستان میں ہر روز ایک نیا کردار اور ایک نئی کہانی ہوتی ہے ابھی کچھ دنوں کی بات ہے کہ چیئرمین بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن نے اعلامیہ جاری کیا کہ امتحانی مراکز پر اساتذہ کی ڈیوٹیاں اساتذہ کے 3 گروپوں کے درمیان ٹاس کے ذریعے لگائی جائیں گی۔ یہ فیصلہ اور ایسے دیگر غیر قانونی فیصلے اساتذہ تنظیموں کی دباؤ پر ہوتے آرہے ہیں۔ کیونکہ محکمہ تعلیم کے

Read more

سی پیک سے بے خبر ڈمی بلوچستانی قیادت

سی پیک بلوچستان کی صورتحال نے جام صراحی اور ساقی کو پریشان کررکھا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر بلوچستانی ساقی بھی اس کو ایک پیگ کی حد سے زیادہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ اخبارات میں خبر پڑھی کہ بلوچستان کے کوٹے پر دیگر صوبوں کے طلباء و طالبات کو چین بھجوایا گیا ہے۔ جستجو کے ساتھ حقائق تلاش کرنے کی غرض سے بلوچستان کے مختلف سرکاری دفاتر کی خاک چھانتے ہوئے ان خبروں کی مزید

Read more

فواد چوہدری بلوچستان کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟

پاکستان کے 44 فیصد رقبے، اور صرف 7 فیصد آبادی کے ساتھ تیل، گیس، تانبے اور سونے جیسے قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ملک کے سب سے غریب اور پسماندہ علاقوں میں شمار ہونے والے صوبہ بلوچستان کے بارے میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا یہ کہنا ہے کہ گزشتہ دس سال میں 15 سو ارب روپے بلوچستان کی ترقی کے لئے فراہم کیے گئے مگر ابھی بھی بلوچستان کی صورتحال ابتر ہے اور یہ رقوم

Read more

بلوچستان میں مخلص قیادت کا فقدان

جس کا فائدہ بلوچستانی کی اکثر سیاسی شاطر قیادت نے اٹھایا اور اسلام آباد و عام بلوچستانی کے درمیان جو رابطوں کے فقدان کا خلا موجود تھا، اس بلوچستانی سیاست دان نے مزید ہوا دی، اور سیاست سے بد ظن شخص کو اسلام آباد اور پنجاب رائے عامہ بنانے کے لیے بطور ڈھال استعمال کرنے میں کام یاب ہوا۔ عام آدمی کا بد ظن ہونا بھی بجا تھا کیوں کہ اس کے مسئلے کو اہمیت جو نہیں دی گئی۔ بلوچستان میں صوبائی حکومت نے 2006 میں اکنامک سروے رپورٹ جاری کی جس کی روشنی میں بلوچستان کی اس وقت کی کل آبادی، جو اس وقت 65 لاکھ کے قریب تھی، اس آبادی کے بالغ 17 میں سے صرف ایک شخص باقاعدہ ماہ وار تنخواہ لیتا تھا۔ جب کہ اس کے مقابلے میں صوبہ پنجاب میں 5 میں سے 1 شخص باقاعدہ تنخواہ لیتا تھا۔ رپورٹ ایک آئینہ ثابت ہوئی، جس میں ناقص حکومتی کارکردگی نظر آئی۔ شاید اس وجہ سے 2006 کے بعد وہ معاشی سروے رپورٹ دوبارہ پلاننگ انیڈ ڈویلپمنٹ ڈپمارٹمنٹ بلوچستان نے شایع نہیں کی۔

Read more

عمران خان کے دیسی انڈے و مرغیاں اور بلوچستان

تاریخ کا مشاہدہ کرنے سے کہیں نظر نہیں آرہا کہ کسی قوم نے مرغیوں پر بیٹھ کر فتوحات حاصل کی ہوں۔ تاہم اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ مرغی اور انڈے کچن کے ضروری اجزاء ہیں۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں عورتیں مرغیاں پالتی ہیں۔ ان کا گوشت اور انڈے فروخت کرتی ہیں مگر مجموعی معیشت میں ان کی اہمیت نہیں ہے۔ پتہ نہیں وزیر اعظم عمرا ن خان کو کیا سوجھی اور کس معیشت دان نے سمجھا یا کہ مرغی اور انڈے کی روایتی صنعت کو ترقی دینے سے ملک میں معاشی انقلاب آجائے گا۔

یا پھر ان کو یہ سوچ ڈاکٹر اکبر حریفال سے ملی ہے جو وہ بطور سکریڑی لائیوسٹاک بلوچستان تھے۔ وہ بھی کچھ ایسے آئیڈیاز کے قائل تھے۔ 44 کروڑ روپے صوبائی حکومت سے طلب کر لئے کہ وہ انڈوں کے ذریعے صنعتی انقلاب لائیں گے۔ لیکن 3 ارب 78 کروڑ روپے سالانہ تنخواہوں کی مد میں ادا کرنیوالے 6830 ملازمین کے محمے لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کی از سر نو نظر ثانی و تشکیل تو نہ کرسکے اور بطور سیکریڑی 2018 میں انگریز کے متعارف کردہ کیمل مین یعنی اونٹ چرانے والے کو بھی بھرتی کردیا اگرچہ اس کی اب ضرورت ہی نہیں پڑتی۔

Read more

حفیظ کھوسہ، سیکریڑی سیکنڈری ایجوکیشن بلوچستان سے مخاطب ہیں

احساس محرومی میں گھرے ہوئے بلوچستان نے، یہاں سمندر کے ساتھ سرکاری ماسٹر کو بھی محرومیوں میں لپیٹ دیا ہے۔ استاد سمجھتا ہے کہ یہ طویل محرومی اس کے بروقت سرکاری سکول جانے سے ختم نہیں ہوگی، وہ سکول میں رہے یا نہ رہے، سکول اور صوبے کی حالت بدلنے والی نہیں ہے۔ پنجاب نے اس کو ان پڑھ رکھا ہے وہ مٹی کا فرزند ہے، اتنا تو حق بنتا ہے کہ وہ سکول سے غیر حاضر ہو۔ وہ کون سی تنخواہ پنجاب سے لیتا ہے۔ تنخواہ اور وزیر دونوں بلوچستانی ہیں۔ وہ پنجاب سے بدلہ اپنے سکول میں غیر حاضری کی صورت میں لینے پر تلا ہوا ہے۔

Read more

کرپشن کا بے لگام گھوڑا اور اناڑی صحافتی جوکی

بلوچستان میں ہمیشہ سے احساس محرومی کی ایک آواز سنائی دیتی ہے اس آواز میں حقیقت ہے تو جان بھی ہے، اور کچھ سوالات بھی پوشیدہ ہیں، تلخ حقیقت یہ ہے کہ جہاں دیگر لوگ ذمہ دار ہیں وہیں پر اس نعرے کی چھتری تلے چند کام چور و کرپٹ بلوچستانیوں نے اپنے مفادات کا نہ صرف بازار گرم کر رکھا ہے بلکہ صوبے کے نظام کی بنیادیں اپنی نا اہلی اور بے پناہ کرپشن کی وجہ سے کھوکھلی کردی ہیں۔ اور اپنی آنے والی نسلوں کو اپاہج بنا دیا ہے۔

تعلیم سے لے کر صحت تک یہاں گذشتہ تیس سال میں ایسے لوگوں کو اہم ذمہ داریاں دیں، جن کی سوچ پندرہ سالہ بچے سے بڑی نہیں تھی۔ جنہوں نے ہمیشہ ٹافی کی تلاش کی، دانت کی فکر نہ کی۔ صوبے کے احساس محرومی کا رونا رونے والے قوم پرست اقتدار ہوں یا وفاق پرست کے نام نہاد دعویدار ہوں، یا پھر اسلامی نظام کے نفاذ کے دعوئے دار، کسی نے عام آدمی کا بھلا نہیں کیا۔ حکومت بلوچستان نے 2016 میں ورلڈ بینک کے ساتھ اسلام آباد میں بیٹھ کر ایک پروجیکٹ کے لئے 22 ارب روپے سود پر لینے کا معاہدہ سائن کیا۔

Read more

بلوچستان میں ٹوئٹر والی سرکار اور اسفند یار خان

سیکریٹری پلاننگ انیڈ ڈویلپمنٹ کی پوسٹ پر تعینات اسفندیار خان کاکڑ ؛ صوبے کی خراب طرز حکمرانی کی وجہ سے دلبرداشتہ ہوکر قانونی طور پر حاصل ہونے والی 3 لاکھ 50 ہزار روپے کی ماہانہ تنخواہ، 400 لیٹر پٹرول ٹی اے ڈی اے اور دیگر مراعات چھوڑ کر محض ایک لاکھ روپے اور گمنام آفیسر کی زندگی بسر کرنے لگے اور سیکریٹری سے جوائنٹ سیکریٹری کہلانے پر تو رضامند ہیں لیکن بلوچستان میں مراعات اور مفادات سے مزین سیکریٹری پلاننگ انیڈ ڈویلپمنٹ کی پوسٹ پر کام کرنے کو تیار نہیں ہیں

Read more

نئی نسل سے مکالمہ

چائنا نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال رکھا ہے۔ یہاں کے چھوٹے قد چپٹی ناک اور چھوٹی آنکھوں والے لوگوں نے کم عرصے میں اپنے ملک کو ایک منفرد مقام دلوا دیا ہے، دنیا کا شاید ہی کوئی انسان ہو جس نے چائینیز پروڈکٹ استعمال نہ کی ہو۔ انگریز دودھ والی چائے کے ذریعے ایشیائی لوگوں کی رگوں میں سرایت کر گیا تو چاینیز سبز چائے اور سوپ کے ذریعے دنیا کو مطیع کر رہے ہیں۔ یہ میرا چین

Read more

بلوچستان میں یہ اچھی حکمرانی کیسی

باسٹھ ارب روپے کے خسارے کا بجٹ میں لپٹے ہوئے صوبے بلوچستان میں دو ماہ بعد تک ’شفافیت ہمارا منشور‘ کی آواز بالآخر دم توڑتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ بلوچستان میں نئی صوبائی حکومت کی تشکیل کے بعد حکومت نے عوامی سطح پر یہ تاثر دینے کی تگ و دو شروع کر دی تھی کہ اب گزشتہ ادوار کی طرح حکمرانی کی سوچ تک صوبے میں قصہ پارینہ بن چکی ہے۔ سرکاری ملازم ہو یا عوام۔ کوئی اس خوش

Read more

پرنسپل کیڈٹ کالج مستونگ کی ریاستی تذلیل

محسن میرے وجود کو سنگسار کرتے وقت۔۔ شامل تھا سارا شہر ایک تہوار کی طرح جہاں ذاتی خواہشات، پسند و ناپسند پر ریاستی معاملات چلائے جائیں، جہاں سرکاری دفاتر کے ٹیلی فون، سرکاری عہدے دار، اپنے ذاتی مفادات، انّا کی تسکین کی خاطر، یا پھر من پسند لوگوں، کاروباری شراکت داروں، ذاتی فائدہ دینے والوں، ہم پیالہ لوگوں، رشتہ داروں یا دوستوں کی خاطر، اپنے دفاتر اور عہدوں کو ذاتی جاگیر بنا کر جب عہدے دار استعمال کرنے لگیں، تو

Read more