وزیراعلیٰ بلوچستان کو تعلیم میں دلچسپی نہیں

یقینا آپ کی کھیل دوستی قابل تعریف ہے، پورا صوبہ گواہ ہے کہ آپ کھیلوں پر خصوصی توجہ دیتے ہیں اور اس کے لئے اپنے مصروف ترین شیڈول سے وقت نکا لتے ہیں چاہے آپ کو جھل مگسی جانا ہو، گوادر جانا پڑا ہو یا پھر کراچی اپنی مکمل ایمانداری سے ٹائم نکال کر صحت…

Read more

بلوچستان میں سر عام توہین عدالت

پی ایس ڈی پی کے حوالے سے ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت ہو رہی ہے۔بلوچستان ایک ایسا صوبہ جہاں پر حکومتی معاملات رشتہ داریوں اور دوستیوں کی نذر کیے جارہے ہیں جس کی وجہ سے خراب نظام کو مزید خراب کیا جا رہا ہے۔ ہر حکومتی افسر یہ سمجھنے لگا ہے کہ تعلقات کی بنا پر وہ اپنے افسر کی بات نہ مانے تو اس کی کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ اگر وہ توہین عدالت کرے تو وہ محفوظ رہ سکتا ہے۔

Read more

بلوچستان میں تعلیمی نظام: عطائیت کے نرغے میں

بلوچستان سے غربت افلاس و احساس محرومی کے خاتمے کا اگرچہ بہترین نسخہ تعلیم کا فروغ ہے لیکن گاؤں کے یونانی طبیب ایسے بطور علاج نسخے تحریر کرنے سے گھبراتے ہیں۔ کیونکہ چالاک طبیب سمجھتا ہے کہ اگر وہ مریض کی صحیح تشخیص کرے گا تو کل گاؤں کا صحت مند نوجوان اس کے مقابلے…

Read more

سب انجنیئرز کی اسامیاں اور بلوچستان کی تباہی

اگر آپ بلوچستان میں رہتے ہیں اور اخبار باقاعدگی سے پڑھتے ہیں حالات واقعات پر نظر رکھے ہوئے ہیں تو پریشان ہونا آپ کی زندگی کا لازمی جز بنے گا۔ کیونکہ آپ اپنی زندگی میں روزانہ کی بنیاد پر نت نئے طریقے اور حکومتی اقدامات اور ایسے فیصلے جو پنچایت میں بھی نہ ہوتے ہوں…

Read more

بلوچستان کی تعلیم پر قابض اساتذہ

الف لیلہ کی کہانیوں سی داستان لیے محکمہ تعلیم بلوچستان میں ہر روز ایک نیا کردار اور ایک نئی کہانی ہوتی ہے ابھی کچھ دنوں کی بات ہے کہ چیئرمین بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سکینڈری ایجوکیشن نے اعلامیہ جاری کیا کہ امتحانی مراکز پر اساتذہ کی ڈیوٹیاں اساتذہ کے 3 گروپوں کے درمیان ٹاس…

Read more

سی پیک سے بے خبر ڈمی بلوچستانی قیادت

سی پیک بلوچستان کی صورتحال نے جام صراحی اور ساقی کو پریشان کررکھا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر بلوچستانی ساقی بھی اس کو ایک پیگ کی حد سے زیادہ اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔ اخبارات میں خبر پڑھی کہ بلوچستان کے کوٹے پر دیگر صوبوں کے طلباء و طالبات کو چین…

Read more

فواد چوہدری بلوچستان کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟

پاکستان کے 44 فیصد رقبے، اور صرف 7 فیصد آبادی کے ساتھ تیل، گیس، تانبے اور سونے جیسے قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ملک کے سب سے غریب اور پسماندہ علاقوں میں شمار ہونے والے صوبہ بلوچستان کے بارے میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا یہ کہنا ہے کہ گزشتہ دس…

Read more

بلوچستان میں مخلص قیادت کا فقدان

جس کا فائدہ بلوچستانی کی اکثر سیاسی شاطر قیادت نے اٹھایا اور اسلام آباد و عام بلوچستانی کے درمیان جو رابطوں کے فقدان کا خلا موجود تھا، اس بلوچستانی سیاست دان نے مزید ہوا دی، اور سیاست سے بد ظن شخص کو اسلام آباد اور پنجاب رائے عامہ بنانے کے لیے بطور ڈھال استعمال کرنے میں کام یاب ہوا۔ عام آدمی کا بد ظن ہونا بھی بجا تھا کیوں کہ اس کے مسئلے کو اہمیت جو نہیں دی گئی۔ بلوچستان میں صوبائی حکومت نے 2006 میں اکنامک سروے رپورٹ جاری کی جس کی روشنی میں بلوچستان کی اس وقت کی کل آبادی، جو اس وقت 65 لاکھ کے قریب تھی، اس آبادی کے بالغ 17 میں سے صرف ایک شخص باقاعدہ ماہ وار تنخواہ لیتا تھا۔ جب کہ اس کے مقابلے میں صوبہ پنجاب میں 5 میں سے 1 شخص باقاعدہ تنخواہ لیتا تھا۔ رپورٹ ایک آئینہ ثابت ہوئی، جس میں ناقص حکومتی کارکردگی نظر آئی۔ شاید اس وجہ سے 2006 کے بعد وہ معاشی سروے رپورٹ دوبارہ پلاننگ انیڈ ڈویلپمنٹ ڈپمارٹمنٹ بلوچستان نے شایع نہیں کی۔

Read more

عمران خان کے دیسی انڈے و مرغیاں اور بلوچستان

تاریخ کا مشاہدہ کرنے سے کہیں نظر نہیں آرہا کہ کسی قوم نے مرغیوں پر بیٹھ کر فتوحات حاصل کی ہوں۔ تاہم اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ مرغی اور انڈے کچن کے ضروری اجزاء ہیں۔ پاکستان کے دیہی علاقوں میں عورتیں مرغیاں پالتی ہیں۔ ان کا گوشت اور انڈے فروخت کرتی ہیں مگر مجموعی معیشت میں ان کی اہمیت نہیں ہے۔ پتہ نہیں وزیر اعظم عمرا ن خان کو کیا سوجھی اور کس معیشت دان نے سمجھا یا کہ مرغی اور انڈے کی روایتی صنعت کو ترقی دینے سے ملک میں معاشی انقلاب آجائے گا۔

یا پھر ان کو یہ سوچ ڈاکٹر اکبر حریفال سے ملی ہے جو وہ بطور سکریڑی لائیوسٹاک بلوچستان تھے۔ وہ بھی کچھ ایسے آئیڈیاز کے قائل تھے۔ 44 کروڑ روپے صوبائی حکومت سے طلب کر لئے کہ وہ انڈوں کے ذریعے صنعتی انقلاب لائیں گے۔ لیکن 3 ارب 78 کروڑ روپے سالانہ تنخواہوں کی مد میں ادا کرنیوالے 6830 ملازمین کے محمے لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ کی از سر نو نظر ثانی و تشکیل تو نہ کرسکے اور بطور سیکریڑی 2018 میں انگریز کے متعارف کردہ کیمل مین یعنی اونٹ چرانے والے کو بھی بھرتی کردیا اگرچہ اس کی اب ضرورت ہی نہیں پڑتی۔

Read more

حفیظ کھوسہ، سیکریڑی سیکنڈری ایجوکیشن بلوچستان سے مخاطب ہیں

احساس محرومی میں گھرے ہوئے بلوچستان نے، یہاں سمندر کے ساتھ سرکاری ماسٹر کو بھی محرومیوں میں لپیٹ دیا ہے۔ استاد سمجھتا ہے کہ یہ طویل محرومی اس کے بروقت سرکاری سکول جانے سے ختم نہیں ہوگی، وہ سکول میں رہے یا نہ رہے، سکول اور صوبے کی حالت بدلنے والی نہیں ہے۔ پنجاب نے اس کو ان پڑھ رکھا ہے وہ مٹی کا فرزند ہے، اتنا تو حق بنتا ہے کہ وہ سکول سے غیر حاضر ہو۔ وہ کون سی تنخواہ پنجاب سے لیتا ہے۔ تنخواہ اور وزیر دونوں بلوچستانی ہیں۔ وہ پنجاب سے بدلہ اپنے سکول میں غیر حاضری کی صورت میں لینے پر تلا ہوا ہے۔

Read more