کئی دونوں سے لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن قلم الفاظ کا ساتھ نہیں دے رہا ہے۔ نظام کا وجود اپنے اختتام کی آخری سسکیاں لے رہا ہے۔ 8 جون کو تقریباً 6 بجے شام مجھے میسیج موصول ہوتا ہے جس کے الفاظ کچھ یوں تھے۔
بایزید بھائی میں وکیل کاکڑ اسسٹنٹ کمشنر (خالق آباد) منگوچر کا بھائی ہوں ان کو ڈیوٹی کے دوران کورونا کا مرض لاحق ہوگیا تین دن تک وہ اپنی جائے تعیناتی پر بے یارو مددگار اپنی سرکاری رہائش گاہ پر پڑے رہے بعد میں ہمیں ان کی بیماری کی خبر ہوئی تو ہم ان کو علاج کی غرض سے کوئٹہ لے کر آئے اور وہ 26 مئی 2020 سے شیخ زائد ہسپتال کوئٹہ میں بد قسمتی سے داخل ہیں۔
بھائی نے آپ کا نمبر دیا ہے اور آپ سے رابطہ کرنے کو کہا ہے۔ ہم مایوس اور بے بس ہو کر آپ کو میسیج کر رہے ہیں۔ کل رات کو یک دم سے پورے ہسپتال میں آکسیجن سلنڈر میں پریشر ختم ہوگیا ہے جس سے تین کورونا کے مریضوں کی اموات واقع ہوئی ہیں۔ وہیں وکیل کاکڑ کی طبیعت بھی سخت بگڑ گئی اور مسلسل بگڑتی جا رہی ہے۔ آکسیجن کے کم پریشر کی وجہ سے ہمیں بہت مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
Read more