بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہیں چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی ٹی وی پر خبر دیکھی کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنے جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بیرون ملک پاکستانیوں کی دیرینہ تمنا تھی کہ وہ بھی اپنے ملک کے سیاسی نظام میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔ کیونکہ وہ بھی پاکستان سے محبت میں پیش پیش ہی نہیں بلکہ شاید پاکستان میں موجود پاکستانیوں سے زیادہ درد وطن رکھتے ہیں۔ بیرون ملک میں مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے حامیوں کے نزدیک اس مطالبے کی اہمیت یوں بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ ملک کی معاشی ترقی میں حصہ ڈالنے میں سب سے آگے ہیں لہذا نہیں ایسا حق دینا پاکستانی حکومت پر واجب ہے۔

پاکستانیوں کی بیرون ملک معاشی ہجرت کاسلسلہ ساٹھ کی دہائی میں شروع ہوا تھا۔ ان میں سے زیادہ کا تعلق آزاد کشمیر خصوصی طور پر میرپور اور پنجاب کے چند دیہات تک محدود تھا۔ ایک عام بات کہی جاتی تھی کہ وہاں جا کر پانچ سال بعد واپس ملک آئیں گے۔ جو لوگ معاشی طور پر ذرا بھی مستحکم تھے وہ اس سے دور ہی رہے۔ ایک عام فقرہ سنا جاتا تھا کہ باہر کی چپڑی سے گھر کی روکھی بہتر ہے۔ پانچ سالوں میں پتہ نہیں کون بچے گا کون زندہ رہے گا وغیرہ جیسے دلائل اس ہجرت کے مخالفین استعمال کیا کرتے تھے۔

اور پھر پانچ سال گزر گئے اور بیرون ملک میں چپڑی کی تلاش میں نکلے لوگ واپس آن پہنچے۔ ٹھنڈے ملکوں میں رہنے کی وجہ سے انہی لوگوں کے چہرے مقابلتاً سرخ و سپید نظر آتے تھے۔ کیرالین کی قمیضیں جن کے کالر ہر وقت اکڑے رہتے تھے اور وہ خوبصورت جرسیاں جو کسی کے منہ سے بھی رال ٹپکنے کا باعث بن سکتی تھیں اور پھر ان کی جیبوں میں پیسوں کا ہونا۔ اگر کسی ان پڑھ نے کسی پڑھی لکھی لڑکی کا رشتہ چاہا تو ایک دم سے مل گیا۔ میر پوریوں نے جہلم کو سسرال کا درجہ دے دیا۔

وہ جنہیں گھر کی روکھی باہر کی چپڑی سے زیادہ پسند تھی اب وہ بھی ہر صورت ”ولایت“ جانا چاہ رہے تھے۔ کچھ نے ایجنٹوں کا سہارا لیا اور کچھ سونے کی کان کی تلاش میں اپنے طور پر ہی نکل پڑے۔ ولایت ”بند“ ہو چکا تھا۔ یعنی اب انہیں مانچسٹر میں موجود کارخانوں کے لیے مزید مزدوروں کی ضرورت نہیں تھی۔ لہذا دیسی لوگوں کا سونامی دوسرے مغربی ممالک کی جانب بہہ نکلا۔ ڈنمارک، سویڈن، ناروے، فن لینڈ، آئس لینڈ، مغربی جرمنی بلکہ بعد میں سپین، اٹلی، یونان سبھی جگہ لوگ پہنچے۔ جب یہ سلسلہ تھما، یعنی اب ممالک میں مزید مزدوروں کی کھپت ختم ہو گئی تو تعلیم کے بہانے اور سیاسی پناہ دوسرے حربے کے طور پر استعمال ہوا۔ چند ایک لوگ جرمنی نام تو جانتے تھے لیکن مغربی اورمشرقی جرمنی کے فرق کو نہ سمجھتے تھے لہذا مشرقی جرمنی جا کر سیاسی پناہ کے خواستگار ہو جو انہیں ایک دم سے مل گئی۔

بہر حال ہم دیسیوں کی معاشی ہجرت ایک طویل داستان ہے اور بہت سی کہانیاں اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ بات غیر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے ووٹ سے متعلق تھی۔

ایک عام سی بات ہے کہ انسان کی سب سے پہلی خواہش اس کی معاشی ضرورت ہے اور جونہی یہ ضرورت کسی حد تک پوری ہو جائے تو اس میں یہ خواہش جنم لیتی ہے کہ اُسے جانا جائے۔ اور اپنی اس خواہش کے لیے انسان بہت جتن کرتا ہے۔ مغرب میں چھوٹی چھوٹی تنظیمیں بننا شروع ہوئیں جس کا مقصد بظاہر اپنے ہم وطنوں کی مدد کرنا تھا لیکن اصل میں وہاں اپنے لوگوں میں ”ٹور“ بنانا تھا۔ ان تنظیموں کے انتخاب میں قتل تک ہوئے۔ ایک ایسے ہی انتخاب کی کمیٹی میں بھی موجود تھا کہ خبر ملی کہ باہر قتل ہو گیا ہے۔

ایک تنظیم سب ”اہم“ لوگوں کو اپنے اندر نہیں کھپا سکتی لہذا مزید تنظیمیں بننا شروع ہو گئیں جو شہروں اور دیہات کے نام پر بھی بنیں۔ بلکہ ناروے میں چند دیہات سے تعلق رکھنے والوں نے ایک سے زیادہ تنظیمیں بنائیں کیونکہ دونوں متحارب برادری سے تعلق رکھتے تھے۔

مغرب میں مقیم پاکستانیوں کی سیاسی بنیادوں پر تقسیم کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں ہوا جب انہوں نے برطانیہ میں پیپلز پارٹی بنوائی۔ مجھے تب بھی سمجھ نہیں آتی تھی کہ ایک جماعت جس کا دائرہ کار پاکستان ہے اُس کی شاخ کا برطانیہ میں کھلنا چہ معنی دارد اور آج بھی مجھے اس میں کوئی منطق نظر نہیں آ سکی۔ ہاں البتہ یہ بات ضرور ہے کہ وہ لوگ جو برطانیہ کے سیاسی نظام میں اپنی جگہ بنا پانے کے اہل نہیں تھے۔ انہیں بھی اپنے گلے میں ایک تمغہ پہننے کا موقع مل گیا۔ جن کے پاس کبھی پاکستانی سفارت خانے میں تعلقات ہونا ہی انتہائی فخرکا باعث تھا۔ اب ان کے پاس پاکستان میں موجود کسی سیاسی جماعت کی بیرونی شاخ کا عہدے دار ہونا باعث افتخار ٹھہرا کہ انہیں اپنے دیسی کمیونٹی میں اہم ہونے کا احساس دلاتا تھا۔

مغرب میں مقیم ایک عام پاکستانی کے لیے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ انہیں پاکستان میں ووٹ کا حق ملے یا نہ ملے۔ یہ صرف ان لوگوں کی خواہش ہے جو پاکستان میں موجود کسی سیاسی جماعت کی فرینچائز کھولے بیٹھے ہیں۔ ایک عام پاکستانی کا مطالبہ اس کی بجائے یہ ہے کہ پاکستان میں موجود اُن کی جائیداد پر کوئی قبضہ نہ کر لے۔ اگر وہ پاکستان میں کوئی پلاٹ خرید کر آئے ہیں تو دوسری بار وہاں جائیں تو وہاں انہیں کوئی تعمیر شدہ کوٹھی دیکھنے کا نہ ملے۔ اور اگر ایسا ہو جائے تو ان کا مقدمہ برسوں پر محیط نہ ہو جائے۔ ان کے بال بچوں کے اغوا برائے تاوان کا مسئلہ ہے۔ ایرپورٹ پر کسٹم والوں کے ہاتھوں لٹنے کا مسئلہ ہے۔ ایرپورٹ سے اپنے علاقے تک پہنچنے کے لیے محفوظ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ ہے۔ پی آئی اے کے ٹکٹوں کی ہوشربا قیمتوں کا مسئلہ ہے۔

بیرون ملک میں مقیم پاکستانیوں کو وٹ کا حق ملنے سے نہ وہاں مقیم پاکستانیوں کے مسائل حل ہونے جا رہا ہیں اور نہ ہی یہ ان کی دیرینہ مطالبہ ہے۔ یہ مطالبہ ہو سکتا کسی چوہدری غلام سرور کا یا کسی اور ایسے پاکستانی کا جو اپنے اختیار کردہ ملک کے سیاسی نظام میں خود کو فٹ کرنے سے عاجز ہے لیکن پاکستان میں انتخاب جیت کی امید رکھتا ہے۔ اور ان لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم ہے۔

میرے خیال پاکستان میں ووٹ کا حق یا انتخاب میں حصہ لینے کا حق صرف انہیں لوگوں کو حاصل ہونا چاہیے جو پاکستان میں رہتے ہیں۔ جو پاکستان میں ہونے والے فیصلوں اور پالیسیوں سے متاثر ہوتے ہیں۔ جو وہاں کی مہنگائی سے بدحال ہوتے ہیں۔ جبکہ بیرون ملک میں مقیم کوئی بھی پاکستانی پاکستان کے معاشی یا سیاسی حالات سے کسی بھی طور متاثر نہیں ہوتا۔ ان کے نزدیک پاکستان میں پیدا ہونے والی مہنگائی، بیروزگاری اور معاشی انحطاط کی بجائے اس بات کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے کہ ان کے اختیار کردہ ملک میں بینک نے سود کی شرح کس قدر کم یا زیادہ کی ہے۔ کیونکہ اس کا تعلق ان کے مارگیج کی قسط سے ہے۔

بیرون ملک میں مقیم پاکستانی پہلے سے ہی مختلف بنیادوں پر بٹے ہوئے ہیں، کہیں گاؤں، کہیں برادری، کہیں مذہبی عقیدے اور کہیں مختلف مساجد سے قریبی تعلقات۔ انہیں پاکستان میں ووٹ کا حق دینے سے یہ لوگ نہ صرف مزید تقسیم ہو جائیں گے بلکہ مقامی معاشرے سے ان کا تعلق مزید کم ہو گا۔ یہ لوگ مقامی معاشرے کا حصہ بننے کی بجائے مزید اپنے اندر سمٹ جائیں گے۔

ہمیں ووٹ کا حق دے کر خدا را ہمیں چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں مزید تقسیم نہ کریں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •