میرے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا گیا: عرفان صدیقی


سابق وزیراعظم نواز شریف کے مشیر اور معروف صحافی عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ مجھ سے دہشت گردوں جیسا سلوک کیا گیا۔ مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کے ہمراہ اڈیالہ جیل کے باہر رہائی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں عرفان صدیقی نے کہا کہ انہیں گھر کے باہر سے گھسیٹ کر گاڑی میں ڈالا گیا۔

عرفان صدیقی کو گزشتہ روز کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

ن لیگی ترجمان مریم اورنگ زیب نے اس موقع پر کہا کہ یہ پاکستان تحریک انصاف نہیں، تاریک انصاف ہے۔ ماہر تعلیم کو عمران خان کے حکم پر ہتھکڑی لگائی گئی۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ عرفان صدیقی صاحب کے ہاتھ میں ہتھکڑی اور قلم کی تصویر تاریخ کا حصہ بن چکی ہے، یہ تصویر عمران خان کی حکومت پر کالا دھبہ بن گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس جمہوری حکومت میں انصاف ہو، جمہوری اقدار کی پاسداری ہو، وہاں یہ عمل نہیں ہوسکتا۔

عرفان صدیقی نےگرفتاری کا احوال بتاتے ہوئے کہا کہ رات کے پچھلے پہر میں میرے گھر کی گھنٹی بجی، میں کچھ لکھ رہا تھا۔ باہر آیا تو میرے گھر کو درجنوں پولیس اہلکاروں نے گھیرا ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے گھسیٹ کر گاڑی میں ڈالا گیا، میرے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک کیا گیا، اس واقعے پر ضرور لکھوں گا۔

سابق وزیراعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ مجھے مجسٹریٹ کے سامنے ہتھکڑی لگا کر پیش کیا گیا۔ مجھے عدالت میں اس حالت میں پیش کر کے دنیا کو کیا پیغام دیا گیا؟ اس واقعے کی انکوائری ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو ذرا احساس ذمہ داری اور شرم ہے تو ذمہ داروں کےخلاف کارروائی کرے۔ اس حکومت کےخلاف ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، یہ اپنے لیے سب خود کر رہی ہے۔

عرفان صدیقی نے کہا کہ انسانیت کی بے حرمتی، صحافت کی تذلیل پر کارروائی ہونی چاہیے۔ جن اہلکاروں نے یہ کیا ہے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے عدالت میں کہا کہ اس کیس سے میرا کیا تعلق ہے؟ یہ گھر چار دن پہلے کرائے پر دیا گیا تھا۔ میرا صرف اتنا تعلق ہے کہ کرائے نامے میں میرا نام ولدیت میں لکھا ہے۔ سابق وزیراعظم کے مشیر نے مزید کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ اتوار کو میری رہائی کس کے کہنے پر ہوئی۔

Facebook Comments HS