شخصیت پرستی یا اندھیروں کی غلامی
جب امریکہ میں غلامی اپنے عروج پر تھی تو ہیرییٹ نامی خاتون نے اک خفیہ تنظیم بنائی جو غلاموں کو بھاگ جانے میں مدد کرتی تھی۔ ایک دفعہ اس خاتون سے پوچھاگیا کہ کون سا مرحلہ آپ کے مشن میں کٹھن اور دشوار ہوتا ہے تو اس نے کہا کہ ”غلام کو ترغیب دینا اور اس بات پہ آمادہ کرنا کہ تم غلام نہیں ہو اور آزاد ہو سکتے ہو۔ “
آج بحیثیت قوم آزادی کے ستّر سال بعد بھی ہم کبھی عقیدت تو کبھی لسانیت کبھی قومیت تو کبھی شخصیت پسندی کے ہاتھوں اپنے پاؤں میں غلامی کی بیڑیاں ڈالے بڑے شوق سے بکنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں اور ہماری بولیاں لگانے والوں نے ہم سے کب ہماری آزادی چھینی ہمیں احساس تک نہ ہوا اور ہم غلامی کے اس طوق کو گلے میں ڈالے ان اقوام کو اپنی اندھی عقیدتوں کے جھوٹے قِصّے سنا کر توجہ حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ جن کی ترجیح عقل و دانش، شعور اور دلیل کی بنیاد پر دنیا سازی اور اقوام عالم سے بات چیت کرنا اور منوانا ٹھہرا۔
ہم عقیدتوں کے پہاڑ پر کھڑے فتوی ساز فیکٹریاں کھولے غدّار غدّار کے نعرے چہار دانگ بلند کرکے ماضی پرستی پر اتراتے دُنیا کی صفوں میں جگہ بنانے کی لاحاصل کوشش میں مصروف اور ناکامی کا ذمہ داری یہودی نصرانی سازشوں کو قرار دے کر اپنے فرائض سے عہدہ برا ہونے کی غلط کوشش میں مبتلا قوم نہیں ایک ہجوم ہیں۔ تابناک ماضی پر فخر بجا لیکن آپ کیا ہو؟ اقبال پوچھتا ہے
تھے تو آبا وہ تمہارے ہی، مگر تم کیا ہو
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو!
ہم ماضی پرست قوم اگر اجداد کے علوم (بلا تفریق مذاہب) کی آبیاری علم کی روشنی پھیلانے اور گھٹا ٹوپ اندھیروں کو دور کرنے کا عزم لئے علمی تحقیقی دٙر وا کرلیں تو مجھے یقین ہے کہ اگر صرف قوم کی سمت ہی درست کرلیں تو طفل مکتب کے طور پر ہی سہی ہم آگے کی سمت بڑھنے کے سفر کا آغاز تو کرلیں گے۔
بڑے دُکھ کرب اور افسوس کے ساتھ اظہار کرنا پڑتا ہے کہ آج ہم جس اخلاقی پستی پر کھڑے ہیں کہ ہمارے گھروں کی فضاؤں سے لے کر دلوں کے نفق، اور رشتوں کو لگے گرہن ہر ہر زاویے سے زندگی کی بابت نظریات ہماری ناکامیوں کی گواہی دے رہے ہیں اور ہم ہیں کہ نہ جانے کس مسیحا کے منتظر ہیں۔ کہ وہ ظہور پذیر ہو اور تسبیح کے دانوں کو ٹٹول ٹٹول کر اپنے وظیفوں سے ہماری سوئی ہوئی قسمت جگا دے یا کوئی ایسا ملنگ درویش بابا جو جھوم جھوم کر خدا سے ہماری تقدیر بدلنے کی التجا کرے۔
میری دعا ہے اس سے پہلے کہ ہماری یگانگت صرف آسمان سے اترتے من و سلوی کی چاہ اور انتظار تک محدود ہو کر رہ جائے اور ہم تاریخ کے اوراق میں کہیں گُم ہو کر رہ جائیں۔ ابھی وقت ہے آو ہم عقل و شعور کی روشنی، جدت کے دریچوں اور دلیل کے موتیوں کو ہم اپنے ہاتھوں کہیں گنوا نہ دیں ہم سب ملکر ”ہیرییٹ“ کے تصور سے ملک عظیم میں غیر مرئی ہاتھوں اور تقدیسی بُتوں سے نجات پانے کے لئے ملکر علم، شعور، عقل ودانش کی شمع روشن کرنے کی کوشش کریں جو ہمیں چار سو پھیلے اندھیرے سے روشنی کی طرف لے جائے اور مصنوعی غلامی کے اندھیروں سے نکال کر شعور کی پُر نور راہ پہ ڈال دے۔
نوٹ: شخصیت پرستی اور شخصی فکر کی پیروی دو مختلف جہتیں ہیں


