محسن عباس حیدر ایک ٹیسٹ کیس ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ نے بالکل درست فرمایا محترمہ۔ محسن عباس حیدر واقعی ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ اور اس کو بہت سیریس لینا ہے۔ اس کو عبرت کی ایسی مثال بنانا ہے کہ آئندہ کوئی مرد اپنی عورت پہ ہاتھ اٹھانے سے پہلے سو مرتبہ سوچے۔ ٹیسٹ کیس کا شاید یہی مطلب ہوتا ہے۔

مگر کیسے؟ فاطمہ سہیل کے ساتھ ہونے والے اس توہین آمیز رویے کو کیسے ایک ٹیسٹ کیس بنایا جا سکتا ہے۔

جہاں تک تھانے، کورٹ کچہری کا تعلق ہے۔ تو گھریلو تشدد کے جو قوانین موجود ہیں۔ وہ ”کھانے کے نہیں، دکھانے کے ہیں“۔ اُن کی بنیاد پر انصاف کا حصول اس طرح کے کیسز میں ناممکن حد تک مشکل ہے۔ فاطمہ سہیل کی جانب سے اُس پر ہونے والے تشدد کی جو ایف آئی آر کاٹی گئی ہے۔ اُس کے تناظر میں تعزیرات پاکستان دفعہ 406اور 506(B) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جو امانت میں خیانت کرنے اور پستول کے ساتھ جان سے ماردینے کی دھمکی کی دفعات پر مبنی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اس طرح کے توہین آمیز تشدد میں جسم پہ کم اور دل پہ زیادہ چوٹ لگتی ہے۔ اور دل کی چوٹ کا کوئی میڈیکولیگل سرٹیفکیٹ نہیں بنتا۔ جس کی بنیاد پر کیس بنایا جاتا۔

آپ کو یہ سن کر میری طرح شدید حیرت بھی ہوگی اور غصہ بھی آئے گا کہ کچھ مذہبی اور قبائلی حلقوں میں میاں بیوی کے جھگڑوں کو صرف اس صورت میں قابل شنوائی سمجھا جاتا ہے جب عورت کی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہو۔ اُن کے مطابق شادی کے بعد عورت کا گوشت شوہر کا ہوتا ہے۔ اور اُس کی ہڈی اُس کے ورثا کی۔ قانون اور آئین میں یقینا عورت کو ہر ممکن تحفظ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ مگر انصاف کے حصول تک پہنچنے کے لئے جن مراحل سے گزرنا پڑتاہے۔ وہاں ہڈی اور گوشت والی ذہنیت کا بہت زیادہ عمل دخل ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ ہماری جوڈیشری میں ڈومیسٹک وائلنس کو بہت کم لوگ کرائم سمجھتے ہیں۔ اوپر سے سسٹم میں ٹائم اور پیسہ اتنا لگتا ہے کہ اکثر لوگوں کی جوتیاں گھسٹ گھسٹ کر جواب دے جاتی ہیں۔ اور اگر انصاف مل بھی جائے تو معاشرے کا رویہ بھی کسی ظالم شوہر سے کچھ کم نہیں ہوتا۔ جسمانی تشدد سے چھٹکارا پاکر عورت ذہنی تشدد کا شکار ہونے لگتی ہے۔

فاطمہ سہیل کے انکشافات کے بعد محسن عباس کے خلاف جو ردعمل آیا۔ وہ اسی فرسٹریشن کی ایک جھلک ہے۔ ہمارے معاشرے کی عورت اس ناانصافی اور بے بسی کے غصے سے بھری ہوئی ہے۔ چاہے وہ سماج کے کسی بھی طبقے یا طبقہ فکر کی کیوں نہ ہو۔ ایسا کوئی واقعہ دیکھتی ہے تو یک زبان ہوکر چلّا اٹھتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کم و بیش ہمارے یہاں کی ہر عورت گھریلوتشدد کے توہین آمیز سلوک کے تجربے سے گزرتی ہے۔ کہیں جسمانی، تو کہیں ذہنی۔ اس لئے دھتکار، پھٹکار اور انکار کی ایسی بوچھاڑ ہوئی، جس نے محسن عباس حیدر کے بینر اتروائے، ملازمت چھڑوائی اور اُس کی مٹھی سے آئندہ کے سارے پروجیکٹس چھین لئے۔ محسن عباس نے جو سختیاں اور مشکلات جھیل کر، ایک ایک سیڑھی چڑھ کر زیرو سے ہیرو کا جوسفر طے کیا تھا، اُس بلندی سے وہ جس طرح گرا ہے، وہی موت محسن عباس جیسے ایک سیلف میڈ فنکار کے لئے کافی ہے۔ بے شک وہ قانون کی نظر میں بے گناہ ٹھہرایا جائے۔ مگر اُن لوگوں کی نظر میں وہ گناہ گار ٹھہرگیا، جو کل اُس کے لئے ستائش کی تالیاں بجاتے تھے۔

مگر محترمہ، ٹیسٹ کیس تو یہ پھر بھی نہیں ہوا۔ اب ہر کوئی محسن عباس کی طرح اسٹار یا سلیبرٹی تو نہیں ہوتا نا کہ اُس سے اُس کا اسٹارڈم یا اُس کی شہرت چھین کر اُسے ہیرو سے زیرو بنادیا جائے۔ گھریلوتشدد کرنے والوں میں تو اکثریت اُن مردوں کی ہے، جو ایک ہاتھ سے عورت کی کمائی چھینتے ہیں اور دوسرے سے چپیڑ مارتے ہیں۔ اور اسٹارز اور سلیبریٹیز میں سب لوگ محسن عباس جیسے لاپروا بھی نہیں ہوتے کہ یوں رنگے ہاتھوں پکڑے جائیں۔ فاطمہ سہیل جیسی دوسری کتنی مظلوم و معتوب خواتین آہ و بکا کرتی رہ گئیں۔ مگر بہت سارے سیاسی اور غیر سیاسی سلیبریٹیز نا صرف بچ نکلے بلکہ الٹا اُن بیچاری عورتوں کو منہ کی کھانی پڑگئی۔

سوشل، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے جانبازوں نے اپنے اسٹارز کا ایسا دفاع کیا کہ الزام لگانے والیاں خود ملزم بن گئیں۔ فاطمہ سہیل کے ساتھ بھی شاید ایسا ہی ہوتا۔ اگر محسن عباس کے پاس کوئی تگڑا میڈیا سیل ہوتا۔ مگر محسن باﺅلا اور بیوقوف ہو نہ ہو، بدقسمت ضرور ہے۔ کہ دفاع تو بجائے خود اُس کے ان گنت بدخواہ بھی جیسے اس موقع کی تاک میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ محسن کا مبینہ فعل کسی طرح کی رعایت کا مستحق نہیں۔ لیکن سوشل میڈیا پر جہاں لاتعداد کمنٹس اس قبیح فعل کی مذمت میں نظر آتے ہیں۔ وہیں پر بہت سارے کمنٹس بالکل ذاتی پرخاش اور کدورت پر مبنی ہیں۔ مطلب یہ کہ اُنہیں فاطمہ سے ہمدردی نہیں بلکہ محسن کی ذات سے نفرت ہے۔

ایسے کچھ چہرے دیکھ کر مجھے الجھن ہورہی ہے، جو اپنی چوری چھپانے کے لئے محسن کے پیچھے چور چور کی لٹھ لے کر دوڑ پڑے ہیں۔ اور تھوڑا سا غصہ مجھے اُن لوگوں پر بھی آرہا ہے جو اُن ڈراموں کی کامیابی پر تالیاں بجاتے ہیں، جن میں عورت کو تھپڑ مار مار کر اطاعت گزاری پہ مجبور کیا جاتا ہے۔ اور دوسری طرف وہ چپیڑ مارنے والے کو گالیاں بھی دے رہے ہیں۔ اور سب سے زیادہ حیرت تو مجھے محسن کے قریبی رفقا پر ہوتی ہے، جو آج تو محسن کے ظالمانہ فعل کی گواہی دے رہے ہیں، لیکن کل انہوں نے خیر خواہی کی کوشش نہیں کی۔ ایک شخص خود دعویٰ کر رہا ہے کہ وہ شدید ذہنی خلفشار کا شکار ہے۔ مطلب کہ وہ بیمار ہے۔ اور بیمار کا علاج کروایا جاتا ہے۔ بھلے اُس کی مرضی ہو یا نہ ہو۔ اُس کو یہ ساری دھتکار، پھٹکار تب ملنی چاہئے تھی۔ آج اُس کو ”باسٹرڈ “اور پتہ نہیں کون کونسی ننگی ننگی گالیاں دی جارہی ہیں۔ کل تک اُس کو ”برو“ اور ”سوئیٹ ہارٹ“ کی منافقانہ چاشنی سے پکارا جاتا تھا۔

 عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ خاندان سماجی ڈھانچے کی بنیاد ہے۔ یہی وہ نرسری ہے، جس سے معاشرے کو افراد ملتے ہیں۔ اگر ایسے افراد ایک پٹتی ہوئی ماں اور پیٹتے ہوئے باپ کے زیر سایہ پروان چڑھتے ہیں۔ تو اُس معاشرے کے خدوخال شاید ایسے ہی ہوں گے، جیسے ہیں۔ اس لئے اس کو واقعی بہت سیریس لینا چاہئے۔ اس ایشو کو نہ تو ذاتی، سیاسی، سماجی رتبے کی ”سربلندی “ کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔ اور نہ ہی اپنی وقت گزاری کے لئے اپنے ”موب کلچر “کے میدان میں لاکر ”گلیڈی ایٹرز“ بناکر اس لڑائی کے چسکے لینے چاہئیں۔ جیسا کہ دکھائی دے رہا ہے کچھ لوگ اس طرح کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ تماشے کی غرض سے نئے میدان سجانے اور نئے گلیڈی ایٹرز کا یہ کھیل اس لئے خوفناک ہے، کہ سوشل میڈیا پر اس طرح کے ایشوز مذاق بن جائیں گے۔ اور مظلوم کی دادرسی کے لئے یہ دروازہ بھی بند ہوجائے گا۔

بہرحال، اگرہم اس کو ایک ٹیسٹ کیس بنانا چاہتے ہیں۔ مطلب، کہ کسی اور محسن کو باز رکھنا چاہتے ہیں، کہ وہ کسی اور فاطمہ سے اس قسم کا توہین آمیز برتاﺅ نہ کریں۔ اس ضمن میں، میں معذرت کے ساتھ، میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں۔ کہ ہم نے زینب جیسے پھول کو مسلنے والے عمران علی کو بھی ٹیسٹ کیس بنانے کے دعوے کئے تھے۔ لیکن کیا اُس کو صرف پھانسی پہ لٹکا دینے سے ہمارے گلی کوچوں، بازاروں، محلوں، کھیت کھلیانوں میں پھر کوئی عمران علی پیدا نہیں ہوا؟

”مار دو، مار دو۔ گلیوں میں گھسیٹو، چوک پہ لٹکا دو“ کا پتھراﺅ کرتے ہوئے ہم نے ایک بار بھی یہ نہیں سوچا کہ دفنانے سے پہلے اُس بدذات کا نفسیاتی تجزیہ تو کریں۔ کہ اُس کا طریقہ واردات کیا تھا۔ اُس ذہنیت کو تو سمجھنے کی کوشش کریں، جس کی حیوانیت، اتنی ذہانت سے سات بچیوں کو کیسے کھا گئی۔ یہ سب اس لئے ضروری تھا، کہ ہم، اپنے اردگرد ہماری بچیوں کے لئے گھات لگائے ہوئے ایسے کسی دوسرے عمران علی کو پہچان کر کسی واردات سے پہلے اُسے دبوچ لیں۔ یہی عرض میں محسن عباس اور فاطمہ سہیل کیس کے سلسلے میں آپ سے کر رہا ہوں، کہ کیا صرف محسن عباس کو لہولہان کرنے سے اردگرد کے سارے مرد دُبک کر بیٹھ جائیں گے؟ اس خوف سے کوئی ہاتھ نہیں اٹھائے گا اپنی بیوی پہ؟

میری گزارش یہ ہے کہ صرف سنگ باری کرنا اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ ہمیں اُس کا نفسیاتی تجزیہ ضرور کرنا چاہئے۔ اُن عوامل، محرکات اور بیماریوں کا ضرور پتہ لگانا چاہئے۔ جن کی وجہ سے ایک شوہر اپنی بیوی کے ساتھ اس طرح کے غیر انسانی رویے کا مرتکب ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے ایسی کئی فاطمائیں آپ کے اردگرد چپیڑ کھا رہی ہوں۔ ہو سکتا ہے، اُن کے محسنوں کا علاج پتھر کی بجائے کسی دوا سے ہو جائے۔ دشنام کی بجائے خیر خواہی کے دو بول ان رشتوں کو پھر سے زندہ کر دیں۔ آخر میں نقصان تو دونوں کا ہی ہے نا۔ کسی محسن کی بربادی، اُس کی فاطمہ کی بھی ناکامی ہے۔ اور اُس بچے کے لئے بھی ایک المیہ ہے، جس نے دو لوگوں کی نفرت کے بیچ میں پرورش پانی ہے۔

توہین کی سزا بے شک دھتکار اور پھٹکار ہوسکتی ہے۔ مگر اُس کا مداوا توبہ اور معافی ہے۔ رشتوں اور گھروں کو نیک ارادے اور تصفیے ہی بچا سکتے ہیں۔ محسن عباس حیدر ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ دیکھتے ہیں ہم اس کو کیسے ہینڈل کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •