خانہ بدوشی اور گھروں کے دکھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 مجھے بہت محبت ہے، اپنے گھر سے !

 میرا ساتھی، میرا دوست، میرا غمگسار، میرا ہمدم، میرا نگہبان اور میرا آشنا!

زندگی کی چلچلاتی دھوپ، پیچ و غم بھرے راستوں اور کلفت بھرے دن کے بعد اس کی سکون بھری ٹھنڈک میری روح پہ پھاہے رکھتی ہے اور میری سب بےچینیوں کو سمیٹ کے شانت کر دیتی ہے۔ میری تیرہ شبوں میں اس کا عافیت بھرا وجود مجھے تھپک کے سلا دیتا ہے۔

آسودگی کا احساس، ڈھلتی دوپہر کی خاموشی، شام کی نیم تاریک خنکی، برگد کا پھیلتا سایہ، دیواروں پہ لٹک کے گنگناتی بیلیں، انتظار کرتی کھڑکیاں، یہ ہے میرا گھر!

بھاگتی دوڑتی زندگی مہلت نہیں دیتی کہ میں اس سے ہم کلام ہوں۔ وہ منتظر خاموش نگاہوں سے مجھے تکتا ہے اور میں یہ سوچتے ہوۓ آگے نکل جاتی ہوں کہ مجھے اس سے باتیں کرنی ہیں، فرصت کے وقت بہت سی باتیں! وہ مجھے یاد دلاتا ہے میرا ماضی!

ان سب گھروں کی باتیں جو ماضی کے دھندلکوں میں آہستہ آہستہ گم ہو چکے مگر دل کی کتاب میں ابھی بھی روشن ہیں۔ ان میں بسر کیے ہوئے دن زندہ ہیں۔ وہ لمحے آج کے وقت میں ہلکورے لیتے ہیں اور ہمارے لبوں پہ کبھی مسکراہٹ بکھیرتے ہیں اور کبھی پلکوں پہ آنسو !

کتاب حیات کا پہلا گھر جہاں اپنے آپ سے آشنائی ہوئی، وہ تھامیرے بچپن کا گھر! طویل برامدوں ، وسیع صحن اور کشادہ چھت والا گھر !

گرمی کی دوپہروں میں جب سکول کی چھٹیاں ہوتیں تو انہی برامدوں میں ہم بہن بھائیوں کی محفلیں جمتیں۔ کھیل کھیلے جاتے۔ برامدے کے ایک طرف جھولا تھا جس پہ میں اور میری بہن خوب جھولتے۔ دوسری طرف ہمارا بھائی طاہر جسے اپنا قد بڑھانے کا شوق تھا،ایک رسے سے الٹا لٹک رہا ہوتا۔ آپا کے ہاتھ میں کتاب ہوتی۔ پس منظر میں ابا کے کمرے سے ریڈیو کی آواز آ رہی ہوتی، فرمائشی پروگرام، تلقین شاہ،فوجی بھائی ، نور جہاں اور ناہید اضتر ، صابری اور عزیز میاں کی قوالیاں۔

گھر کی کشادہ چھت ہر کسی کی پسندیدہ جگہ تھی۔گرمیوں کی راتوں میں تاروں بھرے کھلے آسمان تلے سونے کا لطف آج تک بھولا نہیں۔ چاند نکلا ہوتا تو ٹھنڈی چاندنی کا فسوں چہار سو ہوتا۔

ہمیں چھت پہ سونے کا صرف ایک غم رہتا کہ تاریکی میں کتاب سے جدائی ہو جاتی تھی۔

شب برات ہوتی تو چھت پہ جا کردیئے جلاتے۔محلے میں پکوانوں کی خوشبو پھیل رہی ہوتی۔ بارش ہوتی تو چھت پہ جا کے بھیگنے لگتے، کچن میں اماں پکوڑے تلنے لگتیں اور چائے دم دے دی جاتی۔

ہمارے صحن میں ہر وقت چڑیوں کا شور رہتا۔ ہمارے ابا کا معمول کہ وہ روزانہ چڑیوں کے لئے ایک کونے میں باجرا ڈالتے اور پانی کا برتن سو بے شمار چڑیاں ہر شام بلا خوف وخطر ہمارے صحن میں اتر آتیں۔ وہ اس گھر کے مکینوں کی محبت سے آشنا و مانوس ہو چکی تھیں۔

سردیوں کی شاموں میں ہم سب کی منڈلی کچن میں جمتی۔ مونگ پھلی کھائی جاتی، اماں السی کے لڈو بناتیں کہ ابا کو بہت پسند تھے۔ خوب گپ بازی ہوتی اور بےفکرے دن گزرتے جاتے۔

پینتیس برس ہوئے اس گھر سے جدا ہوئے مگر وہ آج بھی ہماری یادوں کی اوٹ سے ہم سے باتیں کرتا ہے۔ کھوئے ہوئے بچپن کی کسک دل میں امڈ آتی ہے اور میں سوچتی ہوں کیا وہ بھی ہمیں یاد کرتا ہو گا؟

ابا سرکاری ملازم تھے، سو گھر تبدیل ہوا اور ساتھ میں ہمارا ٹھکانہ بھی کہ لاہور میں میڈیکل کالج میں داخلہ ہو چکا تھا۔زندگی بدل رہی تھی، گھر کے مکین آہستہ آہستہ رخصت ہو رہے تھے۔ بڑے بھائی کاکول جا چکے تھے، آپا سسرال کو سدھار چکی تھیں اور ہم بچپن کے خواب کے تعاقب میں لاہور روانہ ہو رہے تھے۔

نئے گھر نے ہمیں چھٹیوں اور ویک اینڈز پہ دیکھا، بڑے برامدوں، اور بہت سے درختوں والا گھر۔ جب بھی ہوا چلتی، سرو کے درخت جھومتے اور ساتھ میں ہمارا دل بھی۔ گرمیوں کی لمبی دوپہر یں، درختوں بھرا آنگن اور کتاب، زندگی کیا خوب تھی!

یہ گھر ہماری جدائی کے اداس لمحوں کا گواہ بنا، جب ہم چھٹیوں میں خوب ناز اٹھوانے کے بعد گھر سے لاہور روانہ ہوتے۔ اماں ڈبڈبائی آنکھوں سے گیٹ پہ کھڑی ہوتیں۔ ماتھا چوم کے خدا حافظ کہتیں اور میں اس وقت تک پیچھے مڑ کے دیکھتی رہتی جب تک وہ آنکھ سے اوجھل نہ ہو جاتیں۔

کبھی کبھی ایک خیال سرگوشی کرتا ہے، کیا وہ سرو کے درخت موجود ہوں گے اور اس لڑکی کے منتظر ہوں گے جو انہیں دیکھ دیکھ کے مسکراتی تھی۔

میڈیکل کالج کے ہوسٹل کو بھی ہم گھر گردانتے ہیں کہ عمر کا خوبصورت ترین حصہ یہاں گزرا۔بڑی بڑی چھتوں والے کشادہ کمرے، بالکنی میں لان میں اگے درختوں کی جھانکتی شاخیں، گرمی کی لمبی دوپہریں، چھت کا پنکھا اور کمرے میں بچی چارپائیاں، بس کل یہی مال ومتاع۔

 ہم کالج سے آتے اور کمرہ ہمیں اپنی آغوش میں تھپک کے سلا دیتا۔ شام کو چاۓ کا کپ پکڑ کے بالکنی میں بیٹھ جاتے اور مشکوک ملاقاتیوں کو دیکھ کے سیٹیاں بجاتے۔

رات کو ڈائننگ ہال کی گھنٹی بجتی اور ہم سب دوست روانہ ہو جاتے۔ میس کے پچیس تیس سال پرانے ملازم ہر کسی کو پلیٹ میں دال یا سبزی ڈال کے دو روٹیاں پکڑا دیتے۔ یہ کھانا اچار کے ذائقے کے بغیر کھانا ممکن نہ تھا۔

کھانے کے بعد ہوسٹل کی لمبی سڑک پہ چاند کی روشنی اور درختوں کے لمبے ساے میں چہل قدمی کرتے اور خوب گیت گاتے، ہماری آوازیں ہر طرف گونج رہی ہوتیں اور کیا خبر آج بھی گونج رہی ہوں!

کچھ لازوال لمحوں کی مانند جنہیں وقت ایک ہمیشگی میں لٹکائے رکھتا ہے کسی بھی طرح، بدلے بنا !

وہ ہمدم و ہمراز کمرا امتحان کے دنوں میں ہمارے ساتھ شب بیداری کرتا۔ ساری دیواروں پہ ہمارے نوٹس لگے ہوتے اور دروازہ بہترین دعاؤں والے کارڈز سے بھرا ہوتا جو عزیزوں دوستوں نے بھجوائے ہوتے۔

کیا خبر ، یہ سب یادیں اب بھی کسی بند الماری کے ایک گوشے میں پڑی ہوں، زندگی کی تلخ حقیقتوں سے نا آشنا معصوم دلوں کی سچائیوں، خوبصورت چہروں کی چمکتی آنکھوں اور بے فکر ہنسی کی یادیں !

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •