عرفان صدیقی کی گرفتاری: چند سادہ سوال جواب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوال : کیا کرایہ داری قانون پر لوگوں کو ہتھکڑی لگا کر عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے؟ کیا یہ عام روایت ہے؟

جواب : نہیں، ہرگز نہیں۔ اس قانون کے تحت مکان کرایہ پر دینے سے پہلے پولیس میں اندراج کرنا چاہیے، مگر ایسا نہ ہونے پر اس نوعیت کی سخت ترین کارروائی نہیں کی جاتی۔ عام طور سے یہ پراپرٹی ڈیلر کی ذمہ داری ہوتی ہے، وہ کرایہ نامہ سائن کرانے کے ساتھ کرایہ دار کو ساتھ لے جا کر تھانے میں اندراج کرا دیتا ہے۔ فارمیلیٹی ہے یہ، اس میں کوئی ایسا سنگین مسئلہ نہیں جس پر طوفان کھڑا ہوجائے۔ کبھی پراپرٹی ڈیلر کی غفلت سے تاخیر ہوجاتی ہے تو چھوٹا موٹا مسئلہ بن جاتا ہے، عام طور پر پولیس ڈیلر کو تنبیہ کر دیتی ہے، مالک مکان کو بھی تنبیہ کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے کہ آئندہ احیتاط کیجئے گا۔ اس کیس میں تو کہا جا رہا ہے کہ مکان کی ملکیت عرفان صدیقی صاحب کے نام نہیں، اس کیس میں بھی وہ فریق نہیں، کرایہ نامہ پر ان کے دستخط نہیں، مکان ان کے صاحبزادے کا ہے جو دوبئی میں جاب کرتا ہے۔

سوال :اس کیس میں انوکھا کام کیوں کیا گیا؟

جواب : اس لئے کہ عرفان صدیقی صاحب کو پھانسنا، انہیں جیل بھیجنا، تنگ کرنا، ذلیل کرنا مقصود تھا۔ عام طور پر گھروں میں یہ کرایہ نامہ وغیرہ بنوانے کے کام نوجوان بیٹے کیا کرتے ہیں، اس کیس میں مگر صدیقی کے صاحبزادے کو پکڑنے کے بجائے بزرگ صحافی کواٹھایا گیا ہے۔ مقصد وہی جو ابھی اوپر بیان ہوا۔

سوال : عرفان صدیقی صاحب نے قانون کی خلاف ورزی کی، اس پر لوگ شور کیوں مچا رہے ہیں؟ کیا صدیقی صاحب قانون سے بالاتر ہیں، انہیں جوابدہ نہیں ہونا چاہیے؟

جواب: عرفان صدیقی صاحب بھی ملک کے باقی لوگوں کی طرح قانون کے سامنے جواب دہ ہیں، وہ قانون سے بالاتر نہیں۔ تنقید اور شور اس لئے اٹھا کہ بادی النظر یعنی دیکھنے ہی میں یہ واضح طورپر ایک ظالمانہ اقدام لگ رہا ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ مقصد ن لیگ کے ایک رہنما، میاں نواز شریف کے ساتھی کو تنگ کرنا، شکنجے میں جکڑنا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اس قسم کے معمولی کیسز میں کیا ہوتا ہے؟ آج جب اس عام کیس کو دانستہ غیر معمولی بنایا گیا تو اس کے پیچھے موجود وجوہات ہر ایک کو نظر آ رہی ہیں۔ یہ ظلم اور فسطائیت ہے۔ اسی لئے اس کی مذمت کی جا رہی ہے اور اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو تحریک انصاف کے حامی ہیں اور جنہوں نے عمران خان کو ووٹ دیا۔ انہیں بھی احساس ہو رہا ہے کہ یہ زیادتی ہوئی ہے، اس کی مذمت کرنی چاہیے۔

سوال : صدیقی صاحب کون سے دودھ کے دھلے ہیں، وہ بھی نواز شریف، مریم نواز کی تقریریں لکھتے رہے، اپنا قلم ان کی حمایت میں استعمال کرتے رہے وغیرہ وغیرہ۔

جواب : پاکستان پینل کوڈ یعنی تعزیرات پاکستان میں نواز شریف، مریم نواز کی تقریریں لکھنا قطعی طور پر کوئی جرم نہیں ہے، کوئی بھی شخص یہ کام کر سکتا ہے۔ ایسا کرنے والے پر کسی بھی قسم کا جھوٹا، جعلی کیس نہیں ڈالا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی معمولی جرم میں ہتھکڑیاں ڈال کر ذلیل کرنے کی گنجائش ہے۔ باقی یہاں دودھ کا دھلا کوئی بھی نہیں۔ ہر ایک کو اپنے گریبان میں جھانکتے رہنا چاہیے۔ بہادر شاہ ظفر کا ایک شعر ہے کہ جب اپنی خرابیوں پر نظر پڑی تو پھر نگاہ میں کوئی برا نہ رہا۔

سوال : کیا شور اس لئے ہے کہ اس بار ایک صحافی گرفت میں آیا؟

جواب: نہیں اس لئے کہ ایک بزرگ اہل قلم کو ناجائز طور پر نشانہ بنایا گیا۔ بزرگ افراد ویسے بھی ہر زندہ سماج میں بہت سی مراعات کے مستحق ہوتے ہیں، اگر اس کا تعلق علم وادب کے شعبے سے ہو تو ان کی توقیر مزید بڑھ جاتی ہے۔ صدیقی صاحب ایک صاف ستھری، بہت اچھی ساکھ رکھنے والے صحافی رہے ہیں، ان پر کوئی مالی بدعنوانی کا دھبا نہیں۔ وہ اس درجہ محتاط ہیں کہ جب مشیر بنائے گئے تو اخبار میں کالم لکھنا چھوڑ دیا کہ اب سرکاری عہدے کے ساتھ غیر جانبداری کے ساتھ لکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ یہ حد درجہ احتیاط اور ایک مثبت مثال قائم کی تھی۔ ان کے دور میں اہم علمی اداروں پر بہترین تقرر ہوئے، جیسے اردو سائنس بورڈ پر ناصر عباس نئیر جیسے نامور محقق، نقاد، اردو لغت بورڈ پر عقیل عباس جعفری جیسے نابغہ روزگار علمی شخصیت، مجلس ترقی ادب میں ڈاکٹر تحسین فراقی، مقتدرہ میں افتخار عارف وغیرہ کی تعیناتی ہوئی۔ صدیقی صاحب کی سیاسی سوچ، فکر سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں عرفان صدیقی صاحب سے شدید اختلاف ہے، ہم ان کے نقطہ نظر کو درست نہیں سمجھتے، ان کی شریف خاندان کی حمایت سے بھی اختلاف رکھتےہیں۔ اس کا مطلب مگر یہ نہیں کہ صدیقی صاحب کو یوں عبرت کی مثال بنانے کی کوشش کی جائے۔ یہ غلط ہے۔

سوال: یہ سب کچھ کیوں کیا گیا اور اس پر کیا ردعمل دینا چاہیے؟

جواب: یہ مقدمہ والا ایشو تو ہرگز نہیں، صدیقی صاحب کو سیاسی موقف کی سزا دی گئی ہے۔ اس لئے کہ وہ ن لیگ سے وابستہ ہیں، جن سے عمران خان اور ان کے جماعت کے لوگ شدید نفرت کرتے ہیں۔ حکومت میں یہ ہیں، انتظامیہ ان کی ہے تو یہ ہر قسم کی فسطائیت روا رکھ سکتے ہیں۔ اس لئے ان کے اس رویے کی مذمت ہونی چاہیے۔ ہم نے تحریک انصاف کی حمایت کیا اس لئے کی تھی کہ وہ فسطائیت اور ظلم کرے؟ ہرگز نہیں۔ ہم تو ایسا بالکل نہیں چاہتے تھے۔ ہم تو چاہتے تھے کہ وہ ظالمانہ نظام بدلے۔ انہوں نے تو اسی نظام کا ایک عمرانی ماڈل پیش کر دیا۔ یہ غلط ہے۔ اس لئے ہم اس کی مذمت اور مخالفت کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے کارکنوں کو اصولی بنیاد پر یہ بات کرنی چاہیے۔ اس لئے کہ اس قسم کے اقدامات سے احتساب کا پورا عمل متاثر اور مشکوک ٹھیرے گا۔ اس سے جینوئن ملزموں کے حوالے سے بھی شک وشبہ پیدا ہوگا۔ اس لئے بھی مذمت کرنی چاہیے کہ یہ انسانی ضمیر اور شعور کا مسئلہ ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •