عرفان صدیقی۔ راستوں کی دھول ہوتی خوشبو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سرشام چند پراسرار لوگوں نے اس کے گھر کا گھیراؤ کیا اور چھوٹے سے قد اوربڑے ذہن والے بوڑھے عرفان صدیقی کو لے کر چلتے بنے، کیونکہ اس ”کرپٹ“ آدمی نے اپنے گھر کا خرچہ چلانے کے لئے اپنی جسمانی قامت جیسے چھوٹے گھر کا ایک پورشن بغیر اطلاع کے کرائے پر چڑھا دیا تھا اور ظاہر ہے حکومت عمران خان کی ہے اور وہ کسی کرپٹ کو نہیں چھوڑتا۔ اس لئے اس ”خوفناک کرپشن“ پر اس ”طاقتور“ کو دھر لیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گھر ان کے بیٹے کے نام پر ہے اور کرایہ نامہ بھی اسی کے نام پر ہے جس سے عرفان صدیقی کا کوئی لینا دینا نہیں۔

اب کسی لمحے عمران خان خود پر ایک مصنوعی اور اداکاری سے بھرپور غصہ طاری کیے ٹیلی وژن چینلوں پر نمودار ہوں گے اور چوروں، ڈاکوؤں اور کرپٹ مافیا کے خلاف ایک احمق طبقے کو مزید احمق بناتے دکھائی دیں گے، اور پھر سر شام فردوس عاشق اعوان، شیخ رشید، فیاض چوہان اور شہباز گل جیسے درد مندان قوم و وطن عرفان صدیقی جیسے ”لٹیروں“ کے خلاف ہماری ذہن سازی اور رائے سازی کرتے اور اپنی دانش بکھیرتے رہیں گے،

اللہ اللہ خیر صلاء

عرفان صدیقی کو جو لوگ قریب سے جانتے ہیں انھیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ عین اس طرح کی ہی شخصیت رکھتے ہیں جس طرح کے حرف و لفظ ان کے قلم سے پھوٹتے رہے، یعنی صاف اور واضح لیکن معیاری۔ شرافت علم اور وفاداری ان کے لفظوں سے بھی جھلکتی ہے اور شخصیت سے بھی۔

ان کے ہاں تنظیم اور ترتیب ہر جگہ اور ہمیشہ قائم لیکن ایک وقار اور عجز کے ساتھ، جو لوگ ان کا کالم ”نقش خیال“ پڑھتے رہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اپنے خیالات کو حرف و لفظ کے ذریعے دوسروں کے ذہنوں میں کیسے اتارا جاتا ہے اور عرفان صدیقی اپنی اس ”فنکاری“ میں یکتا نہیں تو کمال کے درجے پر ضرور ہیں بلکہ تھے کیونکہ قلم کی جگہ اب ہتھکڑی نے لے لی ہے اور اس عہد کم ظرف میں یہ کوئی چونکا دینے والی بات بھی نہیں کہ کسی معلم یا دانشور کے ساتھ اس طرح کا سلوک ہوتا ہے کیونکہ پنجاب یونیورسٹی کے بوڑھے پروفیسروں کوبھی اس حالت میں دیکھا گیا کہ انھیں زنجیروں سے باندھ دیا گیا تھا اور ٹیلیوژن کیمروں کے سامنے انہیں کھینچا جا رہا تھا۔

نیب کے عقوبت خانے سے ایک استاد کی لاش ہتھکڑیوں میں جکڑی برآمد ہوئی کتنا عرصہ ہوا۔ کراچی میں پرانے ترقی پسند سیاسی ورکر اور پچاسی سالہ پروفیسر حسن ظفر عارف کی ادھڑی ہوئی لاش محض ایک لاش نہ تھی بلکہ ایک پورے عہد کا نوحہ تھا جسے علم و شعور سے لیس طبقات عہد کم ظرف کے نام سے جانتے ہیں لیکن اس سوگواری کا لطف اٹھانے اور بے حسی کی داد دینے والوں کی بھی اس مملکت خدا داد میں کوئی قلت نہیں۔

اس لئے ان حالات میں پروفیسر عرفان صدیقی کا نوحہ کیا اور کیسے لکھیں اور پھر عرفان صدیقی کے پاس ہے بھی کیا؟
محض پینتالیس سال کی ٹیچنگ ( پروفیسری ) چند سو کالم، تھوڑی سی شاعری یا ایک مدہم اور عالمانہ شخصیت اور بس!

انہیں چاہیے تھا کہ اقتدار کی غلام گردشوں میں رہ کر وہ ہنر سیکھ لیتے جو ان کے گرائیں شیخ رشید یا فیاض چوہان سیکھ چکے ہیں، پھر انہیں نہ اپنے خرچے چلانے کے لئے اپنے بیٹے کے چھوٹے سے گھر کا ایک حصہ کرائے پرچڑھانا پڑتا، نہ ہتھکڑیوں میں جکڑنا پڑتا نہ اس ”خطرناک جرم“ پر چودہ روزہ ریمانڈ لینا پڑتا، نہ اڈیالہ جیل کا پھا ٹک ان پر کھلتا نہ اس کی بیوی بچے پریشان ہوتے اور نہ قلم کی جگہ زنجیر لیتی بلکہ ایک آسودہ اور پرسکون زندگی گزارتے روز ایک قصیدہ نما کالم لکھتے شعر و ادب کا لطف اٹھاتے اور پھر سرشام کسی ٹیلیوژن چینل پر بیٹھ کر مدح و ذم کی قمچیاں چلاتے۔

اپنے سابق محسن کی ایسی کی تیسی کرتے حکمران وقت کو ایک دیوتا ثابت کرتے اور اس کے قصیدے پڑھتے۔ ساتھ ساتھ بہت سارا پیسہ کماتے۔ کیا خبر مشیروں کی اڑتیس کرسیوں میں ایک اور کرسی کا اضافہ ہوتا اور صدیقی صاحب بھی اڈیالہ جیل کی بجائے وزیر اعظم ہاؤس کا رُخ کرتے لیکن زمانے کی یہی ناشناسی سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کے بعد ہمارے صحافتی دوستوں اور ادبی رفیقوں کے لئے بھی اب ایک وبالِ جاں بنتی جا رہی ہے۔

عرفان صدیقی کی ایک نظم کی چند لائینیں یاد آئیں کسی دوست کی ملاقات ہو تو انہیں ضرور سنائیں
تمہیں میں نے کہا بھی تھا
کہ اتنی دور مت جاؤ
جہاں جاتے
ابابیلوں کے پر جھڑنے لگے
خوشبو اڑے تو
راستوں کی دھول ہو جائے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •