وکٹم بلیمنگ یعنی کسی جرم کا نشانہ بننے والے فرد (مرد یا عورت) پر تنقید کرنا، الزام لگانا ہر اعتبار سے غلط، ناجائز اور ظلم در ظلم ہے۔ اس سے بڑی زیادتی اور کیا ہوگی کہ ایک شخص ظلم اور تشدد کا نشانہ بنا ہے، اوپر سے لوگ اس پر تنقید شروع کر دیں۔ کسی واردات کا ہدف کوئی خاتون بنی ہو تو ہر ایک کو نہایت احتیاط اور ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے۔ خواتین طبعاً حساس اور نازک ہوتی ہیں۔ اس لئے جب کوئی خاتون خدانخواستہ کسی واردات کا نشانہ بنے تو میڈیا، پولیس، اہل خانہ، عزیزواقارب، محلے دار غرض سماج کے ہر شعبے کو بہت سلیقے سے ہینڈلنگ کرنی چاہیے۔
اللہ نہ کرے زیادتی (ریپ، گینگ ریپ) جیسی سنگین ترین نوعیت کا واقعہ ہو، عام واردات جیسے پرس چھینے جانے کے معاملات میں بھی عام طور سے لوگ خواتین کو مطعون ٹھیرانا شروع کر دیتے ہیں، دیکھیں جی ان بیبیوں کو ہوش ہی نہیں ہوتا ادھر ادھر کا، موبائل ہاتھ میں لئے سڑک پر چل رہے ہیں، چور اچک کر لے گیا، یا ایسے کہیں گے ”اگر اس بی بی نے پرس مضبوطی سے پکڑ رکھا ہوتا تو نہ چھینا جاتا، یہ تو آپس میں گپیں لگاتے ہوئے بے پروا ہوجاتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔“ یہ غلط رویہ ہے۔ ممکن ہے اس خاتون سے واقعی بے احتیاطی یا غلطی ہوئی ہو، مگر یہ کس سے نہیں ہوتی؟
Read more