نیا پاکستان، جرم سخن اور عرفان صدیقی کا داخل زنداں ہونا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یادش بخیر، اس زمین زاد نے اخباری دنیا میں زبان و بیاں کا سلیقہ دو شخصیات سے سیکھا ہے۔ ایک والد گرامی نسیم صاحب ہیں۔ ان سے تو براہِ راست کسب فیض کیا۔ سکول سے واپسی پر نسیم صاحب کو ”نوائے وقت” کا فکاہیہ کالم ”سر راہے” پڑھ کر سنانا ہماری ذمہ داری تھی۔ لہذا اسی وجہ سے زبان و بیاں کے معاملے میں سب سے زیادہ گوشمالی ہماری ہی ہوا کرتی۔ دوسری شخصیت جناب عرفان صدیقی کی ہے۔ ان سے براہ راست ملاقات تو کبھی نہیں ہوئی البتہ ان کے کالموں کی آبِ مصفیٰ سے دھلی زبان سے بہت کچھ سیکھا۔

2001ء میں نائن الیون کے واقعے سے چند دن بعد”نوائے وقت” میں اشاعت پذیر ان کے پہلے کالم سے لے کر ”جنگ” میں ان کے آخری کالم تک ہم ان کے باقاعدہ قاری رہے ہیں، ان کے کئی کالموں کے تراشے اپنی یادداشت کے لئے ہم نے اخبارات سے کتر کر فائل میں محفوظ کر رکھے ہیں۔ ایک مدت سے سرکار دربار سے ان کی وابستگی نے ہمارے سمیت بہت سے باذوق قارئین کو اچھی اردو پڑھنے سے محروم کر رکھا ہے۔ آج کی ڈیجیٹلائز نئی نسل اور کورے صحافی شاید عرفان صدیقی کے نام اور کام سے واقف نہ ہوں لیکن ہم انہیں جانتے ہیں اور سچے دل سے مانتے ہیں۔

خیر یہ تو تمہید تھی۔ مژدہ ہو کہ اردو کے صاحب طرز نثر نگار، بے مثال کالم نگار، کہنہ مشق استاذ، خوبصورت شاعر، اپنے قلم معجز بیاں سے سرزد ہوئے ”نقش خیال” سے اردو صحافت کے باذوق قارئین کومستفیض کرنے والے ممتاز صحافی جناب عرفان صدیقی بھی اب ”نئے“پاکستان میں عتاب جرم سخن کے باعث زندانیوں میں شامل ہو گئے۔ سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کے مشیر برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن اور کالم نگار عرفان صدیقی کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اور سیشن عدالت نے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔ ان کی گرفتاری جمعہ کے رات عمل میں آئی اور اسلام آباد پولیس کے مطابق وہ مبینہ طور پر کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ انہیں رات گئے اسلام آباد میں واقع ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔

تھانہ رمنا میں درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق پولیس نے اسلام آباد کے سیکٹر جی 10 میں معمول کے گشت کے دوران ایک شخص سے ان کا نام، پتہ دریافت کیا۔ اس شخص نے بتایا کہ وہ کرک کے رہائشی ہیں اور انہوں نے عرفان صدیقی کا گھر کرائے پر حاصل کیا ہے۔ پولیس کے مطابق کرایہ دار سے کوائف مانگے لیکن وہ مبینہ طور پر یہ کوائف دینے میں ناکام رہے جس کے بعد عرفان صدیقی اور کرایہ دار جاوید اقبال دونوں کو گرفتار کر لیا گیا۔

عرفان صدیقی کو گرفتاری کے بعد مقامی تھانے میں رکھا گیا اور ہفتے کی صبح انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ مہرین بلوچ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ان کے وکیل نے استدعا کی کہ یہ جھوٹا اور بے بنیاد مقدمہ ہے اس لیے انہیں فی الفور رہا کیا جائے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے اور عرفان صدیقی نے کرایہ دار کے کوائف تھانے جمع نہ کروا کر تعزیرات پاکستان کے سیکشن 188 کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق عرفان صدیقی کو جس گھر کے ضمن میں کرایہ داری قانون کا حوالہ دے کر گرفتار کیا گیا ہے، وہ گھر ان کے بیٹے کے نام ہے۔ ان کا بیٹا دبئی میں مقیم ہے اور کرایہ نامہ بھی بیٹے اور کرائے دار کے درمیان ہی طے پایا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان کی خصوصی مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے عرفان صدیقی کو ہتھکڑی لگانے کو نامناسب سلوک قرار دیا ہے۔

پچیس برس تک تدریس اور مدت تک شعر، ڈرامہ اور افسانہ کے شعبوں سے وابستہ رہنے کے باوصف جناب عرفان صدیقی سرتاپا صحافی ہیں۔ وہ ایک اُستاد ہونے کے ساتھ ایک خوبصورت شاعر اور نثر نگار کے طور پر لکھنے لکھانے کا سلسلہ کب سے جاری رکھے ہوئے تھے۔ 1980ء کی دہائی میں انہوں نے ریڈیو کے لئے یادگار ڈرامے لکھے جو قومی نشریاتی رابطے پر نشر ہوئے۔ 1980ء کی دہائی کے آخری برسوں میں انہوں نے جب اُن کا شمار ایف جی سرسید کالج راولپنڈی کے اُردو کے بلند پایہ اساتذہ میں ہوتا تھا سرکاری ملازمت سے قبل از وقت فراغت لے لی اور صحافت اور لکھنے لکھانے کو اپنا کُل وقتی مشغلہ بنا لیا۔ جلد ہی اُن کا نام ادب اور صحافت کی دنیا میں معروف ہو گیا۔

1990ء کی دہائی کے ابتدائی اور درمیانی برسوں میں جناب عرفان صدیقی پہلے لاہور سے جناب مجیب الرحمن شامی کے معروف ہفت روزہ ”زندگی“ اور ماہنامہ ”قومی ڈائجسٹ“ اور بعد میں مولانا صلاح الدین مرحوم کے کراچی سے نکلنے والے ہفت روزہ ”تکبیر“کے ساتھ، جو اُس زمانے میں پاکستان کا سب سے زیادہ شائع ہونے والے نیوز میگزین تھا، وابستہ رہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دوسرے دورِ حکومت میں جسٹس (ر) محمد رفیق تارڑ نے صدرِ مملکت کا منصب سنبھالا تو انہوں نے بڑے اصرار اور چاؤ سے جناب عرفان صدیقی کو اپنا پریس سیکریٹری (میڈیا ایڈوائزر) مقرر کیا۔

12 اکتوبر 1999ء کو آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے میاں محمد نواز شریف کی حکومت کو برطرف کر کے بقول عرفان صدیقی ”انقلاب عظیم“ برپا کیا اور جون 2001ء میں جناب رفیق احمد تارڑ کو بطورِ صدرِ مملکت مستعفی ہونا پڑا تو عرفان صدیقی بھی مشرف حکومت کی طرف سے ذمہ داریاں جاری رکھنے کی خوش دلانہ پیشکش کے باوجود ایوانِ صدر سے رخصت ہو گئے اور انہوں نے روزنامہ ”نوائے وقت” میں ”نقشِ خیال“ کے عنوان سے کالم نگاری کا سلسلہ شروع کیا۔ ان کے ابتدائی کالموں نے تو پڑھنے لکھنے اور سوچ بچار کرنے والے حلقوں میں اُن کے نام کی مزید دھوم مچا دی۔ یہاں تک کہ 2001ء میں وہ روزنامہ ”نوائے وقت“میں اپنے کالم ”نقشِ خیال“ کے ساتھ ہفتے میں چھ دن مستقل طور پر جلوہ گر ہونے لگے۔ نوائے وقت میں جناب عرفان صدیقی کی کالم نگاری کا یہ سلسلہ چلتا رہا۔

اس دوران بھاری مشاہرے پر دوسرے بڑے قومی معاصرین کی طرف سے انہیں وابستگی اختیار کرنے کی پیشکشیں ہوئیں لیکن انہوں نے مقابلتہً بہت ہی کم مشاہرے پر ”نوائے وقت” سے اپنی وابستگی کو بر قرار رکھا۔ یہاں تک کہ 2008ء میں حالات اس نہج پر پہنچے کہ انہیں ”نوائے وقت” سے وابستگی ختم کرنی پڑی اور وہ ملک کے سب سے بڑے اخبار روزنامہ ”جنگ“ سے وابستہ ہو گئے اور مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں جنوری 2014ء میں وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے معاونِ خصوصی برائے قومی تاریخ و ادبی ورثہ ڈویژن کا منصب سنبھالنے تک روزنامہ ”جنگ“ میں کالم لکھتے رہے۔

اُس کے بعد سے مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے وابستگی اور بعدازاں 25 جولائی 2018ء کے عام انتخابات کے بعد اُن کی کالم نگاری کا سلسلہ موقوف چلا آ رہا ہے۔ جناب عرفان صدیقی کی کئی کتابیں بھی منصہ شہود پر آ چکی ہیں۔اللہ تعالیٰ جناب عرفان صدیقی کی مشکلات آسان کرے، قارئین کے لئے ان کی ایک خوبصورت اور حسبِ حال نظم پیش خدمت ہے جو ان کے ایک کالم میں شائع ہوئی تھی اور ہم نے اپنے ”دیوان” میں لکھ لی تھی۔ پڑھیے اور سر دھنیے۔۔۔

 ”پچھتاووں کا موسم“

تمہیں میں نے کہا بھی تھا

کہ اتنی دور مت جاؤ

جہاں جاتے ابابیلوں کے پر جھڑنے لگیں

خوشبو اڑے تو راستوں کی دھول ہوجائے

کبوتر، وصل کا پیغام دینے کو اڑیں

اور دور جاتی کشتیوں کے بادباں

ان کے پروں کو نوچ لیں!

میں نے کہا بھی تھا…!

کہ اتنی دور مت جاؤ

اگر جانا ضروری ہے

تو موسم کو ذرا کروٹ بدلنے دو

ابھی تو سردیوں کی آتشیں رت ہے

کہ جب دن مختصر، راتیں بہت لمبی، سحر نا مہرباں

شامیں بڑی بے کیف ہوتی ہیں

ہوا میں برف کے گالو ں کی صورت تیرتی یادیں

دبے پاؤں

دریچے کھول کر کمرے میں آتی ہیں

دہکتے کوئلوں پر کسمساتی راکھ سے سرگوشیاں کرتی ہیں

دیواروں پہ سائے

خواب ہوتے منظروں میں ڈھلنے لگتے ہیں

تو تنہائی بڑی تنہا سی لگتی ہے

تمہیں میں نے کہا بھی تھا…!

کہ اتنی دور مت جاؤ

مگر تم کو نہ جانے کیا جنوں تھا

کون سی دھن تھی

تمہیں شاید سمندر کی ہوائیں

ساحلوں کی ریت

یا شاید جزیروں پر مہکتی چاندنی

یا روشنی کے شہر کی آشفتگی آواز دیتی تھی

مگر یوں تو نہیں …!

تم نے مجھے شاید بتایا تھا

کہ میں ماحول کی یکسانیت سے تھک گئی ہوں

اک نئی دنیا، نئے چہروں،

نئے ماحول کی آسودگی مجھ کو بلاتی ہے

جہاں تم بھی نہیں ہوگے“

اور اب میں بھی نہیں ہوں

اک نئی دنیا، نئے چہروں

نئے ماحول کی آسودگی بھی ہے

مگر تم نے یہ کیا لکھا

کہ ڈھلتی رات کے پچھلے پہر کی

مضمحل سی، نیم آسودہ سی گھڑیوں میں

دبے پاؤں حریم خواب میں آتا ہوں

اور اک بے کلی سی چھوڑ جاتا ہوں

یہ سب کیا ہے؟

کہ تم تو دھڑکنوں کے معنی و مفہوم پر تقریر کرتی

سوچ کی تفسیر لکھتی ہو

کبھی ہنگامہ ہائے زیست سے فرصت ملے تو غور کرنا

اور مجھے لکھنا

کہ جب کچھ منظروں کو بھول جانے کے لئے

ہم اپنی آنکھیں نوچ کر

اندھے کنویں میں پھینک دیتے ہیں

بہت ہی میل خوردہ، غیرمستعمل کپڑوں کی طرح

جن کو کسی سیلن زدہ کمرے میں

یونہی ڈھیر کردیتے ہیں

لیکن رت بدلتی ہے

تو صندوقوں میں سوئی تہہ بہ تہہ کافور کی خوشبو

بڑی مانوس لگتی ہے

کسی اندھے کنویں سے جھانکتی آنکھیں

بہت سے منظروں میں ڈھلنے لگتی ہیں

یہ سب کیا ہے؟

کبھی ہنگامہ ہائے زیست سے فرصت ملے

تو غور کرنا

اور مجھے لکھنا…!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •