قانون کرایہ داری کی حساسیت اور نیشنل ایکشن پلان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوٹ لکھپت جیل میں قید سابق وزیراعظم نواز شریف کے مشیر اور تقریر نویس عرفان صدیقی کو 26 جولائی کو گرفتار کیا گیا۔ عرفان صدیقی پر قانون کرایہ داری کی پاسداری میں کوتاہی کا الزام ہے۔ اسلام آباد کی چوکس اور فرض شناس پولیس نے جی ٹین سیکٹر میں ڈور ٹو ڈور چیکنگ کرتے ہوئے اس قانون شکنی کا پتہ لگایا اور پھر سرعت سے کارروائی کر کے راتوں رات ملزم کو گرفتار کر لیا۔ 27 جولائی کو ایک ایکسائز مجسٹریٹ کی عدالت نے 78 سالہ ملزم کو چودہ روز کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

گرفتاری کی رات سے سوشل میڈیا پر بالخصوص اس موضوع کو لے کر حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے۔ ملزم عرفان صدیقی کا تعلق میڈیا سے بھی رہا ہے۔ اپنے میڈیائی تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزم نے کمال چالاکی سے عدالت میں ہتھکڑی لگے ہاتھ میں قلم پکڑ کر تصویر بنوا کر ہمدردیاں بٹورنے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ تصویر ہر جگہ پھیل رہی ہے۔ دیکھنے والے افسوس کا اظہار کر رہے ہیں اور حکومت پر منتقم مزاجی کا الزام لگا رہے ہیں۔

لیکن صورت حال اتنی سادہ نہیں ہے جتنی حکومت کے ناقدین سمجھ رہے ہیں۔ قانونی پیچیدگیوں سے ناواقف قارئین کو شاید اندازہ نہ ہو کہ قانون کرایہ داری میں سستی چھوٹا موٹا جرم نہیں۔ بلکہ اس بظاہر عام سے قانون کی خلاف ورزی پر اتنا زیادہ ردعمل ہوا کہ مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان صاحبہ بھی متاثر ہو گئیں اور ملزم کی عمر اور تعلیمی کردار وغیرہ کے پیش نظر ہتھکڑیاں لگائے جانے پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔ اصل میں قانون کی باریکیاں سمجھنا عام فرد کے بس کی بات نہیں۔ یہاں تک کہ مشیر اطلاعات جیسے اہم عہدے پر فائز خاتون بھی پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر قانون کی منشا اور حساسیت سمجھنے میں چوک گئیں اور پولیس کی فرض شناسی کی تعریف کی بجائے اس پر تنقید کر دی۔

اس مضمون میں ہم قارئین کو اس قانون کی حساسیت اور نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے اس کی اہمیت سمجھانے کی کوشش کریں گے۔ قارئین جانتے ہیں کہ وزیراعظم نے حال ہی میں امریکہ میں ایک تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری حکومت نے آ کر نیشنل ایکشن پلان پر عمل شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ پلان اگرچہ پہلے بن چکا تھا لیکن گزشتہ حکومت اس پر عمل کرنے میں سنجیدہ نہ تھی۔

وزیراعظم جب یہ بات کر رہے تھے تو ان کے ذہن میں بالکل واضح تھا کہ اب سے پہلے تو جو ہوا سو ہوا لیکن اب قانون کرایہ داری پر من و عن اس کی اصل روح کے مطابق عمل کروایا جائے گا۔ قارئین کو علم ہونا چاہیے کہ بہت سے کاموں کی طرح جو گذشتہ گیارہ ماہ میں تاریخ میں پہلی بار کیے جا رہے ہیں قانون کرایہ داری پر عمل بھی پاکستان کی بہتر سالہ تاریخ میں پہلی بار کیا جا رہا ہے۔ اب سوال اپنی جگہ پر جواب طلب ہے کہ قانون کرایہ داری ہی کیوں؟

براہ راست اور مختصر ترین جواب اس سوال کا یہ ہے کہ اگر قانون کرایہ داری پر صحیح صحیح عمل ہو رہا ہوتا تو 2 مئی 2011 کو ہمیں بین الاقوامی سطح پر خفت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ بن لادن کے ساتھی جنہوں نے مکان بنوایا اور بن لادن کو کرائے پر دیا انہیں چاہیے تھا کہ وہ مقامی تھانے میں اپنے کرایہ دار کے کوائف جمع کرواتے۔ ان کی کوتاہی کا خمیازہ قوم کو یوں بھگتنا پڑا کہ 2 مئی کو امریکی ایبٹ آباد کے نواح میں اس مکان میں ہیلی کاپٹروں سے اتر کر بن لادن کو مار کر لاش ساتھ لے گئے۔

اس واقعے میں ہماری قومی جگ ہنسائی ہوئی۔ دنیا بھر میں دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے ہماری سنجیدگی پر سوالات اٹھے۔ بھلا ہو وزیر اعظم کا کہ حالیہ دورہ امریکہ میں انہوں نے اس معاملے کو بھی بالآخر سنبھال لیا اور اس واقعے کی آٹھ سالہ تاریخ میں پہلی بار امریکیوں کو بتایا کہ یہ آپریشن ہماری سیکرٹ سروس کی اطلاعات کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔ قبل ازیں تو دنیا اس بات کو نہیں مان رہی تھی۔ نہ ہی سرکاری طور پر ہمارے گزشتہ کوتاہ اندیش حکمران مان رہے تھے جو قانون کرایہ داری اور نیشنل ایکشن پلان کے اطلاق کی راہ میں بھی رکاوٹ تھے۔

اس پس منظر میں ہم قانون کرایہ داری کی خلاف ورزی پر عرفان صدیقی کی گرفتاری کی حمایت اور حکومت کی دور اندیشی و پیش بینی کی تعریف کرتے ہیں۔ اور امید کرتے ہیں کہ اس سے ہم ایک پرامن پاکستان کی جانب قابل ذکر پیش رفت کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •