پاکستان میں جنسی تعلیم، مواقع اور ضرورت (1)


آج کل جب نوجوانوں کے جنسی مسائل پر مذہبی اور لبرل حلقوں میں گرما گرم بحث جاری ہے تو سوچا کہ اس پر بھی اپنے کچھ تجربات جو\"moqaddus دوران تدریس مختلف عمر کے بچوں سے کام کرنے کے دوران منکشف ہوئے آپ سے شئیر کرتا چلوں۔ جیسا کہ ’’ہم سب‘‘ میں اس موضوع پر انعام رانا، ظفر عمران، ڈاکٹر لبنیٰ نے بڑے اچھے انداز سے اسے سمجھانے کی کوشش کی ہے جو ایک قابل تحسین عمل ہے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں جب تعلیمی اداروں میں جنسی تعلیم کی بات کی جاتی ہے تو فوراً مذہبی جماعتیں لٹھ لے کر میدان میں اتر آتی ہیں کہ جیسے تعلیمی اداروں میں کوئی’’کاما سوترا ‘‘ پڑھانے یا پورنوگرافی دکھانے کی سازش کی جا رہی ہے ۔ حالانکہ تمام مذاہب کی کتابوں میں آداب مباشرت سے لے کر بابرکت دنوں میں جنسی فعل، اور اس ضمن میں بزرگوں کی ہدایات کو تو خطبات، دروس، اور مدرسوں میں بڑے خشوع و خضوع سے لہک لہک کر بیان کیا جاتا ہے۔ مگر جب یہی تعلیم عام سکولوں میں عام کرنے کا خیال بھی ظاہر کیا جاتا ہے تو فوراً ہمارے مذہبی اکابر سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں جیسے جنسی تعلیم سے مراد بچوں میں فحاشی پھیلانے کا گھنائونا پروگرام بنایا جارہا ہےجس سے ہمارے بچے تباہ و برباد ہوجائیں گے ۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ پورن کلپس دیکھنے میں ہم دنیا میں اعلیٰ مقام رکھتےہیں مگر ماننے کے لیے تیار نہیں۔

پاکستان میں تو ہمیں جنسی تعلیم سے نابلد ہی رکھا گیا مگر جب برطانیہ میں مجھے اسکول کی طرف سے خط بھیجا گیا کہ وہ میرے بچے کو جنسی تعلیم دینا چاہتے ہیں اگر مجھے کوئی اعتراض ہوتو اسکول میں فلاں وقت آکر آپ اساتذہ سے مل کر اس موضوع پر تبادلہ خیال کرسکتے ہیں تو یہ خط پڑھ کر میرے اندر کا پاکستانی سلطان راہی جاگ اٹھا کہ ان یورپیوں کی یہ جرات کہ میرے بچوں کو فحاشی کی تعلیم دیں۔ ’’ اوئے اے میں نئیں ہون دیاں گا‘‘۔ مگرپھر جب اندر کا ماسٹر جاگا تو سوچا کہ دیکھ تو لیں کہ آخر یہ مغربی لوگ پڑھاتے کیا ہیں جنسی تعلیم کے نام پر۔ بہرحال میں اسکول گیا۔ میٹنگ ہوئی ۔ اور پھر کچھ باتیں سمجھ آنا شروع ہوگئیں۔ کہ ہم سمجھ کیا رہے تھے اور اصل میں یہ جنسی تعلیم ہے کیا؟

مغربی ممالک میں جنسیات پر بات چیت کرنا یا شعور دینا ہماری طرح بیماری، فحاشی، شیطانی سوچ یا کسی شجرممنوعہ کے معنوں میں نہیں \"sex-ed\"آتا بلکہ اسے ایسے ہی نارمل طریقے سے لیا جاتا ہے جیسےدوسرے جسمانی اعضاء اور نظاموں جیسے نظام انہضام، نظام دوران خون کے بارے شعور و آگہی۔

 مثلاً پرائمری اسکول میں بچوں کو صرف یہ بتایا جاتا ہے کہ مرد اور عورت میں فرق کیا ہے۔ اور کیا نر مادہ صر ف انسانوں میں پائے جاتے ہیں؟ اس کی پہچان کے لیے بچوں کو اپنے اردگر کے ماحول کے میں موجود پالتو یا دیگر جانوروں کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے کہ ان میں نر اور مادہ کیسے ہوتے یا کیسے دکھائی دیتےہیں۔ تاکہ بچوں کو پتہ چل سکے کہ نر اور مادہ صرف انسانوں میں ہی نہیں بلکہ جانوروں میں بھی ہوتےہیں۔ اور پھر جب بچے نوبلوغیت ((Adolescent)کی عمر کو پہنچتے ہیں تو جہاں اس عمر میں بچوں کے مختلف حصے تیزی سے نمو پانا شروع ہوجاتے ہیں تو اکثریت بچوں کی اس بڑھوتری سے پریشان بھی رہنا شروع ہوجاتی ہیں ۔ ان کو سمجھ نہیں آرہی ہوتی کہ یہ ان کے اندر آخر کیا ہورہا ہے۔ اس کیفیت سے بچہ عموماً دس گیارہ سال کی عمر میں گزرنا شروع ہوجاتا ہے تو مغرب میں بچوں کو اس ذہنی، جسمانی کیفیت سے نکالنے کےلیے انہیں تولید ی نظام، جنسی آگہی و شعور اس طریقے سے دیا جاتا ہے کہ وہ اسے نارمل انداز میں لیں نہ کہ اسے کسی شیطانی خیالات اور گناہ میں لت پت کوئی شیطانی کام سمجھ بیٹھیں ۔ اس سلسلے میں جنسی صحت کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے۔ مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ بچوں کو اسکول میں جنسی تعلیم دینے سے کیا لوازمات پورے ہوجاتے ہیں ؟ کیا والدین کی بھی کوئی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھی اس کے بارے اپنے بچوں سے بات کریں یا اس کی ذمہ داری معاشرے پر ڈال دیں کہ خود بخود ہی بچہ سیکھ جائے گا جیسے کہ ہم سیکھتے آئے ہیں اور اس موضوع کو شجر ممنوعہ ہی رکھیں۔ ؟\"sexed\"

میرا خیال ہے اس پر اب کھل کر بات ہونی چاہیے اور اس طرح کہ جیسے آپ دوسرے معاملات میں بچوں سے کرتے ہی ان کو اچھے برے کی تمیز سکھانے کی قولی کوشش کرتے ہیں نہ کہ عملی۔ مغرب میں بچے جب تک بالغ نہیں ہوجاتے انکی حدود و قیود مقرر کردی گئی ہیں ۔ مثلاً وہ کس عمر تک شراب کو ہاتھ نہیں لگا سکتے، جنسی تعلقات قائم نہیں کرسکتے، سیگریٹ نہیں پی سکتے، حتیٰ اسکے والدین بھی اسے کسی شراب خانے لے جانے کے مجاز نہیں ہیں۔ مگر پاکستان میں المیہ یہ ہےکہ ہمارے والدین، ہمارے دوست کم اور فرعون ثانی بننے کی زیادہ کوشش کرتےہیں۔ اور خاص کر یہ سختی لڑکے پر زیادہ کی جاتی ہے جبکہ لڑکی پر ماں، باپ کے علاوہ اس کے بھائیوں، چچاوں، اور محلے داروں کی بھی نظر ہوتی ہے ۔ لڑکی میں جب نوبلوغت کے آثار پیدا ہونے شروع ہوتے ہیں تو مائیں، خواہ ان کا تعلق دیہی علاقے سے ہو یا شہری زندگی سے، وہ اپنے فہم وادراک کے مطابق اپنی بچی کی بھرپور اور براہ راست راہنمائی کرتی ہیں۔ جیسے انڈر گارمنٹس کا چناو، ماہواری کے معاملات اور حفاظتی تدابیر وغیرہ۔ مگر اس کے برعکس لڑکے کو عموماً اس کی نوبلوغت سے لے کر پوری بلوغت تک پہنچنے کے عمل کے دوران اسے معاشرے، اس کے ہم جولیوں، اور مجرمانہ زہنیت کے بالغوں کے سپر د کردیا جاتا ہے۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں والد کا گھر میں، بچوں کے معاملات میں کردار ایک ولن، متشدّد تھانیدار یا مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا ہوتا ہے لہذا جہاں \"sex-educa\"اپنی بیٹی کے ساتھ اس کی ماں، اپنی سوچ سمجھ اور بساط کے مطابق اس کی راہنمائی کررہی ہوتی ہے وہاں والد اپنے بیٹے کے ساتھ وہ رول نہیں نبھاتا اور نتیجتاً اس کا بچہ اپنے اندر ہونے والی تبدیلیوں کو پہلے اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ شیئر کرتا ہے ۔ اور چونکہ اس بچے کے دوست کا علم بھی عموماً ناقص ہی ہوتا ہے لہذا وہ بھی اسے اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر اپنا تصور پیش کرکے اس مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اب جبکہ جنسیات پر گھر اور باہر کھل کر بات کرنے کو گناہ کبیرہ سمجھا جاتا ہے تو ایسے بچوں کے لیے پھر معاشرے میں کئی شکاری، حکیموں، ڈاکٹروں، روحانی پیر، اور سب سے بڑھ کر وہ بچے باز یا Paedophile بھی موجود ہوتے ہیں جو ایسے بچوں کی تاک میں ہوتےہیں اور ان کے لیے ایسے اندرونی طور پر جنسی تبدیلیوں کے بارے پریشان بچے کو اپنے راستے پر لگانا اتنا مشکل نہیں ہوتا۔ (Paedophile جیسے حساس موضوع پر علیحدہ بات کی جائے گی)، کہ اس طرح نیم حکیموں کی دوکانداری چل پڑتی ہے اور جنسی درندوں کی جنسی خواھشیں بھی پوری ہوتی رہتی ہیں۔ اسی طرح نئی نئی شہوت کے صورت میں بچے، خود لذتی سے لے کر اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ ’’واری وٹا‘‘ یا آپسی جنسی اختلاط بھی کرسکتے ہیں ۔ نام نہاد حکیم اوردیگر جنسی و روحانی علاج کےبظاہر ماہرین کا شکار بھی یہی بچے ہوتے ہیں جن کی نارمل جنسی تبدیلیوں کو ایسےشکاری لوگ اس طرح بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں کہ اگر وہ لڑکا ایک دن بھی اور لیٹ ہوجاتا اور انکے پاس نہ آتا تو پتہ نہیں اس کو کیسی کیسی جان لیوا \"education\"بیماریاں لگ جاتی اور ہوسکتا ہے کہ اسے توبہ کا موقع ملے بغیر ہی اس کا کریا کرم ہوجاتا۔ یہاں پھر دہرانا ضروری ہے کہ آپ کی بچیوں کےمقابلے میں بچے زیادہ ناز ک اور خطرناک صورت حال سے گزر رہے ہوتے ہیں  جسے والدین اسے لڑکا سمجھ کر لڑکی کی طرح توجہ دینا ضروری نہیں سمجھتے اور انکی یہی مجرمانہ غفلت، بچےکی جسمانی و زہنی شخصیت کو معاشرے کے بے رحم ہاتھوں تباہ وبرباد کرکے رکھ دیتی ہے۔ اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ لڑکا جب بالغ ہو رہا ہوتو اس کی حفاظت لڑکی سے زیادہ کی جانی چاہیے ۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ بچی تو چلو ماں سے اپنے اندر ہونے والی جسمانی تبدیلیوں کو اپنی ماں سے ڈسکس کرلیتی ہے، تو باپ اپنے بچے کے ساتھ اس قسم کی گفتگو کیسے شروع کرے؟ یا دوسرے لفظوں میں اس ججھک یا شرم کے پردہ کو والدین، خصوصاً والد کیسے ہٹائے کہ وہ کھل کر یا کسی حد تک ڈھکے چھپے الفاظ میں اپنے بچے کو جنسیات کی تعلیم دے سکے۔ کیونکہ اسکول تو بعد میں آئےگا، پہلےہم والدین تو اپنے گھروں میں جنسی رویوں کے بارے غور کریں۔ تاکہ بچہ جہاں معاشرے میں دیگر معاملات میں اپنی زندگی کی گتھیاں سلجھانے میں آپ کی مدد، تائید و حمایت کا متمنی ہوتا ہے وہیں اپنی جنسی رویوں کے بارے بھی والدین کی مدد سے اپنی صحت مند انہ نشوونما کا آغاز کرسکتا ہے ۔ تو بچوں سے اس بابت کیسے بات کی جائے؟ اس بارے کچھ آسان سی Tipsدی جارہی ہیں کہ آپ ان پر عمل کرکے اپنےچھوٹے بچوں کی اچھے انداز میں راہنمائی کرسکتے ہیں۔ کہ جس سے وہ اپنی جنسی آگہی کے بارے میں پراعتماد اور آسودگی محسوس کریں۔ کیونکہ، جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ بچے اپنی جنسی تبدیلیوں کے بارے میں بے سروپا کہانیاں، ذہنی الودگی اور الجھنوں کا اس وقت شکار ہوتے چلے جاتے ہیں جب ان کے والدین اس موضوع پر بات کرنا انتہائی نامعقول اور فحاشی سمجھتے ہیں اورنتیجتاً، بچہ اس بابت ساری معلومات، گھر سے باہر \"site_197_arabic_357051\"گلی محلوں، کھیل کود کے دوران اپنے ہم جولیوں سےجاننے کی کوشش کرے گا۔ لہذا ماہرین کا کہنا ہے کہ جنسیات پر بچوں کے ساتھ گفتگو ایسے ہی اعتماد اور نیچرل طریقے سے کی جائے جیسے آپ بچے سے آپ دیگر معاملات میں گفتگو کرتے ہیں۔ یاد رہے بچے سے یہ بات چیت اسے اس قابل بنا دے گی کہ وہ اپنی جنسی زندگی کو مستقبل میں، صحت مندانہ انداز میں گزار سکے نہ کہ اسے گناہوں میں آلودہ فعل سمجھ کر جارحانہ یا منفی طریقے سے گزارنے کی کوشش کرے۔

اکثر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ لڑکے یا لڑکی کو جنسی تعلیم یا دوسرے لفظوں میں، مباشرت کے آداب یا افعال کے بارے ہدایات عین شادی سے ایک دن پہلے یا بعض اوقات عین رخصتی کے وقت اس کے دوستوں، سہیلیوں کے ذریعے دی جاتی ہے۔ جیسے کسی سیاستدان کو اسکے مشیر اس کے کانوں میں بریفنگ دیتے ہیں ۔ اس قسم کی بریفنگ لڑکے یا لڑکی کو مزید کنفیوز کر سکتی ہے بجائے اسے اعتماد دینے کے۔ بعض، لوگ اپنے بچے کو شادی سے پہلے محلے کے مولوی صاحب کے پاس بھی لے جاتے ہیں جو ان کو اسلامی مباشرت کے آداب، قران و سنت کی روشنی میں بتاتے ہیں مگر زیادہ تر مواقع پر اس قسم کی تعلیم اس وجہ سے موثر ثابت نہیں ہوپاتی کہ وہ لڑکا یا لڑکی جو ساری زندگی اسے اپنےگھر سے لے کر باہر تک، اس پر بات کرنا، گناہ کبیرہ یا شجرہ ممنوعہ سمجھتا رہااب اسے اس کام کی خشوع وخضوع سے ترغیب دی جائے تو اس کی کیا حالت ہو سکتی ہے؟

تو پھر بجائے اس کے کہ بے وقت راگنی گائی جائے یا یہ کام ایمرجنیسی بنیادوں پر کیا جائے کیوں نہ جہاں ہم اپنے بچوں کی دوسرے معاملات میں تربیت کرنے کی کوشش کرتے ہیں وہیں جنسیات پر بھی تربیت بچپن سے دھیرے دھیرے کی جائے کہ وہ اسے ایک صحت مند سرگرمی کےطور پر اپنا لے۔ مگر یہ بھی نہ ہو میرے ایک دوست کی طرح کہ جب اسکا بیٹا ذرا بڑا ہوا تو اپنے بیٹے کو زیر ناف بال کاٹنے کے طریقہ، عملی طور پر بتانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا جاتا کہ ’’پتر احتیاط نال کدھرے ٹک نہ لا لویں‘‘۔ تو اس کام میں اتنا بھی بےباک نہ \"students-participating-in-classroom-discussion-473x334\"ہوا جائے کہ والدین اور اولاد کے درمیان سارے پردے ہی چاک ہوتے چلے جائیں۔ لہذا مغرب میں تو اسکولوں میں ایک حد تک تعلیم دی جاتی ہے کہ بظاہر جسم کی بناوٹ یا ظاہر ی بیالوجیکل فر ق بتا دیا جاتا ہے، جسے گھر میں والدین کچھ جمع تفریق کرکے توازن میں لے آتے ہیں جب کہ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں ہر بندہ اپنے اپنے فرقےکی بنیاد، پر اپنے مسلک کی تعلیمات کے مطابق اپنی اور اپنے بچوں کی تربیت کررہا ہوتا ہے اور یقیناً ہر فرقے کا دوسرے فرقے کے ساتھ فروعی اختلافات کے ساتھ ساتھ خودساختہ اور من پسند اختلافات شدت سے موجود ہیں مگر تمام مسالک کے ماننے والے اس بات پر متحد ہیں کہ خواہ کچھ بھی ہوجائے جنسیات جیسی غلیظ چیز کو گھر کے قریب نہیں گھسنے دینا، یہ الگ بات ہے ہمارے مردوں کی خصوصاً اور خواتین کی عموماً روز مرہ بات چیت میں ہم ایسی ایسی کلاسیک گالیاں شامل ہوتی ہیں کہ اس سے مختصر مگر جامع جنسیات کی تشریح اور کہیں ممکن نہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق ہماری پانچ منٹ کی عمومی گفتگو میں جنسیات کے ساتھ ساتھ 30 سے 40 گالیاں ہوتی ہیں۔ اسی طرح، سکولوں میں جبکہ ہم لوگ، جنسی تعلیم کے نفاذ کے خواہاں نہیں ہیں تو پھر جنسی تعلیم کی بھاری بھر کم ذمہ داری جو سکول میں دی جانی چاہیے، اس کی ذمہ داری بھی والدین کے کندھوں پر ہی آگرتی ہے۔ اور اسے ہمیں ہی نبھانا ہو گا۔

تو جیسا کہ پہلے لکھا جاچکا ہے کہ جنسی آگاہی کو نہایت سادہ انداز سے شروع کیجیےاور جب بچہ کچھ سمجھنا شروع ہوجایے تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ رشتوں کی قدر، جنس کے بارے حلال و حرام اور جذبات پر قابو اور معاشی و اخلاقی اقدار پر بھی بات ہوسکتی ہے۔ مگر ایک دم نہیں دھیرے دھیرے۔ بچے کے تجسس اور سمجھ کے مطابق۔\"primaryschool\"

بعض والدین کا خیال ہے کہ جنسی رویوں پر بات کرنا دراصل بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی جنسیات کی طرف راغب کرنے یا اس ضمن میں حوصلہ افزائی کرنے کے مترادف ہے مگر تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ وہ والدین جو بچوں کو عمر کے لحاظ سے جنسیات کا شعور دیتےہیں وہ بچے اس کے بارے میں اتنے متجسس نہیں ہوتے جتنا کہ وہ بچے جن کو اس بارے سرے سے کوئی تعلیم ہی نہیں دی جاتی۔ لہذا جنسی شعور رکھنے والے بچے جنسیات پر کافی حد تک قابو پا کر اس عمل کو وقت آنے پر ہی سرانجام دیتےہیں۔ اسی ضمن میں یہ بھی ذہن رہے کہ جو بچے اپنے والدین کے ساتھ جنسیات پر کھل کر بات کرنے کے قابل ہوتے ہیں وہ کسی بھی قسم کی جنسی پریشانی کی صورت میں سب سے پہلے اپنے والدین سے ہی رجوع کریں گے جو یقیناً ان کی بہترین راہنمائی کرنے کے قابل ہوتےہیں۔ ہاں میں یہاں میں یہ بات بھی واضح کرتا چلوں کہ جنسیات کی صحت مندانہ تعلیم کے لیے والدین کا بھی آگاہ ہونا ضروری ہے اور پھر یہ کہ اسے کیسے بتدریج بچوں کو بیان کرنا ہے۔ ورنہ والدین کی ناقص معلومات اور تعلیمات کا اثر الٹا بھی ہوسکتا ہے۔

(جاری ہے)

Facebook Comments HS