بدفعلی کا شکار بکری سزا کی مستحق کیوں ٹھہری؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے اس بے حس معاشرے میں جہاں انسانی حقوق کی کوئی اہمیت نہیں، وہاں جانوروں کے حقوق کی تو کوئی بات ہی نہ کرے۔ کیونکہ ان موضوعات کو ہر بار مذاق یا تنقید کا نشانہ بنا کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

ایسا ہی ایک دلخراش واقعہ سندھ کے علاقے ضلع گھوٹکی میں پیش آیا جہاں کچھ دن پہلے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑاتے ہوئے سندھ کے انسانی حقوق کے فوکل پرسن (جن کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے) نے اپنے ایک غریب ڈرائیور کی مقعد میں سریا ڈال دیا تھا۔ اب اسی ضلع گھوٹکی کے ایک نواحی گاؤں حسین بھیو میں ایک بے زبان بکری کے ساتھ بدفعلی کرنے والے صدیق موچی کو جرگے نے 50 ہزار کا جرمانہ کیا اور بکری کے حصے میں آئی سزائے موت۔

اطلاعات کے مطابق گاؤں کے وڈیرے میاں مظہر بھیو نے بکری کے ساتھ بد فعلی کرنے والے صدیق موچی کو کارو قرار دے کر 50 ہزار کا جرمانہ لگایا اور فتویٰ سناتے ہوئے بکری کو ذبح کر کے دفنانے کی سزا سنائی۔ اس طرح صلح نامہ کروا کے معاملے کو رفع دفع کرا دیا گیا۔

سوال یہ اٹھتا ہے کہ جس معصوم جانور کا کوئی قصور ہی نہیں تھا، اس کو تو مار دیا گیا مگر جس درندہ نما انسان نے یہ سفاکی کی اس کو کارو قرار دے کر صرف جرمانہ لیا گیا۔ وہ بکری تو بے زبان اور کمزور تھی۔ اپنے حق کے لیے نہ لڑ سکی مگر ظلم کرنے والے اس درندے کو سزا دینے کے بعد اس جرم کا نشانہ بننے والی بکری کو کس اصول کے تحت ہلاک کیا گیا۔

(نوٹ: آج مورخہ 29 جولائی 2019، وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق محترمہ شیریں مزاری نے افتخار احمد خان لنڈ کو انسانی حقوق کے صوبائی فوکل پرسن کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔ یہ تحریر اس سے پہلے موصول ہوئی تھی۔)

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •