خواب دیکھنا اپنے اوپر فرض کر لیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم نے جو کچھ حاصل کرنا ہوتا ہے وہ سب سے پہلے سوچوں کی صورت وارد ہوتا ہے۔ کیا حاصل کرنا اور کیوں کرنا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سرِ فہرست وجہ معاشی حالات ہوتے ہیں۔ اب کچھ افراد تو ”جیسے چل رہا ہے کام چلنے دو“ کی سوچ لئے، اپنے کمفرٹ زون میں رہتے زندگی گزار دیتے ہیں۔ اور اسی سوچ کا سلسلہ کئی نسلوں تک منتقل ہوتا جاتا ہے۔ مگر کچھ خاص افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو حالات بدلنے کی خواہش میں تڑپتے رہتے ہیں۔ کچھ کرنے کا سوچتے رہتے ہیں۔ پھر یہی سوچیں ان کو کھلی آنکھوں خواب دکھاتی ہیں۔ اور یہی زندگی میں بدلاؤ کا پہلا پڑاؤ ہوتا ہے۔ پہلا سنگِ میل ہوتا ہے۔

یہ بات حقیقت ہے کہ اس دنیا میں ہر کسی کو مواقع ملتے ہیں۔ فرق یہ ہوتا کہ کسی کو کسی نیکی و دعا کے سبب بیٹھے بیٹھاے مل جاتے ( مگر اس میں بھی فرد کی اپنی نیک نیتی، صبر و کوشش ہوتی ہے ) اور کسی کو آگے بڑھ کر موقعوں کو حاصل کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے یہ کہنا کہ ہمارے تو نصیب میں ہی غریب، فقیر، مسکین، لاچار وغیرہ لکھا ہوا ہے تو یہ سوچ غلط ہے۔ اللّھ آزمائش لیتا ضرور ہے مگر ہمیشہ اس میں نہیں رکھتا۔ جلد یا بدیر نکلنے کے وسائل و اسباب ضرور مہیا کرتا ہے۔ مگر بات وہی آتی ہے کہ نکلنے کی کوشش کون کرتا ہے۔ کون ہے جو کھلی آنکھوں ساتھ خواب دیکھتا ہے۔

دوسری طرف بہت تعداد ان افراد کی بھی ہے جن کو کوئی معاشی پریشانی نہیں ہوتی۔ اللّھ تعالیٰ نے ہر نعمت سے نوازا ہوتا ہے۔ اور یہی بات اکثر ان کے حق میں بہتر نہیں ہوتی۔ کیونکہ ان کے پاس سب کچھ ہوتا ہے مگر کوئی خواب نہیں ہوتا۔ کچھ بننے یا کر گزرنے کی آرزو نہیں ہوتی۔ سب کچھ ریڈی میڈ مل چکا ہوتا اور مل رہا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ پھر کوئی خواب نہ ہونے کی وجہ سے زندگی سے اداس نظر آتے۔ سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ کمی سی محسوس کرتے ہیں۔

ایسے لوگوں کو خواب دیکھنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے تاکہ کسی جستجو میں لگے رہیں ورنہ فضول یا بے راہروی کی سرگرمیوں میں شامل ہو کر اپنی صلاحیت، پیسا اور وسائل برباد کر دیتے ہیں۔ اور جب کچھ باقی نہیں رہتا تو پھر جا کر کوئی خواب دیکھتے ہیں۔ وہ بھی صرف وہ سب واپس پانے کا خواب، جو پہلے تھا مگر اب لٹ چکا۔ ہے نا حیرت کی بات؟ بندہ پہلے ہی سب وسائل کی موجودگی میں کچھ بڑا کر دکھانے کا خواب دیکھ لے۔ اور اس کو پانے کے لئے نکل کھڑا ہو۔

اکثر لوگوں سے بات چیت کرتے معلوم پڑتا ہے کہ لوگ اس زندگی کو بس گزرانا چاہتے ہیں۔ جینا کوئی کوئی چاہتا ہے۔ لوگوں کو پتہ نہیں کیوں یہ زندگی بوجھ لگتی ہے۔ علم بھی ہے کہ یہ خوبصورت نعمت صرف ایک دفعہ نصیب ہونی ہے۔ بندہ یہ سوچے کہ کتنا شکر ہے اللّھ کا کہ اس نے مجھے پیدا کر کے اپنی تخلیق کردہ کائنات کو دیکھنے کا موقع فراہم کیا۔ نہ پیدا کرتا تو ہم کیا کر سکتے تھے۔ مگر نہیں جی یہاں تو کوئی پریشانی ملی نہیں تو ساتھ ہی زندگی سے شکوہ شکایات شروع۔ اوپر سے غمناک گانے سننا شروع ہو گے یا خود کو اداس شاعری میں گم کر لیا۔ حالانکہ جن سوچوں کو ہمیں دعا و کوشش کرتے حل کی طرف لگانا چاہیے وہ ہم ایسے ہی کاموں میں ضائع کر دیتے ہیں۔ چلو بندہ وقتی ایسا سب کر لے مگر مستقل ایسی حالت اختیار نہیں کرنی چاہیے صاحب۔

ایسی ہی وجوہات کو اپنے اوپر طاری کر لینے سے بندہ زندگی جینے میں پرجوش نہیں رہتا۔ کوئی مقصد نہیں بنا پاتا۔ ایسے فرد سے جب پوچھا جائے کہ چلو یار فلاں کام کرتے ہیں، فلاں کچھ کر کے دیکھتے ہیں، فلاں رسک لیتے ہیں، فلاں جگہ چلتے ہیں وغیرہ تو آگے یہ کچھ ایسا جواب ملتا ہے کہ ”اؤ بھائی جا اپنا کام کرو جا کر، میں ایسے خواب نہیں دیکھتا“۔ اور ان کی یہی سوچ ان کے آگے بڑھنے، اپنی صلاحیتوں کی پہچان اور ان کے بہترین استعمال میں رکاوٹ بنتی ہے۔

ان کو خود احساس نہیں ہو پا رہا ہوتا کہ خواب دینے میں تو کوئی پابندی نہیں ہے، نہ ہی اس پر کچھ خرچ ہوتا ہے۔ ہاں بس سوچنا پڑتا ہے۔ مگر افسوس تو یہی صاحبو کہ اس افراتفری کے دور میں کسی کے پاس سوچنے کو وقت ہی نہیں رہا۔ سب وقتی فوائد کے حصول، کسی بڑے مقصد کے بغیر، ایک ہی دائرے کے اندر صبح و شام گھوم رہے ہیں۔

حرفِ آخر میری آپ تمام لوگوں سے گزارش ہے، خاص کر عام لوگوں سے کہ چاہے آپ عمر کے کسی بھی حصہ میں ہوں، آپ خواب لازمی دیکھا کریں۔ چاہے آپ فی الحال بے یارو مدد گار ہیں، کوئی وسائل نہیں ہیں۔ کوئی اسباب نظر نہیں آ رہے، مطلب کہ جتنے بھی مشکل حالات ہیں، آپ خواب دیکھنا اپنے اوپر فرض کر لیں بس۔ ایسے ہی آپ کے اندر خواب کو پانے کی تڑپ پیدا ہو گی جو آپ کو جستجو پر آمادہ کرے گی، وسائل و اسباب پیدا ہوتے جائیں گے۔ اور ایسے ہی آپ اپنے خواب کو تکمیل دینے کے سفر پر گامزن ہو جاؤ گے۔ پھر گرتے، سنبھلتے مقررہ وقت پر اپنے خواب کی حقیقت کو لازمی پا لو گے ان شا اللہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •