وزیراعظم کا دورہ امریکہ اور مسئلہ کشمیر!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان اور عسکری قیادت امریکہ کا تین روزہ دورہ مکمل کر کے وطن واپس پہنچ چکے ہیں اوور سیز پاکستانی کیمونٹی کی جانب سے جس طرح عمران خان کا استقبال کیا گیا تاریخ میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے جس پرتپاک استقبال کے ساتھ وزیراعظم پاکستان کو خوش آمدید کہا اور عمران خان نے جس اعتماد کے ساتھ خطے میں خوشحالی ’امن اور پاکستان کے وژن کو امریکہ کے سامنے پیش کیا امریکی صدر ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ اس ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری آئے گی۔

پاک ’امریکہ تعلقات کی کہانی گرم سرد حالات سے جڑی ہوئی ہے امریکہ نے ہمیشہ اپنے مفادات کو پاکستان کے تعلقات پر مقدم رکھا اس وقت امریکہ افغانستان میں بری طرح پھنس چکا ہے اور امریکہ اس جنگ سے اپنا دامن آبرومندانہ طریقے سے چھڑانا چاہتا ہے۔ ٹرمپ‘ عمران خان کی ملاقات کا اصل مرکز افغانستان رہا صدر ٹرمپ نے افغانستان میں پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت افغانستان میں ہماری مدد کر رہا ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے اس موقع پر کہا کہ افغانستان کے مسئلہ کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

کسی بھی ملک کے آپسی ممالک کے تعلقات کا جائزہ لے لیں ملکوں کے تعلقات اپنے اپنے مفادات کے تحت استوار ہوتے ہیں اگر پاکستان کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان کو خطے کی سیکورٹی کے ساتھ ساتھ معاشی مسائل کا بھی سامنا ہے جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان کی ترجیحات کیا ہیں دوسری جانب امریکہ کو افغانستان میں مشکلات کا سامنا ہے اور امریکہ افغان جنگ جیتنے کے لئے سالانہ 45 ارب ڈالر سالانہ وہاں خرچ کر رہا ہے اور 765 ارب ڈالر اب تک اس جنگ میں جھونک چکا ہے لیکن اس کے باوجود افغانستان میں اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہا امریکہ کی خواہش ہے کہ پرامن طریقہ سے وہ اپنی افواج کو وہاں سے نکال سکے اور امریکہ کو اس بات کا بخوبی ادراک ہے کہ وہ پاکستان کی مدد کے بغیراٖفغانستان سے اپنی افواج کے انخلاء کو ممکن نہیں بنا سکتا اور اس تناظر میں امریکہ کے نزدیک پاکستان سے بہتر اس کے لئے کوئی مددگار ثابت نہیں ہو سکتاہے۔

صدر ٹرمپ اور عمران خان کے درمیان ہونیوالی ملاقات کا جو ایجنڈا طے پایا تھا اس میں دفاعی تعاون ’باہمی تجارت‘ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہدجیسے نکات شامل تھے۔ صدر ٹرمپ کے ساتھ وزیراعظم پاکستان کی ہونیوالی ملاقات کے تناظر میں دیکھا جائے تو عمران خان نے نہ صرف پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت پر کھل کر بات کی بلکہ ٹریڈپر بھی بات کرتے ہوئے شکیل آفریدی کی رہائی کے بدلے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی ’نیوکلئرپر بھی اپنا واضح اور مضبوط مؤقف امریکہ کے سامنے رکھا۔

ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان عمران خان کو کشمیر پر ثالثی کی خود پیش کش کی جس پر عمران خان نے کہا کہ اگر امریکہ مسئلہ کشمیر پر ثالث کا کردار ادا کرتا ہے تو پاکستان کو منظور ہو گا جس پر صدر ٹرمپ نے وضاحت کی کہ نریندر مودی جب امریکہ آئے تھے تو انہوں نے کشمیر کے تنازع کے حل پر امریکہ کو ثالثی کے لئے کہا تھا لیکن صدر ٹرمپ کی جانب سے اس بیان کے سامنے آنے کے بعد مودی سرکار کی جانب سے اس کی تردید سامنے آگئی جو کہ معنی خیزہے بہر حال اس پیشکش پر کوئی پیش رفت ہوتی ہے یا نہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے اس پیش کش کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ سمجھنا دشوار نہیں کہ امریکہ افغانستان میں قیام امن کے بدلے کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ بات کرنے کا خواہاں ہے کیونکہ افغانستان کا امن امریکہ کی ترجیحات میں شامل ہے اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ عمران خان کا حالیہ دورہ امریکہ کافی حد تک کامیاب رہا ہے۔

فوجی امداد کی بحالی ’مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش‘ امریکی صدر کی پاکستان آنے کی خواہش اور دعوت قبول کرنا اس سے ظاہر ہوتا ہے امریکہ یہ بات بخوبی سمجھ چکا ہے کہ پاکستان کو اگر نظر انداز کیا گیا تو اس کے مقابلے میں چین اور روس جیسے ممالک اس کی پشت پر کھڑے ہو جائیں گیاور پھر امریکہ کبھی بھی افغانستان سے نہیں نکل پائے گا امریکہ یہ چاہتا ہے کہ افغانستان سے انخلاء کے بعد وہاں کچھ فوجی اڈے بھی قائم رکھے تاکہ افغانستان میں اپنے مفادات کے تحت حکومت کی تشکیل اور خطے میں اپنی طاقت کے توازن کو بھی قائم رکھ سکے لیکن یہ سب پاکستان کی مدد اور تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

اگر خطے کی صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو پاک بھارت تعلقات خطے کے امن میں بہت بڑا رخنہ ہیں بھارت کشمیر پر جو ظلم و بربریت کی مثالیں قائم کر رہا ہے اسے دنیا بخوبی جانتی ہے کشمیر کی تحریک پر سب سے بڑا حملہ بھارت اسلامی بنیاد پرستی اور دہشت گردی کے ذریعے کر رہا ہے تاکہ کشمیری نوجوانوں کی اس تحریک کو زائل کیا جا سکے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرادادوں کے تحت حل کیا جائے۔ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے امریکہ کے سامنے مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے پر حریت رہنماؤں کی جانب سے وزیراعظم پاکستان کا شکریہ ادا کیا گیا۔

کشمیر کے بزرگ حریت رہنماء سید علی گیلانی جن کی عمر تقریبا اسی سال ہے ان کی زندگی کا نصف حصہ جیل کی صعوبتیں برداشت کرتے گزر چکا ہے کشمیر میں جو ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں وہ عالمی برادری کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے جو کشمیر پر 2019 ء کی رپورٹ جاری کی اس کے مطابق کشمیر میں سال 2018 ء میں 160 کشمیری مسلمانوں کو شہید کیا گیا 1253 کشمیریوں کی آنکھوں کی بینائی ضائع کر دی گئی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارتی فوج غیر قانونی حراست اور جبری ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے ہونیوالی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

کشمیر امور کے وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیری نوجوانوں کو ماورائے عدالت شہید کرنے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر عالمی برادی سے اپیل کی کہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں کی نسل کشی روکنے کے لئے اقدامات کیے جائیں۔ بھارت کے لوک سبھا کے اجلاس میں بھارتی وزیر دفاع ایک سوال کے جواب میں یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں 2014 ء سے لے کر 2018 ء تک آٹھ سو کشمیری مسلمانوں کو شہید کیا جا چکا ہے اور بھارتی فوج کا آپریشن جاری ہے۔

یہ ایسی دلدوز حقیقت ہے جس سے نہ تو انسانی حقوق کی علمبردار عالمی تنظیمیں آنکھیں چرا سکتی ہیں اور نہ ہی عالمی برادری۔ اگر امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ خطے کے امن کے لئے افغانستان میں قیام امن ضروری ہے تواسے پاک بھارت تعلقات کو درست سمت دینے کے لئے مسئلہ کشمیر کو اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے حل کروانا چاہیے کیونکہ خطے کے امن اور خوشحالی کی گرہ مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ بندھی ہے جب تک مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرادادوں کے تحت حل نہیں کیا جاتا تب تک بھارت سے خطے کے امن کو خطرات لا حق رہیں گے۔

عمران خان کے دورہ امریکہ کی کامیابی کی ضمانت یہ ہے کہ ابھی تک بھارت کو اس دورہ کے اثرات ہضم نہیں ہورہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ عمران خان کے اس اہم دورہ امریکہ کے حوالے سے بھارتی بھی اعتراف کرنے لگے ہیں کہ پاکستانی وزیراعظم عمران خان عالمی سطح پر مقبول لیڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں اور وہ بڑے طاقتور ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں آئے روز کامیاب ہوتے جا رہے ہیں اسی ذہنی کوفت کو لے کر بھارتی میڈیا کی توپوں کا رخ مودی سرکار کی جانب مڑ چکا ہے۔ !

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •