عرفان صدیقی بتاتے ہیں کہ انہیں گرفتار کیوں کیا گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اعزاز سید: آپ کو کیوں گرفتار کیا گیا؟

عرفان صدیقی: کسی کے دل و دماغ میں کوئی چیز ڈالی گئی ہے یا پھر عمومی رو ہے کہ جس کی پگڑی اچھالنا چاہو اچھال دو یا پھر نواز شریف سے دور پار یا نظریاتی رشتہ رکھنے والے کو بھی تنگ کرو، اس کو بھی اٹھا لو۔ اس کو بھی ہراساں کرو اور ایک پیغام دو۔

اعزاز سید: یہ تاثر ہے کہ آپ ہماری اسٹیبلشمنٹ کے بعض اعلی افسران کے استاد ہیں اور مسلم لیگ نون اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اگر کوئی رابطہ کرنے والی شخصیت ہو سکتی ہے تو ممکنہ طور پر وہ آپ ہیں۔

عرفان صدیقی: نواز شریف کی وزارت عظمی کے دوران تعلق رہا ہے لیکن اس کے بعد ختم ہو گیا ہے۔ شاید ان کے ذہن میں ہے کہ میاں صاحب یا مریم کی پالیٹکس میں میرا کوئی رول ہے۔ یا میں پس منظر میں ان کے لئے کوئی راہنمائی فراہم کرتا ہوں۔ لہذا اس شخص کو ڈرایا جائے دھمکایا جائے۔

اعزاز سید: آپ ذاتی طور پر مریم نواز کے بیانیے کے حق میں ہیں یا شہباز شریف کے؟

عرفان صدیقی: شہباز صاحب کا بیانیہ حکمت کا بیانیہ ہے اور میں حکمت کا ساتھ ضرور دیتا ہوں۔ لیکن مریم کا بیانیہ جدوجہد کا بیانیہ ہے، ایک نوجوان بیانیہ ہے، مزاحمت کا بیانیہ ہے، اور دنیا کی تاریخ میں آپ کوئی چیز بھی مزاحمت کے بغیر اور ہمت کے بغیر اور بہادری کے بغیر وہ حاصل نہیں کرتے۔ قفس کی تیلیاں محض پھڑپھڑانے سے یا دعائیں مانگنے سے نہیں ٹوٹتیں۔ ان کے لئے یا تو آپ کو چونچ مارنی ہے یا پنجہ مارنا ہے۔ یہ چونچ یا پنجہ بہت بنیادی باتیں ہوتی ہیں حکمت کے ساتھ ساتھ۔ آپ قومی سطح پر دیکھتے ہیں تو مریم کا جو بیانیہ ہے اسی کی پذیرائی ہو رہی ہے۔ لوگ اسی کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ مریم کا بیانیہ افیکٹو ہے، یہ ثابت ہو چکا ہے۔

اعزاز سید: آپ اس دن کیا کر رہے تھے جب آپ کو گرفتار کیا گیا؟

عرفان صدیقی: میں اپنی پرانی یادداشتیں نکال کر نوٹس لے رہا تھا، میں اپنے بیڈ روم میں اکیلا تھا۔ گھنٹی بجی۔ میں نے دروازہ کھولا۔ میں نے یہیں سے پوچھا کون ہے؟ گلی کے چوکیدار نے کہا کچھ لوگ ہیں۔ میرے پیر میں چپل تھے اور میرے ہاتھ میں قلم تھا۔ میں باہر نکل گیا تو دیکھا دس گیارہ گاڑیاں کھڑی ہیں۔ بے تحاشا پولیس ہے۔

میں نے جالی کے اندر سے پوچھا کون ہے۔ چوکیدار نے بتایا کچھ بندے آئے ہیں۔ آواز آئی کہ باہر آئیں۔ میں باہر آ گیا۔ سارا علاقہ گاڑیوں سے بھرا ہوا تھا۔ پولیس چاروں طرف کھڑی تھی۔ انہوں نے یہیں سے کہا کہ آپ چلیں۔ میں نے کہا کہ کوئی وارنٹ ہے کیا ہے؟ انہوں نے کہا چلیں۔ محلے کے لوگ بھی آ گئے۔ پولیس والوں نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ میری بیٹی کو دھکا دیا۔ اور مجھے گاڑی میں ڈال کر چلے گئے۔

انہوں نے مجھے ہتھکڑی لگائی اور (اگلی صبح) عدالت کے سامنے لے گئے۔ مجھے دکھ ان پر نہیں ہے۔ مجھے دکھ اس بات پر ہوا کہ انصاف کی کرسی پر بیٹھی ہوئی ایک شخصیت جس نے مجھے دیکھتے ہی کہا کہ میں آپ کو بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔ میں نے کہا کہ جس ہاتھ میں انہوں نے ہتھکڑی ڈال دی ہے اس کا ساٹھ پینسٹھ سال سے کاغذ قلم کے علاوہ کوئی رشتہ نہیں رہا۔ اور آج اس ہاتھ میں آپ نے ہتھکڑیاں ڈالی ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہتھکڑی کھول دو۔ ان کو کوئی مجبوری ہو گی جو مجھے نہیں معلوم۔ میرے وکلا نے بھی اس پر اعتراض کیا جو ادھر آ گئے تھے۔ میں نے تو کسی سے رابطہ نہیں کیا تھا۔ کوئی بارہ پندرہ وکیل ادھر آ گئے تھے۔ انہوں نے قانونی نکات بیان کیے کہ ان کا تو کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ یہ وکالت نامہ ان کے بیٹے اور ایک تیسرے فرد کے درمیان ہے۔ ان کا نام بھی نہیں ہے۔ انہیں کیوں بلایا؟

خیر وہ سنتی رہیں۔ یہ بھی کہا کہ یہ سیونٹی فائیو کی ایج کا پروفیسر ہے کم از کم اس کی ہتھکڑی تو آپ کھلوا دیں۔ لیکن انہوں نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ ہمیں ساتھ ایک کمرے میں بٹھا دیا گیا اور آدھے پونے گھنٹے بعد کہا گیا کہ آپ کو چودہ دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جا رہا ہے۔ مجھے اڈیالہ بھیج دیا گیا اور ایک ایسے سیل میں رکھا گیا جس میں ایک منشیات کا قیدی تھا، ایک سزائے موت کا قیدی تھا، ایک ایسے ہی کسی دوسرے گھناؤنے جرم کا تھا۔ چھے بندے ایک چھوٹے سے آٹھ بائی آٹھ فٹ کے سیل میں تھے جہاں انہوں نے مجھے رکھا۔

میں نے ان سے کوئی کمپلینٹ نہیں کی، کوئی رعایت نہیں مانگی، یہ نہیں کہا کہ مجھے بی کلاس میں ڈالو، ڈیڑھ دو گھنٹے بعد تشریف لائے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ مجھ سے پوچھا میں نے کہا کہ آئی ایم اوکے، آئی ایم فائن۔ پھر کوئی دو گھنٹے بعد انہوں نے مجھے نکالا اور اسی طرح کے ایک دوسرے سیل میں لے گئے۔ وہاں پہ کچھ لوگ تھے۔ بس یہی کیفیت رہی ہے۔ اس کے باہر لکھا تھا ہائی سیکیورٹی بیرک۔

اعزاز سید: بستر لگا ہوا تھا؟

عرفان صدیقی: نیچے فرش پر دری سی ڈلی ہوئی تھی، کوئی تکیہ وکیہ نہیں تھا۔ اسی آٹھ بائی آٹھ کے کونے میں کموڈ لگا ہوا تھا زمین کے اندر۔ اس میں پانی وانی نہیں تھا۔

اعزاز سید: کھانا کیا دیا؟
عرفان صدیقی: نو۔

اعزاز سید: کوئی کھانا نہیں دیا؟ اس دوران میں آپ کو کھانا سرو نہیں کیا گیا؟
عرفان صدیقی: نہیں۔ پوچھا بھی نہیں اور دیا بھی نہیں اور نہ میں نے کہا۔

اعزاز سید: تو پھر آپ کیسے رہے؟ آپ شوگر کے پیشنٹ بھی ہیں۔
عرفان صدیقی: جاتے ہوئے جب ہمیں وہ لے کر جا رہے تھے بخشی خانہ میں وہ ایف ایٹ میں ہے، وہاں ایک کتابوں کی دکان ہے وہ مجھے جانتا تھا تو وہ وہاں سے کوئی پھل لے آیا آڑو وغیرہ۔ اس پہ گزارا کر لیا ہم نے۔

اعزاز سید: آپ کو چوبیس گھنٹے بعد رہائی کا کیسے پتہ لگا؟

عرفان صدیقی: رہائی کی آج ہمیں کوئی توقع نہیں تھی۔ ہمیں تو یہ بتایا گیا تھا کہ پیر کو خاتون جج نے نوٹس کر دیا ہے دونوں فریقوں کو اور پیر کو آپ کی ضمانت کی درخواست سنی جائے گی۔ سب حیران ہو رہے تھے کہ ہم نے تو نہیں سنا کہ کرائے داری والے کی پہلے دن ہی ضمانت نہ ہو، کل کیوں نہیں ہوئی؟ ہم تو اس میں تھے کہ کل جائیں گے تو دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔

آج کوئی ایک بجے کے قریب سینئیر پولیس اہلکار آئے میرے پاس اسی سیل میں اور کہنے لگے سر آپ چلیں۔ میں نے کہا کہاں چلنا ہے۔ میں نے سمجھا کہ شاید کسی تیسری جگہ ڈال رہے ہوں۔

اعزاز سید: اور آج صبح بھی آپ نے کھانا نہیں کھایا ہوا؟

عرفان صدیقی: نہیں نہیں ناشتہ واشتہ کچھ نہیں تھا نا وہاں پر، کچھ نہیں۔ تو اس کے بعد وہ مجھے لے گئے۔ وہ دوسرا بندہ بھی اسی سیل میں تھا جو کرائے دار تھا۔ وہ بہت بڑا بزنس میں ہے، کروڑوں اربوں کی سرمایہ کاری اس نے یہاں آ کر کی ہے۔ دبئی چھوڑ کر آیا ہے 2016 میں۔ اب اس نے بچے منگوائے تھے اس گھر میں جو بیس سال سے وہاں رہ رہے تھے۔ جب وہ بچے آئے ہیں تو تیسرے دن ان کے باپ کے ساتھ یہ سلوک ہوا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم تو واپس جا رہے ہیں ہم اس ملک میں نہیں رہیں گے۔ آپ اس کو ضرور جا کر انٹرویو کریں۔

میں نے کہا کہ ان کا کیا ہے تو وہ کہنے لگے کہ ان کا ہمیں نہیں پتہ آپ چلیں۔ میں نے سمجھا کہ شاید کسی اور جگہ ڈالیں گے۔ راستے میں اس پولیس والے نے بتایا کہ آپ کی شاید ضمانت ہو گئی ہے تو آپ کو جانا ہے۔ وہ سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں لے آئے وہ بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ کہنے لگے کہ سر آپ کی ضمانت ہو گئی ہے۔ میں نے کہا کہ آج کیسے ہو گئی ہے آج تو اتوار ہے۔ تو وہ کہنے لگے کہ مجھے تو نہیں پتہ لیکن مجھے بتایا گیا ہے وہ وہاں سے روبکار لے کر آ رہے ہیں۔ تو آپ بیٹھیں۔ تھوڑی دیر بعد کہتے ہیں کہ بڑی افراتفری مچ گئی ہے، روبکار تو آ رہی ہے لیکن اس پر سٹیمپ نہیں لگی۔ تو روبکار والے کو روکا نہیں ہے بلکہ سٹیمپ بعد میں کوئی لے کر آئے گا۔ تو پیچھے سے سٹیمپ کا ایک اور قافلہ آیا۔ بار بار فون آ رہے تھے کہ کیا سٹیج ہے نکلے ہیں یا نہیں نکلے۔ تو مجھے لگا کہ کسی اور جگہ سے ہو رہا ہے سب کچھ۔ تھوڑی دیر بعد پتہ چلا کہ جاوید صاحب کی بھی ضمانت ہو گئی ہے انہیں بھی بلا لیا۔

اعزاز سید: آپ سے اگر یہ پوچھا جائے کہ کون سی وہ ایک یا دو شخصیات ہیں جو آپ کی گرفتاری کی وجہ بنیں؟
عرفان صدیقی: میرا خیال ہے کہ ایک عرفان صدیقی ہیں اور ایک نواز شریف ہیں۔

اعزاز سید: کیا یہ درست ہے کہ آرمی چیف آپ کے شاگرد ہیں؟
عرفان صدیقی: جی ہاں۔

اعزاز سید: تو آپ کی نظر میں رہائی کس نے کروائی ہو گی؟
عرفان صدیقی: دیکھیں جی اگر ادھر سے بھی کوئی چیز ہوئی ہے تو میں شکرگزار ہوں، میرے علم میں نہیں ہے۔ لیکن جو چیز میرے علم میں ہے وہ آپ لوگ ہیں۔ میڈیا کا دباؤ ہے، سوشل میڈیا کا دباؤ رہا ہے، پبلک کا دباؤ رہا ہے، مجھے تو اخبار نہیں ملتا تھا نہ ٹیلی ویژن تھا مجھے کچھ پتہ نہیں کہ کیا ہو رہا ہے باہر کی دنیا میں۔ لیکن جب میں وہاں سے نکل رہا تھا تو مجھے سینئیر پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ باہر تو ایک عجیب قیامت مچی ہوئی ہے اور آپ کی وجہ سے ہمیں ”وختا“ پڑ گیا ہے کہ جلدی چھوڑو۔ اور ایک جوان مجھے یاد رہے گا وہ پولیس کا ایک ینگ لڑکا تھا، اس کی آنکھوں میں آنسو تھے مجھے دیکھ کر۔ تو وہ آیا اور اس نے آستین اتاری اپنی وردی کی اور مجھے کہا کہ یہاں آپ سائن کر کے جائیں۔ تو میں نے سائن کیے اپنے۔

اعزاز سید: قمر باجوہ صاحب کہاں پڑھتے رہے آپ سے؟
عرفان صدیقی: سر سید سکول میں چھٹی ساتویں میں جب میں سکول میں پڑھاتا تھا۔ ہمارے جنرل زبیر بھی سر سید کے پڑھے ہوئے ہیں وہ بھِی ہمارے شاگردوں میں ہیں۔ اس کے علاوہ ابھی جو آئی ایس آئی سے فارغ ہوئے ہیں جنرل عاصم منیر وہ بھی میرے بڑے اچھے پیارے شاگردوں میں سے ہیں۔ بہت بڑی لاٹ ہے۔ اور اچھے لوگ ہیں اپنے اپنے طور پر انہوں نے جو بھی خدمات کی ہیں، اگر کسی کا رول ہے جو میرے علم میں نہیں ہے، لیکن میں جو اسیس کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ میڈیا کا خلاف توقع بہت دباؤ پڑا ہے۔ کسی اور معاملے میں، ہمارے بڑے بڑے لیڈر گئے ہیں اندر، ابھی ریسینٹلی بھی گئے ہیں، تو مجھے نہیں یاد پڑتا کہ اتنی دہائی مچی ہو۔

اعزاز سید: کیا آپ کو توقع تھی کہ آپ اتنی جلدی باہر آ جائیں گے؟

عرفان صدیقی: نہیں۔ مجھے یہ تو توقع تھی کہ سارے کہہ رہے تھے کہ کتنے دن اندر رکھیں گے اس کیس میں رکھ نہیں سکتے، پہلے ہی زیادتی کر دی ہے تو پیر کو چھوڑ دیں گے آپ کو۔ لیکن یہ نہیں تھا کہ اتوار کو اچانک بیک اپ کر کے چھوڑ دیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •