نوجوان وکیل رہنما ملک دلاور حسین کا بہیمانہ قتل
یہ خبر مورخہ 14۔ 7۔ 2019 کوتقریباً نصف شب کے بعد ملی کہ ہمارے انتہائی قابل ِ احترام ساتھی اور نوجوان وکیل رہنما ملک دلاور حسین اپنے گھر پرایک قاتلانہ حملے کے دوران شدید زخمی ہوگئے ہیں اور اِس وقت ملک دلاور حسین ایڈووکیٹ کو ہنگامی حالت میں لاہور کے میو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔ وکلا برادری کے لئے یہ خبر کسی بڑے صدمے سے کم نہ تھی کیونکہ ہر کوئی یہی بات سوچ رہا تھا کہ ملک دلاور حسین ایڈووکیٹ جیسے نفیس انسان کی کس سے دشمنی ہوسکتی ہے؟
میو ہسپتال منتقل کرنے کے بعدملک دلاور حسین ایڈووکیٹ کو وہاں کے انتہائی نگداشت وارڈ (ICU) میں پہنچایا گیا پھر رات کے آخری پہرایک اطمینان بخش خبر موصول ہوئی کہ اب ملک دلاور حسین ایڈووکیٹ کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ اُس وقت اِس خبر نے وکلا برادری کا غم و غصہ کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا مگر کسی کو کیا معلوم تھا کہ ملک دلاور حسین ایڈووکیٹ اللہ کو پیارے ہوجائیں گے۔
یہ انتہائی افسوس ناک خبردوپہر مورخہ 16۔ 7۔ 2019 کوموصول ہوئی کہ ملک دلاور حسین ایڈووکیٹ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وفات پاگئے ہیں۔ وفات کے بعد ملک دلاور حسین ایڈووکیٹ کے جنازہ کا اعلان ہوا جس کی ادائیگی کا وقت اگلے روز صبح 10 بجے کے لئے رکھا گیا۔ اعلان کے مطابق نمازِ جنازہ کی ادائیگی کی جگہ میاں منشی ہسپتال کے ملحقہ قبرستان مقرر کی گئی تھی مگر وکلا برداری اور دیگر سماجی شخصیات کی کثیر تعداد میں شرکت کی وجہ سے مقرر کی جانے والی جگہ عین موقع پر تبدیل کرنا پڑ گئی اور نمازِ جنازہ کی ادائیگی ہائی وے اور مقامی پولیس کے تعاون سے مین بند روڈ بلاک کرکے ادا کرنا پڑی۔ یوں معلوم ہورہا تھا کہ شاید سارا شہر ہی اپنے محبوب ساتھی کا آخری دیداد اور اُن کو رخصت کرنے پہنچ گیا ہے۔
اِس موقع پرکوئی شخص ایسانہ تھا جس کی آنکھ آشکبار نہ ہو۔ دراصل ملک دلاور حسین ایڈووکیٹ کی شخصیت کچھ ایسی تھی کہ انہوں نے اِس مختصر سی زندگی میں اپنی خوش اخلاقی سے لوگوں کے دل جیتے اور خوشیاں بانٹتیں۔ بغیر کسی سیاسی مقصد کے اپنے دوستوں کی کامیابی کے لئے صف اوّل کے سپاہی کی حیثیت سے کردار ادا کیا اور اپنی جیب سے اُن کی انتخابی مہم چلائی۔ اِس بات سے کوئی انکاری نہیں ہوگا کہ بار الیکشن میں ملک دلاور حسین ایڈووکیٹ کا ساتھ یقینی طور پر امیدواروں کی کامیابی کا باعث بنتا تھا۔
جس دن یہ افسوس ناک واقعہ پیش آیا اُس دن ملک دلاور حسین ایڈووکیٹ اپنی فیملی کے ہمراہ اپنے گھرمیں ہی موجود تھے۔ دراصل وجہ عناد معمولی نوعیت کا حامل تھا لیکن شاید ملک دلاور حسین ایڈووکیٹ اپنی زندگی کا وقت پورا کر چکے تھے جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔ مندرجات ایف آئی آر اور کچھ ساتھیوں سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ملک دلاور حسین ایڈووکیٹ نے اپنے بھائی کے ہمراہ اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعہ سے چند روز پہلے اپنے علاقہ کھوکھر ٹاؤن میں اپنے ایک عزیز اورملزمان یعنی اپنے قاتلوں کے درمیان ایک چھوٹے سے تنازعہ پر پنچایتی طور پر صلح کروائی تواِس دوران ملزمان اور ملک دلاور حسین ایڈووکیٹ کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی تھی۔ اِس تلخ کلامی کو ملزمان نے اپنے دل میں رکھا اورموقع ملتے ہی اندھا دھند فائرنگ کرکے نہتے ملک دلاور حسین ایڈووکیٹ اور اُن کے بھائی کو شدید زخمی کیا۔ عینی شایدین کے مطابق ملزمان کی فائرنگ اتنی شدید تھی کہ اُن کا اپنا ایک ساتھی بھی اِس کی زد میں آیا۔
جس علاقہ میں یہ واقعہ پیش آیا وہ تھانہ شفیق آباد کی حدود میں آتا ہے۔ اِس علاقہ میں بڑی تعداد میں افغان باشندے بستے ہیں مگر اب یہ مہاجرین نہیں بلکہ ہمارے سیاسی قائدین کی پشت پناہی کی وجہ سے پاکستانی شہریت کے حامل ہوچکے ہیں۔ یہ علاقہ شہر میں جرائم کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔ ملک دلاور حسین ایڈووکیٹ اور اُن کے بھائی پر فائرنگ کرنے والے ملزمان بھی افغان باشندے ہیں جو اب تک مفرور ہیں۔ وقوعہ کی نوعیت کے لحاظ سے مقامی پولیس نے اِس ایف آئی آر میں انسداد دہشتگردی کی دفعات کو شامل نہیں کیا جبکہ یہ واقعہ کھلم کھلا دہشتگردی کے مترادف ہے۔
لاہور بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام مورخہ 27۔ 7۔ 2019 کوملک دلاور حسین ایڈووکیٹ کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں لاہورہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں سمیت وکلا برادری کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ اِس ریفرنس کی خاص بات مرحوم کے والدمحترم کی خصوصی شرکت تھی جن کا حوصلہ اور جذبہ دیکھنے کے لائق تھا کیونکہ جوان بیٹے کی وفات سے چند روز قبل اُن کی اہلیہ کا بھی انتقال ہوا ہے۔
میری ذاتی رائے میں مقامی پولیس کواِس ایف آئی آر میں انسداد دہشتگردی کی دفعات کو بھی شامل کرنا چاہیے اور ظالم ملزمان کی فوری گرفتاری عمل میں لائی جائے تاکہ وکلاءبرادری اپنے محبوب ساتھی کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچاسکیں۔
آخر میں، میں اپنے اُن ساتھیوں کو بھی سلام پیش کرنا چاہوں گا جو ملزمان کی گرفتاری کے لئے مقامی پولیس سے مکمل رابطہ میں ہیں اور مرحوم ملک دلاور حسین شہید ایڈووکیٹ کے لئے دعا کرونگا کہ اللہ پاک اُن کے درجا ت بلند فرمائے۔ آمین


