فکری بانجھ پن ختم کیسے ہوگا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا ہم فکری لحاظ بانجھ ہو چکے ہیں؟ ہمیں اپنی ”فکر“ بیان کرنے کے لیے گزرے زمانوں کے مفکرین کی کوٹیشنز کا سہارا ہی کیوں لینا پڑتا ہے؟

انسانی فطرت ہے کہ وہ جس چیز کو بھی دیکھے، سنے یا پڑھے اس سے اختلاف کرتا ہے یا پھر قائل ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اس کے پاس تیسری صورت موجود ہی نہیں ہوتی اس لئے اس گورکھ دھندے سے آزاد ہو پانا ہر انسان کے بس کی بات نہیں اس لئے بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو آوٹ آف دی باکس جاکر سوچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انسان نے تمام علوم کسی کو دیکھ کر، سن کر یا پڑھ کر حاصل کیے ہیں اس لئے وہ نئے الفاظ، نئے تصورات یا پھر نئی سوچ کہاں سے لائے گا؟ میری رائے میں انسان کو وسائل کی بہتات، بہت زیادہ تنگ دستی یا پھر کوئی بہت بڑا حادثہ ہی سوچنے اور کچھ الگ سے کرنے پر مجبور کرتا ہے وگرنہ وہ صرف اک مشین ہوتا ہے اور مشینیں فکری بانجھ پن سے نہیں نکل سکتیں۔

ہماری تعلیم اور سیکھ کا عمل بچپن سے شروع ہوجاتا ہے۔ ہم بچوں کو پہلے دن سے ہی کسی نہ کسی کے ساتھ ریلیٹ کرنا شروع کر دیتے ہیں، بچوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ بالکل اپنے باپ کی طرح ہیں، وہ بات دادا کی طرح کرتے ہیں، ان کی شرارتیں ان کے ماموں پر گئی ہیں اور وہ روتا اپنی خالہ کی طرح ہے۔ جب بچے کا ہر عمل اور جذبہ بہت سے لوگوں کے ساتھ نتھی کر دیا جائے تو اس کی اپنی شخصیت کہاں رہ جائے گی؟ انسان پیدا ہوتا ہے تو الفاظ، سوچ اور بات کرنے کا طریقے اپنے گرد و پیش سے لیتا ہے، ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ پاکستان کے کسی گاؤں میں پیدا ہو ا بچہ اپنی زبان سے پہلا لفظ فارسی کا بولے۔

بچے کی مادری زبان پنجابی، سندھی، بلوچی یا پشتو ہوتی ہے، سکول میں وہ اردو پڑھتا ہے لیکن ہم اس سے توقع کرتے ہیں کہ وہ فر فر انگریزی جھاڑے اور انگریزی ادب پڑھے۔ وہ بڑا ہوتا ہے تو غم روزگار میں پھنس جاتا ہے، اب ایسی صورت میں وہ کچھ نیا کب، کیسے اور کیوں سوچے گا؟ وہ جدت کے حامل سوالات کہاں سے لے گا؟ اس کے لگے بندھے نظریات پر تیشہ کون پھیرے گا؟ ہمارے ہاں تو خیر سے بچپن میں ہی بہت میٹھے جھوٹ اور افسانوں پر یقین رکھنے کا درس دیا جاتا ہے۔ اگر بچہ پوچھ لے کہ میں کیسے پیدا ہوا تو جواب ملتا ہے۔ ”بیٹا آپ کو اک پری دروازے پر رکھ گئی تھی۔ اب مزے کی بات تو یہ ہے کہ ہم اس بچے کو بڑا ہوکر اک بہترین ڈاکٹر بنانا چاہتے ہیں۔

کوئی بھی اصول، قانون یا سوچ چاہے جتنی ہی دلکش اور حقیقت سے قریب تر کیوں نہ ہو ہر معاشرے اور خطے پر پوری نہیں اتر سکتی۔ اک ایسے خطے میں کہ جہاں سالوں سال بارش نہ ہوتی ہو وہاں آپ بارش اور سیلاب سے بچنے کے اصول مرتب کرتے ہوئے لاگو نہیں کر سکتے۔ ؟ اسی طرح سرد ترین خطے میں سنٹرل کولنگ، مفت برف اورپنکھوں کی افادیت کا یقین دلانا ممکن نہیں ہوگا۔ گرم ترین خطے میں گیزر اور سینٹرل ہیٹنگ کی بات کرنا یقینا مضحکہ خیز لگے گا۔

اس لئے بجائے ہر کسی کی نقالی کرنے کے اپنے اردگرد مواد سے سیکھنا چاہیے، اگر علم دینے والے افراد و مواد کی کمی ہو تو ایسے مواد کو اپنی زبانوں میں ترجمہ کرنا چاہیے لیکن اپنی اصل، اپنی حقیقت اور حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے بہتر ہونے کی کوشش کرنی چاہیے لیکن علم وہی ہے جو آپ کی مادری زبان اور اپنے مشاہدات کی مرہون منت ہو۔

ہزاروں سال پہلے جب دنیا کی آبادی بہت کم تھی اس وقت انسان صرف چند آباد خطوں میں ہی رہا کرتے تھے۔ وہاں علم و آگہی کے فروغ کے لئے مناسب وسائل اور حالات موجود تھے۔ بادشاہتیں تھیں تو وہاں کے لوگ جمہوریت کے لئے کمر بستہ تھے، اگر جمہوریت تھی تو وہ اس نظام میں خامیاں تلاش کرنے لگے تھے۔ لیکن چونکہ صرف دو سے تین قسم کے نظام حکومت موجود تھے اس لئے ان کے بنائے گئے اصول دیگر آنے والی اقوام میں آئیڈیل قرار پائے، بعد کے آنے والے فلاسفرز میں سے کچھ نے اک نظام حکومت کو پسند کیا تو کسی نے دوسری یا تیسرے نظام حکومت کو بہتر قرار دیا جس کی بنیاد پر آج دنیا کی حکومتیں موجود ہیں۔

سائنس کی ہر شاخ کاماخذ وہیں جا ملتا ہے۔ فنون لطیفہ ہوں یا طب کے علوم ان کا سوتر وہی سے پھوٹتا دکھائی دیتا ہے۔ اب ہم کو دیکھنا ہوگا کہ ہزاروں سال پہلے ان اقوام کے پاس ایسے کون سے اسباب تھے، کون سے حالات تھے کہ ان کا تھوکا ہوا پوری دنیا آج بھی بہت شوق سے نہ صرف چاٹ رہی ہے بلکہ فلسفے کا بھگوان اگر دیکھنا ہو تو ہمیں وہیں لوٹنا پڑتا ہے۔ انہوں نے وہ علم اپنی مادری زبان میں سوچا تھا، مادری زبان میں پڑھا تھا، مادری زبان میں ہی پہنچایا تھا۔

ہمیں پہلے دن سے ہی بتا دیا جاتا ہے کہ فلاں زبان، فلاں ملک، فلاں لکھاری، فلاں ڈاکٹر، فلاں فلاسفر دنیا میں سب سے بہترین ہے۔ اس سے بڑھ کر کوئی ہو سکے ایسا ممکن نہیں ہے۔ یہ بات ہماری گھٹی میں ڈال دی جاتی ہے کہ فلاں سے بڑھ کر کوئی بھی انسان نہیں ہو سکتا۔ فلاں کتاب سے بہتر دنیا میں کوئی کتاب ہو ممکن نہیں ہے۔ فلاں مکتبہ فکر دنیا کا سب سے اعلی و ارفع مکتبہ فکر ہے، فلاں بھگوان، فلاں خدا حرف آخر ہے، فلاں فلسفہ دنیا کا حرف آخر فلسفہ ہے، اس کے بارے میں سوال مت کرو، اس سے بڑھ کر سوچنے کی صلاحیت نہ تو انسان میں موجود ہے نہ ہی اسے ایسی کوئی کوشش کرنا چاہیے۔ تب ہمارے اندر کے نئے سوال یا تو دم توڑجاتے ہیں یا پھر معاشرے کے مروجہ اصولوں، نظریات، پسند نا پسند اور عقیدوں کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ اب ایسے میں فکری بانجھ پر پیدا نہ ہو تو کیا خرگوش کے بطن سے اونٹ پیدا ہوگا؟

مجھے ماسٹرز ڈگری کے لئے تھیسز کے لئے موضوع منتخب کرنا تھا، فیکلٹی ڈین سمیت تمام پروفیسز موجود تھے، بات فلسفے پر آنکلی تو میرے پروفیسر نے کہا آپ فلاں لکھاری کو پڑھیں، اس موضوع پر ان سے بہتر کوئی انسان نہیں لکھ سکتا۔ میں نے اجازت لے کر اختلاف کرنے کی اجازت چاہی جو تھوڑی سے خاموشی اور پھر ہنسی کے بعد دے دی گئی۔

میں نے گزارش کہ ہے سر۔ ہم سقراط سے لے کر بقراط اور افلاطون سے لے کر ارسطو تک صدیوں سے بت پرستی کرتے آرہے ہیں، جب ہم کسی انسان کو حرف آخر مان لیں تو اس کا بت بنا کر پوجا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم نے ہر پیدا ہونے والے بچے کے دل و دماغ میں یہ بات بٹھا دی کہ سقراط سے بڑھ کر کچھ ممکن نہیں ہے۔ اس لئے بچہ کبھی یہ سوچ ہی نہیں پاتا کہ اس سے آگے بھی نکلا جا سکتا ہے۔ جب آپ خود اک شخص کو حرف آخر مانتے ہیں تو اپنے طالبعلموں سے کیسے توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ کچھ نیا، کچھ الگ کر کے دکھا ڈالے؟ آپ نے خود ہی تو ان کے پیروں میں شخصیت پرستی کی بیڑیاں ڈال دیں۔ اب و ہ شعور کی منازل طے کرے بھی تو کیسے؟ ۔ کیا وجہ ہے کہ ہزاروں سالوں سے پوری دنیا سقراط سے آگے نہیں نکل پائی۔ کیوں کوئی ایسی ماں پیدا نہیں ہو سکی جو ایسا بچہ پیدا کرے کہ جس سے افلاطون بھی اپنی قبر سے اٹھ کر درس لینے آن پہنچے؟

آپ کیو ں اک استاد ہو کر بھی اپنے شاگردوں کو فکری بانجھ پر دینے پر بضد ہیں؟ اک طرف ہمیں بتایا جاتا ہے کہ شاگرد استاد سے زیادہ تیز اور ذہین نکلتا ہے لیکن دوسری طرف کوئی ایسا شاگرد پیدا ہوکر ہی نہیں دے رہا کیوں؟ سر ایسے شاگرد پیدا کرنے کے لئے سب سے پہلے تو آپ کو سچ مچ میں اک استاد بننا پڑے گا۔ جو کتابیں رٹنے اور سجیسٹ کرنے کے بجائے طلباء کو مشاہدات پر یقین دلائے، انہیں روز اک نیا اور انوکھا سوال کرنے پر اس بات کا یقین دلائے کہ آپ جیسا بھی سوال کرو اس سے اک نئے علم اور سوچ کا سوترا پھوٹے گا۔ کیا آپ ایسا کرنے کی ہمت کر سکتے ہیں؟ کیا آپ ہمیں بت پرستی سے آزادی دلانے کا سوچ سکتے ہیں؟

سر میں اسی موضوع پر تھیسز لکھنا چاہتا ہوں، میں چاہتا ہوں کہ مجھے سیکھنے کا موقع ملے، میں سوالات کر سکوں، میں ایسے سوالات کی داغ بیل ڈالوں جو دوسرے طلبہ کو سوال کرنے اور ان کے نئے نئے جوابات تلاش کرنے پر آمادہ کر سکیں۔ سر میرے خیال میں کسی بھی سوال کا جواب اہم نہیں ہوتا۔ ایک ہی سوال کے سینکڑوں جوابات ہو سکتے ہیں لیکن سوال پھر بھی سوال رہتا ہے۔ تشنہ لب، سر اس تشنگی کو ہماری نسلوں میں پھیلانے کی ضرورت ہے۔

اساتذہ نے خوب تالیاں بجا کر میری سوچ اور سوالات تعریف تو کی مگر ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ بیٹا اس موضوع کو سپروائز کرنے کے لئے شاید پورے پاکستان میں آپ کو کوئی پروفیسر نہیں ملے گا، کیونکہ آج سے پہلے اس طرح کا موضوع کسی نے رکھا ہی نہیں، سب اپنا تھیسز پاس کر کے ڈگری لینے آتے ہیں، آج کے پروفیسرز نے بھی یہی کیا اور اب وہ صرف اسی موضوع یا اس سے ملتے جلے موضوعات کو ہی سپروائز کر سکتے ہیں جو انہوں نے پڑھے ہوئے ہوں۔ اب اگر آپ نے ڈگری حاصل کرنی ہے تو کوئی ایسا موضوع ہی رکھیں جس کا سپروائزر موجود ہو، ورنہ آپ کو دہائیاں لگ جائیں گی اور آپ کا تھیسز کلئیر نہیں ہو پائے گا۔ مجھے موضوع ملا۔ ”کھانے پینے کے اشیاء کے بارے میں صارفین کی کیا رائے ہے“۔ ہوگیا فکری بانجھ پن دور۔ ہاہاہاہاہا۔ !

انسانی معاشروں میں طلباء کے سوال کرنے پر کوئی پابندیاں نہیں ہے کیونکہ و ہاں سوال کی حرمت ملحوظ خاطر رکھی جاتی ہے۔ ایسے معاشرے کہ جہاں صرف ایک طالبعلم کوسکالر شپ کی مد میں کروڑ روپے تک کی امداد حاصل ہو وہاں ذہین طلبہ فکری جمود کا شکار نہیں ہوپاتے۔ اس لئے ایسے معاشروں کی سوچ بانجھ نہیں ہے۔ وہاں آج بھی نئے فلاسفرز ابھرتے ہیں، نئے سائنسدان پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے ماضی کے بڑے بڑے ناموں کے بنائے قوانین کو نہ صرف چیلنج کیا بلکہ ان کو غلط، فرسودہ یا دور حاضر سے مماثلت نہ رکھنے کی وجہ سے رد کرتے ہوئے نئے قوانین، علم کی شاخیں اور سوچ کے مدارج مرتب کیے ہیں۔ وہ تحقیق کے میدان میں کھلے ہیں، ان میں تنقید سننے کا حوصلہ اور ظرف ہے اس لئے ان کے پاس فکری بانجھ پن ناپید ہونے لگی ہے۔ یہ فکری بانچھ پن کو دور کرنے کا اک پہلو یا اک رخ ہے۔

دوسری طرف دیکھیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ بات جب کسی بہت بڑی تبدیلی کی ہوگی، کسی سوچ، قانون، نظریے یا علم کی شاخ کو بدلنے کی ہو تب وہاں آج بھی تحقیق اربوں روپوں کی محتاج ہے۔ جب بھی کچھ نیا ایجاد ہو وہ بڑی کمپنیوں کی مہنگی ترین لیبارٹریوں کی مرہون منت ہوتا ہے اور پھر اس کے بعد وہ اک پراڈکٹ بن کر سیل ہونے لگتا ہے۔ انہوں نے دنیا جہاں کا علم اپنی زبانوں میں ٹرانسلیٹ کر کے رکھ چھوڑا ہے، دور حاضر کے ہی لوگوں نے چاند کو فتح کیا، کائنات کے دور دراز کونوں تلک پہنچے ہیں اور اب مریخ پر بستیاں بسانے کے لئے پر تول رہے ہیں، اس لئے صرف خالی پیٹ سوال کرنے سے فکری بانجھ پن دور ہو سکتا ہے یہ بھی اک بانجھ پن ہی ہے کیونکہ فکری شعور اک تو وسائل کے ساتھ مشروط ہے۔ دوسرا علم کا آپ کی زبان میں ہونایا ایسی زبان پر بچپن سے ہی دسترس ہونا بہت ضروری ہے کہ جس میں دنیا کا بے بہا علم موجود ہو۔

اب یہ آپ کو دیکھنا ہے کہ آپ اپنے پرانے خیالات، رٹے رٹائے سوالات اور مقدس ترین جوابات سے آگے کچھ سوچنا چاہتے ہویا نہیں۔ آپ اپنی نسلوں کے پاوں سے ہزاروں سال پرانی سوچوں، تصورات، نظریات، عقاید اور شخصیات کے باندھی ہوئی بیڑیاں توڑنا چاہتے ہو یا نہیں۔ آپ اپنے اندر بن چکے صدیوں پرانے بت توڑنا چاہتے ہو یا نہیں؟ اگر آپ اک سوال کو صرف سوال سمجھ کر بنا غصہ و نفرت کیے، بنا کسی کی جان لینے کا سوچتے ہوئے اسے مناسب ممکن جواب دینے کا ظرف رکھتے ہو تو یہ جمود ٹوٹ سکتا ہے۔

اگر آپ بھی دنیا کے علوم کو اپنی زبان میں ٹرانسلیٹ کرنے کا کشٹ اٹھا سکتے ہو، ریاست علم کے فروغ کے لئے دنیا جہاں کا مواد مقامی زبانوں میں پہنچانے کی ضد کر سکتی ہے تو فکری بانجھ پن کی گود سے نیا علم نکل سکتا ہے۔ اگر آپ سوال کی حرمت کو ماننے لگو اور ہمارے معاشرے کے استاد واقعی صرف کتابی استادوں کے بجائے حقیقی استاد بننے کی کوشش کریں تو یہ رکاوٹ دور ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر آپ آج بھی کوئی سوال سن کر کف اڑانے لگتے ہو، اگر سوال آپ کا دھرم بھرشٹ کرتے ہیں، اگر سوالات آپ کی انا کو ٹھیس پہنچاتے ہیں تو فکری بانجھ پن بھول جاؤ اور بھنے ہوئے چنے کھاؤ۔ ان چنوں سے تن اور من کی شکتی بھی بڑھے گی اور بوقت ضرورت کام بھی آوے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •