عاطف میاں کا بیان، کرپشن اور ہمارا بنیادی مسئلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مورخہ 24 جولائی کو بی بی سی اردو کے ایک پروگرام میں انٹرویو دیتے ہوئے عاطف میاں نے پاکستان کے معاشی مسائل پر گفتگو کے دوران کہا کہ

”اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ کرپشن نقصان تو پہنچاتی ہے، لیکن ہمارا بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے جو ترقی کا ماڈل اپنایا ہے یہ اب بنیادی طور پر چل ہی نہیں سکتا ہے۔ ’

مزید یہ کہا کہ

”کرپشن ہو یا نہ ہو، اب یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ یہ ماڈل اب مستقل بنیادوں پر چل سکے۔ جب تک آپ بیرونی طاقتوں پر انحصار کریں گے اپنی اقتصادی ترقی کے لیے، آپ کا ترقی کا یہ ماڈل اب چل ہی نہیں سکتا۔ ’

اس سے پاکستان میں کرپشن کی بابت ان خیالات کہ۔ کرپشن نقصان تو پہنچاتی ہے لیکن۔ ہمارا بنیادی مسئلہ۔ کو بعض حلقوں میں پرو کرپشن یا کرپشن کے خلاف نیب کی کارروائیوں کو ثانوی درجہ کی لائقِ اصلاح خرابی سمجھا جا رہا ہے۔ گویا نیب کی کارروائی محض اپوزیشن کو ہی رگیدنے کی خاطر ہے اس سے ملک کو فائدہ نہیں۔ اور محاسبہ محاسبہ کا نغمہ گانے کا وقت نہیں ہے ملک کو گرداب سے نکالنا وقت کی پکار ہے۔

عاطف میاں کے اس اظہار پر اختلاف ہے جس کا عرض کرنا لازم ہے۔ عاطف میاں نے یہ بیان اردو میں دیا ہے اور ان کے انٹرویو سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ یہ ان کے اپنے انگریزی زبان میں خیالات کا خود کردہ اردو ترجمہ تھا۔ وہ تو اصلاحات کو اصطلاحات کہہ رہے تھے۔ مندرجہ بالا بیانات میں کرپشن کو بنیادی مسئلہ کے بجائے انہوں نے۔ ترقی کے ماڈل۔ کو بنیادی ظاہر کرکے اس کی درستی کی طرف توجہ دلائی ہے۔ جبکہ۔ ترقی کا غلط ماڈل۔ جو ان کے نزدیک بنیادی مسئلہ ہے اس کی تخلیق میں تو کرپشن اوراہلِ کرپشن ہی کرم فرمائیاں شامل ہیں۔ اگر ملک کے مالی معاملات کی پلاننگ میں خشتِ اول کے ٹیڑھا رکھے جانے کی وجہ تلاش کریں تو۔ کرپشن۔ یا۔ پلاننگ میں خطا۔ میں سے ایک بات کو اس خرابی کا باعث سمجھنا پڑتا ہے۔

اسی انٹرویو میں آگے لکھا ہے

ڈ اکٹر عاطف میاں کہتے ہیں کہ ان قرضوں کو اگر ایسے منصوبے میں لگایا جائے جن سے اتنی آمدن نہ ہو جن سے یہ قرضہ اتارا جا سکے تو پھر ایسے قرضے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔

پھر لکھا ہے

انھوں نے مزید کہا کہ اسی لیے نہ صرف ہم نے قرضے لیے بلکہ ان قرضوں کی ایسی جگہوں پر سرمایہ کاری کی کہ اس سے معیشت کو زیادہ فائدہ نہیں ہوا۔ اور ان قرضوں کو واپس بھی نہیں کیا جا سکا۔ ’اسی لیے ہم بار بار ائی ایم ایف کی طرف جاتے ہیں۔ بار بار بیل آؤٹ کی طرف جاتے ہیں۔ ‘

اب اس بیان سے تو واضح طور پر مترشح ہوتا ہے کہ ملک میں آمدہ سرمایہ کی غلط جگہوں پر سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ یہ غلط سرمایہ کاری جو کی گئی ہے اس سے اگر پاکستان کو نقصان ہو۔ جیسا کہ ہوا ہے۔ لیکن اس سرمایہ کاری پر مامور لوگوں کے سرمایہ میں اللہ تعالیٰ نے برکت ڈالی ہو۔ جس کا وہ بڑے دھڑلے سے اعلان فرما چکے ہیں تو اس تفاوت کا جائزہ لینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اور یہی ذمہ داری نیب صاحب کے سپر د ہے۔

اس انٹرویو میں

”بار بار آئی ایم ایف کی طرف رجوع کرنے کے بارے میں ڈاکٹر عاطف میاں نے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں جو۔ اقتصادی ماڈل۔ اپنایا ہوا ہے اس میں ایسی خرابیاں ہیں کہ ہر چار یا پانچ سال کے بعد ملک کی معاشی صورتِ حال بہت بگڑ جاتی ہے۔

پھر

”قرضوں والے اکنامک ماڈ ل کو بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر عاطف میاں نے کہا کہ اس میں سب سے بنیادی خامی یہ ہے کہ اس میں یہ سوچا جاتا ہے کہ باہر سے قرضے لے کر یا کسی قسم کی امداد لے کر ملک میں ترقی دکھائیں۔

اور

”اس ماڈل میں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جب تک بیرونی پیسہ آرہا ہوتا ہے تو اقتصادی ترقی کے اشارے نظر آرہے ہوتے ہیں۔ ’

اگر پاکستان کی پچھلی دہائیوں میں ہونے والے معاشی اقدامات کا جائزہ لیں۔ تو عاطف میاں کی بات سو فی صد درست ثابت ہوتی ہے۔ سابقہ حکومت کرنے والی جماعتیں ابھی تک اپنے دور میں ہونے والی ترقی کے ترانے توگائے جارہی ہیں۔ لیکن ملکی معیشت پر مذکورہ۔ اقتصادی ماڈل۔ کے نتیجے میں اس کے بد اثرات کی ذمہ دار ی قبول کرنے کو تیار نہیں البتہ اپنے لواحقین کی مالی ترقیوں کو ہذا من فضلِ ربی کی صورت میں پیش کرکے اپنی پالیسیوں کی ثقاہت پر زور دے رہے ہیں۔ اس لئے بنیادی مسئلہ کرپشن ہی ہے۔ جسے اردو میں اس کے نامکمل ترجمہ میں بد عنوانی کہتے ہیں۔ اور بد قسمتی سے بعض مایوس لوگوں کے ساتھ ساتھ۔ کوئی بونو۔ اسے بڑے سکون سے۔ فار گرانٹڈ۔ لیتے ہیں۔

اب پاکستان میں ایک تبدیلی آئی ہے اور الحمد للہ ملک کے ان گھمبیر مسائل کی موجودگی میں خطرات سے نپٹنے کے لئے حکومت اور اپوزیشن ایک بات پر بظاہر دلی طور پر متفق ہیں اور وہ یہ کہ اب دودھ کا دودھ۔ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ لہذا دعا ہے کہ اب خدا کا فضل ملک پر بھی نازل ہو۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •