نواز شریف سے جیل میں پوچھ گچھ کی اندرونی کہانی


کوٹ لکھپت جیل میں سابق وزیر اعظم نوازشریف سے پاکپتن اراضی کیس میں پوچھ گچھ کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔

محکمہ اینٹی کرپشن کی چار رکنی ٹیم نے پاکپتن اراضی کیس میں تحقیقات کےلیے کوٹ لکھپت جیل میں سابق وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کی اور انہیں سوالنامہ پیش کیا۔ تفتیشی ٹیم میں ٹیم ڈائیریکٹر شفاقت اللہ ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر انویسٹی گیشن غضنفر طفیل، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل راشد مقبول اور انسپکٹر ہیڈ کوارٹر زاہد علی شامل تھے۔

واضح رہے کہ میاں نواز شریف پر الزام ہے کہ انہوں نے 1986 میں وزیر اعلیی پنجاب کی حیثیت سے دیوان غلام قطب کو پاکپتن میں اوقاف کی اراضی الاٹ کی تھی جو کہ لاہور ہائی کورٹ کے 1969 کے فیصلے کی خلاف ورزی تھی۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف سے محکمہ اینٹی کرپشن کی تفتیش 40 منٹ تک جاری رہی ،جیل کے ایک علیحدہ کمرے میں 4 رکنی ٹیم نے نواز شریف سے سوالات کئے۔

ذرائع کے مطابق پاکپتن اراضی کیس میں ریکارڈ نواز شریف کے سامنے رکھ کرکہا گیا ’آپ ملزم ہیں‘۔ نوازشریف نے کہا کہ میری وزارت اعلیٰ کے دور کا بہت پرانا کیس ہے، کچھ یاد نہیں، میرے پاس کوئی تفصیل نہیں، کیس کی کاپیاں مجھے دے دیں، میں دیکھ لوں گا ۔

اینٹی کرپشن ٹیم نے کہا کہ سیکریٹری ٹو سی ایم نے 24 گھنٹے میں الاٹمنٹ کی سمری مانگی اور فیصلہ کر دیا۔ نوازشریف نے کہا کہ محکمے نے کیس بنا کر بھیجا، سیکریٹری نےعجلت میں کام کیا ہو گا، وہی بتا سکتا ہے۔

اینٹی کرپشن ٹیم نے کہا کہ محکمےنےالاٹمنٹ کےخلاف سمری بھیجی لیکن سیکرٹری نے 12 گھنٹے میں فیصلہ کر دیا۔

تفتیشی ٹیم نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا اس وقت کا سیکریٹری کہتا ہے۔ نواز شریف کے کہنے پر اراضی الاٹ کی۔ نواز شریف نے جواب دیا کہ اس بارے میں کوئی جواب نہیں دے سکتا، میری قانونی ٹیم جواب دے گی۔ جس کے بعد تفتیشی ٹیم واپس روانہ ہو گئی۔

Facebook Comments HS