پیارے عمران، کیا کیے جا رہے ہو؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہاں ہے آپ کا نیا پاکستان؟ وہی مخالفین کی گرفتاریاں، وہی اپنے حواریوں کی پشت بناہیاں، وہی تضادات یعنی اپنے سزا یافتگان کو اعلی عہدے اور کھلی چھوٹ جب کہ مخالفین کے ملزمان اور سزا یافتگان کو حقِ احتجاج بھی نہیں۔ گویا کہ تمہارا مجرم مجرم، ہمارا مجرم ولی اللہ۔

نواز شریف کے بارے میں عدالت نے جو بھی فیصلے کیے ٰ ہیں وہ قانونی مسئلہ ہے۔ آپ کی ان کے بارے میں برملا نفرت کا اظہار اور ان کو عدلیہ کی جانب سے دی گیٰ قید کو اییر کنڈیشنر اٹھوا کر قیدِ بامشقت میں تبدیل کرنے کے عمل کو ریاستِ مدینہ بنانے کا اقدام ہرگز نہیں کہا جا سکتا۔ اگر آپ واقعی ان قیدیوں کو عام قیدیوں کی طرح رکھنا چاہتے ہیں، تو کیا یہ مناسب نہ ہوتا کہ ملک کی تمام جیلوں میں اییر کنڈیشنز لگوا کر یہ پیغام دیتے کہ اگر بڑے مجرمان کو یہ سہولتیں دستیاب ہیں تو چھوٹے مجرم ان سے کیوں محروم رہیں۔ اس سے اللہ آپ کی سیاسی زندگی میں برکت بھی عطا کرتے۔ لیکن اب محسوس ہو رہا ہے کہ آپ سیاسی طور پر عالمِ سکرات میں ہو، ڈوبتی نیا کو بچانے کے لیے ٰ ہر تنکے کا سہارا لے رہے ہو اور ڈوبتے سفینے کے انجن میں ہر پمپ سے ڈیزل بھروا رہے ہو۔

آپ تو کہا کرتے تھے کہ اگر میری حکومت نہ چلنے دی گیٰ تو حکومت چھوڑ کر واپس عوام کے پاس جاؤں گا اور مینڈیٹ میں مزید وزن ڈلوا کے واپس آؤنگا۔ لیکن آپ کے اقدامات سے لگتا ہے جیسے عوام پر تو آپ کا بھروسا ہی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اب عوام کا بھی آپ پر سے بھروسا اٹھنا شروع ہو گیا ہے۔ حکومت اور عوام کے درمیان سے اعتماد نام کا پرندہ اب پرواز کر چکا ہے، جو آہستہ آہستہ نظروں سے اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔ اس اڑتے ہوے ٰ پرندے کو واپس چھتری پہ اتارا جا سکتا ہے اگر آپ قاید بنیں، صیاد نہیں۔

آپ کے ووٹر آسمان سے نہیں ٹپکے تھے، بلکہ وہ پہلے سے کسی نا کسی پارٹی کو ووٹ دیتے آے ٰ تھے۔ آپ کے تبدیلی کے سحر انگیز نعروں سے متاثر ہو کر انہوں نے آپ کو ووٹ دیا اور ’اللہ کے خاص بندوں‘ کے وسیلہ سے آپ کو حکومت مل گیٰ۔ لیکن آپ نے وعدہ کے مطابق نئے پکستان کی بنیاد رکھنے کی بجاے ٰ اسی سیاسی کلچر کو فروغ دینا شروع کردیا جس کے خلاف تقریریں کر کے آپ برسرِ اقتدار آئے ٰ تھے۔ اس کلچر سے آپ کی وابستگی کا اسی دن اندازہ ہوگیا تھا جب پاکستان تحریکِ انصاف کے ایم پی اے سندھ اسمبلی عمران علی شاہ نے حلف برداری سے پہلے ہی ایک شہری کو سرِ عام زدو کوب کیا تھا، اس سے نام نہاد ڈیم کے لیے ٰ فنڈ لے کر معاف کر دیا، حالانکہ اس نو منتخب قانون ساز کی پارٹی رکنیت ختم کرکے قانون کے مطابق سزا دینا بنتا تھا، تاکہ سب کو ایک پیغام جاتا کہ اب واقعی ’انصاف‘ کی حکومت ہے۔ ناجایز تجاوزات کے نام پر آپ نے محنت کشوں کے وہ گھر مسمار کروا دیے ٰ جو زندگی بھر کی جمع پونجی سے بناے ٰ تھے۔ حالانکہ انہیں قانون سازی کرکے قانونی تحفط دے کر بھی پاکستان کے ’نیے ٰ‘ ہونے کا احساس دلوایا جا سکتا تھا۔

سرزمینِ امریکہ سے آپ نے جو اپنے سیاسی مخالفین کو للکارا اور واپس آکے اس للکار پہ عملدرامد شروع کردیا جس میں ایک قلمکار اور کسی عادی مجرم میں کویٰ فرق نہیں رکھا گیا۔ یہ اگر آپ کے ایما پر ہو رہا ہے آپ کی ذہنی پستی کا مظہر ہے، اگر آپ کے وزرا اپنی مرضی سے کر رہے ہیں تو آپ کی اپنی حکومت پہ گرفت نہیں، اگر درپردہ طاقتوں کے ایما پر یہ سب آپ خود کر رہے ہیں تو پھر آپ کٹھ پتلی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •