جہاز میں ایک سیٹ خالی تھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


”مگر امی وہ ابوکو کیوں مار دیں گے؟ “

”کیوں کہ۔ کیوں کہ ایسا ہے کہ۔ “ میں نے رک رک کر کہا، ”۔ کہ وہ شیعہ ہیں۔ “ میری سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ کیا جواب دوں۔

”مگر امی شیعہ تو آپ بھی ہیں، میں بھی ہوں۔ “

”ہاں نہیں مگر وہ صرف مردوں کو مار رہے ہیں۔ “ میں نے پھر جواب میں کہا تھا۔

”تو امی۔ تو امی ابو سے کہیں کہ عورت بن جائیں۔ “

نہ میں جواب دے سکی نہ کچھ کہہ سکی۔ اسے گلے سے لگایا اور چاہنے کے باوجو اپنے آنسوؤں کو نہیں روک سکی۔

کاش یہ سب کچھ اتنا ہی آسان ہوتا۔ لوگ اپنی مرضی سے مسلمان ہوتے، پارسی ہوتے، ہندو ہوتے، عیسائی ہوتے، سنی ہوتے، شیعہ ہوتے، بوہری ہوتے، آغا خانی ہوتے، مرد ہوتے، عورت ہوتے جیسا چاہتے ویسے ہوتے، جو سمجھتے وہی کرتے اور نجانے کیا کیا ہوتے۔

یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں تھا۔

میں مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئی تو میرا نام روحی رکھا گیا، شاید کسی ہندو گھرانے میں پیدا ہوتی تو روپا کہلاتی۔ میرے ابو امی سنی تھے تو میں بھی سنی ہوگئی۔ اگر کسی حیدر حسین زیدی کے گھر پیدا ہوتی تو شیعہ ہوتی۔ میرے جسم کے جینیاتی خلیوں میں ایکس ایکس کروموسوم تھے تو لڑکی ہوگئی اگر ایکس وائی کروموسوم ہوتے تو لڑکا ہوتی۔ میرے اختیار میں کیا تھا۔ میری مرضی سے کیا ہونا تھا۔ پھر انسانوں کی مرضی سے ہوتا بھی کیا ہے؟

زمین سمندر، ہوا، چاند، سورج، ستارے سب اپنی مرضی سے اپنا کام کررہے ہیں، کائنات میں ہماری تو کوئی بھی مرضی نہیں ہے۔ شاید کسی کی بھی مرضی نہیں ہے اور شاید جس کی مرضی ہے اس کے پاس اتنی فرصت کہاں کہ کسی چیونٹی کے مسلنے پر، کسی ڈنٹھل کے ٹوٹنے پر، کسی دریا کے سوکھنے پر، کسی مچھلی کے بن پانی تڑپنے پر، کسی جنگل میں کسی بے کس معصوم آزاد جانور پہ کسی طاقتور مضبوط درندے کے جھپٹنے پر، کسی سمندر کے تھپیڑے سے کسی جہاز کے ڈوبنے پر، کسی کے آگ میں جھلسنے پر، کسی اصغر حسین زیدی کے سر پر پڑنے والی گولیوں پر اور جو کچھ اس بچی اور بیوی پر گزرتی ہے اس پہ کوئی توجہ کرسکے۔

قدرت کے اصول تو اٹل ہیں اور قدرت کا قانون گونگا ہے، بہرہ ہے اور شاید اندھا بھی۔ نجانے میں کیا کیا سوچنے لگ گئی تھی۔

لیکن میں نے اصغر سے شادی اپنی مرضی سے کی اور اصغر نے بھی مجھ سے شادی اپنی مرضی سے کی تھی۔ ہم دونوں نے اپنے اپنے خاندان کی مرضی کے خلاف اپنے مذہبی اعتقادات کے برعکس پورے سماج سے ٹکر لے کر صرف اس لیے شادی کی کہ ہمیں ایک دوسرے سے محبت تھی۔ ہم ایک دوسرے کو چاہتے تھے، زندگی ایک دوسرے کے ساتھ گزارنا چاہتے تھے۔ ہم دونوں اپنے خاندان بھائی، بہن، ماں، باپ، کسی کو بھی کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتے تھے مگر ساتھ ہی ساتھ ہماری اپنی بھی خوشیاں تھیں، اپنے بھی خواب تھے اور ایک دوسرے سے شدید محبت جو ہم دونوں نے ٹوٹ کر کی تھی۔

ایک حادثہ یا اتفاق ہی تھا جب میری اصغر سے ملاقات ہوئی۔ اتوار کے دن شکاگو کے ڈیون روڈ پر جہاں ہندوستانی، پاکستانی، چینی، کورین، ایتھوپین ہر طرح کے لوگوں کی دکانیں ہیں۔ تازہ جلیبی، سموسے، پائے، نہاری، سبزی کی تھالی ہر طرح کا کھانا مل جاتا ہے وہاں میں اپنی خالہ اور کزن کوکھانا کھلانے لائی تھی۔ شکاگو کے ایک ہسپتال میں اپنی ٹریننگ مکمل کرکے کینسر کے ماہر کے طور پر کام کررہی تھی۔ میری خالہ شکاگو برسوں پہلے آئی تھیں۔ دس بارہ سال پہلے میرے خالو یکایک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے تھے۔ خالہ جان اس وقت کونسل کی ایک لائبریری میں لائبریرین تھیں۔ شکاگو میں ہی آباد اورہنسی خوشی رہ رہیں تھیں۔ میری کزن بھی ایک بینک میں کام کررہی تھیں۔

کراچی سے آنے کے بعد ٹریننگ کے دوران تو فرصت ہی نہیں ملی کہ کسی کے پاس آ جا سکوں کیونکہ کام اس قدر ہوتا تھا، صرف فون پر ہی بات کرنے کی فرصت ملتی تھی۔ پورے تین سال میں، میں ایک ہی دفعہ پاکستان گئی اور دو دفعہ ہی میرے ابو امی میرے پاس شکاگو آئے۔ جب وہ لوگ یہاں آتے تھے تو خالہ سے میری ملاقات ہوتی تھی۔ پھر دو سال فیلو شپ کے دوران بھی خالہ سے کم ہی ملاقات ہوئی۔ مگر اب اٹینڈنگ بننے کے بعد اتنی فرصت ہوئی تھی کہ میں نہ صرف خالہ سے مل لیتی بلکہ دور دراز شہروں میں بھی دوستوں رشتہ داروں سے ملاقات ہوجاتی تھی۔

نیویارک، الاباما، مسی سی پی اور ڈیٹراؤئٹ میں دوستوں اور رشتہ داروں کے پاس اکثر آنا جانا ہوتا۔ اس ہفتے میں خالہ جان کے پاس رہی اور اتوار کو ہم نے ڈیون روڈ پر پاکستان ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کا پروگرام بنایا تھا۔ شکاگو کے ڈیون روڈ کو پاکستانی دیوان روڈ کہہ کر بلاتے ہیں۔ اب تو اس روڈ کو اور علاقے کو بھی دیسی لوگوں نے بانٹ لیا ہے۔ ایک طرف جناح روڈ ہوگیا تو دوسری جانب شیخ مجیب روڈ اورایک طرف کا علاقہ گاندھی مرگ کہلانے لگا تھا۔ اس علاقے کو تقسیم کرنے کے بعد پاکستانی، بنگلہ دیشی اور ہندوستانی لوگ ہنسی خوشی بغیر ایک دوسرے سے لڑے ہوئے امن و امان کے ساتھ رہ رہے تھے۔

اس دن وہاں کافی رش تھا۔ میں نے خالہ اورکزن کو ریسٹورنٹ پر اتار کر تھوڑا سا دور ایک پارک کے ساتھ گاڑی کھڑی کی اورپیدل ریسورنٹ آگئی۔ ڈٹ کر دوپہر کا کھانا کھا کر جب ہم لوگ واپس اپنی گاڑی پر پہنچے تو گاڑی کے دوسری طرف کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا۔ کسی نے یہ کارروائی کرکے گاڑی میں سے کیسٹ پلیئر اور ڈگی میں سے میرا چھوٹا بیگ غائب کردیا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ شکاگو میں چوری چکاری کافی عام ہے مگر میرے ساتھ یہ پہلا واقعہ ہوا تھا۔ ہم سب گھبرا سے گئے اور کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کیا جائے۔

ابھی میں سوچ ہی رہی تھی کہ برابر میں کھڑی ہوئی گاڑی کو کھولتے ہوئے ایک شخص نے ہماری گھبرائی شکل دیکھ کر اردو میں ہی پوچھا کہ خیریت تو ہے نا۔ اس کے سوال میں بلا کی خودساختگی تھی اور ایسا لگا کہ جیسے وہ مدد بھی کرنا چاہ رہا ہے۔

”خیریت ہی تو نہیں ہے۔ “ میں نے جواب دیا۔ ”کوئی گاڑی کے شیشے توڑ کر چیزیں نکال لے گیا ہے۔ “ میں نے گھبرائی ہوئی کپکپاتی آواز میں کہا تھا۔

یہ میری اور اصغر کی پہلی ملاقات تھی۔ اصغر کے ہی مشورے پر میں نے پولیس کو فون کیا۔ پولیس آئی، ضابطے کی کارروائیاں ہوئی تھیں۔ اس کے بعد ہم لوگ وہاں سے چلے آئے۔ دو گھنٹے کے بعد پولیس والوں نے میرا بیگ میرے ضروری کاغذوں اور ڈائری کے ساتھ مجھے پہنچا دیا۔ چوری کرنے والوں کو اس کی ضرورت نہیں تھی جو بھی قیمتی چیزیں موجود تھیں انہیں نکالنے کے بعد ان لوگوں نے بیگ تھوڑے فاصلے پر پھینک دیا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •