ہر دس روز بعد یوم سیاہ منانے والی قوم!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

” اقوام عالم ہر گزرتے دن کے ساتھ زندگی کے روشن دنوں کی طرف بڑھ رہی ہیں لیکن ہم پاکستانی وہ واحد قوم ہے جن کی تاریخ میں ہر سال ایک نہ ایک“ یوم سیاہ ”کا اضافہ ضرور ہوتا ہے۔ ایک زمانے میں ہم سولہ دسمبر 1971 اور 5 جولائی 1977 جیسے ایام یوم سیاہ کے طور پر مناتے تھے لیکن نئی صدی میں قدم رکھنے کے بعد ہماری تاریخ میں تاریک ایام میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔

پہلے سولہ دسمبر کو ہم اس بنگال کی جدائی کے ماتم میں بطور یوم سیاہ مناتے تھے جسے ہم نے انیس سو اکہتر میں کھو دیا تھا، لیکن پچھلے تین چار سالوں سے ہم ایک اور سولہ دسمبر بھی منا رہے ہیں۔ یہ سولہ دسمبر ہم پشاور کے آرمی پبلک اسکول APS کے ان شہید پھولوں کی یاد میں مناتے ہیں جسے دشمنوں نے توڑنے کے بعد اپنے پاوں تلے روند بھی ڈالا تھا۔ گویا سولہ دسمبر کے اکلوتے دن کو ہم بیک وقت دو یوم سیاہ مناتے ہیں جو اس بات کی بین دلیل ہے کہ ہم نے پہلے سولہ دسمبر سے سبق نہیں سیکھا یوں یہ دن APS سانحے کی شکل میں ایک مرتبہ پھر لوٹ آیا۔

اپریل کے مہینے میں بھی ہمارے پاس ہر سال ایک تاریک دن آتا ہے البتہ یہ الگ بات ہے کہ اس دن کو کچھ لوگ یومِ سیاہ کے طور پر منانے میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ چار اپریل 1979 کو ایک فوجی آمر نے طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قوم سے ذوالفقار علی بھٹو کی شکل میں ایک ایسا مرد آہن چھینا تھا جس نے ملک کو ایک متفقہ آئین کے ساتھ ساتھ ایٹمی ہتھیار سے بھی نوازا تھا۔

اکتوبر کے مہینے کو لے لیں۔ سن 1999 کو اس مہینے کی بارہ تاریخ کو جنرل پرویز مشرف نام کے ایک اور فوجی جرنیل نے پہلی مرتبہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرکے ایک منتخب حکومت کا دھڑن تختہ بنا کر دم لیاتھا۔

مئی کا مہینہ سیاہ دنوں کے حوالے سے ہم بدنصیبوں کی تاریخ میں بڑا بھاری مہینہ ثابت ہوا ہے۔ اس مہینے کے پہلے عشرے میں بھی اور دوسرے میں بھی ہم ہر سال ایک دن یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔ آج سے آٹھ برس پہلے دو مئی کو ہمارے ہاں ایبٹ آباد میں مکار دشمن نے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک فوجی آپریشن کیا تھا۔

ایبٹ آباد میں ہونے والے اس آپریشن کو یادگار بنانے کے لئے دشمن نے اس کا باقاعدہ طور اس کا نام ”جیرونیمو“ رکھ دیاتھا۔ یاد رہے کہ اس آپریشن کے اوپر ہمارے وزیراعظم صاحب نے چند دن پہلے واشنگٹن میں دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران امریکہ کے اوپر احسان بھی جتلایا تھا اور شکوہ بھی کیا تھا۔ مثال کے طور پر ہمارے وزیراعظم صاحب نے شکوہ کیا کہ ”پاکستان کو بتائے بغیر امریکہ کا ایبٹ آباد میں آپریشن کرنا میری زندگی کا توہین آمیزلمحہ تھا جبکہ احسان جتلاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارے خفیہ ادارے آئی ایس آئی ہی نے ابتداء میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا ٹیلی فونک لنک امریکہ کو فراہم کیا تھا“۔

ایبٹ آباد آپریشن پر مگرمچھ کے آنسو بہانے کے دس دن بعد ہم بارہ مئی کو ایک اور یوم سیاہ مناتے ہیں، کیونکہ اس دن کو بارہ برس پہلے اسی پرویز مشرف نامی آمر نے شہرِ قائد میں دوسری مرتبہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے درجنوں لوگوں کی زندگی کے چراغ گل کردیئے تھے۔

اگر بخل سے کام نہ لیا جائے تو اگلے سال مئی کے مہینے کا آخری عشرے میں بھی ایک یوم سیاہ بنتا ہے۔

کیونکہ شمالی وزیرستان میں خڑ کمر کا واقعہ رواں سال مئی کی چھبیس تاریخ کو پیش آیا جس میں عسکری طاقت کے ظہور کے نتیجے میں چودہ بیگناہ قبائلی جان سے گئے تھے۔

اگست کے مہینے پر نظر دوڑائی جائے تو یہ مہینہ بھی ہماری تاریخ میں بڑا بھاری ثابت ہوا ہے۔

تین سال قبل اس مہینے کی آٹھ تاریخ کو نہایت چالاک دشمن نے بڑی بیدردی سے ہمارے وکلاء کی پوری کھیپ کو پل بھر میں موت کی وادی میں دھکیل دیا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ پچھلے تین سال سے ہم اس سانحے کے اوپر ماتم کر رہے ہیں لیکن اس کی شفاف تحقیقات ہنوز نہیں ہوئیں ہیں۔

ویسے تو اگست کا مہینہ صرف آٹھ اگست کے دل خراش سانحے کی وجہ سے بھی ایک بھاری دن ہے لیکن ہم ماضی میں جانے سے یہ مہینہ مزید بھاری بن جاتاہے۔

غالباً مملکت خداداد کو معرض وجود میں آئے مشکل سے ایک سال گزرا تھا کہ 12 اگست کو چارسدہ میں بابڑہ کے مقام پر ایک خون آشام واقعہ رونما ہوا۔ دوسرے لفظوں میں اس دن کو بھی ہماری سیکورٹی اہلکاروں نے طاقت کا مظاہرہ کیا تھا جس کے نتیجے میں باچا خان کی خدائی خدمت گار تحریک کے بے شمار کارکنوں سمیت چھ سو افراد شہید ہوئے تھے۔

ہم اگر غور کریں تو امسال ہماری قوم کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کے لئے جو دن نصیب ہوا ہے وہ جولائی کے آخری عشرے میں پڑتا ہے جو رواں ہفتے کو پہلی مرتبہ منایا گیا۔

ہم پہلے جولائی کے مہینے کے پہلے عشرے میں جاتے ہیں کیونکہ اس عشرے میں ہماری تاریخ کا یوم سیاہ پانچ جولائی کو پڑتا ہے۔ یہ پانچ جولائی اور سال 1977 تھا کہ جنرل محمد ضیاء الحق نے پہلی مرتبہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئین کو معطل کرکے ملک میں مارشل لاء نافذ کیا تھا۔ تاہم پچھلے سال بعض کرم فرماووں نے اس قوم کے لئے ایک اور یوم سیاہ کا اہتمام کیا جو کہ پچیس جولائی کا دن ہے۔ یہ نیا یوم سیاہ پچھلی جمعرات کو ملک کے طول وعرض میں پوری آب وتاب کے ساتھ منایا گیا۔

مزار قائد پر بھی اس دن کو کالے جھنڈے لہرائے گئے اور پشاور میں بھی حزب اختلاف کے جماعتوں نے اس دن کو خوب ماتم کیا۔ پنجاب کا دل لاہور بھی پچیس جولائی کو سیاہ اور ماتمی رہا اور کوئٹہ میں بھی اس دن کو ہر سو ماتم ہی ماتم کا راج نظر آیا۔ کوئٹہ میں اس دن کے ماتم کی شان کچھ اور تھی، کیونکہ یہاں پر پچیس جولائی کے اصل زخم خوردہ بھی شریک تھے جو مریم نواز شریف کی صورت میں محمود خان اچکزئی کے پہلو میں اسٹیج پر جلوہ افروز تھیں۔ ویسے تو اس دن کو ہمارے سبھی سیاستدان گھائل ہوئے تھے لیکن مریم نواز کئی حوالوں سے حقیقی ماتمی شخصیت اس لیے ہیں کیونکہ پچیس جولائی کو نہ صرف ان کے باپ اور سابق وزیراعظم کا راستہ روکا گیا تھا بلکہ اسے اپنے اہم رفقاء سمیت جیلوں میں مقید کردیا گیا ہے۔ خاکم بدہن اگر ہمارے بڑوں کی سیہ کاریاں اسی طرح جاری رہیں تو یقین جانیے کہ مستقبل میں ہم پورے کے پورے عشرے اور مہینے سیاہ ایام کے طور پر منانا لگ جائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •