25 جولائی: وہی حالات ہیں فقیروں کے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گرتے پڑتے تبدیلی سرکار کا پہلا سال تقریباً پورا ہونے کو ہے۔ باریاں لینے والی پچھلی دو حکومتوں کی خراب کارکردگی، عوامی مسائل سے پہلو تہی اور بے حسی لوگوں کی بہت بڑی تعداد کو عمران خان کے قریب لے آئی تھی۔ عمران خان کی کرشماتی شخصیت اور تبدیلی کے نعروں سے لوگوں میں اچھے دنوں کی جو امید پیدا ہوئی تھی، وہ تحریک انصاف حکومت کی ناتجربے کاری، اور نالائقی سے خاک میں مل چکی ہے۔ تبدیلی کا ہیجان انگیز نعرہ محض ایک سال میں ہی اپنی کشش کھو چکا ہے۔

ایک سال میں لوگوں کی مشکلات کیا کم ہونی تھیں، الٹا مسائل کے انبار کی وجہ سے ناک میں دم ہو چکا ہے۔ مہنگائی کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ روپیہ اپنی قدر کھو رہا ہے، اور اس کے نتیجے میں ضروریات زندگی، جن میں سے کافی کچھ باہر سے درآمد ہوتا ہے، لوگوں کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ ادویات میں سے کچھ کی قیمتوں میں دو سو فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کئی بار بڑھائی جا چکی ہیں۔ صرف گیس کی قیمتوں میں تین بار اضافہ کیا جا چکا ہے، جو کہ اب 43 فی صد تک بڑھ چکی ہیں۔

ایک سال میں ریکارڈ 16 ارب امریکی ڈالرز کے مساوی غیر ملکی قرضے لئے جا چکے ہیں۔ سٹیٹ بینک نے متعدد بار شرح سود میں اضافہ کیا ہے، جس سے سرمائے کی گردش روز بروز کم ہو رہی ہے۔ اس صورتحال میں جہاں نئے کاروبار کے لئے اتنی بلند شرح سود پر قرض حاصل کرنا دشوار ہو چکا ہے، وہی پہلے والے قرضوں کی واپسی بھی بہت مہنگا عمل بن چکا ہے۔ کوئی بھی نیا کاروبار شروع کرنا کٹھن بنا دیا گیا ہے، سرمایہ کاروں اور کاروباریوں سے مجرموں کی طرح پوچھ تاچھ کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں لوگوں نے روپیہ بینکوں میں رکھنا شروع کر دیا ہے۔

روز افزوں ٹیکسوں کی بھرمار اور بجلی، تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے جہاں نئی صنعتوں کے قیام کو ناممکن بنا دیا ہے، وہی پرانی صنعتیں بند ہو رہی ہیں، جس سے بے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کی پوری کوششوں کے باوجود برامدات میں اضافہ نہیں ہو سکا۔ سٹاک مارکیٹ میں پچھلے ایک سال کے دوران سرمایہ کاروں کے کھربوں روپے ڈوب چکے ہیں۔ پچاس لاکھ سستے گھروں کی تعمیر ابھی تک صرف کاغذوں تک محدود ہے۔

حکومت میں آنے سے پہلے پنجاب اور دوسرے صوبوں میں بھی خیبر پختونخواہ کی طرح با اختیار بلدیاتی نظام لے آنے کے وعدے کیے گئے تھے، جن کا پورا ہونا ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا۔ اس کے علاوہ پنجاب پولیس میں اصلاحات لانے اور تھانہ کلچر تبدیل کرنے کے خواب دکھائے گئے تھے، جو کہ اب تک صرف سراب ہی ثابت ہوئے ہیں۔ عملی صورتحال یہ ہے کہ پولیس کے محکمے میں سیاسی مداخلت پہلے سے بھی بڑھ چکی ہے۔ کسی بھی طور سے وزیراعلیٰ پنجاب کے لئے ناموزوں شخصیت عثمان بزدار صاحب کا سارا زور مختلف ضلعوں میں اپنی پسند کے افسران کے تقرر و تبادلوں پر صرف ہو رہا ہے۔

ایم پی اے اور ایس ایچ اوز اپنے اپنے علاقوں کے فرعون بنے ہوئے ہیں۔ سرکاری افسران و اہلکاروں نے رشوت کے ساتھ ساتھ رسک الاونس بھی لینا شروع کر دیا ہے۔ جنوبی پنجاب صوبے کا غلغلہ اب کہیں سنائی نہیں دیتا۔ صاف ظاہر ہے سیدھے سادے سرائیکی لوگوں کو الگ صوبے کا لالی پاپ دکھا کر ووٹ بٹورے جا چکے ہیں۔ لاہور کی پوری راجدھانی کو چھوڑ کر آدھی پر کون اکتفا کرنا چاہے گا۔ زراعت کا حال بہت برا ہے۔ وزیر زراعت پہلی بار منتخب ہونے والے ایک ایسے شخص کو بنایا گیا ہے، جو کابینہ کے ہر اجلاس میں ہونقوں کی طرح منہہ اٹھا کر بیٹھے ہوتے ہیں جن کو زراعت کے مسائل کا کچھ ادراک نہیں ہے۔ زرعی مداخل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہونے کے باوجود زرعی اجناس کی امدادی قیمتوں میں ایک روپے کا اضافہ نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے کسان بد دل ہو کر کھیتی چھوڑ رہے ہیں، جس کی وجہ سے جہاں ایک طرف اس سال گندم اور آٹے کا خوفناک بحران جنم لے گا، وہی دوسری طرف دیہی علاقے مزید غربت کا شکار ہوں گے۔

تحریک انصاف کی حکومت احتساب کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آئی تھی، مگر جو بھی بدعنوان عمران خان کے ہاتھ پر بیعت کرنے پہنچا، انہوں نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگا لیا۔ نتیجہ ایک سے بڑھ کر ایک بدعنوان جناب وزیراعظم کی کابینہ میں بیٹھا ہے۔ زبیدہ جلال جن پر اسکول کے بچوں کی خوراک میں خرد برد کرنے کا الزام ہے۔ فہمیدہ مرزا کہ جنہوں نے چوراسی کروڑ روپے کا قرض معاف کرا لیا، چوہدری برادران، این آئی سی ایل اسکینڈل کسے بھولا ہوگا اور اعظم سواتی کہ جنہوں نے پولیس افسران کے ناجائز طور پر تبادلے کروائے۔

یہ چند ایک مثالیں ہیں ورنہ تو بے شمار ہیں۔ وزیراعظم صاحب نے پارلیمنٹ کو عزت دینے کا وعدہ کیاتھا، لیکن پارلیمنٹ میں آنا ہی چھوڑ دیا۔ عام لوگوں کے وہی تلخی بھرے شب و روز ہیں۔ روزگار، علاج معالجہ، بچوں کی اچھے تعلیمی اداروں تک عدم رسائی اور انصاف کی فراہمی کا دور دور تک نہ ہونا، کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ ایک 25 جولائی امیدیں لے کر آئی تھی، دوسری 25 جولائی پر صرف اندھیرے ہیں، مایوسیاں ہیں اور ان پر تیرتی ڈولتی ہوئی امیدوں کی ناؤ ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •