کوڑے کرکٹ کے میڈل اور ہمارے شاپر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو خبروں نے یہ سطریں لکھنے کی تحریک دی۔ خبریں کیا، دو رویے ہیں۔ پہلی خبر جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے اور دوسری پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے، ملاحظہ کیجیئے۔

2020 کے ٹوکیو اولمپکس اور پیرالمپکس میں استعمال ہونے والے تقریبا 5 ہزار میڈلز کی تیاری کے لئے 80 ہزار ٹن موبائل فونوں اور چھوٹی الیکٹرونک ڈیوائسز سے استفادہ کیا گیا ہے۔ دو برس سے ٹوکیو 2020 کے میڈلز کی تیاری کے لیے جاری مہم میں لوگوں نے 60 لاکھ سے زائد ناقابل استعمال موبائل فون اور دیگر ڈیوائسز عطیہ کیں۔ میڈل پراجیکٹ کی ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے کہ 5 ہزار سے زائد چمکدار طلائی، نقرئی اور کانسی کے تمغوں کے لیے سو فیصد دھات انہی ناکارہ موبائل فونوں سے حاصل کی گئی ہے۔ تقریباً 16 کروڑ پاؤنڈ وزنی اس الیکٹرانک کوڑے سے 71 پاؤنڈ سونا، 7700 پاؤنڈ چاندی اور 4850 پاؤنڈ کانسی حاصل کی گئی۔

دوسری خبر پریشان کن ہے۔ واٹس ایپ پر ریسکیو کے عملے کی ایک ویڈیو ملی، دیکھی، اب ذہن سے اسے محو کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ اسلام آباد کی پوش رہائشی سوسائٹیوں میں سے ایک نیشنل پولیس فاؤنڈیشن میں جمعرات کو بارش سے پانی جمع ہو گیا۔ ایک مکان کی بیسمنٹ زیرآب آنے سے ماں بیٹا مر گئے۔ یہ سوسائٹی ان علاقوں میں سے ہے جہاں ایک کنال کے گھر تین کروڑ سے شروع ہو کر کئی کروڑ تک بکتے ہیں۔ یہاں باقاعدہ سیوریج کا نظام تعمیر کیا جاتا ہے۔

بے قاعدہ اور کچی بستیوں کی حالت زار کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ہونا چاہیے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد راولپنڈی جغرافیائی حوالے سے سطح مرتفع ہیں۔ یعنی ندی نالوں اور چھوٹے دریاؤں کی صورت میں نکاس کے قدرتی چینل موجود ہیں۔ سوچیں ان علاقوں میں دس گیارہ فٹ پانی کھڑا ہو سکتا ہے تو لاہور اور وسطی پنجاب کے میدانی علاقوں میں کیا تباہی ہوتی ہو گی جہاں قدرتی نکاسی کا نظام ہی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ پانی کھڑا کیوں ہوتا ہے؟

ویڈیو میں ریسکیو کے عملے کو بات کرتے سنا جا سکتا ہے کہ دس سے گیارہ فٹ پانی کھڑا ہے۔ بارش زیادہ ہوئی پر اتنی بھی نہیں کہ نارمل کمروں کی چھت تک پانی بھر جائے۔ پتہ نہیں انکوائری ہو گی یا نہیں۔ یہاں ان انکوائریز کے اعلان تو ہوتے ہیں جن سے ٹیلی وژن اور اخبارات کو چیختی چنگھاڑتی سرخیاں ملتی ہیں۔ عام اندازہ اور مشاہدہ یہی ہے کہ پانی سیوریج سسٹم کے بند ہونے سے چڑھا۔ سیوریج بند ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہم سب کا پسندیدہ ”شاپر“ ہے۔

پلاسٹک کا تھیلا سائنسدانوں کے بقول ہزار سال تک تلف نہیں ہوتا۔ کیا کبھی ہمیں یہ خیال آیا کہ روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں ہزاروں ٹن پلاسٹک کے تھیلے استعمال کے بعد کدھر جاتے ہیں۔ زمین کا سانس بند کرتے ہیں، برساتی پانی کے اخراج میں سد راہ بنتے ہیں یا سمندر میں جا کر آبی حیات کا ناطقہ بند کرتے ہیں؟

2018 میں محتاط اندازوں کے مطابق دنیا بھر میں 5 کھرب ٹن شاپر استعمال ہوئے۔ دل تھام کر سنیے اس مقدار کا ایک فیصد سے بھی کم ری سائیکل ہوا۔ 99 فیصد پھینک دیے گئے۔ مزید سنیں، 5 کھرب شاپروں کا مطلب ہے کہ فی سیکنڈ حضرت انسان نے ایک لاکھ 60 ہزار شاپر استعمال کیے۔ یہ جو تیس چالیس روپے کی پانی کی بوتل پی کر ہم گاڑی کی کھڑکی سے باہر اچھال دیتے ہیں، یہ تلف ہونے میں چار سے پانچ سو سال لگا دیتی ہے۔ پلاسٹک کتنا ڈھیٹ ہے اس کا اندازہ یوں لگائیں کہ اب تک دنیا میں دانتوں کے جتنے برش استعمال کے بعد پھینکے گئے ہیں وہ تلف نہیں ہوئے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ 2025 تک سمندروں میں ہر تین ٹن مچھلیوں کے مقابلے میں ایک ٹن پلاسٹک کا کوڑا بھی لہروں پر ہلکورے لے رہا ہو گا۔ اور جس رفتار سے ہم پلاسٹک استعمال کرنے کے عشق میں مبتلا ہوئے جا رہے ہیں، یہ تعداد 2050 میں ہر ایک ٹن مچھلیوں کے مقابلے میں ایک ٹن پلاسٹکی کوڑے تک پہنچ جائے گی۔ ڈسپوزیبل پلاسٹک نہیں ہم جگہ جگہ ٹائم بم پھینک رہے ہیں۔

ایسے میں یہ خبر اگر اطمینان بخش ہے کہ حکومت پلاسٹک بیگ کے استعمال پر پابندی لگا رہی ہے تو اس اطمینان پر پانی پھیرنے کو ساتھ ہی یہ سننے کو ملتا ہے کہ ایئر فورس کے سابقہ ملازم شاہد لطیف کو ایئرپورٹس پر سامان پر پلاسٹک لپیٹنے یعنی ریپنگ (wrapping) کا ٹھیکہ دے کر ہر قسم کے سامان پر پلاسٹک چڑھوائی لازم کر دی گئی۔ صد شکر کہ سوشل میڈیا میں اس پر شدید ردعمل سامنے آیا تو ایوی ایشن حکام نے لازماً پلاسٹک چڑھوانے کی شرط ختم کرنے کا نوٹیفیکیش جاری کیا۔

خبر بہت پھیلی تو ایک وزیر اور ایک مرکزی رہنما کو بھی ٹویٹ کا خیال آ گیا۔ سوشل میڈیا پر ہی کسی ستم ظریف نے تبصرہ کیا کہ مذکورہ ٹھیکیدار نے ماضی قریب میں تجزیہ کاری کے دوران کیونکہ لمبی لمبی چھوڑی تھیں اس لئے سوچا گیا کہ لپیٹنے میں بھی ماہر ہوں گے تو ٹھیکہ انہیں دے دیا گیا۔ مزاح سے قطع نظر لازمی ریپنگ کی شرط نہ صرف نامصفانہ، ناگوار اور ناموزوں تھی بلکہ ماحولیاتی حوالے سے بھی پلاسٹک کے تباہ کن اثرات میں خاطرخواہ حصہ ڈالنے کی وجہ بننے کی اہل تھی۔

ٹھیکے میں قابل ذکر آمدن کا امکان تھا، بی بی سی کے اندازے کے مطابق پانچ لاکھ روپے کی روزانہ آمدن متوقع تھی۔ فرض کریں ٹھیکہ میرٹ پر دیا گیا ہو اور نوازشات وغیرہ کا پہلو نہ بھی ہو تب بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ ماحولیاتی حوالے سے نامطلوب اور خطرناک اثرات کا حامل ٹھیکہ نوازنے والی حکومت کے ماحولیاتی تحفظ کے دعووں میں کتنی صداقت اور سنجیدگی پائی جاتی ہے۔

شکر ہے شور ہوا، اعتراض اٹھا۔ لازمی والی شرط ختم ہوئی۔ ماحول سب کا ہے، ان کا بھی جو ابھی پیدا نہیں ہوئے۔ دھرتی، مستقبل، آئندہ نسلیں سب کو بچانا ہے تو ماحول بچانا ہو گا۔ 2020 کے اولمپک کے میڈل موبائیلز کے کوڑے کرکٹ سے بنتے ہیں تو اس سے اگلے پیسہ نہیں بچاتے، شعور بیدار کرتے ہیں۔ ہمیں بھی سوچنے کی ضرورت ہے۔ سنجیدگی کی ضرورت ہے۔ ماحول کا تحفظ محض سیاسی نعرہ نہیں، حکومت کا مقصد ہونا چاہیے۔ نیت پر شک نہ کیا جائے اور پٹواری کا لیبل نہ لگایا جائے تو عرض کروں کہ جتنا شور اہل حکومت احتساب پر مچا رہے ہیں، اس سے زیادہ کا مستحق یہ موضوع ہے۔ ہاں البتہ اس سے آج وہ سیاسی فوائد حاصل نہیں ہوں گے جن کے پیچھے وزیر اعظم سے وزیر اطلاعات اور وزیر اطلاعات سے وزیر ماحولیات تک ہر کوئی بھاگ رہا ہے۔ ایسے کسی اقدام کا کریڈٹ آپ کو تاریخ دے گی۔

لیکن کیا یہ حکومت نے ہی کرنا ہے؟ میں اور آپ اپنی اپنی جگہ پر اس ضروری کام میں کچھ حصہ نہیں ڈال سکتے؟ کچھ ایسی مشکل بھی نہیں جس کو انگریزی محاورے میں ہرکولیس کا کام کہتے ہیں۔ بس شاپر چھوڑیں، کپڑے کا تھیلا پکڑیں۔ آخر شاپر آنے سے پہلے ہم سب کے پاس تھیلا ہی تو ہوتا تھا۔ یہ سوچ لیں شاید میرے پھینکے شاپر سے ہی وہ نالا چوک ہوا جس کی طغیانی میں دو ماں بیٹا نیند میں ہی ابدی نیند سو گئے تو شاید شاپر لیتے اور پھینکتے جھرجھری سی محسوس ہو۔ آزادی اور عید کا مہینہ آ رہا ہے۔ آزادی اور خوشی میں تھوڑا ذمہ داری کا رنگ ملاتے ہیں تاکہ سب مل کر جشن منا سکیں۔ ہم ذمہ دار نہ ہوئے تو نشیبی اور میدانی ہی نہیں، کچھ پوش علاقوں میں بھی کچھ بے گناہ شاپر استعمال کرنے کی ہماری بے لگام آزادی کی قیمت اپنی جانوں سے ادا نہ کرتے پھریں۔

ایسا بھی نہیں کہ ساری اچھی خبریں دساور سے ہی آتی ہیں اس لیے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ اپنے ہاں بھی بہت کچھ حوصلہ افزا ہے۔ بس ماحول کو بچانے کے لیے ماحول سے جڑنا لازم، پیار ضروری ہوتا ہے۔ اس کا مظاہرہ دیکھنا ہو تو ہنزہ جائیں، ہر ایک کو خوش آمدید کہنے والے مہربان اور میزبان ہنزئی شاپر کو خوش آمدید نہیں کہتے۔ کریم آباد میں شاپر کے استعمال پر پابندی ہے۔ کریم آباد کا یہ کریمانہ رویہ اور عمل باعث تقلید ہے۔ شمال میں اور بھی بہت کچھ دلفریب اور لائق تقلید ہے جس کی تفصیل اعزازی ہنزئی وقار ملک سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •