کشمیر پر ثالثی؟ شملہ اور لاہور ایگریمنٹ کے بعد کیسے ممکن ہے؟
پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعے کی بڑی پرانی وجہ کشمیر۔ اس کا جب جب ذکر آتا ہے تو کئی خیالات جنم لیتے ہیں۔ کچھ لوگ اس مسلے کو نا قابل حل قرار دے کر اس پر بحث مباحثہ سے گریزاں رہتے ہیں۔ کچھ کے خیال میں یہ مسئلہ کبھی تھا ہی نہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق اس مسئلہ کا بہترین حل موجود ہے۔ لیکن کیا کہیں صاحب اقوام متحدہ کی مسئلہ کشمیر پر موجود پہلی قرارداد کی ذیلی شق اس قدر کڑوی ہے کہ اسے یہاں کم از کم پاکستان میں تو پیا نہیں جا سکتا۔
اس سب کے بعد سوچنے دیکھنے والوں کے پاس مسئلہ کشمیر کا ایک اور نا قابل قبول حل سامنے آتا ہے۔ جسے سابق صدر جنرل مشرف کا تقسیم کشمیر کا فارمولا کہا جاتا ہے۔ یعینی کشمیر کا ایک ایسا حل جس میں کشمیر کا کچھ حصہ بھارت کو کچھ پاکستان کو سونپ دیا جائے۔ اور وادی کشمیر کا درمیانہ حصہ ایک بفر زون ایک خود مختار ریاست کے طور قبول کیا جائے۔ کشمیریوں کی اکثریت سابق صدر جنرل مشرف کے تقسیم کشمیر فارمولے سے نالاں رہی ہے۔
اور رو دھو کر بات اقوام متحدہ کی جانب ہی بڑھتی ہے کہ لو جی رائے شماری کا وعدہ پورا کیا جائے۔ اب اقوام متحدہ نے بھی کسی چارہ جوئی کے بعد کشمیر کے مسئلے پر ایک قرارداد منظور کی تھی۔ جس پر عمل نہیں ہو سکا اس قرارداد میں کشمیر سے دونوں ممالک کے فوجی انحلا کے بعد رائے شماری کے ذریعے کشمیریوں کے مستقبل کے تعین کا وعدہ اقوام عالم نے کر رکھا ہے۔ اب اقوام عالم بھی کیا کریں دونوں ممالک ہیں کہ کرتے اپنی ہی ہیں۔ اور یوں اقوام متحدہ کی کشمیر پر قرارداریں پس پشت ڈال کر مسئلہ کشمیر پر کشمیر دشمن خون اور بارود کا کاروبار جاری ہے۔
وزیر اعظم جناب عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ نے جہاں مملکت خداداد کے باسیوں کو کھلکھلا دیا کہ سفارتی محاظ پر اب کی بار پاکستان کا بھلا چہرہ پیش کیا گیا ہے۔ وہیں اس دورے کے دوران امریکہ پاکستان کے باہمی معلاملات زیر غور آئے ہیں وہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش بھی سامنے آئی۔ جس کے بعد کشمیری بھی نہال ہیں کہ اب شاید کچھ اچھا ہو دنیا کا طاقتور ترین صدر اب کہ ہماری حمایت میں بول پڑا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے بھی انہیں ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔ تاہم اس بیان پر بھارت میں ایک نیا کہرام بپا ہوا۔ بھارتی حکومت کے وزراء اور چند صحافی میدان میں آئے اور ٹرمپ کے اس بیان سے لاتعلقی ظاہر کی وہیں۔ بھارتی اسمبلی میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین نریندر مودی کی جانب سے کسی تردیدی بیان کے منتظر رہے۔ لیکن نریندر مودی کی جانب سے کوئی باضابطہ تردیدی بیان نہیں آیا۔
البتہ ان کے اک آدھ وزراء کی جانب سے ضرور اس بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا گیا۔ بہر طور کشمیر جو کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان دکھتی رگ ہے۔ بس اس کو ہاتھ لگانے کی دیر ہوتی ہے اور کہرام برپا ہو جاتا ہے۔ بھارتی میڈیا میں بھی کافی تبصرے ہوئے اور سیاسی اور سماجی حلقوں میں بھی اس بحث کا اک بار پھر آغاز ہوا۔ سوال یہی پیدا ہونے لگا کہ آخر کشمیر کے مسلے پر ثالثی کیا اور کیسے ہو سکتی ہے؟ یہ بات تو دنیا جانتی ہے کہ امریکہ کے باہمی مفادات براہ راست پاکستان سے اس لیے جڑے ہیں کہ اسے افغانستان سے نکلنے کے لیے ایک محفوظ راستہ درکار ہے۔ ٹرمپ کی ممکنہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش پاکستان کو امریکہ کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے اک سبز بتی ہو بھی سکتی ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر جب بھی سفارتی سطح پر اجاگر ہونے کی بات سامنے آتی ہے۔ تو شملہ معاہدہ اور لاہور ایگریمنٹ کے تاریخی صفحے دونوں ممالک میں اک بار پھر پلٹے جاتے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے شاید ایسا کم ہوتا ہے لیکن بھارت میں تو یہ تاریخی صفحے ہمیشہ میز پر ہی پڑے ہوتے ہیں۔ ادھر پاکستان نے کسی سفارتی عالمی محاظ پر کشمیر کا ذکر چھیڑا دھر بھارت شملہ معاہدہ اور لاہور ایگریمنٹ دنیا کو دکھانا شروع ہو جاتا ہے۔
اب یہ بھی اک تاریخ ہے اس سے دونوں ممالک ابھی تک جان نہیں چھڑا سکے ہیں۔ شملہ معایدے میں جناب ذوالفقار علی بھٹو اور اندار گاندھی یہ طے کر چکے ہیں کہ مسئلہ کشمیر دو طرفہ مذاکرات کے ذریعہ حل کیا جائے گا اور اس میں کسی بھی ثالث تھرڈ پارٹی بالخصوص اقوام متحدہ کو فریق نہیں بنایا جائے گا۔ اس کے بعد فروری 1999 کا لاہور ایگریمینٹ ہے جس میں اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واچبائی نے شملہ معاہدے کی روح سے دونوں مملک کے درمیان مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا عہد کر رکھا ہے۔
اب کی بار بھی جب وزیر اعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات میں مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی بات آئی تو بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے اس کی تردید کرتے ہوئے شملہ معایدے اور لاہور ایگریمنٹ کا ذکر چھیڑا۔ پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر اس مسئلہ کی تاریخی نوعیت اور اس کے تناظر میں ہونے والے معائدات کو ہمیشہ ہی پس پشت رکھا گیا۔ وقتا فوقتا ملکی قومی مفاد کو دیکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی پالیسی میں بدلاؤ بھی آتا رہا۔ اس سب سے یہی معلوم پڑتا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر شملہ معاہدہ اور لاہور ایگریمنٹ جیسے معاہدے پاکستان کو مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اجاگر کرنے سے نہیں روک سکتے۔
مسلہ کشمیر میں ثالثی یا تیسرے فریق کی گنجائش شملہ معاہدے میں ختم کی جا چکی ہے۔ جسے اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ مل کر مشترکہ طور پر انجام دیا۔ لیکن اس مسئلہ کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے اگر اس مسئلہ کا اگر کوئی تیسرا فریق بن سکتا ہے۔ تو وہ مظلوم کشمیری عوام ہیں جو براہ راست اس مسئلہ سے جڑے ہیں۔ لیکن ماضی میں ہونے والے پاک بھارت دو طرفہ مذاکرات میں ابھی تک کشمیریوں کو خاطر میں ہی نہیں لایا گیا۔
وزیر اعظم عمران خان کے موجودہ دورہ امریکہ میں مسئلہ کشمیر کے ذکر پر کشمیری نہال تو ہیں۔ لیکن پاکستان اور بھارت میں بسنے والے عوام اس مسئلے پر بھارتی رویہ سے بھی خوب واقف ہیں اور پاکستان کی پالیسی سے بھی۔ اب کی بار امریکی صدر کی مسئلہ کشمیر پر پیش کش میں اس کے اپنے مفادات تو ترجیحی بنیادوں پر نظر آ رہے ہیں۔ یعنی اس بار بھی افغانستان کے مسئلہ پر پاکستان سے کرادار ادا کرنے کی درخواست کی گئی۔ اس بار ڈو مور ویسے نہیں کہا گیا جیسے ماضی میں ہوتا رہا۔
بلکہ اس بار پاکستان کے دیرینہ مسئلہ یعنی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیش کش سامنے رکھی گئی۔ سوال یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان اس مسلے پر تاریخی خلیج کم کر سکیں گے۔ کیا ایسا بھی ممکن ہے کہ لاہور ایگریمنٹ کے بعد اک بار پھر پاکستان کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کوئی اور ایگریمنٹ کر سکیں جس سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی راہ ہموار ہو سکے۔ وگرنہ دوسری صورت واضح ہے کہ بھارت کا رویہ اک بار پھر شملہ معاہدہ اور لاہور ایگریمنٹ کو لے کر واضح ہے۔
اور پاکستان کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر روایتی پالیسی میں ہمیشہ کی طرح رد و بدل محسوس کیا جا رہا ہے۔ یعنی پاکستان کی جانب سے اس مسئلہ پر دو طرفہ بات کی خواہش صاف ظاہر ہے۔ اور پاکستان اس مسئلہ میں کسی ثالث کو بھی قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ لیکن اب کی بار ثالثی کی پیش کش بھی دنیا کا مضبوط ترین ملک کے سربراہ کی جانب سے سامنے آئی ہے۔ اب سوال یہی ہے کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کے ساتھ کیے گئے تاریخی شملہ معاہدے اور لاہور ایگریمنٹ کو کس طرح سلجھایا جاتا ہے۔ اور اس پر بھارتی اعتراضات کو دور کرتے ہوئے بھارت کو ایک ثالث کے ہوتے ہوئے مذاکرات کی میز پر کیسے لایا جائے گا؟ کیا شملہ معاہدہ اور لاہور ایگریمنٹ کو منسوخ کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر ثالثی ہو پائے گی؟


