اختلاف رائے کے آداب
ہمارے معاشرے میں انتہا پسندی اور عدم برداشت کا رویہ ناقابل یقین حد تک بڑھ چکا ہے۔ آپس میں رائے کا اختلاف مخالفت کا روپ دھارچکا ہے۔ نفرت کا جذبہ اتنا عام ہوچکاہے کہ اپنے مدِمقابل کی دلیل سنے بغیر ہم اس کے غلط ہونے کا فیصلہ سنادیتے ہیں۔ تحمل، برداشت اوررواداری اب جنس ناپید ہوچکی ہیں۔
”صحیح معنوں میں برداشت دوسروں کو سمجھنے سے شروع ہوتی ہے۔ دوسروں کا موقف سمجھنے کا یہ مطلب ہے کہ آ پ کو یہ احساس ہے کہ دوسرے کیسے آپ سے مختلف سوچتے ہیں۔ احترام پر مبنی بحث مباحثہ جس میں تنقید بھی شامل ہو، بہترین طریقہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنے نظریاتی اختلاف کو حل کرسکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ مثبت تنقید اختلاف کو ختم کرے اور نتیجہ باہمی رضامندی ہو تاہم یہ دونوں جانب مسئلہ کو سمجھنے میں مفید ثابت ہوتاہے۔ “ (ایک انگریزی مقالے سے ماخوذ جس کا نام اب ذہن میں نہیں رہا)
مکالمہ اور بحث زندہ معاشرے کی پہچان ہے اختلاف یا اتفاق اس کا لازمی نتیجہ ہوتاہے۔ مثبت تنقیداصلاح کا ذریعہ اورنئی تحقیق کی بنیاد ہوتی ہے۔ اختلاف اور مخالفت دونوں مختلف مفہوم رکھتے ہیں اگرچہ لغت میں یہ گنجائش ہے کہ بعض صورتوں میں دونوں کوایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاسکے اور ہمارے ہاں بات چیت میں ایسا اکثر ہوتا بھی ہے۔ مگرعام طور پر اختلاف وہاں کیا جاتاہے جہاں دو مختلف آراء کی گنجائش ہوجبکہ مخالفت عموما تعصب اور عناد کی وجہ سے کی جاتی ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد خداوندی ہے۔ ”اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو“۔ واضح رہے کہ یہاں کہا گیا ”ولاتفرقوا“ یعنی آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، یہ نہیں کہا گیا کہ ”ولا تختلفوا“ یعنی آپس میں اختلاف نہ کرو۔
انسانوں کے مختلف ہونے اور مختلف سوچنے میں بھی اللہ تعالیٰ کی ایک حکمت ہے۔ اس کو کبھی بھی ختم نہیں کیاجاسکتا ہے اس لئے ہمیں چاہیے کہ آپس کے اختلاف اور عدم اتفاق کوباہمی مفاد اور بہتری کا ذریعہ بنائیں۔ چونکہ اختلاف اور عدم اتفاق ایک فطری عمل ہے، لہٰذاتمام انسان ہر معاملے میں ایک جیسا نہیں سوچ سکتے۔ بجا طور پر یہ کہا گیا ہے کہ
”اگر ہر کوئی ایک جیسی سوچ کا حامل ہے تو ضرور کوئی نہ کوئی سوچ ہی نہیں رہا“۔
دنیا کا ہرانسان ایک ہی طرح کے افکار ونظریات کا حامل نہیں ہوسکتا۔ یہاں مختلف افکار، نظریات اور تخیلات رکھنے والے انسان بستے ہیں، لہٰذا یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ہرانسان دوسرے انسان کی ہربات اور ہر خیال سے متفق ہو۔ دوسروں کی ہر بات کو من و عن تسلیم کرلینا اور اس پر اپنی کوئی رائے نہ دیناجمود کی علامت ہے۔ جہاں بھی کوئی بات حتمی نہیں ہوگی تونظریات و افکار میں اختلاف کی گنجائش بھی موجود ہوگی۔ مختلف افراد ان افکارونظریات کومختلف نقظہ ہائے نظر سے دیکھیں گے تو وہاں اختلاف رائے کا ہونا ایک ضروری امرہوتاہے۔ پس اختلاف اگراخلاص اور اخلاق کے دائرے کے اندر رہ کر کیاجائے، تو مستحن ہے اور جب اختلاف کا مقصد صرف دوسروں کی تذلیل اور اپنی برتری ثابت کرناہوتو یہ ایک قابل مذمت اور برا فعل بن جاتاہے۔
اختلاف محض دینی یاسیاسی امورتک محدود نہیں ہوتا بلکہ زندگی کے ہرشعبے پایاجاتاہے۔ ڈاکٹروں میں اختلاف ہوتاہے، مفکروں میں اختلاف ہوتاہے، بلکہ استاد اور شاگرد کے درمیان بھی کسی علمی مسئلے کی تعبیروتشریح میں اختلاف ہوسکتاہے۔ وکلاء ایک ہی آئین کی دفعات کی مختلف تشریح کرتے ہیں۔ قانون کی تشریح میں اعلیٰ عدالتوں کا اختلاف ہوتاہے۔ ایک ہی گھر کے مختلف افراد میں اختلاف ہوتاہے، میاں بیوی کا موقف ایک دوسرے سے مختلف ہوسکتاہے، بہن بھائیوں کی رائے میں اختلاف ہوسکتاہے، والدین اور اولادمیں بعض اوقات کسی مسئلہ پر اتفاق نہیں ہوتا۔
اس طرح کے اختلاف رائے کو برا نہیں سمجھاجاتا۔ قرآن وحدیث کی تشریح میں صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم ) کے درمیان اختلاف ہوا۔ یہ کوئی ناپسندیدہ بات نہیں لیکن اختلاف رائے کے ذریعے پھوٹ ڈالنا، دوسروں کی تذلیل کرنا، کسی کا مذاق اڑانا، کینہ، حسد اور رقابت کے جذبات کو معمولی باتوں پر پروان چڑھانا ایک مذموم عمل ہے۔


