گمشدہ سائیکل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقت ٹھہرتا نہیں مگر لفظ وقت اور زمانوں سے ماورا ہوتے ہیں، دودھیا یادوں میں آزادی سے گھومتے پھرتے ہیں اور جب دل چاہے سر نکال کر سامنے آ جاتے ہیں۔ لفظ سادہ ہو سکتے ہیں مگر یادیں کبھی سادہ نہیں ہوتیں، ان کے اپنے رنگ اپنی خوشبو، بناؤ سنگار اور اک انوکھی سی چاشنی اور گہری اثر انگیزی ہوتی ہے۔ بھلے وقت کو پر لگ جائیں یادیں اپنی گہرائی کے حصار میں رہتی ہیں،

یادیں اچھی ہوں یا تکلیف دہ ان سے روز ہی کسی نہ کسی بہانے سابقہ پڑ ہی جاتا ہے۔ کبھی آنکھیں چھلک پڑتی ہیں تو کبھی مسکراہٹ ہونٹوں کی زینت بن جاتی ہے، بادیں اچھی ہوں یا بری بس زندگی ان ہی کی مرہون منت ہے کبھی اپنی غلطیوں کی طرف توجہ ہو جاتی ہے تو کبھی اچھی باتوں کا ادراک بھی ہوتا ہے۔ اپنی کوتاہیوں اور کمزوریوں سے آگاہی بھی ہوتی ہے، اور اکثر یادیں معلم بن کر ہمیں تعلیم بھی دیتی ہیں کہ تبدیلی حق ہے اس کے لئے تیار رہو

عام طور پر کہا یہی جاتا ہے کہ زمانہ بدل گیا۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ ”ہم“ بدل گئے ہیں۔ دور مت جایئے، ذرا ظاہری آنکھیں بند کرکے دل کی آنکھیں کھول کر اپنے ماضی کو کریدیئے پھر فیصلہ کرنا آسان ہو جائے گا کہ ہم بدلے ہیں یا زمانہ؟ ماضی میں وسائل تو کم تھے لیکن مزہ آج سے کہیں زیادہ تھا۔ امیر ہو یا غریب ہر بچے کے شوق سانجھے تھے۔ بچپن کی خوبصورت یادوں میں سے ایک اور یاد سائیکل بھی ہے، اگر گھر میں کسی بڑے کی سائیکل موجود ہوتی تو بچے سب سے پہلے کھیل کھیل میں اپنے گھر کے آنگن میں سائیکل ہی چلانا سیکھتے۔

اگر گھر میں سائیکل نہ ہوتی تو اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر گلی محلے میں موجود کرائے پر سائیکل دینے والی دکانوں سے کرائے پر لے کر کچے پکے مکانوں کے صحنوں اور گلیوں کے جانے انجانے راستوں پر سائیکل چلانے نکل آتے تھے۔ سائیکل چلاتے وقت گرنا، بھاگنا، چوٹیں لگنا، لیکن سائیکل چلانے اور سیکھنے کی خوشی میں لگنے والے زخم یا تکلیف کا احساس تک نہ ہوتا تھا۔ اب بھی یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جانے کتنے افراد اب بھی موجود ہوں گے جن کے جسم کے کسی نہ کسی حصے پر بچپن میں سائیکل سے گر کر چوٹ لگنے کے انمٹ نشانات موجود ہوں گے۔

پہلے تو گھر کے بڑے ایک خاص عمر تک جوکہ عموماً نو دس سال ہوتی سائیکل کو ہاتھ بھی نہیں لگانے دیتے تھے، لیکن اجازت ملنے کے بعد سائیکل سیکھنے کا پہلا مرحلہ شروع ہوجاتا، جس میں کچھ دن بچہ سائیکل کو سٹینڈ (گھوڑی) سے اتارتا اور سائیکل ”ریڑھنے“ کی پریکٹس کرتا، اس کے بعد سائیکل کو تھوڑا سا دھکیل کر ایک پاؤں کو بائیں پیڈل پر رکھ کر اور دوسرا پاؤں ہوا میں لٹکا کر سائیکل کو چلاتا، یہ پریکٹس چند دن کی جاتی جس کے بعد سیکھنے کا دوسرا مرحلہ شروع ہوجاتا جس کو ”قینچی“ چلانا کہا جاتا تھا۔

قینچی چلانے کے بعد مکمل ڈرائیور بننے کا مرحلہ آجاتا، جس میں سیکھنے والا سائیکل کی سیٹ (گدی) پر یوں بیٹھتا کہ پیچھے سے سائیکل کو بڑے بھائی، دوست یا محلے دار نے پکڑا ہوتا، جونہی بچہ گدی پر بیٹھتا پیچھے کھڑا بندہ ایک دو تین کہہ کر سائیکل کو زور کا دھکا دے کر چھوڑ دیتا، شروع شروع میں تو بچہ بیچارہ زمین پر گر جاتا یا سامنے آنے والے کو ٹھوک دیتا یا پھر کسی دیوار یا کھمبے میں لگ کر گوڈے، گٹے چھلوا لیتا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مہارت حاصل ہو ہی جاتی تھی۔

سیکھنے کے بعد اپنی جیب خرچ سے کرائے کی سائیکل لی اور گلی محلوں کے چکر شروع ہو جاتے۔ کرائے کی دکانوں سے صرف بچے نہیں بلکہ بڑے بھی گھنٹے کے حساب سے سائیکل کرائے پر لیتے تھے۔ ہر گلی محلے میں ایک مشہور دکان ضرور ہوا کرتی تھی جو بچوں اور بڑوں کو بغیر کسی سیکورٹی یا شناختی کارڈ کے سائیکل دے دیتا لیکن بازار میں انجان دکان پر کچھ سیکورٹی یا شناختی کارڈ رکھنے کے بعد سائیکل حاصل کی جا سکتی تھی۔

جو مجھے یاد ہے اس وقت ہماری گلی میں چاچا حمید کی دکان تھی جہاں پر ہر سائز کی سائیکل موجود تھی، کلاں بازار میں ماسٹر سائیکل والا، گھاس منڈی میں قدوس سائیکل، چاچا حیدری پان والا، مسلم بازار میں استاد مجید اور صفدر کی دکانوں کے علاوہ چار پانچ اور بھی دکانیں بہترین کرائے کے سائیکلوں کے لئے مشہور تھیں اور ان دکانوں پہ یہ خود بھی اور ساتھ ایک دو بندے ماہر بھی رکھتے تاکہ ہر سائیکل کی مرمت بہترین طریقے سے کر کے رکھی جائے اور سائیکل میں استعمال ہونے والا ہر پرزہ بھی ان کے پاس ہوتا، ہوا بھرنے کا پمپ اورمشین، کچا پکا پنکچر لگانے کے اوزار وغیرہ یعنی یہ دکانیں مکمل سائیکلوں کی کلینک ہوتی تھیں جہاں پر سائیکل کا مکمل علاج کیا جاتا تھا۔

یوں تو سہراب، فونکس، ایگل، رستم کے سائیکل بڑے مضبوط ہوتے تھے مگر پھر بھی کبھی کبھار ”کتے فیل“ ٹائر پنکچر یا پھر چین پھنسنے کی بیماری لاحق ہو جاتی تھی۔ کچھ منچلے تو سپیشل ٹائپ کی گھنٹیاں لگوانے کے ساتھ ساتھ اکثر اوقات غبارے کو پھونک کر چین اور پہیے کے درمیان باندھ دیتے تھے، جب سائیکل چلتا تو پہیے کی تاروں کے ساتھ ٹکرانے سے ایک خاص لطف اندوز آواز پیدا ہوتی جو لوگوں کو خصوصی طور پر اپنی طرف متوجہ کرتی۔ بعض لوگ کیرئیر (بسترے بند) پہ فوم کا بہترین کشن، درمیانی ڈنڈے پہ بچے کے لئے گدی، لائیٹ کے لئے ڈائنامو، ہینڈل پہ شیشہ اور اس کے ساتھ آگے کی طرف ایک ٹوکری لگواتے جو سودا سلف اور کتابیں رکھنے کے کام آتی اور خاص کر پچھلے مڈگارڈ پر پینٹر سے باقاعدہ اپنا نام لکھواتے تھے۔

صبح اور شام کے اوقات میں دودھ بھی انہی سائیکلوں پر سپلائی ہوتا تھا، خاکروب بھی انہی پر خراماں خراماں چلے آتے تھے۔ گھر کا سودا سلف لانے کے لئے بھی یہی سائیکلیں استعمال ہوتی تھیں۔ بے شمار افراد انہی سائیکلوں پر گلی گلی ڈھیروں قسم کا سامان بیچا کرتے تھے۔ صبح کے وقت دلکش منظر ہوتا جب طلباء، ملازمین، تاجر اور معاشرے کا ہر فرد سائیکل پہ بیٹھا اپنی منزل کی طرف رواں ہوتا۔ بعض استانیوں کو ان کے بیٹے یا شوہر سائیکل کے کیرئیر پر بٹھا کر سکول چھوڑنے جاتے۔

انہی سائیکلوں کی وجہ سے نہ شور، نہ آلودگی، نہ ایکسیڈنٹ، بلکہ سائیکل چلانا ایک صحت مند عمل تھا کیونکہ سائیکل چلانے میں قریباً پورے بدن کے پٹھے حرکت کرتے ہیں اور امراضِ قلب، موٹاپے اور دیگر بیماریوں کو سائیکل چلانے کی عادت قوت مدافعت کے طور پر کام کرتی تھی۔ لیکن ٹیکنالوجی اور ترقی کے باعث سائیکل دیکھتے دیکھتے غربت کی لکیر سے بھی کہیں نیچے گر گئی۔ سائیکل اپنی تمام تر صحتمندانہ خوبیوں کے باوجود ہم سے دور ہو گئی، اس میں بیچاری سائیکل کا نہیں بلکہ ہمارا اپنا قصور ہے۔

گزارش کروں گا کہ اپنے بچوں میں جسمانی کھیلوں کا شوق پیدا کریں۔ ہماری نوجوان نسل بہت زیادہ آرام پسند ہوتی جا رہی ہے، سائیکل کلچر کو فروغ اور بچوں کو سائیکل چلانے کی ترغیب دیں تاکہ سواری کے ساتھ ساتھ ورزش بھی ہو سکے۔ آج کل ہر شخص کسی نہ کسی بیماری کا شکار ہے، ہر شخص کو دن میں کم از کم ایک آدھ گھنٹہ سائیکل ضرور چلانا چاہیے۔ کیونکہ سائیکل نہ صرف چلانے میں آسان اور لطف دینے والی بلکہ اس سے پٹھوں کی اچھی ورزش بھی ہوتی ہے۔ اور بیماریوں سے بچاؤ بھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •