ڈپٹی کمشنر چترال کے نام ایک کھلا خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معزز ڈپٹی کمشنر صاحب ضلع چترال، یقینا آپ چترال کے ایک تعلیمی ادارہ، دی لینگلینڈ سکول اینڈ کالج، کے نام سے واقف ہوں گے۔ ایک شہری کی حیثیت سے اس ادارے اور اس کی نجکاری کے حوالے سے کچھ چیزیں آپ کے گوش گزار کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔

مذکورہ سکول کو چترال کے دانشوروں کے مشورہ اور حکومت کے مالی تعاون سے قائم کیا گیا تھا۔ اب بھی سکول کا پرائمری سیکشن حکومت پاکستان کے سرکاری گیسٹ ہاؤس (واقع جنگ بازار) میں قائم ہے۔ جبکہ دولوموس کے مقام پر 47 کینال زمین بھی خیبر پختون خواہ کی حکومت کے مالی تعاون سے خریدی گئی تھی۔ جبکہ سکول کے لئے ایک ارب روپے کی خطیر رقم بھی فیکسڈ ڈپوسٹ کی صورت میں حکومت کی جانب سے وقف کی گئی تھی۔

اس نیم سرکاری سکول کو حکومت ایک بورڈ آف گورنرز کے ذریعے مونیٹر کیا کرتی تھی۔ یہ بورڈ آف گورنرز کے پی کے کے گورنر، چیف سیکرٹری، سیکرٹری فنانس، ڈپٹی کمشنر چترال، سکول کے پرنسپل اور چترال کے خواص پر مشتمل ہوا کرتا تھا۔ لیکن 2015 سے اس بورڈ کو غیر مؤثر کر دیا گیا ہے شاید اس کی وجہ ضلعی حکومت کی عدم دلچسپی یا ان کی نا اہلی یا پھر کچھ مقامی لوگوں کی انا، لالچ اور اثر و رسوخ ہے جو اس سکول کے بورڈ کو غیر موثر کر کے اپنے عزائم کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔ 2105 میں اس بورڈ کی جگہ اپنے من پسند لوگوں کو لے کر سکول کی پرنسپل، کیری صاحبہ، نے ایک الگ بورڈ کی بنیاد رکھ دی۔

اسی دوران خیبر پختون خواہ کے سابقہ وزیر اعلی جناب پرویز خٹک صاحب کے حکم پر کمشنر ملاکنڈ کی جانب سے ایک آرڈر ڈپٹی کمشنر چترال، کے نام ارسال کیا گیا جس کا متن کچھ یوں تھا: ”اس سکول کے مووایبل اور ام مووایبل پراپرٹی کو اس کے اصل وارث جناب کیپٹن سراج کے نام انتقال کیا جائے“۔ اس گھناؤنی سازش کو چترال کے ایک قابل فخر سپوت نے اپنی دانشمندی اور اخلاص سے ناکام بنا دیا۔ تاہم یہ سلسلہ یہاں رکا نہیں بلکہ اس پر کام ابھی تک جاری ہے۔ اس قسم کے افواہوں کی جھلک آپ کو ممبر قومی اسمبلی جناب عبدالاکبر چترالی صاحب کے حالیہ بیان جس میں اس نے ”اس قیمتی قومی اثاثے کی نجکاری کو قوم کے ساتھ غداری قرار دیا ہے“ میں نظر آئے گی۔

ڈسٹرکٹ کے چیف ایگزیکٹیو افسر کے طور پر یہ آپ کی اخلاقی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری بنتی ہے کہ آپ نہ صرف اس معاملے کی جانچ پڑتال کریں بلکہ اس کے ذمہ داروں کو بھی ان کے انجام تک پہنچائیں۔ یقینا یہ ایک مشکل کام ہے اور اس معاملے میں طاقت ور لوگ آپ کے مقابلے پر آجائیں گے۔ یہ لوگ سکول کی بہتری کے نام پر سکول کی نجکاری پر تلے ہوئے ہیں۔ آپ کی دانشمندی اور بروقت کارروائی ہی اس قیمتی قومی اثاثے کو بچا سکتی ہے۔

اس تمام صورت حال میں آپ سے صرف اتنی سی گزارش ہے کہ آپ اس سکول سے متعلقہ بورڈ کے ممبروں ں سے مشاورت کریں جو کہ 2015 تک اس کے ممبر تھے اور اس معاملے کو حکام بالا تک پہنچائیں۔ مجھے امید بھی ہے اور یقین بھی کہ آپ انصاف کے اس دور حکومت میں چترالی عوام کو انصاف دلا کر اپنے سینئر اور پیش رو جناب شہید اسامہ احمد وڑائچ صاحب کی لیگیسی کو زندہ رکھیں گے جو کہ آج بھی چترال کے لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

اس ملک کا ذمہ دار شہری

احتشام الرحمن

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •