غلامی کا لاشعور: چترال میں نوآبادیاتی ذہنیت کی باقیات

چترال تاریخی طور پر ایک نیم خودمختار ریاستی نظم کے تحت رہا، جہاں ”مہتر“ کو مطلق اختیار حاصل تھا۔ اس خاندانی اقتدار نے مقامی لوگوں میں اطاعت اور غلامی کی نفسیات کو جنم دیا جو بعد ازاں برطانوی نوآبادیاتی نظام کے زیرِ اثر مزید مستحکم ہو گئی۔ مابعد نوآبادیاتی محققین کے مطابق استعماری قوتیں صرف زمینوں پر نہیں بلکہ ذہنوں پر بھی قبضہ کرتی ہیں جس کی جھلک مختلف صورتوں میں نظر آتی ہے۔ مہترانِ چترال نے برطانوی سامراج سے

Read more

خیبر پختونخوا میں تعلیمی زوال

اکنامک سروے آف پاکستان ایک معتبر قومی دستاویز ہے جو ملک کے معاشی اور معاشرتی شعبوں کا جائزہ پیش کرتی ہے۔ اکنامک سروے 2024۔ 25 کے مطابق، شرح خواندگی میں تینوں صوبوں کی کارکردگی مختلف رہی۔ پنجاب کی شرح خواندگی 2013 میں 62 فیصد تھی جو اب 72 فیصد ہو چکی ہے، جبکہ سندھ کی شرح 60 سے کم ہو کر 58 فیصد اور خیبر پختونخوا (کے پی) کی 52 سے گھٹ کر 51 فیصد رہ گئی ہے۔ حیران کن

Read more

جغرافیائی سیاست اور پاکستان کی خارجہ حکمتِ عملی

پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے خطے میں وقوع پذیر جغرافیائی و نظریاتی تغیرات کے زیرِ اثر تشکیل پاتی رہی ہے۔ 1979 میں سوویت یونین کی افغانستان پر لشکر کشی کو پاکستان نے محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں، بلکہ اپنے تزویراتی مفادات کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ تصور کیا۔ اگرچہ روس نے پاکستان کے خلاف کوئی براہِ راست اقدام نہیں اٹھایا تھا، تاہم ایک عالمی طاقت کا افغانستان میں مستقل وجود پاکستان کی مغربی سرحدوں، داخلی استحکام اور نظریاتی شناخت

Read more

بابا بلیک شیپ کا مابعد نو آبادیاتی مطالعہ

میرا چھوٹا بھتیجا خوشی خوشی انگریزی نظم ”Baa Baa Black Sheep“ گنگنا رہا تھا۔ اس کے لہجے میں ایک معصوم خوشی، نرمی اور بے فکری تھی۔ نرسری کلاس کے دنوں میں ہم بھی اسی طرح جھوم جھوم کر انگریزی نظمیں گاتے تھے اور سیکھنے کے عمل کو تفریح کے طور پر محسوس کرتے تھے۔ آج، جب میں نے اس مشہور زمانہ نظم کو مکمل توجہ سے سنا، تو اس کے الفاظ میرے لیے یکایک اجنبی اور کسی حد تک چونکا

Read more

چترال: نو آبادیاتی علم، نصابی تعصبات اور مقامی اقدار

یہ ایک عمومی تاثر ہے کہ کتابیں علم کا ذریعہ ہوتی ہیں۔ اسی تصور کو پیش نظر رکھتے ہوئے دخترِ چترال، لکشن بی بی، نے امریکہ سے چترال کے لیے کتابوں کا ایک کنٹینر بطورِ عطیہ بھیجا۔ اس اقدام پر جہاں چترال کے علم دوست حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، وہیں ایک طبقہ اس پر تحفظات کا اظہار بھی کر رہا ہے۔ یقیناً کتابیں علم پھیلانے کا ذریعہ ہوتی ہیں، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ کتابیں صرف

Read more

قاقلشت کی تباہی میں ہمارا کردار

ایک زمانہ وہ تھا جب قاقلشت سے گزرتے ہوئے آپ قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ مقامی روایات کا نظارہ بھی کرتے تھے۔ مقامی لوگ بھیڑ بکریاں چرانے کے لئے آتے تھے۔ اس طرح آپ کو قدرت کے نظاروں کے ساتھ مقامی روایات کو بھی قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا تھا۔ لوگ پیادہ چل کر پکنک منا رہے ہوتے تھے۔ اس تنگ زمانے میں بھی لوگ کھانے سے زیادہ سیر و تفریح کا لطف اٹھا رہے

Read more

آغا خان سکول، دولومس: آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان کے لئے ایک ٹیسٹ کیس

  پچھلے کچھ دنوں سے آغا خان سکول، جونیئر کیمپس، دولومس، کا معاملہ زیر بحث ہے۔ فیس میں اضافے پر انتظامیہ اور والدین میں بحث کے بعد اختلاف پیدا ہوا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق سکول انتظامیہ کی طرف سے بے تحاشا اضافے کے بعد والدین اس کے خلاف کنزیومر کورٹ گئے تھے۔ تاہم گفت و شنید کے بعد کمیونٹی اور انتظامیہ کے درمیان یہ معاملہ خوش اسلوبی کے ساتھ حل ہوا ہے۔ دولومس سکول والے معاملے کو مد نظر

Read more

گورنمنٹ کالج، چترال: چند وضاحتیں

کچھ عرصہ پہلے چترال کے دو گورنمنٹ کالجوں کا موازنہ کیا تھا۔ اس سے اختلاف کرنے کی گنجائش موجود تھی لیکن چند نو تعینات لیکچرار صاحبان کی طرف سے اسے ایسا رنگ دیا گیا جیسے میں نے گورنمنٹ کالج کے خلاف کوئی سازش کی ہو یا اساتذہ کو، خدانخواستہ، نا اہل کہا ہو۔ پہلی بات یہ کہ دس سال پرانے اور موجودہ کالج کا موازنہ کروں تو میں بلا جھجک یہ کہہ سکتا ہوں کہ گورنمنٹ کالج پڑھائی کے معاملے

Read more

چترال کے تعلیمی اداروں کی کامیابی میں خواتین کا کردار

پاکستان میں عمومی طور پر اور چترال میں خصوصی طور پر تعلیم غیر مخلوط ہے۔ یہاں لڑکوں کے لئے الگ اور لڑکیوں کے لئے الگ تعلیمی ادارے بنائے جاتے ہیں چاہے وہ سرکاری ہوں یا غیر سرکاری۔ چترال کے گرد و نواح میں فیمیل اداروں کی کامیابی یہ بتاتی ہے کہ اگر کسی بھی شعبے میں خواتین کو موقع دیا جائے تو وہ منیجمنٹ کے معاملے میں مردوں سے زیادہ بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہیں۔ اس مضمون میں چترال کے

Read more

ٹیم ورک اور قیادت: چترال کے دو کالجوں کا تقابلی جائزہ

چترال ٹاؤن کے اندر دو گورنمنٹ کالجز ہیں، گورنمنٹ کالج فار بوائز اور گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج۔ رقبہ، سالانہ مختص بجٹ اور سنہ قیام کے لحاظ سے گورنمنٹ کالج فار بوائز بڑا اور پرانا ادارہ ہے۔ نصابی یا غیر نصابی امور یا پھر انتظامی معاملات ہوں، گرلز ڈگری کالج چترال ہی کا نہیں بلکہ خیبر پختونخواہ کا ایک مثالی کالج ہے۔ کسی بھی ادارے کو کامیاب بنانے میں ٹیم ورک غیر معمولی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ٹیم اگر اچھی

Read more

فری سٹائل پولو کا رونالڈو، اظہار علی خان

گلگت اور چترال میں کھیلے جانے والے فری سٹائل پولو کو پوری دنیا میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اسے کھیلوں کا بادشاہ اور بادشاہوں کا کھیل بھی کہا جاتا ہے۔ چترال کے سپوت اظہار علی خان کو اس کھیل کا شہزادہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا۔ اس کھیل کو دیکھنے کے لئے پوری دنیا سے سیاح چترال، گلگت اور شندور کا رخ کرتے ہیں۔ فری سٹائل پولو کا یہ منفرد کھیل صرف ان علاقوں میں ہی کھیلا

Read more

انگریزی ادب کے نامور پرفیسر مراد علی کی شخصیت

گورنمنٹ کالج چترال میں داخلہ لینے کے بعد پہلے دن انگریزی کی کلاس میں داخل ہوا تو ایک دراز قد، وجیہ صورت، خوش لباس اور ہنس مکھ انسان ڈائس پر پہلے سے موجود تھے۔ ان کا دبدبہ قابل دید تھا۔ جب پڑھانا شروع کیا اس کے کیا ہی کہنے۔ ان کا لہجہ، ان کا انداز بیان، زبان پر عبور، الفاظ کا چناؤ اور اہل زبان کی طرح ان کی ادائیگی سب قابل رشک تھے۔ پہلی کلاس میں کم پڑھایا لیکن

Read more

چترال کی سیاست: ووٹ کا صحیح حقدار کون؟

چترال دو صوبائی اسمبلی اور ایک قومی اسمبلی کی نشست پر مشتمل ایک دور افتادہ لیکن اہم ضلع ہے۔ افغانستان کے ساتھ اس کی لگی بانڈری اس کو مزید اہم بناتا ہے۔ اس لئے عمران خان صاحب، نواز شریف صاحب اور بلاول بھٹو صاحب کی سیاسی تقریروں کا حصہ ہوتا ہے۔ اس میں بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیاں زبردست ٹاکرا ہونے والا ہے۔ فی الحال دیکھا جائے تو پاکستان تحریک انصاف کا پلڑا بھاری لگ رہا ہے۔ قومی نشست کے

Read more

بھارت کی کامیابی پر خوشی: کمزور ایمان اور ملک دشمنی کی نشانی

بھارت چاند پر پہنچ گیا تو کیا ہوا؟ ارے ملک دشمن اور کمزور ایمان والے لوگوں، کافر کی کامیابی پر خوش ہو کر کیوں اپنا ایمان خراب کر رہے ہو؟ اللہ نے ان کو دنیا کی کامیابی دی ہے اور ہمیں آخرت کی۔ یہ دنیا مسلمانوں کے لئے آزمائش اور امتحان جبکہ کافروں کی جنت ہے۔ اب آتے ہیں اصل مدعا کی طرف: بھارت کی کامیابی کا سن کر آج سے کئی سال پہلے ریڈرز ڈائجسٹ میں شائع ہوئی ایک

Read more

ہیری پوٹر، عمران خان اور ملکی سیاسی حالات

ہیری پوٹر جے کے رولنگ کے ناول پر مبنی ایک فلم سیریز ہے۔ اس کے دو اہم کردار ہیری پوٹر اور والڈیمورٹ ہیں۔ ہیری پوٹر اس کے ہیرو ہیں جبکہ لارڈ والڈیمورٹ اس میں ولن ہیں۔ سوائے چند ایک کے سب والڈیمورٹ کا نام لینے سے ڈرتے ہیں، اس لئے اسے ’ڈارک لارڈ‘ یا ’ہی ہو مے ناٹ بی نیمڈ‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔ اس کہانی کا مرکز ہوگوارٹ سکول آف وچکرافٹ ہے جسے کئی صدیاں پہلے چار عظیم

Read more

ڈاکٹر زبیدہ سرنگ اور دیگر ڈاکٹروں کی خدمات کا تقابلی جائزہ

میرے حالیہ آرٹیکل جو کہ ”ہم سب“ پر شائع ہوا تھا اس پر کافی لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ میں نے ڈاکٹر زبیدہ سرنگ صاحبہ کی کتاب، ”آپٹکس، میڈ ایزی“ پر اپنی رائے دے کر ان کی توہین کی ہے اور ان کی خدمات کو نظر انداز کیا ہے۔ کچھ نوجوان اور ڈاکٹر صاحبہ کے ’مداح‘ تو میرا مضمون پڑھے بغیر ہی اس ’معجزاتی تصنیف‘ کے لئے ایسے سیخ پا ہو رہے ہیں جیسے زبیدہ سرنگ صاحبہ نے یہ

Read more

ڈاکٹر زبیدہ سرنگ کی کتاب کا ایک تجزیہ

ڈاکٹر زبیدہ سرنگ صاحبہ کی کتاب ”آپٹکس، میڈ ایزی“ کو چترال ہی میں نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی ملی۔ قومی ٹی وی چینلز نے ڈاکٹر صاحبہ کے کئی انٹرویوز کیے اور ان کے کام کو سراہا گیا۔ میں نے بھی ایک محب وطن پاکستانی اور چترالی ہونے کے ناتے ان کے کام کی تعریف کے پل باندھ دیے تھے اور ان کو فخر چترال اور دختر پاکستان کا لقب تک دے دیا تھا۔ ابھی کچھ دن پہلے

Read more

ہماری دھرتی کی ملکائیں اور عورت مارچ

حالیہ فیض فیسٹیول میں ایک سیشن ”دھرتی کی ملکائیں“ میں شرکت کرنے کا موقع ملا۔ اس میں خاور ممتاز صاحبہ، فوزیہ وقار صاحبہ اور ہما پرائس صاحبہ نے ”ملکی سیاست میں خواتین کا کردار“ کے موضوع پر گفتگو کیں۔ خاور ممتاز صاحبہ، جو کہ مصنفہ بھی ہیں، نے پاکستان میں خواتین کی تحریک کی تاریخ بیان کی۔ فوزیہ وقار صاحبہ، جنہوں نے پنجاب حکومت میں خواتین کے حوالے سے کام کیا ہے، نے موجودہ دور میں حکومتی پالیسیوں اور ان

Read more

مردم شماری میں کھوار زبان کے ساتھ زیادتی

آٹھ لاکھ سے زائد لوگوں کی مادری زبان ہونے کے باوجود کھوار زبان کو اس بار بھی مردم شماری کی زبانوں کی فہرست میں الگ سے شمار نہیں کیا گیا۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ سیاسی، ادبی، سماجی، آپس کے اختلافات اور سب بڑھ کر ہماری اپنی نا اہلی۔ کھوار کو الگ سے شامل نہ کرنے اور ’ ”دیگر‘ میں اسے شمار کرنے کے بعد ایک دوسرے پر الزامات بھی لگائے جا رہے اور حکومت اور سیاسی نمائندوں

Read more

امیر خان میر: چترالی ادب، ثقافت اور تمدن کا امین

امیر خان میر صاحب سے میری پہلی ملاقات فریدہ سلطانہ فری صاحبہ کی کتاب کی رونمائی کے موقع پر ہوئی تھی۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب نے پروگرام کے بعد ان سے میرا تعارف کرایا۔ امیر خان میر صاحب نے میرے مقالے کی تعریف کی اور مجھے شاباش دی۔ اس کے بعد ڈاکٹر فیضی صاحب سے امیر خان میر صاحب کی شخصیت اور خدمات کے متعلق کافی کچھ جاننے کا موقع ملا۔ ان سے ملنے کی خواہش ہمیشہ دل میں

Read more

فری سٹائل پولو: ڈپٹی کمشنر اور پولو ایسوسی ایشن چترال کے نام خط

چترال ایک پسماندہ علاقہ ہونے کے ساتھ شاہانہ مزاج رکھنے والوں کا شہر بھی ہے۔ ان کے شاہانہ مزاج کا اندازہ ان کے فری سٹائل پولو سے والہانہ محبت سے لگایا جا سکتا ہے۔ مہنگائی نے تمام شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کیا لیکن گھوڑا پالنے کے شوق اور پولو کھیلنے میں کمی نہیں ہوئی۔ بلکہ پچھلے اس دہائی میں اس شوق میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ شوق اپنی جگہ لیکن اس سے جڑے مسائل اور زمینی حقائق کو بھی

Read more

گلگت سے چترال تک: ایک جائزہ

”ودھ کیلی ٹو چترال“ لیفٹیننٹ ولیم جارج لارنس بینین کی لکھی ہوئی فوجی مہم کی داستان ہے جس میں انگریزوں کی جارحیت کی کہانی بیان ہوئی ہے۔ اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کر کے ہمارے دوست نور شمس الدین صاحب نے ہر اس انسان پر احسان کیا ہے جس کو تاریخ، ادب اور انگریزوں کی دور اندیشوں اور چالاکیوں سے دلچسپی ہو۔ کتاب پر محترم ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب اور فرنود عالم صاحب کا تبصرہ اس کتاب کو

Read more

کتابیں خریدنا کیوں ضروری ہے؟

اگر چہ مجھ میں کتاب پڑھنے اور سمجھنے کی وہ اہلیت و صلاحیت موجود نہیں جو اہل علم اور اہل ذوق لوگوں میں پائی جاتی ہے لیکن کتاب خریدنے کی جو لت لگی ہے وہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ آج سے کوئی دس سال پہلے جب میں دوسرے سمیسٹر میں تھا تو کتاب پڑھنے اور خریدنے سے متعلق اپنے لئے کچھ اصول بنائے تھے جو قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں : 1۔ میں

Read more

دفاعی بجٹ میں اضافہ اور تعلیمی بجٹ میں کمی کیوں ضروری ہے؟

کچھ دنوں سے ملک دشمن عناصر دفاعی بجٹ میں محض 6 فیصد اضافہ پر شور شرابا کر رہے ہیں۔ اب ان احمقوں کو کون سمجھائے کہ پاکستان جیسے ملک، جو کہ دشمنوں میں گھرا ہوا ہے، کے دفاع کے لئے یہ کتنا ضروری ہے۔ اگر امریکہ اپنے نکمے اور لادین فوجیوں پر ویتنام، کوریا، افغانستان اور عراق جنگوں میں کئی ناکامیوں اور شکست کے بعد بھی اربوں ڈالر خرچ کر سکتا ہے تو پاکستان جس کی فوج نے نہ صرف

Read more

شوکت خانم ہسپتال: جدید طرز علاج کا ایک شاہکار

پچھلے دنوں میری ایک آنٹی، جو کہ کینسر کے مرض میں مبتلا ہیں، کے ساتھ بحیثیت اٹینڈنٹ شوکت خانم ہسپتال میں وقت گزارنے اور ان کے سسٹم کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ اس دوران جو کچھ میں نے دیکھا اور محسوس کیا اس کی روداد کچھ یوں ہے۔ آغا خان ہسپتال کے متعلق یہ سنا ہے کہ وہاں جا کر مریض ذہنی طور پر مطمئن ہو کر ہی ریکور ہونا شروع خر دیتا ہے۔ یہی معاملہ شوکت خانم

Read more

چترال ایک عوامی لیڈر سے محروم ہو گیا

شہزادہ محی الدین صاحب کا شمار نہ صرف چترال اور خیبر پختون خواہ بلکہ پاکستان کے نامی گرامی سیاسی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ آپ ایک دور اندیش سیاستدان اور عوامی رہنما تھے۔ آپ کی زندگی کا مقصد لوگوں کی خدمت اور آسانیاں پیدا کرنا تھا۔ ایڈمنسٹریشن کا حصہ رہنے کی وجہ سے آپ کی ایک منفرد بات یہ بھی تھی کہ آپ بیوروکریسی کے سرخ فیتے سے آسانی سے نمٹ لیتے تھے۔ آپ کی ان اعلی سیاسی خصوصیات پر مبنی

Read more

مطالعے کی اہمیت اور کتاب بینی کا فروغ

پوری دنیا میں 23 اپریل کو کتاب بینی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ کتاب اور مطالعے کی اہمیت ہر زمانے، ہر معاشرے، ہر مذہب اور ہر تمدن میں رہی ہے۔ جن اقوام نے کتاب کو اپنایا وہ کامیاب ہوئیں، چاہے ان کی معاشی یا عسکری طاقت کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو۔ اس کے برعکس جو قومیں معاشی اور عسکری طور پر ناقابل شکست سمجھی جاتی تھیں، وہ اگر تباہ ہوئیں تو اس کی ایک وجہ علم اور کتاب سے دوری سمجھی جاتی ہے۔

کتاب، کتاب بینی اور آج کے دن کی مناسبت سے کچھ بکھرے خیالات ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔

Read more

لڑکیوں کے فٹ بال کھیلنے سے کیا ہوگا؟

پاکستان اسپورٹس کمپلیکس، اسلام آباد، میں چترالی لڑکیوں کے فٹبال ٹریننگ کے حوالے سے دو انتہا پسند نظریات سامنے آرہے ہیں۔ ایک طبقہ اس کو ”عزت و ناموس“ کا مسئلہ قرار دے رہا ہے اور دوسرا طبقہ لڑکیوں کے کھیلوں میں شمولیت کو ”عورت کے مسائل“ کے حل کا واحد ذریعہ بنا کر پیش کر رہا ہے۔ حالانکہ دونوں نظریات اور خیالات انتہا پسندی پر مبنی ہیں۔

Read more

قید میں لکھی گئی تین عظیم کتابیں

دنیا میں جتنے بھی غیر معمولی کام ہوئے ہیں وہ سب مشکل حالات کا سامنا کرتے ہوئے انجام دیے گئے ہیں، چاہے ان کا تعلق مذہب سے ہو یا پھر وہ سیاسی ہوں یا پھر سائنسی ، سب کام مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے سرانجام دیے گئے ہیں۔ انگریز سامراج کے دور کو دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس دوران برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں اور ہندوؤں نے وہ کارنامے سر انجام دیے ہیں جن کا آج

Read more

تین ڈپٹی کمشنرز کی یاد میں

کسی بھی معاشرے کی بہتری کے لئے تعلیم ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ خاص کر کے چترال جیسی جگہ جہاں لوگوں کی زندگی کا دار و مدار ہی تعلیم سے وابستہ ہو وہاں اس کی اہمیت دوگنی ہو جاتی ہے۔ تعلیم کے لحاظ سے چترال خیبر پختون خواہ کے ان چند ضلعوں میں سے ایک ہے جہاں خواندگی 90 فیصد سے زیادہ ہے۔ لیکن اس کے باوجود چترال کے لوگ وہ کچھ نہیں کر پاتے ہیں جو دوسرے علاقوں کے لوگ کر گزرتے ہیں۔

بحیثیت طالب علم اور پانچ سالہ تدریسی تجربے کے بعد مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کی وجہ رہنمائی اور معیاری تعلیم کا فقدان ہے۔ اس کی طرف نہ ہمارے سیاسی رہنماؤں نے توجہ دی نہ ہی ماہرین تعلیم نے۔ تاہم خوش قسمتی سے اللہ نے بیوروکریسی کے ذریعے چترال پر ہمیشہ اپنی مہربانی فرمائی۔

Read more

بحیثیت پاکستانی مسلمان کورونا سے میں نے کیا سیکھا؟

برصغیر میں عموما اور پاکستان میں خصوصا، مسلمانوں کے مختلف گروہوں / فرقوں کا یہ وتیرہ رہا ہے کہ ہر کوئی اپنی دکان سجائے بیٹھا ہوتا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال ہمیں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران دیکھنے کو ملی۔ اس کے علاج کے لئے کوئی دم کر رہا تھا تو کوئی اجتماعی دعا (یا پھر تعریف) ، کوئی تعویز تو کوئی کبوتر کے پوٹہ سے علاج کا مشورہ، کوئی خواب کا حوالہ دے رہا تھا تو کوئی وظیفہ بتا رہا تھا۔ غرض ہر طرف افرا تفری کا عالم تھا۔

Read more

عورت مارچ سے کسی کو کیا مسئلہ ہے؟

”عورت مارچ“ کا نام سنتے ہی حقوق نسواں کے مخالفین سیخ پا ہو گئے ہیں۔ انہی لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے خلیل الرحمان قمر نے ماروی سرمد کے لئے جو الفاظ استعمال کیے وہ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں عورت کو کیا ”مقام“ حاصل ہے۔ اس پر مزید بات کرنے سے پہلے حقوق نسواں کی تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈالنا ضروری ہے۔ عورتوں کے حقوق کے لئے آواز کا نقطہ آغاز میری وولنز کرافٹ

Read more

چترالی موسیقی: خامیاں کہاں ہیں؟ 

ثقافت ایک وسیع ٹرم ہے جس میں رہن سہن، اخلاق و ادب، فنون لطیفہ، موسیقی، رقص، کھانا پینا، وغیرہ شامل ہیں۔ چترالی موسیقی چترال کی ثقافت کا ایک اہم جزو ہے۔ چترال میں ثقافت کے باقی اجزاء کو نظر انداز کر کے موسیقی ہی کو مکمل ثقافت جان کر اسے ہی اول و آخر سمجھا جاتا ہے۔ (یہ ہماری خوش قسمتی ہے یا بد قسمتی ہے، یہ ایک الگ بحث ہے ) لیکن باوجود اس سوچ کے اس کے ساتھ

Read more

کیا ایشیا واقعی سرخ ہوگا؟

کچھ دنوں سے طلباء کی ایک تحریک سوشل اور الیکٹرانک میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہے جس میں وہ ’ایشیا سرخ ہوگا‘ کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ وہ طلباء یونینوں کی بحالی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ طلباء یونینوں کی بحالی اور ایشیا کے سرخ ہونے سے تمام مسائل حل ہوں گے۔ ایشیا میں لال تحریک کوئی نئی بات نہیں۔ اس طرح کی تحریکیں پہلے بھی چلی ہیں۔ اس کا

Read more

دی لینگ لینڈ سکول اینڈ کالج میں مبینہ کرپشن کا معاملہ اور کرپشن فری پاکستان کا ڈھنڈورا

پچھلے تین دنوں سے سماء نیوز کی ایک رپورٹ ویڈیو کلپ کی صورت میں سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں دی لینگ لینڈ سکول اینڈ کالج کے اساتذہ ڈی سی آفس کے سامنے کھلی سڑک پر طلبہ کو پڑھا رہے ہیں۔ سکول کی بندش کی وجہ سکول کے اساتذہ کی جانب سے کیری سکوفیلڈ پر عائد کرپشن الزامات کی تحقیقات کا مطالبہ ہے، جس کی وجہ سے کیری صاحبہ نے انتقامی حربے کے طور پر سکول بند

Read more

کرشمہ کا کرشمہ، حقیقت یا افسانہ؟

چترال کی پہاڑیوں میں لڑکیوں کے لئے فٹبال ٹورنامنٹ کی شغل سامانی کرنے والی چترال کی ہونہار بیٹی کرشمہ علی نے حال ہی میں چترالی ایمبرائڈری اور ملبوسات کو عالمی فیشن شو کا حصہ بنا کر فیشن کی دنیا میں بھی اپنی کرشمہ سازیوں سے نام پیدا کر لی۔ ہر معاشرتی مسئلہ سے متعلق متضاد اور انتہا پسندانہ رویوں کی طرح کرشمہ کے کردار بارے بھی دو قسم کے رویے دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ ایک گروہ نے اس

Read more

چترال کی کرشمہ کا کرشمہ، حقیقت یا افسانہ؟

چترال کی پہاڑیوں میں لڑکیوں کے لئے فٹبال ٹورنامنٹ کی شغل سامانی کرنے والی چترال کی ہونہار بیٹی کرشمہ علی نے حال ہی میں چترالی ایمبرائڈری اور ملبوسات کو عالمی فیشن شو کا حصہ بنا کر فیشن کی دنیا میں بھی اپنی کرشمہ سازیوں سے نام پیدا کر لی۔ ہر معاشرتی مسئلہ سے متعلق متضاد اور انتہا پسندانہ رویوں کی طرح کرشمہ کے کردار بارے بھی دو قسم کے روئے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ایک گروہ اس کردار کو

Read more

آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک چترال میں سازش کر رہا ہے یا نیکی؟

چترال کے علمائے دین متوقع آغا خان یونیورسٹی سے منسلک ڈائگناسٹک سنٹر اور سیرینا ہوٹل کو ایشو بنا کر خوب ہنگامہ کر رہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ انتظامیہ اور حکومت پاکستان کو مخاطب کر کے ایک دھمکی آمیز قرارداد کے ذریعے کھلم کھلا دھمکی دی گئی ہے کہ اگر اس کی اجازت دی گئی تو اس کے نتائج کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔

Read more

جشن آزادی اور ناچ گانے کا مسئلہ

کسی بھی ریاست یا علاقے میں اس کا سوشل سٹرکچر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ بعض اعمال کا تعلق لوگوں کی انفرادی زندگی سے ہوتا ہے اور بعض اعمال معاشرے کے افراد کی اجتماعی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔ 14 اگست کو چترال پولو گراؤنڈ میں جو کچھ ہوا اس کا تعلق معاشرے کے اجتماعی زندگی سے ہے۔ اس وجہ سے اس کا اثر معاشرے کے عمومی سٹرکچر پر ہوتا ہے۔ یقینا اس میں دس سال سے کم

Read more

ڈپٹی کمشنر چترال کے نام ایک کھلا خط

معزز ڈپٹی کمشنر صاحب ضلع چترال، یقینا آپ چترال کے ایک تعلیمی ادارہ، دی لینگلینڈ سکول اینڈ کالج، کے نام سے واقف ہوں گے۔ ایک شہری کی حیثیت سے اس ادارے اور اس کی نجکاری کے حوالے سے کچھ چیزیں آپ کے گوش گزار کرنا ضروری خیال کرتا ہوں۔ مذکورہ سکول کو چترال کے دانشوروں کے مشورہ اور حکومت کے مالی تعاون سے قائم کیا گیا تھا۔ اب بھی سکول کا پرائمری سیکشن حکومت پاکستان کے سرکاری گیسٹ ہاؤس (واقع

Read more

مادری زبانوں کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں

پوری دنیا میں 21 فروری کو مادری زبانوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ 1999 میں یونیسکو کی طرف سے میں اس دن کو باقاعدہ منانے کا اعلان ہوا اور 2008 مین یو این او میں باقاعدہ ایک قرارداد کے ذریعے اس سال کو عالمی زبانوں کا سال قرار دیا گیا۔ 21 فروری 2000 سے اس دن کو باقاعدہ منایا جارہا ہے۔ اس سال بھی اسی مناسبت سے آج یعنی 21 فروری کو پوری دنیا میں یہ دن منایا گیا۔ اس دن کو منانے کا مقصد تمام زبانوں کو فروغ دینا اور ثقافتی تغیر اور ملٹی لنگویلیزم کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

Read more

ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا!

اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ انسان ہزاروں پلانز بناتا ہے لیکن ان ہزاروں پلانز میں اس کی موت کی پلاننگ نہیں ہوتی ہے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے جس سے کسی طرح بھی فرار ممکن نہیں۔ لیکن خالد کے پلانز انفرادی نہیں ہوتے تھے بلکہ آپ کی سوچ کا محور ہمیشہ معاشرہ ہوتا تھا۔ آپ جہاں بھی ہوتے آپ کا دل لوگوں کے ساتھ دھڑکتا۔ خالد بن ولی، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفیسر، 20 اکتوبر کو ہم سے بچھڑ گئے۔ آپ

Read more

مذہبی ہم آہنگی: حقیقت یا افسانہ

شنید ہے کہ چترال کی واحد یونیورسٹی میں ‘امن اور مذہبی ہم آہنگی’ کے موضوع پر کانفرنس کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ اس کانفرنس میں علامہ نصیر الدین نصیر ہنزائی صاحب کے کچھ پیروکار بحیثیت اسپیکر شریک ہونے والے تھے۔ ‘طریقہ بورڈ’ (ITREB) اور ‘ریجنل کونسل’ نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان کی موجودگی سے چترال کے امن کو خطرات لاحق ہوں گے۔ لوگ فساد کریں گے؛ وغیرہ۔ گویا وہ اسلامی

Read more

میرے اساتذہ میرے رہبر

یوم اساتذہ کے موقع پر میں اپنے تمام اساتذہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی بدولت میں آج ایک آدمی سے انسان بننے کے عمل سے گزر رہا ہوں۔ گیارہ سال کی ریاضت کے بعد امام غزالی کو اپنی محنت کا جو نچوڑ نظر آیا وہ یہ تھا کہ ”آدمی کو انسان بنانا ہی مقصد حیات ہے“۔ اگر وہ میری زندگی میں نہ ہوتے تو بقول غالب کے ”آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا“ والا

Read more