ریاست ہوگی ماں کے جیسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جدید ریاست اور شہری کے مابین عمرانی معاہدے میں انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اور ریاست ان آزادیوں پر کسی قسم کی قدغن یا روک لگانے سے حتی الامکان گریز کرتی ہے۔ اسی لیے کسی بھی ملک کی ترقی کو جانچنے کے جدید پیمانہ میں فی کس آمدنی کے ساتھ ساتھ شخصی آزادی کی صورتحال کو بھی ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ کیونکہ اج کی دنیا میں معاشی نشوونما اور شہری آزادیوں میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔

وطن عزیز میں شہری اور انسانی آزادی کی تاریخ قابل رشک نہیں ہے۔ اس صورتحال کی ذمہ داری جہاں بہت سے سماجی اور معاشرتی عوامل پر ڈالی جاسکتی ہے وہیں ہماری ریاستی مشینری کو بھی بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اک طرف اگر ملک کے دور دراز علاقوں میں طاقتور وڈیرے، جاگیردار اپنے ہم وطنوں کے حقوق سلب کرنے میں مصروف ہیں تو دوسری طرف ریاست نہ صرف مظلوم کو ظالم سے بچانے میں ناکام ہے بلکہ خود بھی عوامی حق تلفی میں ملوث ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں مثلا پولیس کی طرف سے بیگناہوں پر تشدد، حبس بے جا میں رکھنا، ملزم کی بجائے اس کے بھائی، والد، حتی کہ خواتین تک کو بلاوجہ تنگ کرنا اور تھانوں میں بند کر دینا معمولی بات ہے۔ اول تو ایسی صورت میں مظلوم کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی اور اگر نوٹس لے بھی لیا جائے تو اپنی قانونی حد سے متجاوز ہونے والے ادارے یا اہلکار کے خلاف کوئی قابل ذکر ایکشن نہیں ہوتا۔ یہ تو تھا ذکر عمومی حالات میں اداروں کے رویے کا۔

جہاں شہری اپنے حقوق کے دفاع میں بوجوہ ناکام ہے۔ لیکن اگر کسی معاملہ میں کوئی طبقہ یا فرد واحد ریاست سے اپنے آئینی حقوق اور آزادی طلب کرنا شروع کر دے تو ہم اس گروہ یا فرد کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ جاتے ہیں۔ اور طعن و تشنیع سے شروع ہونیوالا یہ سلسلہ غداری کے لیبل پر منتج ہوتا ہے۔ اور فاطمہ جناح سے لے کر نواز شریف تک کو ہم غدار ہونے کا سرٹیفکیٹ دے چکے ہیں۔

جی ایم سید جیسے محب وطن سیاست دان اور جالب جیسے انقلابی شاعر بھی اس تمغہ غداری سے سرفراز کیے گئے۔ غداران وطن کی اس قبیل کے نو واردان میں نواز برادران، زرداری، اسفند یار ولی، محمود اچکزئی، فضل الرحمن صاحب شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ کو صرف پارلیمنٹ سے باہر رکھا گیا ہے۔ کچھ کو جیل یاترا کروائی جا رہی ہے اور نواز شریف صاحب کو اک اعلی قسم کی عدالتی کارروائی کے بعد پس دیوار زنداں دھکیل دیا گیا ہے۔ اتنے سے بھی دل میں ٹھنڈ نہ پڑنے پر ان کو میڈیکل بورڈ کی سفارشات کے تحت ملنے والی سہولیات بھی واپس لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

رانا ثناء اللہ کو ایک ایسے نادر منشیات کے مقدمے میں پکڑا گیا ہے کہ انسداد منشیات عدالت کے جج صاحب کو جو کہ بہت اچھی شہرت کے حامل ہیں ان کو کام سے روکنا پڑا۔ ہمارے ریاستی ادارے یہ سلوک ایسے افراد کے ساتھ کر رہے ہیں جن کے پاس نہ صرف مالی وسائل وافر موجود ہیں بلکہ ان کے پاس سیاسی قوت بھی موجود ہے۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بے نوا اور غریب کے ساتھ ہمارے قانون وانصاف کے ضامن ادارے کیا کچھ کرتے ہوں گے۔

اک طرف افراد سے ریاست کا یہ حسن سلوک ہے اور دوسری طرف ریاستی ادارے اس بات کا رونا روتے رہتے ہیں کہ لوگ ریاست پر بھروسا نہیں کرتے۔ ریاستی اداروں سے محبت نہیں کرتے۔ ہماری محصولات کی وصولی بہت کم ہے۔ لوگ ملک میں سرمایہ کاری نہیں کر رہے۔ مذکورہ بالا ریاستی رویے کی موجودگی میں جو مل رہا اسی کو غنیمت جانیں۔ کجا اس میں اضافے کی امید لگائیں۔ جب ریاست ماں جیسی شفقت دیگی تو اپنائے وطن بھی مادر وطن کی مانگ میں اپنے لہو کی افشاں سجائیں گے۔

اس، وقت تک کونے میں بیٹھ کر دہی کھائیں اور ڈنڈے کے زور پر سماجی تبدیلی لانے کے خواب کو بھول جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •