ارمان لونی چوک سے ختم نبوت چوک تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زیادہ تاریخ میں جانے کی ضرورت نہیں ہے پہلے ضیائی اور مشرفی فارمولے ہوا کرتے تھے اب خیر سے نیا پاکستان میں نیا عمرانی پلس فارمولہ ہے اور اس فارمولے کے تحت پرانے انجینئرز کی ہدایات پر کام زور وشور سے جاری ہے۔ ضیائی اور عمرانی فارمولاز کی مختصر تعریف ہے مارنا، بدنام کرنا، فتوی لگانا، ہر امن پسند، جمہوریت پسند انسان دوست کو غداری کے لقب سے نواز نا اور مذہب کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کے جذبات سے کھیلنا وغیرہ وغیرہ۔

پرانی روایات کے تسلسل میں کچھ دن پہلے بلوچستان کے ضلع لورالائی میں ایک چوک ”پروفیسر ارمان لونی چوک“ کا نام تبدیل کر کے ختم نبوت چوک رکھ دیا گیا ہے اور اس بات کا فیصلہ وہاں کے مرکزی جامع مسجد کے نان لوکل پیش امام صاحب نے خدا جانے کس کے کہنے پر کیا ہے۔

آپ سب کو یاد ہوگا کہ پروفیسر ارمان لونی کو پولیس کی جانب سے لورالائی میں تشدد کر کے قتل کرنے کے بعد پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے ہوئے قتل کی ایف آئی آر کے لئے سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو مداخلت کرنا پڑی لورالائی میں شہریوں نے کئی دن تک احتجاجی دھرنا دیا اور ارمان لونی کی یاد میں شہر کے ایک بے نام چوک کو ارمان لونی چوک سے منصوب کیا لیکن یہ نام صاحبوں اور جنابوں کو پسند نہیں تھا چونکہ آج کل خیر سے قادیانیوں والا مسئلہ پھر زیر بحث ہے صاحبوں اور جنابوں نے سوچا اس سے بہتر موقع نہیں مل سکتا ارمان لونی کے نام کو مٹانے کا لہذا حسب روایت مذہبی تڑکا دیتے ہوئے چوک کا نام ختم نبوت چوک رکھ دیا اور اب اگر کسی کو مرنے کا شوق ہے تو ذرا احتجاج اور اختلاف کر کے دکھائے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حضور صلی علیہ وسلم پر ہماری جان مال سب کچھ قربان اور حضور کے نام سے خوبصورت نام ہو ہی نہیں سکتا لیکن افسوس اس بات پر کہ لورالائی کے ارمان شہید چوک کا نام محض اس وجہ سے تبدیل کر کے ختم نبوت چوک رکھ دیا گیا ہے تاکہ ارمان شہید کے نام کو مٹائے اور لوگ مزاحمت بھی نہ کریں کیونکہ پسماندہ اور جذباتی معاشرے میں جہاں آپ نے مذہب کا نام استعمال کیا وہاں سمجھوں آپ جیت گئے اور یہی کچھ ہوا ہے لورالائی میں ورنہ تو اگر صرف نام رکھنا مقصود تھا مٹانا نہیں تو لورالائی میں بے نام بازار اور چوک اور بھی تھے سپلائی چوک، ٹھگان بازار، بھاگی بازار وغیرہ میں سے کسی چوک یا بازار کا نام تبدیل کر کے ختم نبوت رکھتے۔

ویسے سوچنے کی بات ہے لورالائی جیسے پسماندہ علاقے میں چوک کا نام ختم نبوت چوک رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ لورالائی میں تو قادیانی بھی نہیں ہیں اور نہ ہی باہر کے ممالک میں سے لوگ آتے ہیں۔ نام رکھنا تھا تو اسلام آباد میں پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک کا نام تبدیل کر کے ختم نبوت چوک رکھتے تاکہ پوری دنیا دیکھتی لیکن یہ دوغلا پن سمجھ سے بالا تر ہے اپنے لئے ڈی چوک، چائنا چوک، ایف نائن، ایف ٹین، جی سیکس، بلیو ایریا وغیرہ کے نام اور ہمارے لئے ضیائی فارمولے کے امریکی ضرورت کے تحت سعودیہ کی مدد سے پہلے تشدد کو بڑھاوا دینے کے لئے سینکڑوں مدرسے بنوائے جس کا بعد میں شہزادہ محمد بن سلمان نے اعتراف بھی کیا اور اب مسجدوں کے اماموں کے ذریعے چوکوں اور بازاروں کے نام تبدیل کرنا افسوس ناک ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •