مخالف ہوائیں اور وزیراعظم کی پرواز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم عمران خان کی حالت اس وقت ایسے عقاب جیسی ہے جو حقیقی معنوں میں تندئی بادِ مخالف میں محو پرواز ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ نے ایک طرف نئی روایات کو جنم دیا ہے اور دوسری طرف امریکہ میں موجود پی ٹی آئی کے عہدیداروں کو بھی دست و گریبان کردیا ہے۔ واشنگٹن کے کیپیٹل ون ایرینا میں ہونے والا جلسہ جو کہ امریکی سیاسی تاریخ کا بھی بڑا جلسہ شمار کیا جارہا ہے جو پی ٹی آئی کے امریکی عہدیداروں کا مرہون منت نہیں تھا۔

اگرچہ ماضی میں محترمہ بے نظیربھٹو کے لئے سیاسی خدمات سرانجام دینے والے عبداللہ ریاڑ نے اپنے ساتھیوں سے مل کر اس جلسہ کو تقریباً ہائی جیک کرلیا تھا مگر یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ کیپیٹل ون ایرینا کا ہجوم عبداللہ ریاڑ یا کسی دوسرے عہدیدار کی کوششوں سے نہیں آیا بلکہ امریکہ اور کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں نے ذاتی دلچسپی کی بنیاد پر یہ تاریخ رقم کی ہے۔

امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی اکثریت عمران خان کو ملک سنوارنے کے لئے آخری امید کے طور پر دیکھ رہی ہے اور ٹیکس نظام سے متعلق وزیراعظم عمران خان کے ویژن کی حامی ہے۔ واشنگٹن میں مستقل طور پر رہائش پذیر پاکستانیوں کا خیال ہے کہ ٹیکسوں کا نظام نافذ کیے بغیر فلاحی ریاست کا تصور ناممکن ہے۔ چونکہ امریکہ کے تمام شہری ریاست کو ٹیکس دینا اپنا اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں اور اس کے جواب میں ریاست انہیں تعلیم اور صحت کی سہولتیں دہلیز پر مہیا کرتی ہے۔ اس لئے پاکستانیوں کا خیال ہے کہ پاکستان میں موجود مہنگائی کی لہر بالکل عارضی ہے اور اگر عمران خان ٹیکس وصولیوں میں کامیاب ہوگئے تو پھر پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر دوڑنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

امریکہ میں مقیم پاکستانی ایک طرف عمران خان کی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور دوسرا انہیں یہ بھی یقین کامل ہے کہ عمران خان ہی وہ ایماندار لیڈر ہے جو ان کا بھرم رکھ سکتا ہے اور قومی دو لت کا محافظ ہوسکتا ہے۔ البتہ امریکہ میں پی ٹی آئی کی قیادت کے خواہشمند اس سوچ سے ہٹ کر صرف ذاتی نمود و نمائش کے لئے جدوجہد کررہے ہیں۔ عہدوں کی دوڑ میں شامل ان نام نہاد ورکروں کا کام اس وقت آسان ہوگیا جب ٹیکساس میں آئل کا بزنس کرنے والے ایک پاکستانی جاوید انور نے پاکستان اور عمران خان کی محبت میں کیپیٹل ون ایرینا کا کرایہ مبلغ دو لاکھ ڈالر اپنی جیب سے ہی ادا کردیا۔

اس لئے چھوٹے چھوٹے عہدوں کے لئے بھاگ دوڑ کرنے والوں کو کیپیٹل ون ایرینہ کے انتظامات کے لئے دوڑ دھوپ ہی نہیں کرنا پڑی۔ امریکہ میں عمران خان کے لئے عرصہ دراز تک فنڈز ریزنگ کرنے والوں کو بھی اس دورے میں نظر انداز کیا گیا چونکہ فنڈز ریزنگ ایک عملی کام ہے اور یہ کام سچے لوگ ہی کر سکتے ہیں اور سیاسی نام کے لئے چاپلوسی اور خوشامد کام آتی ہے اس لئے وزیراعظم عمران خان کے اس دورے میں امریکہ میں موجود چاپلوس اور خوشامدی ٹولہ اصل ورکروں پر بھاری ثابت ہوا۔

وزیر اعظم کے اس دورے کو ناکام بنانے کے لئے ایک طرف پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات عروج پر تھے جبکہ دوسری طرف واشنگٹن میں موجود سرکاری میڈیا سیل میں تعینات مسلم لیگی ذہن رکھنے والے ملازمین بھی سازشیں کرتے ہوئے نظر آئے۔ امریکہ میں گزشتہ تین سال سے مسلسل مقیم عابد سعید جو کہ پریس اتاشی ہیں نے وزیراعظم کے کیپیٹل ایرینا میں خطاب سے ایک روز قبل یہ ایڈوائزری جاری کی کہ الیکٹرانک میڈیا کو کوریج کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان کے اس پروگرام کو سبوتاژ کرنے کے لئے یہ افواہ بھی اڑائی گئی کہ مسلم لیگ (ن) کے لوگ گڑ بڑ کر سکتے ہیں۔ مگر وزیراعظم عمران خان نے واشنگٹن پہنچتے ہی یہ تمام پابندیاں ختم کروائیں اور گندی سوچ رکھنے والوں کی سوچ کو بدل کر رکھ دیا۔

واشنگٹن میں موجود پاکستانی میڈیا سیل کی سازشوں اور پی ٹی آئی کے لوگوں کی نالائقیوں کے باوجود و زیراعظم عمران خان نے ایک تاریخ رقم کرکے امریکہ اور پاکستان میں اپنی دھاک بٹھا دی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ستمبر میں دوبارہ امریکہ کا دورہ کرنا ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ اس دورے سے پہلے واشنگٹن میں موجود پاکستان کے سرکاری میڈیا کی کالی بھیڑوں کو واپس بلا کر تعصب سے پاک لوگوں کو تعینات کریں۔

امریکہ میں بھی وزیراعظم نے بادِ مخالف کے باوجود زبردست پرواز کرکے دکھائی ہے اور اس بادِ مخالف کی قسطیں پاکستان میں بھی چل رہی ہیں۔ دو روز پہلے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے مشیر عرفان صدیقی کی بلا جواز گرفتاری اور پھر ہتھکڑی لگانے کی واردات حکومت کو بدنام کرنے کی ایک باریک واردات تھی۔ وزیراعظم عمران خان کو اب تک اس کے اصل کرداروں کو بے نقاب کر دینا چاہیے تھا۔ بہر حال مخالف ہواؤں میں وزیراعظم کی پرواز میں مزید بہتری آرہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 50 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat