جماعت اسلامی کی فکر سے متاثر افراد دوسری جماعتوں میں کیوں چلے جاتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عرفان صدیقی صاحب کی دلچسپ گرفتاری اور رہائی سے پہلے ایک واقعہ اور بھی ہو گزرا ہے۔ ہمارا یار عزیز ارشاد محمود تحریک انصاف کو پیارا ہو گیا ہے۔ یہ بھی اچھا لگا کہ تحریک انصاف نے اِس نگینے کی قدر کی، اسے اپنی آزاد کشمیر شاخ کا سیکریٹری اطلاعات بنا دیا۔ ارشاد وضع دار آدمی ہے، ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ اس کی بے پناہ صلاحیتوں کے مقابلے میں یہ منصب فروتر ہے، اس جماعت کے اربابِ بست وکشاد کی سمجھ میں یہ بات آ گئی اور انھوں نے اس کا ازالہ کر دیا تو مجھے اس پر کوئی حیرت نہ ہو گی۔

 ارشاد محمود صاحب ِطرز محقق اور کالم نگار ہے جس نے گزشتہ کم ازکم دو دہائیوں کے دوران مستقل مزاجی کے ساتھ قومی امور کے مختلف گوشوں، خصوصاً مسئلہ کشمیر کے بارے میں اپنی صلاحیت میں قابل قدر اضافہ کیا اور اس مسئلے کے پیچ و خم کو نہ صرف اخبارات کے ذریعے قوم پر واضح کیا بلکہ اپنے تحقیقی ادارے کے پلیٹ فارم سے دنیا بھر میں اہلِ کشمیر کی وکالت بھی کی۔

 ایک سیاسی جماعت میں ارشاد محمود کی شمولیت سے کم ازکم مجھے کوئی صدمہ نہیں ہوا کیونکہ سیاسی جماعتوں میں اہلِ علم کی شمولیت ایک صحت مند رجحان ہے، وہ جماعت تحریک انصاف ہو، مسلم لیگ ہو یا پیپلزپارٹی یا کوئی اور۔ اس لیے میں توقع کرتا ہوں کہ اگر کوئی اب یا مستقبل میں ارشاد محمود سے خفا ہو جائے تو وہ اس سلوک سے گریز کرے گا جو عرفان صدیقی صاحب کے ساتھ لفافہ وغیرہ کی پھبتیاں کس کر کیا گیا۔ خیر، تمہید ذرا طولانی ہو گئی ہے، ارشاد محمود کی تحریک انصاف میں شمولیت کئی اعتبار سے اہم تو ہے ہی لیکن اِ س واقعہ کا ایک پہلو ایسا ہے جو غور و فکر کے دروازے کھولتا ہے۔

 پاکستان کے موجودہ سیاسی منظرنامے پر نگاہ دوڑائیں تو صدر مملکت سے لے کر اسپیکر قومی اسمبلی تک بہت سی ایسی شخصیات دکھائی دیتی ہیں، زمانہ طالب علمی میں جن کا تعلق اسلامی جمعیت طلبہ سے رہا ہے۔ اتفاق سے ارشاد محمود کا پس منظر بھی کچھ ایسا ہی ہے، یوں اس واقعے نے ہمیں اس معاملے پر غور کرنے کا ایک بار پھر یہ موقع فراہم کردیا ہے کہ جمیعت کے لوگ میدان سیاست کا رخ کرتے ہیں تو وہ اس مقصد کے لیے جماعت اسلامی کا انتخاب کیوں نہیں کرتے، دیگر جماعتوں کا رخ کیوں کرتے ہیں؟

 تن آسانی سے کام لیا جائے تو اس سوال کا ایک آسان جواب یہ ہے کہ یہ دنیا دار لوگ ہیں، ایک عظیم نظریے کی طرف پیٹھ پھیر کر چمک دمک پر مر مٹتے ہیں، دوسرے الفاظ میں اپنی عاقبت خراب کرتے ہیں۔ عاقبت کا معاملہ تو وہ جانیں یا ان کا خدا جانے لیکن یہ معاملہ ایسا نہیں ہے جس کا فیصلہ یوں آسانی سے کیا جا سکے۔

 پچیس تیس برس قبل یا اس سے بھی پہلے اگر کوئی یوں اپنے لیے کسی سیاسی راستے کا انتخاب کرتا تو جماعت سے وابستہ دوستوں میں افسردگی کی ایک لہر سی دوڑ جاتی اور انجام کار ایسے لوگوں کا سماجی مقاطعہ کر کے ان کے حق میں دعائے مغفرت وغیرہ کر لی جاتی لیکن اب صورت حال میں جوہری تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔ یہ تو میرے علم نہیں ہے کہ خود جماعت اور جمیعت کے متعلقہ فورموں پر اس معاملے پر کشادہ ذہنی کے ساتھ کوئی مکالمہ ہوا ہے یا نہیں لیکن ان دنوں سوشل میڈیا کی برکت سے اس موضوع پرکھلے مکالمے کی کچھ جھلکیاں ضرور سامنے آتی رہتی ہیں۔

 تبادلہ خیال کی ان نشستوں میں استغفار، دعائے مغفرت اور ایسے لوگوں کی جاہ طلبی پر اِن کی جھاڑ پھونک تو اکثر ہوتی ہے لیکن بعضے کچھ سنجیدہ سوالات بھی اٹھ جاتے ہیں کہ آخر بدگمانی کو ذرا رخصت پر بھیج کر یہ بھی تو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ آخر کوئی کیوں کسی نئے راستے کا انتخاب کرتا ہے؟

 میرا خیال ہے کہ اس سوال پر غور کرنے کے لیے جماعت کے بنیادی ڈھانچے کو سمجھنا ضروری ہے۔ مولانا مودودیؒ نے جب اس جماعت کی بنیاد رکھی تو ان کے پیش نظر یہ ہدف تھا کہ اچھے مسلمان یعنی صالحین تیار کیے جائیں اور سیاست سے کوئی علاقہ نہ رکھا جائے۔ اس حکمت عملی کے پس پشت کہ یہ فلسفہ کارفرما تھا کہ تبدیلی ہمیشہ نیچے سے آتی ہے۔ یعنی اگر لوگ اچھے ہو جائیں گے تو وہ خود بخود اچھے لوگوں کو منتخب کر کے اسمبلیوں میں بھیجیں گے۔ اس طرح درکار تبدیلی تدریج کے ساتھ رونما ہو جائے گی۔

 اس ہدف کے حصول کے لیے جماعت اسلامی کا انتظامی ڈھانچہ نہایت موزوں بلکہ اپنے عہد کے جدید ترین اصولوں پر استوار کیا گیا تھا۔ بعد میں جب مولانا مودودیؒ کی رائے میں تبدیلی آئی اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اچھے مسلمانوں کی تیاری اور اچھی قیادت کے انتخاب کا کام دو علیحدہ علیحدہ شعبے نہیں بلکہ بیک وقت کرنے کے کام ہیں تو جماعت کے اندازکار میں یوں کہہ لیجئے کہ انقلاب برپا ہو گیا۔ اس فیصلے کے حسن و قبح (یعنی اچھے یا برے ہونے) کی بحث ایک دوسرا موضوع ہے، اس لیے اس سے اسے سرِدست ملتوی رکھتے ہوئے ایک اور معاملے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

 برصغیر ہی نہیں دنیا بھر کی عوامی سیاست کا (جسے پاور پالیٹکس بھی کہا جا سکتا ہے) ایک خاص انداز ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک خاص آہنگ پر سیاسی جماعتیں تشکیل دی جاتی ہیں جن میں زیادہ سے زیادہ لوگ کھپانے اور مختلف انداز فکر و مزاج رکھنے والے افراد کی گنجائش رکھی جاتی ہے لیکن جماعت اسلامی جیسی سنجیدہ اور نظریاتی جماعت کے اس ڈھانچے میں، جسے تربیت کے ایک وسیع عمل کے ذریعے اچھے مسلمان تیار کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا، اس کشادگی کی گنجائش فطری طور پر نہیں ہوسکتی تھی۔

 اس سلسلے میں ایک اور مشکل جماعت کا مخصوص نظام ذمہ داری ہے جو ایک فلسفے اور نظام کے تحت ترتیب پاتا ہے۔ اس نظام میں وہ لوگ جو سیاسی ذہن بھی رکھتے ہیں اور کچھ کر گزرنے کی صلاحیت بھی ان کے پاس موجود ہوتی ہے، خود کو لاچار پاتے ہیں کیوں کہ انھیں اپنی صلاحیت اور ذہن کے مطابق کام کرنے کی گنجائش دکھائی نہیں دیتی، لہٰذا ایسے لوگ خود کو کسی نئی منزل کے تعین پر مجبور پاتے ہیں۔

 اندازہ ہے کہ اگر سیاسیات کا کوئی محقق پاکستان میں جماعت اسلامی کی کم ہوتی ہوئی مقبولیت کا سائنسی بنیادوں پر جائزہ لے تو وہ اسی سے ملتے جلتے نتیجے پر پہنچے گا۔ میرا خیال ہے کہ جماعت سے قبل کمیونسٹ پارٹی کے زوال کا سبب بھی کچھ ایسی ہی باتیں رہی ہوں گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •