کچھ پروفیسر خورشید احمد کے بارے میں

’ بڑے لوگوں کی صحبت انسان کو بڑا بنا دیتی ہے‘ ۔ اس مقولے کو مجسم دیکھنا ہو تو پروفیسر خورشید احمد کو دیکھئے۔ ان کے آبا و اجداد جالندھر کی خاک سے اٹھے اور دلی کے ہو گئے پھر رشتوں ناتوں کا سلسلہ ترکی تک دراز ہو گیا، یوں اس خاندان میں وہ کیفیت پیدا ہوئی جسے اقبال نے سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے کہہ کر بیان کیا ہے۔ پروفیسر خورشید کے والد نذیر احمد قریشی

Read more

بنگلا دیش میں انقلاب اور حسینہ واجد کا انجام

بے گناہوں کا لہو رنگ لایا اور حسینہ واجد بنگلا دیش سے فرار ہو کر بھارت جا پہنچیں۔ اب سوال یہ ہے کہ بنگلا دیش کے انقلاب نیز حسینہ واجد کا انجام کیا ہو گا؟ ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ یہ 1991۔ 92 کی بات ہوگی، شہید بے نظیر بھٹو نے سارک اپوزیشن فورم قائم کیا جس میں شرکت کے لیے تمام رکن ملکوں سے حزب اختلاف کے راہ نما کراچی پہنچے۔ ان میں حسینہ واجد بھی شامل تھیں۔ جناح

Read more

پاکستان کی تاریخی سفارتی جست

صحافت کے دور ’زوال‘ میں آنکھیں کھول کر کالم نگاری کی شد بد حاصل کرنے والے ایک یار عزیز نے پنڈورا باکس کھولنے کی کوشش کی ہے لیکن برادر محترم وجاہت مسعود نے مولانا مودودی علیہ رحمہ کی پیروی میں خاموشی کا مشورہ دیا ہے کہ مولانا کی زبان یا قلم سے کبھی کوئی سوقیانہ بات نہیں نکلی۔ کبھی انھوں نے کسی مخالف کو شیطان قرار دیا نہ طوائف جیسے لفظ سے اپنے قلم کو آلودہ کیا۔ یہ طرز تکلم

Read more

حافظ نعیم: کیا یہ جماعت اسلامی کی نظریاتی بازیافت ہے؟

نو منتخب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی شخصیت ماضی کے تمام امرا سے مختلف شخصیت دکھائی دیتی ہے۔ وہ حافظ بھی ہیں اور انجینئر بھی۔ وہ جماعت اسلامی کے کسی بھی بزرگ کی طرح مشرقی لباس زیب تن کرتے ہیں اور ایک عام پاکستانی کی طرح مغربی لباس پہننے میں بھی انھیں کوئی عار نہیں۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جماعت کی قیادت اب مکمل طور پر نئی نسل کو منتقل ہو گئی ہے۔ کیا یہ

Read more

ضرورت ہے ایک مہرباں تھپکی کی

وہ خورشید محمود قصوری کا گھر تھا جہاں میری نواز شریف صاحب سے ملاقات ہوئی۔ کوئی چاہے تو اسے ملاقات تسلیم کرنے سے انکار کر دے لیکن میرے لیے تو وہ ایک یاد گار ملاقات تھی جس میں مجھے ایک شخص کے مزاج کی وہ جھلک دیکھنے کو ملی جس تک پہنچنے کے لیے بعض لوگوں کا سفر کبھی ختم ہی نہیں ہوتا۔ یہ ملاقات کیسے اہم تھی؟ یہ سمجھنے کے لیے پہلے دو واقعات کا ذکر خاص طور پر

Read more

آصف زرداری اور شہباز شریف کی جوڑی

صدارتی انتخاب کے بعد انتخابی عمل مکمل ہو چکا ہے۔ اس کے بعد قوم حکمرانوں سے بہت سی توقعات خاص طور پراقتصادی دباو سے نجات کی امیدوابستہ کرتی ہے تو یہ اس کا حق ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکمراں اتحاد عوام کی توقعات پر کتنا اتر سکتا ہے؟ حکمرانوں کی کارکردگی کا کافی کچھ انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ کون سی ذمے داری کس کے پاس ہے کیوں کہ یہ افراد ہی ہوتے ہیں

Read more

آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ اور اسلام

عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف پے درپے کئی فیصلے آگئے۔ ان فیصلوں کے بعد اس جماعت کے سیاسی مستقبل پر کئی سوالیہ نشان لگ گئے۔ آنے والے دنوں میں جن پر تفصیل سے بات ہو گی۔ اسی دوران میں مسلم لیگ ن سمیت ملک کی چند بڑی جماعتوں کے منشور بھی آگئے۔ اس معاملے کا ایک دل چسپ پہلو یہ ہے کہ ن لیگ کا منشور جب تک نہیں آیا تھا، اس جماعت کو طنز و تعریض

Read more

مریم نواز کا مشورہ

مریم نواز شریف نے ایک بات خوب کہی، کہا : ’ ووٹ کا استعمال خوب سوچ سمجھ کر کریں کیوں کہ یہی ووٹ ہے جو ہماری نسلوں کے بہتر مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔‘ مریم نواز اس جمعرات اپنے قومی اسمبلی لاہور کے حلقہ 119 میں تھیں۔ ان کی تقریر جمی ہوئی تھی، نسبتاً مختلف تھی اور جذباتی بھی۔ جذباتی تو وہ اس لیے تھیں کہ 2018 کے انتخابات میں بھی وہ اسی حلقے سے امیدوار تھیں لیکن اس سے

Read more

وکیل پی ٹی آئی کو کیوں لے ڈوبے؟

سپریم کورٹ میں جس وقت پی ٹی آئی کے انتخابی نشان کے مقدمے پر بحث جاری تھی، وکلا کی ایک جیسی باتوں کی تکرار سے طبیعت تھوڑی اوبھ گئی۔ بس اسی اثنا میں میری نگاہ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کی کتاب ’میرے راہنما، میرے ہم نوا‘ پر پڑی۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ ان لوگوں کے تذکرے لکھے ہیں، اپنے سیاسی سفر کے دوران میں ان کا جن جن سے واسطہ پڑا۔ فرید احمد پراچہ کا تعلق جماعت اسلامی کی دوسری

Read more

انتخابات کے التوا کی سازش

’ چھوڑو یار، اب بیٹھ جاؤ، بیٹھ جاؤ افنان‘ ۔ یہ سینیٹر بہرہ مند تنگی تھے۔ جمعے کے روز سینیٹ میں جب انتخابات کے التوا کی قرارداد پراسرار طور پر پیش ہوئی تو جمہوریت پر یقین رکھنے والے ایک سچے سیاسی کارکن کی طرح سینیٹر افنان اللہ خان اٹھ کھڑے ہوئے اور انھوں نے قرار داد کی مخالفت کر دی۔ اس مرحلے پر انھیں بات کرنے سے روکنے میں سب سے زیادہ دل چسپی دو افراد کو تھی۔ ان میں

Read more

ٍ وہ حقیقت جو عرفان صدیقی نے سمجھائی

’جائے استاد خالی است‘ ۔ ذکر اس سیاست کا تھا جسے بلاول بھٹو زرداری نے ازکار رفتہ قرار دیا، سوال برادرم سلیم صافی کا تھا اور جواب قبلہ گاہی سینیٹر عرفان صدیقی صاحب کا۔ اس جواب میں کچھ ایسی بات تھی جس نے یہ بھولا بسرا محاورہ یاد دلا دیا۔ عرفان صدیقی صاحب سیاست میں ضرور ہیں لیکن انھیں بہ طور صحافی اپنی شناخت زیادہ عزیز ہے حالاں کہ وہ لفظ و خیال کے جادو گر یعنی ادیب ہیں، نسبتاً

Read more

انتخابات کے التوا کی سازش

چیف جسٹس آف پاکستان نے بیک جنبش قلم انتخابات کے التوا کی سازش ناکام بنا دی۔ یہ ایک مبارک فیصلہ ہے۔ اس کی برکت سے قومی زندگی پر چھائی ہوئی ہر نحوست ان شا االلہ چھٹ جائے گی اور معاملات سیاست و ریاست سیدھی راہ پر گامزن ہو جائیں گے۔ قومی معاملات کا سیدھی راہ پر گامزن ہو جانا یقیناً اطمینان بخش ہے لیکن یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ آخر وہ کون ذات شریف ہے جسے انتخابات کی تمنا

Read more

اٹھارہویں ترمیم

کیا 18 ویں ترمیم واقعی رول بیک کی جا رہی ہے؟ کیا سینیٹر رضا ربانی کے اس الزام میں کوئی حقیقت ہے کہ مسلم لیگ نون اس ترمیم کے ذریعے صوبوں کو دی گئی خود مختاری کے خاتمے پر تل چکی ہے؟ استاد محترم مرحوم و مغفور پروفیسر سید متین الرحمن مرتضی یاد آ گئے۔ یہ واقعہ کراچی یونیورسٹی کا ہے۔ خبر اڑی کہ ایک گروہ جامعہ میں متحرک ہے جو طالبات پر تیزاب پھینکتا ہے اور ان کے بے

Read more

نواز شریف کی راہ کے کانٹے اور عمران خان

پی ٹی آئی نے اپنی جماعت میں انتخاب تو اس خوبی سے کرایا ہے کہ دنیا اش اش کر اٹھی ہے۔ آئندہ چند روز اس واقعے کا تذکرہ رہے گا۔ کوئی بھولے گا تو اکبر ایس بابر اسے یاد دلا دیں گے۔ مزید کوئی کسر اگر رہ گئی تو اکبر صاحب اسے الیکشن کمیشن یا کسی دوسری عدالت میں چیلنج کر کے پوری کر دیں گے۔ اب یہاں دو سوال ہیں۔ ایک یہ کہ پی ٹی آئی کو مرنے کا

Read more

بھٹو اور نواز شریف: ایک معروضی موازنہ

قیام پاکستان کے بعد ہمارے سیاسی منظر نامے پر کئی سیاست دان آئے اور کئی گئے لیکن دو شخصیات ایسی ہیں جن کے کردار کا نقش تادیر قائم رہے گا۔ ان میں ایک ذوالفقار علی بھٹو ہیں اور دوسرے میاں نواز شریف۔ یہ دو کردار کیوں ہمیشہ یاد رکھے جانے کے قابل ہیں اور ان دونوں کے درمیان بنیادی فرق کیا ہے؟ سیاست سے دل چسپی رکھنے والے کسی بھی فرد کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے۔ سوال یہ

Read more

سہیل وڑائچ اور نواز شریف

کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ بڑھتے ہوئے اخراجات ریورس گیئر لگا کر کم ہو جائیں۔ ہماری آپ کی معمول کی زندگی میں تو اس کی شہادت نہیں ملتی لیکن حج کے اخراجات میں ایسا ہو گیا ہے۔ ہمارے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور انیق احمد تھے تو فی الاصل تو شاعر پھر اینکر ہوئے اور قرآن حکیم میں کھو گئے۔ وزیر کیسے بن گئے۔ اس کی خبر انھیں بھی نہیں ہو سکی۔ وزیر بن کر انھوں نے سوچا کہ

Read more

مسلم لیگ (ن) کی منشور کمیٹی

سوال کرنے والے بھی خوب تھے لیکن جواب دینے والا استاد ثابت ہوا۔ یہ ذکر سینیٹر عرفان صدیقی صاحب کا ہے۔ اس سوال جواب کی تفصیل پر بھی بات ہوگی لیکن مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس سے قبل تھوڑی بات سوال جواب کی تہذیب کے بارے میں کر لی جائے۔ صحافت کی دنیا میں آنے سے قبل ہم نے اہل صحافت کو دیکھا اور ان سے اس پیشے کے اسرار و رموز سیکھے۔ ان میں ایک ملک محمد معظم

Read more

امید پاکستان

میاں صاحب کامل چار برس کے بعد پاکستان میں ہیں۔ ان کی واپسی کے سفر کو امید پاکستان کا عنوان دیا گیا ہے۔ یہی امید رہی ہو گی کہ ان سے محبت کرنے والے پورے پاکستان سے لاہور میں امڈ آئے۔ اس واقعے پر میاں صاحب کے حامیوں اور مخالفین کا ردعمل اپنا اپنا ہے۔ ان کے حامی کون ہیں؟ یہ سوال پوچھنے کی ضرورت نہیں بالکل اسی طرح مخالفین کو بھی دنیا جانتی ہے۔ میاں صاحب کے استقبال اور

Read more

عید میلاد النبی: مولانا راغب نعیمی کی پکار

بالآخر مولانا راغب نعیمی کے صبر کا بندھن بھی ٹوٹ گیا۔ ایسے معاملات جن کے ساتھ جذبات وابستہ ہوں اور جذبات بھی دینی یا ملی، ایسے مواقع پر لوگ خاموش رہتے ہیں۔ نجی سطح پر بات کرتے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بات زباں سے پھسل گئی تو اس کے بعد وعدے وعید لے لیے گئے کہ اب یہ بات دائرے سے باہر نہ جائے گی۔ وہ بڑے لوگ ہوتے ہیں جو کوئی کوتاہی دیکھتے ہیں اور ڈنکے

Read more

آمد نواز شریف کی اور ایک نئی جماعت کی

کوئی دن جاتے ہیں کہ نواز شریف پاکستان میں ہوں گے۔ ان آمد سے کچھ پہلے یا تھوڑا بعد ایک نئی سیاسی جماعت کی ولادت بھی متوقع ہے۔ اس سیاسی جماعت کی بات بھی ہوگی لیکن بنیادی موضوع سابق وزیر اعظم کی واپسی کا ہے۔ پرانی داستانوں اور کہانیوں میں اصل واقعے کے گرد پے بہ پے ابہام اور الجھنیں لپیٹ دی جاتی تھیں، ہیرو جن کے چنگل سے نمٹتے نمٹتے بال سفید کر بیٹھتا تھا۔ بزرگی کی منزل تو

Read more

مصر کے بازار میں پاکستانی شاہ کار

مصر کے صدر جمال عبد الناصر پاکستان کے مقابلے میں بھارتی قیادت سے زیادہ قریب تھے اور پاکستان کے بارے میں یعض اوقات چبھتے ہوئے جملے بھی کہہ جاتے تھے جیسے کہ14؍ اگست کو پاکستان کے ساتھ اسلام بھی اتارا گیا ہے۔ اس جملے کے راوی سردار محمد اکبرخان ترین ہیں جن کا شمار بلوچستان کے بڑے زمینداروں میں ہوتا ہے۔ وہ وکیل ہیں لیکن ہماری فیوڈل کلاس کے ایک حصے کی روایت کے مطابق تاریخ اور سیاسیات عالم سے

Read more

مسجد کس کے قبضے میں ہے؟

ہری پور ہزارہ سے تعلق رکھنے والے ایک ممتاز عالم دین تھے۔ تقریر ایسی کیا کرتے کہ وہ کہیں اور سنا کرے کوئی۔ علم اور فن خطابت کی جتنی خوبیاں بھی ہو سکتی ہیں، ان کی ذات میں جمع تھیں لیکن کمزوری ایک ہی تھی، مولانا مودودی۔ کسی نہ کسی بہانے وہ خود ان کا ذکر کر دیتے پھر موضوع سے بھٹک جاتے۔ اس کے بعد مودودی کا ذکر ہوتا اور ان کی دانست میں اس کی گمراہیوں کا تذکرہ۔

Read more

مرتضیٰ سولنگی: حق بحق دار رسید

جناب آصف علی زرداری نے ایک شخص کو امریکا سے طلب کیا اور کہا کہ وہ فلاں ذمے داری سنبھال لیں۔ صدر مملکت کے سامنے بیٹھے اس شخص نے سوچا کہ کہاں امریکا کے معاوضے اور کہاں اپنے دیس کا رقص درویش، ایک ڈیڑھ لمحے کے بعد اس شخص نے سر اٹھایا اور کہا: ’ جو آپ کا حکم صدر مملکت!‘ ۔ صدر مملکت کو بھی اندازہ تھا کہ اس شخص نے اگر میری خواہش کو اپنی خواہش بنا لیا

Read more

مولانا اشرف علی تھانوی بنام ڈھلمل یقین پاکستانی

برادرم خورشید ندیم، ڈاکٹر نجیبہ عارف اور ڈاکٹر محمد سلیم مظہر کے تقرر پر ہمیں خوشی کا اظہار کرنا ہے اور انھیں مبارک باد دینی ہے لیکن پہلے ایک ضروری یاد کا تذکرہ۔ مجھے جمعے کا ایک خطبہ یاد آتا ہے اور خطبہ دینے والے شخص کا چہرہ۔ جوان مضبوط جسم، اٹھی ہوئی ٹھوڑی جس کے سبب سیاہ داڑھی کچھ مزید نمایاں ہو کر چھاتی پر سایہ فگن ہو جاتی۔ جہاں میں جمعے کی نماز پڑھا کرتا تھا، اس مسجد

Read more

عسکریت پسند: مولانا اشرف علی تھانوی ؒکی نگاہ میں

موضوعات بہت سے ہیں۔ ان میں کچھ لذیذ ہیں اور کچھ لذیذ تر۔ خود نگران وزیراعظم کے انتخاب کا معاملہ ہی ایسا ہے جس پر پہروں گفتگو کی جا سکتی ہے اور وہ بھی تھکے بغیر لیکن میری نگاہ میں باجوڑ کے واقعے کی اہمیت اس سے بڑھ کر ہے۔ جمیعت علمائے اسلام کے کنونشن پر حملہ آور درجنوں کارکنوں کی شہادت ہماری نگاہ میں دہشت گردی ہے اور ایک گروہ کے خیال کے مطابق نیکی۔ نیکی کے لفظ پر

Read more

خلیل طوقار اور طارق کلیم

پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار کی پاکستان آمد ذاتی طور پر میرے لیے تو خوشی کا باعث ہوتی ہی ہے، میرے وطن میں بھی ان کے آنے سے بہار آ جاتی ہے۔ مجھے اسی بہار کی کچھ جھلکیاں پیش کرنی ہیں لیکن ایک اور معاملہ مجھے متوجہ کر رہا ہے جو فوری نوعیت کا ہے۔ لاہور کے ایم اے او کالج کی تاریخ بڑی شان دار اور رنگا رنگ ہے۔ کچھ ذاتی یادیں بھی تاریخی ادارے سے وابستہ ہیں لیکن اس

Read more

پھر اندھیرا ہے

خبریں ہیں کہ جناب آصف علی زرداری پنجاب میں ڈیرے ڈالیں گے۔ میرے محترم پروفیسر ڈاکٹر شہزاد اقبال شام کا سوال یہ تھا کہ کیا نواز شریف اس کے جواب میں سندھ میں قدم جمانے کی کوشش کریں گے؟ اس سے پہلے کہ اس سوال کا جواب ملتا، عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری نے ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ ان کے اس اقبالی بیان کے بعد کیا ہو گا؟ اگر اس قانون شکنی کو معمولی

Read more

ایک خاموش میثاق

مجھے آپا نعیم فاطمہ علوی کی بات کرنی ہے لیکن پاکستان کے موجودہ اقتصادی بحران کے بطن سے برآمد ہونے والے ایک خیر کی بات پہلے ہو جائے کیونکہ جس شر سے یہ خیر برآمد ہوا ہے، آپا اسی شر کی بیخ کنی کے کام میں دل و جان سے مصروف ہیں۔ اقتصادی بحران کے تعلق سے خیال اگر آئی ایم ایف کے اسٹینڈ بائی معاہدے کی طرف جاتا ہے یا سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات جیسے ملکوں

Read more

آذربائیجان تا قزاقستان

وزیر اعظم شہباز شریف کے دورے نے مرحوم و مغفور صدر ممنون حسین کے دورے آذربائیجان کی یاد تازہ کردی۔ مارچ 2014 میں ہونے والے والے اس دورے کا ایجنڈا بھی وزیر اعظم کے دورے کی طرح بہت بھرپور تھا۔ اس میں ایک بڑا معاملہ باکو میں نیشنل بینک آف پاکستان کی بینک کھولنے سے متعلق تھا۔ مشکل یہ تھی کہ آذربائیجان کے قانون کے مطابق پاکستان کے قومی بینک کی شاخ کھولنے کے لیے ایکویٹی کی جتنی رقم درکار

Read more

اگر طیب ایردوآن ہار جاتے

 ’۔ دعا کریں، طیب ایردوآن جیت جائیں، ورنہ خطہ بہت سے مسائل سے دوچار ہو جائے گا۔‘ یہ جملہ پاکستان کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا ہے۔ ترکیہ کے صدارتی انتخابات کے پہلے راؤنڈ کے بعد کی بات ہے جو بے نتیجہ رہا۔ یہ ان ہی دنوں کی بات ہے جب وزیر اعظم نے یہ بات اپنے ایک دوست عظیم چوہدری سے تشویش کے لہجے میں کہی۔ ترکیہ جیسا عزیز از جان دوست ہو یا کوئی بھی دوسرا دوست

Read more

کہاں سیاسی کارکن اور کہاں یہ مجنوں

محترمہ ملیکہ بخاری نے کیا عجب بات کہی۔ فرمایا کہ گرمی کے اس موسم میں ایک دن میں بھی اڈیالہ جیل میں ایک دن گزار دیکھیں تو معلوم ہو کہ جیل کیا ہے اور مشکلات کیا ہوتی ہیں۔ یہ کہانی فقط ملیکہ بچاری صاحبہ کی تو نہیں۔ دو تین چار، زیادہ سے زیادہ ہفتہ دس دن جیلیں گزار کر نکلنے والے تقریباً سارے ہی سورماؤں کے منھ سے کچھ ایسے ہی پھول جھڑے ہیں۔ ان لوگوں کے منھ سے یہ

Read more

زندگی یا تاریک راہیں

یہ محض روایتی بات ہوگی اگر کہا جائے کہ پاکستان بحرانی کیفیت میں ہے۔ کہنے، سوچنے اور کرنے کی بات یہ ہے ملک اس وقت جس بحران میں پھنسا دیا دیا ہے، اس سے نکلنا کیسے ہے؟ سیاسی کشاکش، آئینی بحرانوں اور گوناگوں تنازعات سے نکلنے لیے عدالتوں سے رجوع کیا جائے تو اس میں ہرج کی کوئی بات نہیں لیکن ان اداروں سے اگر شکایات پیدا ہونے لگیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان قضیوں کو نمٹانے

Read more

امریکی مفادات کا محافظ

کیا پاکستان میں قانون اور آئین باہم ٹکرا چکے ہیں یا اس بریک ڈان کا سبب کچھ اور بھی ہے؟ سوال ایک ہے اور مفروضے بے شمار لیکن سچ یہ ہے کہ نہ بات سمجھ میں آ رہی ہے اور نہ جھگڑا ختم ہونے میں آ رہا ہے۔ اس اندھیرے میں روشنی کہاں سے ملے؟ ہمارے دائیں بائیں دکھائی دینے والے سب کردار تو الجھے ہوئے ہیں اور اس قدر مصروف ہیں کہ لگتا ہے کہ وہ خود ہی سے

Read more

آئین کی ایپلیکیشن

وزارت اطلاعات و نشریات اور پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن نے نادرا کے تعاون سے آئین پاکستان کی ایک ایپ تیار کی ہے۔ یوں یہ دستاویز پاکستان کے ہر شہری کے سیل فون کا حصہ بن گئی ہے۔ یہ ایپ کتنی اہمیت رکھتی ہے اور ہماری قومی زندگی کے لیے کتنی اہم ہے؟ یہ سمجھنے کے لیے چند مزید سوالات پر غور ضروری ہے۔ پاکستان کا بنیادی المیہ کیا ہے؟ جمہور کشی، مارشل لا، انصاف کے ایوانوں میں جسٹس منیر اور

Read more

فیصلے کے بعد

جسٹس اطہر من اللہ کا نوٹ ادارے پر چھائی گہری تاریکی میں روشنی کے گولے کی طرح ہے۔ مرحوم و مغفور خالد ایم اسحاق ایڈووکیٹ فرمایا کرتے تھے کہ تاریخ کچھ بھی ہو لیکن ہمارے جیسے سماج میں عدلیہ کا ایک خاص کردار ہے۔ یہ کردار برطانوی سماج کے اس تصور جیسا ہے جس کے مطابق بادشاہ کبھی غلطی نہیں کرتا۔ پاکستان اور مسلم سماج میں عدالت کے اس تاثر کی وجہ یہ ہے کہ یہ کسی بھی ظلم اور

Read more

پروفیسر فتح محمد ملک کا آشیاں

کسی عہد کی تہذیب، ثقافت اور سیاست کو سمجھنے کے ذرائع کچھ ایسے کم نہیں ہوتے لیکن خود نوشت سوانح یوں سمجھ لیجیے کہ ایک بنیادی ذریعہ ہے۔ وہ معاشرہ بنجر ہو جاتا ہے جس میں کسی عہد کے کردار اپنی گواہی سے پہلو تہی کریں۔ یہی گواہی ہے جسے علمی دنیا میں خود نوشت سوانح کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارے اہل دانش کے ایک بڑے طبقے نے اس فریضے سے کبھی

Read more

مریم نواز کی تشخیص

مریم نواز نے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ عمار مسعود سوال کرنے والے ہوں اور بات کرنے والی مریم نواز، اس کے باوجود کوئی دھماکا نہ ہو، یہ ممکن نہیں۔ عمار مسعود کا شمار بھی ہمارے جیسے ان لوگوں میں ہوتا ہے جو ادب سے شروع ہوئے اور صحافت تک پہنچے پھر اسی کے ہو رہے۔ ادب اگرچہ اب بھی ان کے رگ و پے میں بستا ہے اور خوشبو دیتا ہے لیکن آخر روزی روٹی بھی تو

Read more

پاکستان میں میڈیا کا بحران

گزشتہ دنوں ادارہ ٔ فروغ قومی زبان نے قومی صحافت کے پچھتر برسوں کے موضوع پر ایک روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام کیا۔ کانفرنس میں صحافت کی تاریخ، تحریک آزادی اور جمہوریت کی بحالی اور استحکام کے لیے جدوجہد جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔ جناب سہیل وڑائچ نے آج کی قومی صحافت کو ماضی کے مقابلے میں نہایت کامیاب اور موثر قرار دیا۔ برادر محترم خالد عظیم چوہدری نے اردو صحافت کی دو صدیوں پر محیط تاریخ کا جائزہ

Read more

مریم نواز کی نئی یلغار

پاکستان میں سیاسی تحریکیں بہت چلیں۔ ان تحریکوں کے دوران میں گرفتاریاں بھی بہت ہوئیں لیکن جیل بھرنے کی تحریکیں جن کی وجہ سے پورا سیاسی منظرنامہ ہی بدل گیا، دو ہیں، یعنی پی این اے اور ایم آر ڈی کی تحریکیں۔ یہ تحریکیں کیسے چلائی گئیں، انھیں چلانے والے سیاسی حکمت کاروں کے ہاتھ میں وہ کیا ہنر تھا جس کی وجہ سے یہ تحریکیں مہینوں طویل ہو گئیں لیکن اس کے باوجود ان کی وجہ سے پیدا ہونے

Read more

جیل بھرو تحریک

پاکستان جب پرانے سے نیا ہو رہا تھا، لوگوں کی اس سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں۔ یہ صرف عمران خان کی شخصیت سے مسحور لوگوں اور نوجوانوں کی بات نہیں، ان سے تحفظات رکھنے والے بھی کچھ نہ کچھ امید ضرور رکھتے تھے۔ سبب یہ تھا کہ نوخیز نوجوانوں میں وہ جو ایک خاص قسم کی سادگی اور ایمان داری ہوتی ہے، توقع تھی کہ اگر یہ نیک جذبہ بروئے کار آ گیا تو قومی زندگی پر اس کے

Read more

امجد اسلام امجد کا اثاثہ

امجد اسلام امجد کی شاعری سے میں بعد میں متعارف ہوا، اس سے پہلے ان کے ڈائیلاگ کو جانا۔ ’اڈ مکھی‘ اور ’سواد آ گیا بادشاہو‘ دو ایسے فقرے تھے جو نوے کی دہائی میں زبان زد عام تھے۔ جس کسی سے جان چھڑانی ہو، کوئی اپنی افتاد طبع کے باوصف آپ کی جان کو آ گیا ہو اور آپ نجات چاہتے ہوں، کسی کی موجودگی آپ پر گراں گزر رہی ہے، چہرے پر ذرا مضحک سی مسکراہٹ لائیے، لب

Read more

خواجہ سعد رفیق کی گرین لائن

خواجہ سعد رفیق میرے زمانہ طالب علمی کے براہ راست ساتھی تو نہیں لیکن یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ رشتہ دور کا ہے۔ مخدم جاوید ہاشمی، لاڑکانہ والے مرحوم عبد الحمید شیخ اور میجر راجا نادر پرویز کے ساتھ ہم نے سکھر سے کوئٹہ تقریباً ’پا پیادہ‘ سفر کیا۔ پا پیادہ یوں کہ جگہ جگہ اتنے پڑا کیے، لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں اور ان قائدین نے اجتماعات سے خطاب کیا۔ یوں لگتا تھا کہ یہ سفر ہم جیسے

Read more

مریم نواز سے وابستہ اصل امید

مریم نواز لوٹ آئی ہیں اور مسلم لیگ کے متوالوں نے ان کا پرجوش خیر مقدم بھی کر دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ مریم نواز نے گزشتہ چار ماہ کے دوران میں ایسا کیا کیا ہے کہ وہ ایسے استقبال کی حق دار بنیں اور ایسا کیا ہے جو وہ اب کریں گی تو ان کی جماعت میں زندگی کی ایک نئی لہر دوڑ جائے گی؟ یہ سوالات ایک بحث کے متقاضی ہیں۔ اس بحث میں جانے سے

Read more

قریشی صاحب کا ٹوٹا تارا اور عمران خان

مرحوم مشرقی پاکستان ایک ایسا موضوع ہے جس پر مخدومی الطاف حسن قریشی صاحب نے جان مار کر کام کیا۔ ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کا شاید ہی کوئی اخبار اور رسالہ ہو جو اپنے خرچ پر مہینوں طویل سفر کر کے عوام کی نبض پر ہاتھ رکھے اور یہ جاننے کی کوشش کرے کہ وہ کیا سوچتے اور کیا چاہتے ہیں۔ قریشی صاحب اس زمانے میں کسی بڑے اخبار حتیٰ کہ کسی ہفت روزے کے بھی نہیں ایک ماہ

Read more

عمران خان کی اصل منزل

بظاہر تو یہ ایک گروہ کی جیت اور دوسرے کی ہار ہے لیکن ایسا سمجھنا ایک پیچیدہ معاملے کی آسان تفہیم ہو گی۔ ایسی تفہیم پر اصرار کو بلی کے سامنے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لینے جیسا سمجھنا چاہیے۔ یہ صرف پنجاب اسمبلی اور اس کے بعد خیبر پختونخوا اسمبلی کی تحلیل کا معاملہ بھی نہیں۔ عام حالات میں سیاسی اونچ نیچ سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن پاکستان کی موجودہ سیاسی کشمکش جن حالات میں ہو رہی

Read more

مولانا فضل الرحمٰن کی غلطی؟

مولانا فضل الرحمن ان دنوں زیر عتاب ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انھوں نے خواتین کے لیے نا زیبا زبان استعمال کی۔ پی ٹی آئی کے فدائی اس پر انھیں برا بھلا کہیں اور کوسنے دیں تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن کچھ صالحین بھی اس "جہاد” میں شریک ہو گئے ہیں اور وہ غصے میں بھرے ہوئے نوجوانوں کی طرح مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ کچھ نہیں جانتے، صرف یہ چاہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن

Read more

گھڑی چوری نہ ہوتی اگر۔ ۔ ۔

گھڑی چوری کی کہانی نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ گھڑی دو گھڑی کی بات ہوتی پریشانی نہ ہوتی۔ لگتا ہے کہ یہ کہانی تو برسوں چلے گی اور شرمندہ کرتی رہے گی۔ اس واقعے پر اکادمی ادبیات پاکستان کے ایک حالیہ لیکن تاریخ ساز پروگرام کی یاد تازہ ہو گئی لیکن اس سے پہلے ڈاکٹر اسلم جاوید کی کہانی۔ ڈاکٹر اسلم جاوید پاکستان کے فرزند ہیں لیکن ایک زمانہ کینیڈا اور امریکا میں گزار کر جو کچھ دیکھا اور

Read more

توپک زماں قانون دے

بدر منیر کی ایک معروف فلم تھی، توپک زماں قانون دے۔ عمران خان کے مارچ اس کے ساتھ ہی علی امین گنڈاپور کی بندوقوں نیز بندوں اور اسلام آباد کی سرحد پر ان کی تعیناتی کی خبروں نے اس فلم اور مغل عہد کی یاد تازہ کر دی۔ مغل عہد اپنی عظیم تہذیب، عظیم الشان تعمیرات نیز ان تہذیبی آثار کے لیے معروف ہے جن کی شہرت چار دانگ عالم میں ہے لیکن مغل عہد کا تذکرہ مکمل ہو نہیں

Read more

تشنگی مزاحمت کی تمام ہوئی

حضرت افتخار عارف کو ان کی نظم ’بارہواں کھلاڑی‘ سے پہچانا، پھر ان کے مجموعے ’مہر دو نیم‘ سے۔ عزیز بھائی طاہر علوی مجھ سے یہ مجموعہ ہتھیا لے گئے تو پھر ویسے ہی گزارا کیا۔ یہ تجربہ تو بہت بعد میں جا کر ہوا کہ ان کی باتوں سے فقط خوشبو نہیں آتی، سامنے کے حقائق کی کچھ ایسی تہیں بھی کھلتی ہیں جنھیں سمجھنے کے لیے بعض اوقات عمریں بیت جاتی ہیں۔ یہ کچھ دن پہلے کی بات

Read more

مریم اورنگ زیب کی اصل طاقت

اسحٰق ڈار ایوان اقتدار میں واپس پہنچ چکے۔ایون فیلڈ ریفرنس منھ کے بل جا گرا جس کے نتیجے میں مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر بری ہو گئے۔ یہ مقدمات ایک ایسے دور کی یادگار ہیں جن میں نہ صرف ملک کے نظام انصاف کو بازیچہ ¿ اطفال بنا دیا گیا تھا۔ اب توقع کی جاتی چاہیے کہ یہ فیصلہ ملک میں ایک نئے اور صحت مند سیاسی دور کی بنیاد ثابت ہوگا اور اس واقعے سے سبق

Read more

اسحاق ڈار کی واپسی اور امیدیں: ’مفتاح اسماعیل کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی‘

مسلم لیگ جانتی تھی کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد لیے گئے سخت معاشی فیصلے اسے عوام میں غیرمقبول بنائیں گے، اسی لیے مفتاح اسماعیل کے فیصلوں پر سوچا سمجھا مؤقف اختیار کیا گیا تاکہ بوقت ضرورت ان فیصلوں کا بوجھ آسانی سے پارٹی کے کاندھوں سے اُتارا جا سکے اور جب انتخابی میدان میں اُترا جائے تو پارٹی ہلکی پھلکی ہو۔

Read more

فوج کے سربراہ کی تعیناتی اور سراج الحق کی تجویز

فوج کے سربراہ کے تقرر کے بارے میں عمران خان اور سراج الحق کے بیانات نے طوفان اٹھا دیا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے محرومی کے بعد سیاسی مخالفین کے علاوہ فوجی قیادت بھی عمران خان کے غیض و غضب کا نشانہ بنی۔ اس طرز عمل کا نکتۂ عروج لسبیلہ میں ہیلی کاپٹر کا سانحہ تھا جس میں سیلاب زدگان کی فوری مدد اور بحالی کی کوششوں میں مصروف جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے افسروں اور

Read more

ایک تہذیبی انقلاب

بات تو سیلاب کی تھی لیکن میری نگاہ ایک مصرعہ تر پر گئی۔ جمشید بھائی نے جواب میں پوری غزل پیش کردی۔ یہ جملہ غلط فہمی پیدا کر سکتا ہے کہ جمشید صاحب شاعر ہیں۔ میرے پیارے بھائی ڈاکٹر طارق کلیم کو اس کا اگر شبہ بھی ہو گیا تو پھر خیر نہیں۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ کھل کر بات کی جائے۔ ساتھ اور ستر کی دہائی میں اللہ نے پاکستان کو بہت سی نعمتوں سے نوازا۔ ان

Read more

انڈونیشیا کی اسلامی تحریکیں

مسجد نبوی کی پاکیزہ فضا بھی کیسے کیسے اہتمام کرتی ہے۔ یہاں انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے ایک بھائی سے میری ملاقات ہو گئی۔ ایک ایسی ملاقات جس کی تفصیل کسی خوب صورت یاد کی طرح تمام عمر میرے حافظے میں محفوظ رہے گی۔ یہ 1994 ء کی بات ہے۔ مدینہ منورہ سے بلاوا آیا، ہم بلا کشان محبت اس دیار محبت میں سر کے بل داخل ہوئے اور اس شہر بے مثال نے ہمیں اپنے دامن محبت میں سمیٹ

Read more

نیرہ نور: وہ تتلیوں کے، جگنوؤں کے دیس جانے والی

نیرہ نور بے تکان باتوں کے درمیان ایک وقفے کی دین تھیں۔ یہ سال 1985ء کی بات ہے۔ شاہ نواز فاروقی اور میں نے شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی میں داخلہ لیا۔ یہ بڑے اعزاز کی بات تھی۔ ایک سبب اس اعزاز کا یہ تھا کہ ہم بی اے نہیں بی اے آنرز کے طالب علم تھے۔ بی اے آنرز ہونے میں ایسی کیا خاص بات ہے، ایک اتفاق نے یہ راز سمجھایا۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب

Read more

’عمران خان اپنا وزن دوسروں پر ڈالنے کے عادی ہیں‘: ایک سفارت کار کی یادیں

’عمران خان اپنا وزن دوسروں پر ڈالنے کے عادی ہیں‘ ۔ یہ جملہ رائے ریاض حسین نے لکھا نہیں لیکن جو کچھ لکھا ہے، اس کا مطلب یہی ہے۔ رائے صاحب کی کتاب ایک چھوٹی سی الف لیلہ ہے جس کا تذکرہ طویل تر ہو سکتا ہے لیکن پہلے دوسروں پر وزن ڈالنے کی حکایت سن لیجیے۔ یہ قصہ ان دنوں کا ہے جب رائے ریاض بھارت میں ہمارے سفارت کار تھے۔ قسمت سے ان ہی دنوں عمران خان بھی

Read more

طارق جمیل: عمران خان کی حمایت پر تبلیغی جماعت کے معروف مذہبی سکالر تنقید کی زد میں

یہ پہلی بار ہوا ہے کہ تبلیغی جماعت کے ایک اہم نام پر جانبداری کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ معروف مذہبی شخصیت مولانا طارق جمیل گذشتہ کئی روز سے سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہیں اور اس کی وجہ ان کا ایک حالیہ انٹرویو ہے۔

Read more

فارن فنڈنگ کیس: ایک نیا میثاق جمہوریت؟

فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ ہمارے یہاں ایک نئے عہد کی ابتدا کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ گزشتہ چھ آٹھ برس کے دوران میں ہم بڑے پیمانے پر سیاسی تقسیم کا شکار ہوئے۔ یہ تقسیم فقط سیاست تک رہتی تو بھی غنیمت ہوتا۔ یہ تقسیم نفرت میں بدل گئی۔ نفرت کی اس آگ میں بہت کچھ جل کر راکھ ہو گیا۔ مثال کے طور پر رکھ رکھاؤ، روا داری اور برداشت۔ تازہ خبر یہی ہے کہ سعودی عرب میں مسجد

Read more

انتخابات جلد کیوں نہیں؟

سینیٹر جناب عرفان صدیقی کی شہرت صحافی کی ہے۔ انھیں سیاست دانوں کی فہرست میں بھی شامل کیا جاتا ہے لیکن فی الاصل ہیں تو وہ ادیب اور شاعر۔ ویسے تو ان کے کالم اور صحافتی تحریریں بھی ادب پاروں کا درجہ رکھتی ہیں لیکن سفر حجاز پر ان کا سفر نامہ ’مکہ مدینہ‘ اور شخصی خاکے ’جو بچھڑ گئے‘ قرطاس ادب پر اپنا نقش جما چکے ہیں۔ حال ہی میں ان کا شعری مجموعہ ’گریز پا موسموں کی خوشبو‘

Read more

کچھ فیصلے جو ابھی ہونے باقی ہیں

ضمنی انتخابات کا فیصلہ تو ہو گیا لیکن کچھ فیصلے ہونے ابھی باقی ہیں۔ ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی گروہ بندی میں ایک انقلابی تبدیلی رونما ہو گئی ہے یعنی کچھ عرصہ قبل پاکستان میں جس قسم کی سیاسی تقسیم تھی، ڈرامائی طور پر اس کی کایا کلپ ہو گئی ہے۔ آسانی کے لیے یوں کہا جا سکتا ہے کہ اس تقسیم میں پاکستان مسلم لیگ نون اس تبدیلی سے قبل اسٹیبلشمنٹ کے متوازی کھڑی تھی۔

Read more

سیکولر دنیا اور پاکستان

چارلس ٹیلر ایک فلسفی ہیں۔ کینیڈا میں رہنے والے اس بزرگ کے ذہن میں جانے کیا سمائی۔ وہ اس کھوج میں لگ گئے کہ مغربی معاشرہ تو اچھا خاصا مذہبی تھا پھر یہ کیسے سیکولر ہو گیا؟ سیکولرزم کی اصطلاح پر ہمارے یہاں مچیٹا ہو جاتا ہے۔ ایک فریق کا خیال ہے کہ سیکولر ازم کا مطلب ہے، لا دینیت۔ دوسرے گروہ کو سیکولرزم کی اس تعبیر سے اتفاق نہیں۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب لادینیت

Read more

ایک فیصلہ جو عامر لیاقت کبھی نہ کر سکے

بیسویں صدی کی آخری دہائی میں کراچی کا ماحول بڑا دل چسپ تھا، پرجوش اور کشیدگی بھرا۔ اسی زمانے کی بات ہے، نصرت مرزا کی کسی کتاب کی تقریب رونمائی منعقد ہوئی۔ تقریب میں مختلف مکاتب فکر تعلق رکھنے والی مختلف شخصیات شریک ہوئیں۔ لاہور سے مرحوم عارف نظامی پہنچے اور کراچی سے شہید محمد صلاح الدین۔ ایسا یاد پڑتا ہے کہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی کوئی ممتاز شخصیت بھی موجود تھی، شاید سردار محمد عبدالقیوم خان مرحوم تھے۔

Read more

توانائی کا مسئلہ اور ایک اہم پاکستانی ایجاد

دنیا کے معروف اور موقر جریدے ’اکنامسٹ‘ نے لنکا ڈھا دی ہے۔ بتایا ہے کہ پاکستان معاشی استحکام کی جدوجہد میں مصروف ہے لیکن جدوجہد کے اس درخت پر ایک آکاس بیل نے جگہ بنالی ہے۔ یہی آکاس بیل ہے جو ایسی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیتی۔ یہ کون سی آکاس بیل ہے جو قومی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہونے دے رہی؟ اکنامسٹ نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر بتا دیا ہے کہ یہ عمران خان

Read more

سمندر پار پاکستانی اور ووٹ کا حق

اسلام آباد پر عمران خان کی یلغار اسی تیزی سے ماضی کا حصہ بن گئی جس تیزی کے ساتھ انھوں نے دھرنے سے یو ٹرن لیا۔ اس کے بعد گاڑی اسٹیشن چھوڑ گئی یعنی بات آگے بڑھ گئی۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت اور بہت سے دیگر سیاسی فیصلے اور واقعات۔ سیاست میں یہی تو ہوتا ہے کہ جو گاڑی پر سوار ہو گیا، ہو گیا جو وقت کی نزاکت سمجھنے میں

Read more

لانگ مارچ: کون کب اور کس معیار پر کامیابی کا دعویٰ کر سکتا ہے؟

‘یہ تو (25 مئی کی) شام تک معلوم ہو سکے گا کہ کون کامیاب ہو پاتا ہے؟ حکومت انھیں روکنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ کامیاب کہلائے گی اور وہ پہنچ جاتے ہیں تو ظاہر ہے کہ انھیں کامیابی مل جائے گی۔ کامیابی کے ان دو معیاروں کے بیچ کئی اگر مگر اور کئی سوالات ہیں۔‘

Read more

قوم کی قسمت کے فیصلے اور ہجوم

‘ کیا اس ملک کے فیصلے ہجوم کرے گا؟’۔ اللہ مغفرت فرمائے، کرشماتی افسانہ نگار انتظار حسین یاد آتے ہیں۔ کہنے کو کون نہیں جو کچھ نہ کچھ کہہ لے لیکن انتظار صاحب محاورے میں بات کہتے اور مجمع لوٹ لیتے۔ مثلا شدت کی گرمی کو انھوں نے بہت گرمی کبھی نہیں کہا۔ وہ کچھ ایسی بات کہتے کہ جیسے گرمی ایسی ہے کہ چیل بھی انڈہ چھوڑ جائے۔ اس روز بھی گرمی کی کیفیت کچھ ایسی تھی جب میں

Read more

بے لگام ہیجان کو لگام دیجئے

دنگل اور دنگل کے اندر جوڑ یا کشتی، اس کا اپنا ہی ایک ماحول ہوتا ہے۔ یوں تماشائیوں کی ہو ہا بہت ہوتی ہے لیکن نازک داؤ پیچ کے دوران وہ دم سادھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اسی کیفیت میں شاطر پہلوان اپنا سب سے بڑا داؤ کھیلتا ہے۔ اپنے حریف پہلوان کو ایک داؤ کا جھکاوا دے کر اچانک دوسرا داؤ لگا جاتا ہے۔ پنجابی میں اسے سجی ( دائیں ) دکھا کر کبھی (بائیں ) مارنا کہتے ہیں۔

Read more

سیاسی بد خبرے اور خالد حمید صدیقی

خبروں کا انبار لگا ہوا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کا دورہ کیا۔ متحدہ عرب امارات پہنچے۔ ان دوروں میں دیگر کے علاوہ وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسمٰعیل بھی ساتھ تھے۔ یہ دورے کئی اعتبار سے اہم تھے۔ خاص طور پر قومی معیشت کے تعلق سے۔ گزشتہ دور میں قومی معیشت پر کیا بیتی، یہ کچھ ایسا راز نہیں لیکن یہ دورے اس ضمن میں بہت کچھ مزید جاننے کا ذریعہ بنے۔ مثلاً یہ کہ گزشتہ

Read more

شخصیت پرستی کے مرض سے اٹھنے والے کے فتنے

’جھکاؤ نظریں، بچھاؤ پلکیں، ادب کا اعلیٰ مقام آیا‘ ۔ جناب صبیح رحمانی کی اس خوب صورت نعت کا یہ مصرع تو جانے کب سنا ہو گا لیکن اس کیفیت کے مظاہر اسی عمر میں دیکھنے شروع کر دیے تھے جب کسی نوعمر کو تھوڑی تھوڑی سمجھ آنی شروع ہوتی ہے۔ سرگودھا کی نواب کالونی اور کالونی میں وڑائچوں کا ڈیرہ بھی کچھ الف لیلوی فضا رکھتا تھا۔ اس ڈیرے سے ہمارا تعلق برادرم امجد نواز وڑائچ کی وجہ سے

Read more

مریم نواز کہاں ہیں؟

عزیزم علی حسنین میرے عزیز شاگرد اور ایک ممتاز انصافین ہیں۔ ٹیکسلا کے تاریخی کوچہ و بازار میں عمران خان کی دھوم مچاتے پائے جاتے ہیں لیکن ان کی پہنچ دور دور تک ہے۔ تحریک انصاف کے مرکزی قائدین کے ساتھ بھی ان کے راز و نیاز رہتے ہیں۔ تحریک عدم اعتماد کے روز اپنے جوش خطابت سے دھوم مچا دینے والے علی محمد خان سے تو خاصی قربت ہے۔ اکثر ان کے ساتھ کالے چشمے پہن کر تصویریں بنواتے

Read more

سابق صدر ممنون حسین نے عمران خان سے حلف نہ لینے کا مطالبہ کیوں نہ مانا؟

یہ ان ہی دنوں کی بات ہے جب جیسے جیسے پی ٹی آئی کی حکومت سازی کے دن قریب آتے گئے، ایوان صدر پر ایک نامعلوم سا دباؤ بڑھتا چلا گیا۔ بعض خبروں نے یہ تاثر پیدا کیا کہ اس وقت کے صدر ممنون حسین عمران خان سے حلف نہیں لیں گے۔

Read more

عمران خان کا مستقبل

ہماری سیاست کی گوٹ 1977 میں جا اٹکی ہے۔ مطلب یہ کہ اس زمانے میں ملک جس قسم کے بحران سے دوچار ہوا تھا، موجودہ بحران بھی اس سے ملتا جلتا ہے۔ اس بحران نے ہم سے ذوالفقار علی بھٹو جیسا سیاست دان چھین لیا۔ بھٹو صاحب کی خوبیوں اور خامیوں پر بحث ہو سکتی ہے لیکن وہ جس انجام سے دوچار ہوئے، وہ بدقسمتی تھی۔ اس افسوس ناک واقعے نے ہمارے جسد قومی میں وہ زخم لگایا جس کی

Read more

عمران خان: جب صدر ممنون نے ’بے چینی کے شکار‘ نو منتخب وزیر اعظم عمران خان سے حلف لیا

اس بار بھی حلف لینے اور دینے والوں کا تعلق حریف سیاسی جماعتوں سے ہے یعنی صدر مملکت عارف علوی کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے اور نو منتخب وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر ہیں۔ اس موقع پر دو حریف جماعتوں سے وابستگی رکھنے والے ان دو بڑوں کا طرز عمل کیا ہو گا، یہ مناظر جلد ہی دنیا دیکھنے والی ہے۔

Read more

تحریک عدم اعتماد: خدشات و علاج

تحریک عدم اعتماد کے پس پشت سازش ہو نہ ہو، یہ پوری ایک سائنس ہوتی ہے، بڑی پیچیدہ اور منظم۔ اس کے باوجود کہ یہ کسی قوم کی سیاسی پارلیمانی زندگی کا ایک اہم واقعہ ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ اس قسم کے واقعات دور رس اثرات رکھتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ ایک دن کا واقعہ ہے جس کے بعد سیاسی زندگی کے ایک نئے دور کی ابتدا ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں بھی ان دنوں

Read more

شاہ محمود قریشی کا اعتراف

حکمرانوں پر الزامات لگا کرتے ہیں۔ عمران خان پر بھی ہیں، لہٰذا انھیں ایک طرف رکھئے۔ سبب یہ ہے کہ حزب اختلاف کے الزامات دہرا دیے جائیں تو بے لاگ تجزیے پہلی شرط ہی پوری نہ ہو پائے گی۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ موجودہ سیاسی بحران کی وجوہات مختلف انداز میں تلاش کی جائیں۔ عمران خان کو وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی طرح تحریک عدم اعتماد کا چیلنج درپیش ہے۔ بے نظیر بھٹو کا زمانہ مختلف تھا۔ اس

Read more

عدم اعتماد کے ہنگامے میں ایک حسینہ کی یاد

ترک خوب صورت ہوتے ہیں لیکن وہ کچھ زیادہ خوب صورت تھی۔ قد میانہ سے کچھ زاید، بھرا بھرا جسم۔ مزاج میں خاموشی اور انداز میں پھرتی۔ بلوند بالوں کی ایک لٹ مستقل حرکت میں رہتی۔ تیزی سے چلتے ہوئے جب گردن کو جھٹکا دے کر انھیں آنکھوں سے ہٹاتی تو بجلی سی کوند جاتی۔ لٹ لہراتی ضرور لیکن واپس پلٹ آتی۔ ’کہیں ہم عورت مارچ میں تو نہیں آ گئے؟ ’۔ اس خوبرو کو دیکھتا پا کر حضرت سعادت

Read more

کراچی ڈائری کا آخری ورق

کہانیاں دو ہیں۔ کوئی لٹ رہا تھا، اس نے بچانے کی کوشش کی اور مارا گیا۔ وہ خود لٹ رہا تھا، اس نے مزاحمت کی اور مارا گیا۔ بات اطہر متین احمد تک محدود رکھی جائے تو حقیقت ان دو بیانات میں سے کوئی ایک ہے۔ کہانی پہلی ہو یا دوسری، یہ کراچی اور اس شہر بے مثال کے تعلق سے یہ پورے دیس کا ماجرا ہے ۔ اس میں قدر مشترک مزاحمت ہے اور مزاحمت ہمارے معاشرے میں جرم

Read more

شہباز شریف، چوہدری برادران ملاقات: پنجاب کے دو خاندان جن کی سیاسی رقابت اور معاشرتی موافقت ساتھ ساتھ چلتی ہے

دو حریفوں کے درمیان یہ ملاقات بظاہر اچنبھے کا باعث ہے لیکن ان خاندانوں کے درمیان ہر موسم میں رابطوں سے آگاہی رکھنے والے جانتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں بہت کچھ ہو سکتا ہے یہاں تک کہ سیاسی نوعیت کے دھماکے بھی، خواہ ان کی آواز ذرا بعد سنائی دے۔

Read more

ایوان صدر میں یوم محبت

صحافتی بے قراری (ایکسائٹمنٹ) کیا ہوتی ہے، اس کا تجربہ صدر ممنون حسین کی ایک تقریر کی وجہ سے ہوا۔ یہ موقع تھا سردار عبدالرب نشتر کی برسی کا اور موضوع تھا ویلنٹائن ڈے کا۔ ممنون صاحب پیدائشی مسلم لیگی تھے۔ قیام پاکستان سے قبل ان کے بزرگ آگرہ مسلم لیگ سے وابستہ تھے۔ آزادی کے بعد یہ خاندان کراچی منتقل ہوا تو یہاں بھی یہ روایت برقرار رہی۔ تعلیم مکمل ہوتے ہی انھیں عبدالخالق اللہ والا کی تربیت دے

Read more

راحیل شریف کی توسیع: کچھ عرفان صدیقی کا انکشاف اور کچھ میرا

سینیٹر عرفان صدیقی صاحب نے گزشتہ دنوں جنرل راحیل شریف کے تعلق سے ایک انکشاف کیا ہے۔ اس انکشاف نے یادوں کی پٹاری کھول دی۔ اس کے ساتھ ہی کچھ ایسی باتیں یاد آ گئی جو اسی حوالے سے خود صدر مملکت ممنون حسین سے مجھے سننے کا موقع ملا تھا۔ وہ ہفتے کا دن ہوتا یا پھر اتوار کا اور کبھی کبھی تو دونوں دن بھی۔ ادھر گیارہ بجتے اور میں کاپی سنبھال کر ادھر کا رخ کرتا۔ طے

Read more

جائز حقوق کے لیے دھرنے کی مجبوری

عبد الستار افغانی مرحوم کہا کرتے تھے، کراچی دنیا کی سب سے بڑی کچی آبادی ہے۔ یہ بات انھوں نے کوئی تیس پینتیس برس پہلے کہی ہوگی۔ اتنا زمانہ بیت جانے کے بعد یہ کچی آبادی کم از کم گاؤں کی شکل تو اختیار کر جاتی لیکن ایسا ہو نہ سکا۔ سبب کیا تھا؟ سبب یہ تھا کہ اس شہر میں شہری حکومت کا وجود رفتہ رفتہ سکڑتا چلا گیا۔ جیسے جیسے شہری حکومت المعروف بلدیہ کے ہاتھ پاؤں ناکارہ

Read more

سانحہ مری اور ڈی ایم جی

ان دنوں نومبر میں بھی سردی ہوا کرتی تھی۔ ہم لوگ کپکپاتے ہوئے کالج پہنچے تو جسے دیکھا آڈیٹوریم کی طرف بھاگا چلا آتا تھا۔ کالج تقریبات کی روایت ہمیشہ یہی دیکھی کہ طلبہ جب پہنچ گئے ایک ایک کر اساتذہ بھی آنے لگتے لیکن اس روز ماحول مختلف تھا۔ اسٹیج اساتذہ سے بھرا ہوا تھا۔ پروفیسر ارشاد حسین نقوی، پروفیسر رانا اصغر علی، چوہدری عبدالحمید صاحب، پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی صاحب، ریاض شاد صاحب، کون اس محفل میں نہیں

Read more

ایک تجربہ مل بیٹھنے کا بھی کر لیں

آزمائش بھی ایک نعمت ہے۔ اس کے نتیجے میں انسان کی تخلیقی صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں اور وہ کوئی نہ کوئی نیا کام کر گزرتا ہے۔ کوئی ایسا نیا اور اچھا کام جو انسانیت کی فلاح کا باعث بنے۔ ایک ایسا ہی تجربہ لاہور میں ہوا ہے۔ وسطی پنجاب کی دھند نے زندگی مشکل بنا دی ہے۔ عمر فاروق میرے عزیز بھی ہیں اور دوست بھی۔ نان شبینہ کے لیے سرکار کی ملازمت کرتے ہیں۔ روحانی احتیاج قبلہ صوفی صاحب

Read more

گوادر تا خیبر پختونخوا

خیبرپختونخوا میں جے یو آئی کی فتح کو ماضی قریب کے پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ خود مولانا فضل الرحمن نے بھی اسی جانب اشارہ کیا ہے۔ انھوں نے اپنی جماعت کی حالیہ کامیابی کو 2018 کی ناکامی سے منسلک کیا۔ انھوں نے اپنی گفتگو سے یہ حقیقت اجاگر کرنے کی کوشش کی کہ زمینی حقائق پہلے بھی یہی تھے۔ بس، پس پردہ بازی گری کے ذریعے انھیں بدل دیا گیا تھا۔ حالیہ انتخابی نتائج کے سامنے آنے

Read more

کیا علما نے ممتاز قادری کی جان بخشی کیلئے صدر ممنون سے ملاقات کی؟ (مکمل کالم)

کیا صدر ممنون حسین نے وزیر مملکت پیر امین الحسنات کے درمیان ممتاز قادری کے سلسلے میں کوئی گٹھ جوڑ تھا؟ کیا صدر مملکت نے پیر صاحب سے کہا تھا کہ وہ اس ملک کے آئین کو مانتے ہیں نہ عدالت کو؟ ذرا ٹھہریے، یہ بیان ذرا سخت ہو جائے گا۔ یوں کہہ لیجئے کہ وہ عدالت کے کسی سزا یافتہ مجرم کو بچانے پر کمر بستہ تھے۔ اس راز و نیاز کے لیے انھیں پیر امین الحسنات ہی دست

Read more

ممتاز قادری کی پھانسی کا حکم اور صدر ممنون حسین

ایوان صدر میں دو جگہیں ایسی تھیں جو صدر ممنون حسین کو بہت خوش آئیں۔ ان میں ایک ریزیڈینسی کی اسٹڈی تھی۔ اسٹڈی میں میری ان سے لا تعداد ملاقاتیں رہیں۔ اہم تقاریر، خاص طور پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے نکات عام طور پر یہیں زیر بحث آئے۔ مختلف غیر ملکی دوروں کی تفصیلات اور حکمت عملی تیار ہوئی۔ سربراہ مملکت کی سطح کے دورے کی تیاری عام طور پر بہت وقت لیتی ہے۔ حالات حاضرہ، دو

Read more

سیالکوٹ کا عفریت

سیالکوٹ میں توہین مذہب کے نام پر جو کچھ ہوا، اس نے اوسان خطا کر دیے۔ دیر تک کچھ سجھائی نہ دیا۔ پھر آہستہ آہستہ ایک منظر نگاہوں میں اترا۔ کوئی چالیس برس ہوئے ہوں گے۔ وہ دن گرمی کی چھٹیوں کے تھے۔ ایک صبح جب ہم اٹھے تو سنسنی کی ایک لہر یہاں سے وہاں پھیلی دکھائی دی۔ سنسنی کا کوئی مادی وجود تو ہرگز نہیں ہوتا لیکن اس روز اپنے لڑکپن کی آنکھوں سے میں نے اسے بچشم

Read more

سید علی گیلانی، قبر سے بھی قیادت کرتے رہیں گے

آئی ٹین کے ایک ویران اندھیرے راستے پر چلتے ہوئے روشنی کا چھپاکا ہوا اور راستہ دور تک روشن ہو گیا۔ ’’کیا کبھی روشنی کی کوئی کرن اس اندھیری وادی میں بھی چمکے گی، صبح آزادی کی آرزو میں جہاں رات طویل ہوئی جاتی ہے؟۔‘‘ ایک ہوک کی صورت یہ سوال میری زبان پر آیا تو ارشاد محمود جو میری دائیں جانب تھے، چلتے چلتے رک گئے اور کہا: ’’قسم خدا کی فاروق بھائی!عین اسی لمحے یہی بات میں بھی

Read more

ترکی پر دشمن کا ایک اور حملہ

سہ پہر ابھی ہوئی نہیں تھی اور دوپہر میں اس قدر شدت نہ تھی کہ جان لبوں پر آ جاتی، ہوا میں خنکی تو نہ تھی لیکن اس کی لہروں میں وہ رعنائی موجودتھی جس کے زور پر حسن بے پروا کی زلفیں بلا سبب لہرانے لگیں۔ دوپہر کے کھانے میں اس روز فیصولے (سرخ لوبیا) تھا ترک جس کی ساد ہ سی ڈش بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔ فیصولے کا مزہ لیتے ہوئے ہم نے پاکستانی لوبیا، اس کے

Read more

جب کراچی سندھ کے ہاتھ سے نکل کر مرکزی حکومت کی جھولی میں آن گِرا

یہ جنوری 1948 کی ایک خنک صبح تھی جب گورنر جنرل ہاؤس میں مرکزی کابینہ کا ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت وزیر اعظم کے بجائے گورنر جنرل پاکستان یعنی محمد علی جناح کر رہے تھے۔ قیام پاکستان کے تقریباً پانچ ماہ کے بعد منعقد ہونے والا یہ اجلاس نوزائیدہ ملک کے ابتدائی ایام میں ہی پیدا ہونے والی کئی تلخیوں کا مظہر تھا۔

Read more

ممنون حسین: درویش قصرِ شاہی (پہلا حصہ)

’فاروق صاحب، چائے تو پی لیجیے !‘۔ جہاز اس وقت اکتیس ہزار فٹ کی بلندی پر تھا یا چونتیس ہزار فٹ کی، یہ تو یاد نہیں لیکن ایک خاص بلندی پر پہنچنے کے بعد پرواز ہموار ہو کر خوش گوار ہو جاتی ہے۔ انجن کو چونکہ کم زور لگانا پڑتا ہے، اس لیے اس آواز میں بھی یکسانیت پیدا ہو جاتی ہے جسے لوری سمجھ کر مسافر اونگھنے لگتے ہیں۔ یہ خصوصی جہاز اس وقت ایسی ہی کیفیت میں تھا

Read more

ظاہر شاہ کی خواب گاہ سے افغانستان کی ایک جھلک

‘الفاظ و معانی کی درست تفہیم، لہجے کی نشست و برخواست پر غور اور دوران گفتگو چہرے مہرے کے تاثرات پر گہری نگاہ، سفارتی سرگرمی کو اس کے بغیر سمجھنا ممکن ہی نہیں’ ۔ ڈاکٹر اشرف غنی اپنے منصب کا حلف اٹھا چکے تو کچھ دیر آرام کے بعد ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان کی پہلی ملاقات صدر مملکت ممنون حسین صاحب سے تھی۔ ممنون صاحب کے قیام کے لیے ظاہر شاہ کا محل مختص کیا گیا تھا۔ یہ

Read more

صوفے جیسے لوگ

بدلے ہوئے زمانے کی بات اورہے لیکن جب حقیقی سیاست وجود رکھتی تھی، کراچی میں اس کا مرکز نشتر پارک تھا۔ یہ اسی نشتر پارک کے نواح کی بات ہے جہاں ایک کوچہ ایسا پایاجاتا تھا جس کی بنیادی شہرت تو شعبہ قانون کے تعلق سے تھی کہ پاکستان میں اس شعبے کی آبرو خلد آشیانی خالد اسحق وہاں قیام فرماتے تھے۔ خالد صاحب فقط قانون دان نہیں تھے، ان کا شمار اِس خطے کے بڑے اہل علم میں بھی

Read more

جب جنرل پرویز مشرف کو صدر رفیق تارڑ کو کیے سلیوٹ کا جواب نہیں ملا

جب فوجی آمر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنا چاہتے تھے تو صرف ایک ہی چیز ان کی راہ میں حائل تھی اور وہ بھی صرف قانونی نکتہ نظر سے۔۔۔ اور وہ تھے اس وقت کے صدر رفیق تارڑ۔ جنرل مشرف نے انھیں کسی طرح چلتا کیا اور رفیق تارڑ نے انھیں کیا جواب دیا، سنیے رفیق تارڑ کے رفقاء کی زبانی۔

Read more

پاکستانی معیشت: ’22 نہیں اب 31 بااثر خاندان سیاہ سفید کے مالک ہیں‘

اکثر و بیشتر حکومتوں کی جانب سے سٹاک مارکیٹ کی کارکردگی کو اپنی بہتر معاشی پالیسیوں کا ثمر قرار دیا جاتا ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ سٹاک مارکیٹ میں تیزی سے نہ ملک کی مجموعی معاشی صورتحال بہتر ہوتی نظر آتی ہے اور نہ ہی عوام کی زندگیاں؟

Read more

اسد علی طور پر افتاد کیوں ٹوٹی؟

شیخ التحریر مختار مسعود، اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمتوں کی بارش برسائے رکھے، ایک روز ان کی طبیعت گھبرائی تو اس کے باوجود کہ ہنگامہ دار و گیر بپا تھا، جوانان رعنا جلوس نکالتے تھے اور خون میں نہا کر گھروں کو لوٹتے یا وادی خموشاں میں جا سوتے، و ہ گھر سے نکلے اور تہران یونیورسٹی کے نواح میں پہنچے۔ شہر کا یہ کوچہ انقلابیوں کا مرکز تھا۔ انقلابی دن رات وہاں ڈیرے ڈالے رکھتے، خواب دیکھتے اور

Read more

آئیے! مرنے والوں کو برا کہیں

ہم لوگ شاید اتنے پرانے نہیں جتنے پر زمانے کو لگ گئے ہیں، نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وہ باتیں جو کچھ دن پہلے معمول تھیں، اب اجنبی لگتی ہیں مثلاً خط۔ اشفاق احمد کاشف کا تعلق فیصل آباد سے تھا اور میرا سرگودھا سے۔ یہ نظم اور نثر کا ملاپ تھا، کاشف کا میدان شاعری تھا، میری دلچسپی نثر میں تھی۔ ان ہی دنوں ایک شعر کان میں پڑا۔ خون بہا ہے پھر سڑکوں پر کون ہیں جو دیوانے

Read more

عصائے کلیمی اور فلسطین

دن کے بارہ بج چکے ہوں گے یا پھر بجنے والے ہوں گے۔ دھوپ تھی تو سہی مگر ایسی نہیں تھی جس کی شدت پریشان کرے بلکہ اس میں نرمی، نگھ اور خنکی کا ایسا رچاؤ تھا جس کا امتزاج شاید جنت کے لیے خاص ہے۔ یہی دھوپ تھی جس کی کرنوں سے وہ سنہری اور نیلے گنبد یوں روشن تھے کہ نگاہیں خیرہ ہوتی تھیں اور میں ان گلیوں میں بکھری ایک الگ سی لیکن مانوس خوش بو کی

Read more

لیاقت علی خان کا دورہ ماسکو حقیقت کیوں نہ بن سکا؟

تہران میں پاکستان کے سفیر راجہ غضنفر علی خان نے وزیراعظم لیاقت علی خان کے اعزاز میں ایک عشائیے کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر گپ شپ کے دوران سوویت ناظم الامور مسٹر علی ایوو نے خاتون اول سے درخواست کی کہ آپ کبھی ماسکو بھی تشریف لائیے۔ بیگم رعنا لیاقت علی خان نے سوویت سفارتکار کی یہ خواہش نہایت سنجیدگی کے ساتھ سنی اور جواب دیا کہ ’ہم دعوت کے بغیر کہیں نہیں جاتے۔‘

Read more

وحید الدین خان کا احسان

مولانا وحید الدین خان کو ہماری نسل نے تب جانا جب ان کا زمانہ ابھی نہیں آیا تھا۔ یہ تذکرہ ذرا نازک ہے، اس لیے پہلے بے جی کی حکایت سن لیجئے۔ بے جی میرے اباجی کی پہلی اہلیہ تھیں لیکن ہماری سوتیلی ماں نہیں تھیں، بے جی تھیں، گھر کی بڑی جن کی گود میں گھر کے سارے بچے پلتے ہیں اور کاروبار زندگی چلتاہے۔ یہ راز کبھی نہ کھل سکا کہ وہ صبح کی کس گھڑی میں اٹھتی

Read more