دریائے کھرمنگ اور کارگل کے مسافر

وہ جھاگ اڑاتا، شور مچاتا اور بل کھاتا دریائے کھرمنگ تھا جس کے کنارے کھڑی جیپ میں ہم بیٹھے تو وہ ازخود رواں ہوگئی یوں کارگل کے مسافروں کا منزل پر پہنچنے کے بجائے دریا میں ڈوبنے کا امکان پیدا ہوگیا۔ دبلا پتلا ڈرائیور چیتے کی طرح چھلانگ لگا کر ہینڈ بریک لگانے میں کامیاب…

Read more

عرفان صدیقی: ایک لکھاڑ کی حکایت

” بھئی ، یہ شخص تو لکھاڑ ہے لکھاڑ!“ صلاح الدین صاحب نے پڑھتے پڑھتے سر اُٹھایا اور مسکراتے ہوئے کہا۔ صلاح الدین صاحب اسلاف کی وہ یادگار تھے، شخصی صحافت جن سے منسوب ہوتی ہے۔ تکبیر بھی شخصی صحافت ہی کا ایک نمونہ تھا لیکن اس میں جمہوریت کے بھی کچھ جراثیم تھے۔ ہر…

Read more

جماعت اسلامی کی فکر سے متاثر افراد دوسری جماعتوں میں کیوں چلے جاتے ہیں؟

عرفان صدیقی صاحب کی دلچسپ گرفتاری اور رہائی سے پہلے ایک واقعہ اور بھی ہو گزرا ہے۔ ہمارا یار عزیز ارشاد محمود تحریک انصاف کو پیارا ہو گیا ہے۔ یہ بھی اچھا لگا کہ تحریک انصاف نے اِس نگینے کی قدر کی، اسے اپنی آزاد کشمیر شاخ کا سیکریٹری اطلاعات بنا دیا۔ ارشاد وضع دار…

Read more

ایک نہ ہونے والی ملاقات کی یادیں

یہ ایک عجب اتفاق ہے کہ ہم پاکستانیوں کی دنیا بھر کے لوگوں سے ملاقات ہوجاتی ہے لیکن مصریوں سے نہیں ہوتی، ہوتی بھی ہے تو کم کم ہوتی ہے۔  میرا تجربہ بھی اس سے مختلف نہیں لیکن محمد مرسی صدر منتخب ہوئے تو یہ خواہش جاگی کہ نہ صرف مصر کے اس بطل جلیل…

Read more

عزیز آباد کا پیر عرف بانی ایم کیو ایم

اہلِ کراچی ایک صبح اٹھے تو حیران رہ گئے، شہر کی تقریباً ہر دیوار پر ایک ہی تحریر جلوے بکھیر رہی تھی: ”قائدے تحریک، الطاف حسین“۔ کہیں کہیں لکھنے والے نے اس کلمے کی ترتیب بدل ڈالی اور لکھا: ”تحریکے قائد۔ “ تحریر سے لکھنے والے کی ذہنی سطح اور ذوق کا اندازہ خوب ہوتا تھا، برش پکڑنے کا سلیقہ اور نہ روشنائی کے استعمال کا قرینہ، کہیں قائد کے ”ق“ کی رال ٹپکنے لگتی اور کہیں تحریک کی ”ک“ بے وزن ہوجاتی۔ یہ چاکنگ میں نے دیکھی تو سوچا کہ جو لوگ اس قدر پھوہڑ ہوں، کیسی ہو گی ان کی تحریک اور کیا کرے گا ان کا قائد؟

Read more

ادریس بختیار کا عہد تمام ہوا

ادریس بھائی سے کب اور کیسے شناسائی ہوئی؟ شاید ذہن پر بہت زور دے کے بھی یاد نہ آ سکے۔ اس لیے میں اس تعلق کو اپنی صحافتی عمر سے جوڑتا ہوں۔ ہماری نسل کے لوگوں نے جب قلم پکڑنا سیکھا، اس قلم رو میں ادریس بختیار کا سکہ رواں تھا، کچھ ایسا کہ بر…

Read more

سندھ میں امتحانی نقل کا آزار

فلسفہ تو یہی کہتا ہے کہ یہ سارے کا سارا کاروبار حیات نقل کے زور پر چل رہا ہے، اس کے باوجود امتحان میں نقل قابل قبول نہیں تو کیوں؟ ایران توران میں اس سوال کی کوئی اہمیت ہے اور نہ لوگوں کے پاس ایسی باتوں پر سوچنے کے لیے اب وقت ہے۔ سبب یہ…

Read more

معدومیت کے خطرے سے دوچار کشمیری تہذیب

کشمیری تہذیب کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، یعنی عہدِموسیقیت، رومانویت اور حقیقت پسندی، لیکن یہ باتیں پرانی ہوئیں، یہ متنوع تہذیب موجودہ عہد میں بھی ایک دور سے گزر رہی ہے جس کا کوئی عنوان ابھی تک تجویز نہیں کیا جاسکا۔ کشمیر کا عہدِ موسیقیت صرف موسیقی کے لیے معروف نہیں، کیوں…

Read more

تہذیبوں کے درمیا ن مکالمہ اور جیسنڈا آرڈن

نعیم رشید تو ہمارے جگر کا ٹکڑا تھے ہی جیسنڈا آرڈن بھی راتوں رات ہمارے دلوں کی ملکہ بن گئیں۔ ان کی مدح میں جوشِ جذبات میں رندھی ہوئی ایسی ایسی گفت گو سننے کو ملی کہ جی خوش ہوگیا۔ معاشرے میں آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو رنگ، نسل اور مذہب کے…

Read more

جماعت اسلامی: تعمیر میں مضمر خرابی

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ معاشرے کے بعض توانا اور انتہائی ناگزیر مظاہر دیکھتے ہی دیکھتے غیر متعلق ہوجاتے ہیں۔ ان معاشرتی عوامل کی بعض خوب صورت مثالیں میدانِ سیاست سے بآسانی دستیاب ہیں۔ تازہ ترین مثال جماعت اسلامی کی شکل میں سامنے آرہی ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران جماعت اسلامی کے تعلق…

Read more