مہمند ایجنسی میں دھماکا اور قومی یکجہتی کی چڑیا


\"husnainنماز جمعہ کے بعد مہمند ایجنسی کی ایک مسجد میں دھماکا ہوتا ہے اور پنتیس سے چالیس بے قصور افراد موت کے گھاٹ اتار دئیے جاتے ہیں۔ ان میں سے اکثر بچے ہیں کیوں کہ دھماکا پچھلی صفوں میں ہوا ہے اور بچے حسب روایت بے چارے پچھلی صفوں میں ہی دھکیلے گئے ہوں گے۔ ان تمام مظلوموں کو شہادت کی مالا پہنائی جاتی ہے اور وہاں کے پولیٹیکل ایجنٹ جائے وقوعہ کا دورہ کر کے غمزدہ خاندانوں کو پچیس پچیس ہزار روپے کی فوری امداد عطا کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حکومت ملک و قوم کی خاطر قربانی دینے والوں کے ورثا کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور انہیں تعاون فراہم کیا جائے گا۔

دھماکے کے بعد فوری طور پر صدر ممنون حسب روایت شہدا کے خاندانوں کے ساتھ غائبانہ قدم ملا کر کھڑے ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ دہشت گرد بزدلانہ کارروائیوں سے عوام کے حوصلے پست نہیں کر سکتے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس دھماکے کی بھی پرزور مذمت کی ہے۔ آصف علی زرداری سہ بارہ ارشاد کرتے ہیں کہ بھاگتے ہوئے دہشت گرد سافٹ ٹارگٹ پر حملہ کر رہے ہیں اور یہ ایک بزدلانہ کارروائی ہے۔ عمران خان ہمیشہ کی طرح کہتے اور سمجھتے ہیں کہ دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں (معلوم نہیں اسلام سے واسطہ کس کا ہے)، اور آن لائن خبریں بتاتی ہیں کہ یہ علاقہ ماضی میں شدت پسندوں کا گڑھ رہا تھا پھر بعد میں اسے فوجی آپریشن کے بعد خالی کروا لیا گیا تھا۔

آج کے تازہ اخباروں کو دیکھا جائے تو سڑکوں پر رلنے کے شوقین آج بھی رائیونڈ جانے کا ۔۔۔۔ رونا روتے ہوئے نظر آتے ہیں، خالی جگہ محاورے سے پر کر لیجیے۔ قادری صاحب نے جن معصوموں کو ڈھال بنایا تھا، دو تین برس گزرنے کے بعد بھی کینیڈا جاتے جاتے ان کے لیے انصاف کی گھسی پٹی آواز لگاتے نظر آتے ہیں اور چالیس نئے مرنے والوں کا حساب قوم کو یکجہتی کا پیغام دیتے ہوئے شاید خدا کے سپرد کیے جاتے ہیں۔ قربانی کے جانوروں کی خبریں نظر آتی ہیں، پورا دن خواجہ اظہار الحسن کی خبر چلتی ہے، لاکھ چینل بدلو کچھ اور نظر ہی نہیں آتا۔ مہمند ایجنسی کس خطے میں واقعہ ہے کچھ دکھائی نہیں پڑتا۔

یہی خبر ہندوستان ٹائمز لگاتا ہے تو دنیا بھر کے لوگ پاکستانیوں سے ہمدردی کرتے ہیں اور چند ہندوستانی ان کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اپنا ملک سنبھلتا نہیں ہے، کشمیر کو آزاد کروانے چلے ہیں، کشمیر تمہارا حصہ بن گیا تو وہاں بھی یہی کچھ ہو گا جو تم اپنے ملک میں کر رہے ہو۔ اس پر پاکستانی کیا جواب دیتے ہیں، ملاحظہ فرمائیے ؛ \”الحمدللہ دہشت گرد اب بڑے شہروں جیسے لاہور، کراچی، اسلام آباد وغیرہ سے بھاگ چکے ہیں اور اب وہ دور دراز کے علاقوں میں کارروائیاں کر رہے ہیں۔ \” اس جواب پر بھارتی بڑھ چڑھ کر پاکستانیوں کے لتے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم لوگ جن کو یہ احساس تک نہیں ہے کہ چھوٹے شہروں، گاؤں، قصبوں اور دیہاتوں میں بھی تمہارے ہی بھائی رہتے ہیں، کیا کسی اور کا خیال رکھو گے۔ جتنا ملک تمہارے پاس ہے، اس کا خیال رکھو، اسے بچا لو، بعد میں ہم سے جنگ لڑنے بھی آ جانا۔ جذبہ ایمانی اور حب الوطنی کی کمی ہو گی جو آگے کوئی مدلل جواب نظر نہ آیا اور خاموشی ہی چھائی نظر آئی۔ لکھنے والوں نے گالیاں لکھیں، وہ ہمارے نئے پاکستان کا طرہ امتیاز ہے۔

آج سانحہ کوئٹہ میں خدا کو پیارے ہونے والے 74 بے قصور افراد کا چہلم تھا۔ چوہتر خاندان آج سے چالیس روز پہلے زندگی بھر کے لیے اجڑ گئے اور پورا کوئٹہ 1935 کے زلزلے کی طرح دوبارہ برباد ہوا۔ مہمند ایجنسی میں اس چہلم کے روز اٹھائیس تیس مزید افراد دفنائے گئے۔ بڑے شہروں اور ان کے مضافات میں عید کا خمار ہنوز باقی ہے، سوشل میڈیا پر فقیر سمیت زیادہ تر احباب اپنے اپنے خوش گوار لمحات کی تصاویر شئیر کر رہے ہیں اور سب موج میں ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جس باپ کے تین بچے نماز پڑھنے گئے تھے اور جن کی نماز پڑھ دی گئی وہ کہاں جائے؟ رانڑہ گل کے مزید کتنے بچے ہیں، یہ کسی اخبار میں نہیں لکھا، رانڑہ گل کے پاس کوئی حکومتی اہل کار پہنچا ہے یا نہیں پہنچا، وہاں یہ بھی نہیں لکھا، ان بچوں کی ماں اگر ہوش میں ہے تو کیسے ہے، اخبار یہ بھی نہیں بتاتے، کوئی بہن اگر ان بھائیوں کی تھی تو وہ زندگی بھر بھائیوں کا دکھ کس سے بانٹے گی، اخبار میں کچھ خبر نہیں۔ کوئی بدنصیب بھائی اگر ان تین لڑکوں کا بچا رہ گیا ہے، تو وہ باپ سے گلے مل کر کیا شکوہ کرتا ہے، کہیں کوئی اطلاع نہیں۔ ایک خبر ہر صاحب دل ضرور رکھتا ہے، بچہ ایک ہو یا دس ہوں، ماں باپ ہر پیدا ہونے والے سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنا کوئی اکلوتی اولاد اپنے ماں باپ سے محبتیں سمیٹتی ہے، اور جس باپ کے تین بیٹے کام آ گئے ہوں وہ گریہ یعقوب میں تمام عمر بھی گرفتار رہے تو غم کا بوجھ شاید کم نہ ہو۔

سوال یہ ہے کہ جن بارڈروں پر سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کے بیانات ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کیا ان میں کوئٹہ اور مہمند ایجنسی شامل نہیں ہے؟ اگر ہیں تو ہمارے پاس کیا ایسی کسوٹی ہو جو ان بیانات کو پرکھے اور زمینی حقائق ہمیں بتائے؟

سوال یہ بھی ہے کہ اللہ اکبر کہہ کر پھٹنے والے اگر مسلمان نہیں ہیں، یا جس تنظیم نے ذمہ داری قبول کی ہے اگر وہ مسلمان نہیں ہیں، تو پھر کون مسلمان ہے؟ اور اگر مرنے والے بھی مسلمان ہی ہیں تو ہم کب تک اس کھیل میں بے موت مارے جاتے رہیں گے؟ کیا ہمیں اپنی ترجیحات کا رخ نہیں بدلنا چاہئیے؟

سوال یہ بھی ہے کہ اگر یہ دھماکے بڑے شہروں میں نہیں ہوتے تو کیا سرکاری سطح پر ان کا سوگ منایا جانا بھی ضروری نہیں ہے؟

سوال یہ بھی ہے کہ دور دراز علاقوں میں رہنے والے حالیہ دہشت گردی کا شکار بھائیوں کو اس چیز کا یقین کیسے دلایا جائے کہ یارو ہم تمہارا دکھ محسوس کرتے ہیں، تمہارے ساتھ ہیں لیکن ہم کسی گنتی میں نہیں ہیں۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ وہ نیشنل ایکشن پلان کدھر ہے؟ (پانامہ لیکس کی مٹی جھاڑ کر دیکھیے شاید کہیں دبا ہوا مل جائے۔)

ایک اور سوال یہ کہ مسلم امہ اب تعزیتی بیانات تک دینا کیوں پسند نہیں کرتی؟ امریکہ اور یورپ ہمارے دھماکوں پر بیانات دے دے کر بور نہیں ہوئے تو اسلامی ممالک کیوں پیچھے ہٹ چکے ہیں؟

اور ایک آخری سوال یہ کہ قومی یکجہتی کی چڑیا کہاں اڑ چکی ہے؟

Facebook Comments HS

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 502 posts and counting.See all posts by husnain