جو نہ بولے جے شری رام۔ ۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت شمالی بھارت میں بہار اور یوپی سے راجستھان تک جو گیت سوشل میڈیا پر وائرل ہے، وہ کوئی بالی وڈ گانا نہیں بلکہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کے ایک نجی بینڈ کا گیت ہے۔
بھگوا دھاری سب پے بھاری، چلے ہیں اپنا سینہ تان
جو نہ بولے جے شری رام، بھیجو اس کو قبرستان

جتنے بھی ہیں رام ورودھی، ان کو اب دفنائیں گے
پورے ہندوستان کے اندر، رام راج پھر لائیں گے

دھرم کو جو بھی آنکھ دکھائے، اس کا برا کرو انجام
جو نہ بولے جے شری رام، بھیجو اس کو قبرستان

ایسے میں کل خبر آئی کہ اتر پردیش کے جنڈوی ضلع میں چار نوجوانوں نے ایک پندرہ سالہ مسلمان لڑکے کو پکڑ کر اس پر مٹی کا تیل چھڑکا اور کہا، بولو جے شری رام۔ ان میں سے ایک نوجوان نے جلتی تیلی لڑکے پر پھینک دی اور فرار ہو گئے۔ لڑکے کا پینتالیس فیصد جسم جل گیا ( امید ہے بچ جائے گا ) ۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکے نے خود اپنے آپ کو آگ لگائی اور کئی گواہوں نے اسے یہ حرکت کرتے دیکھا۔ ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ کسی نے زبردستی پکڑ کے اس سے نعرے لگوانے اور پھر نذرآتش کرنے کی کوشش کی ہو۔

پچھلے ہفتے مہاراشٹر کے شہر اورنگ آباد میں دو مسلمانوں کو پکڑ کے زدوکوب کیا گیا اور جے شری رام کے نعرے لگوائے گئے۔ اس سے تین دن پہلے بہار میں ایک مجمع نے تین مسلمان لڑکوں کو گائے چرانے کے شبہے میں مار مار کر مار ڈالا۔

پچھلے مہینے اٹھارہ جون کو ریاست جھارکھنڈ میں کسی تبریز انصاری کو پٹنہ سے گاؤں واپسی پر پکڑ لیا گیا۔ اس پر چوری کی موٹر سائیکل پر سواری کا الزام لگایا گیا اور پھر بارہ گھنٹے ایک درخت سے باندھ کر مارا گیا اور جے شری رام اور جے ہنومان کے نعرے لگوائے گئے۔ جب تبریز کو شدید زخمی حالت میں پولیس کے حوالے کیا گیا تو پولیس نے اسپتال لے جانے کے بجائے لاک اپ میں بند کردیا۔ اگلے دن جب اسپتال پہنچایا تو تبریز نے پہنچتے ہی دم توڑ دیا۔

دو دن پہلے فلم اور علم کے شعبوں سے منسلک پچاس سرکردہ شخصیات بشمول سرکردہ مورخ رام چندرا گوہا، امیت چتر ویدی، دانشور اشیش نندی، اداکارہ و ڈائریکٹر کنکنا سین شرما، اپرنا سین، انوراگ کیشب، گوپال کرشنن، منی رتنم اور شیام بینگل نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے نام خط میں مطالبہ کیا کہ وہ نسل اور مذہب کے نام پر ہجوم کے ہاتھوں سزائے موت کی صرف مذمت نہ کریں بلکہ اسے ناقابلِ ضمانت جرائم کی فہرست میں بھی شامل کروائیں۔

خط میں کہا گیا کہ جے شری رام کا نعرہ اقلیتوں کے خلاف ایک پرتشدد ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔ یہ قرونِ وسطی نہیں اکیسویں صدی ہے۔ رام ایک مقدس نام ہے اور اگر اس نام کو تشدد کے فروغ کے لیے استعمال کرنے کی کوشش ہو رہی ہے تو اس کی حتمی ذمے داری ریاست کے اعلی ترین عہدیدار ہونے کے سبب آپ پر عائد ہوتی ہے۔

خط میں کہا گیا کہ حکومت اور ریاست کو ایک ثابت کرنے کی کوششیں اور حکومت مخالفوں کو ملک کا غدار یا دہشت پسند قرار دینا انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ سرکار اور ریاست کو خلط ملط کرنا ایک خطرناک عمل اور حکومتی پارٹی سے الگ سوچ رکھنے والوں کا گلا دبانے کی کوشش ہے۔ اس کی کسی طور ایک جمہوریت میں اجازت نہیں دی جا سکتی۔

یہ کوئی نیا نامہ نہیں۔ اس سے قبل کئی خطوط پچھلے پانچ برس میں مودی سرکار کو لکھے جا چکے ہیں مگر موت اور دہشت کا کاروبار بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔

آپ کو شاید یاد ہو جب ستمبر دو ہزار پندرہ میں دلی سے لگ بھگ پچاس کلومیٹر پرے دادری قصبے میں تریپن برس کے اخلاق احمد کو گھر میں گائے کا گوشت رکھنے کے شبہے میں گؤ رکھشکوں نے مار مار کر ہلاک کر دیا تو بھارتی اور بین الاقوامی میڈیا میں کتنا شور مچا۔ پھر ہر جانب سے مجمع کے ہاتھوں موت کی خبریں اتنے تواتر سے آنے لگیں کہ انھیں بھی زندگی کا ایک افسوسناک مگر نارمل حصہ سمجھ کے قبول کر لیا گیا۔ اور پھر یہ خبریں شہہ سرخی کے درجے سے پھسلتے پھسلتے اندرونی صفحات میں منہ چھپانے لگیں اور اب ایسی کوئی خبر آتی ہے تو قاری سرخی پڑھ کے صفحہ پلٹ دیتا ہے۔ یہی فاشزم کی کامیابی ہے۔

کتنوں کو یاد ہے کہ دس جولائی کو روانڈا میں ہوتو اکثریت کے ہاتھوں آٹھ لاکھ تتسیوں کے قتلِ عام کو پچیس برس مکمل ہو گئے۔ ایسا نہیں تھا کہ ایک روز لاکھوں ہوتو پاگل ہو گئے اور برچھے بھالے تلواریں لے کر تتسیوں پر ٹوٹ پڑے۔ پہلے فضا بنائی گئی، افواہیں پھیلائی گئیں، ماضی میں تتسیوں کے حکومتی ادوار میں اکثریتی گروہ پر مظالم کی کہانیاں زندہ کی گئیں۔ سرکاری اور پرائیویٹ اخبارات اور ریڈیو کے ذریعے تتسیوں کو نیم انسان ثابت کیا گیا اور جب فضا پوری طرح تیار ہو گئی تو پھر ایک دن صفایا شروع ہو گیا۔ اقوامِ متحدہ کے امن فوج دستوں کی عین ناک کے نیچے چار ماہ میں آٹھ لاکھ عورتیں مرد اور بچے انھی کے ہمسائیوں نے مار ڈالے اور دنیا دور کھڑی ہائے ہائے یہ کیا ہو رہا ہے کرتی رہی۔

ہٹلر نے یہودیوں پر نازیوں کو ایک دن میں نہیں چھوڑا تھا۔ کئی عشروں سے جرمنی میں یہود دشمن فضا بنائی جا رہی تھی۔ انھیں ناسور ثابت کرنے کے لیے نظریے اور دانش کی سطح پر بہت کام ہوا تھا۔ ہٹلر نے اقتدار میں آتے ہی انھیں معیشت، سماج اور روزمرہ زندگی سے الگ تھلگ کرنے کے لیے مرحلہ وار اقدامات شروع کیے۔ جرمن اکثریت کو یاد دلایا گیا کہ اگر تم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے تو یہ سود خور خون چوس یہودی تم پر چھا جائیں گے اور اپنا معاشی غلام بنا لیں گے۔ چنانچہ جب جرمن اکثریت کو پروپیگنڈے کے زور پر غیر جانبدار یا خوفزدہ کر دیا گیا۔ اس کے بعد ہی یہودیوں کو ریوڑوں کی صورت کنسنٹریشن کیمپوں میں پہنچایا گیا۔

کسی کو یہ جاننے سے دلچسپی نہیں تھی کہ انھیں کہاں لے جایا جا رہا ہے اور کیا سلوک ہوگا۔ چنانچہ جب عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد نازی کنسنٹریشن کیمپوں کی کہانیاں آہستہ آہستہ کھلنے لگیں تو بیشتر عام جرمنوں نے انھیں ماننے سے انکار کر دیا۔ ان میں سے کئی صدمے میں چلے گئے، کچھ کو احساسِ جرم ستانے لگا۔ اکثریت کے لیے یہ بہت بڑا دھچکا تھا کہ اچھا نازیوں نے یہودیوں کے ساتھ یہ کیا۔ ہمیں تو پتہ ہی نہ چلا ( جرمن اکثریت ناخواندہ بھی نہیں تھی اور پسماندہ بھی نہیں تھی۔ اس کے باوجود وہ اجتماعی دھوکے کا شکار کتنی آسانی سے بنتی چلی گئی) ۔

صدیوں سے ساتھ ساتھ رہنے والے سربوں نے ایک دن میں ہی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ ترک نژاد بوسنیائی مسلمان قابلِ گردن زدنی ہے۔ ان مسلمانوں کے خلاف نفرت سینہ بہ سینہ پلتی رہی اور جیسے ہی حالات سازگار ہوئے انھیں قتل گاہوں میں دھکیلنے کا کام شروع ہو گیا۔ آج جب سربرے نیتزا میں آٹھ ہزار سے زائد مسلمانوں کے اجتماعی قتل کی دنیا یاد مناتی ہے تو دل رونے کے بجائے ہنستا ہے۔ یہ قتلِ عام انیسویں صدی میں نہیں بلکہ ہماری ناک کے نیچے اسی ماہ کی گیارہ سے بائیس تاریخ کو اب سے چوبیس برس پہلے انیس سو پچانوے میں ہوا۔

ضروری نہیں کہ کسی بھی کمیونٹی کا جسمانی قتلِ عام ہی ہو۔ انھیں قوانین، تعصب، خوف اور نفرت کی بنیاد پر نیم انسان کے درجے پر لا کر ہر طرح سے غیر محفوظ بنا دینا ہی کافی ہے۔ جیسے انیسویں صدی میں افغانستان میں ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ ہوا جس کی جدید شکل کوئٹہ کی ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ ہونے والے سلوک میں دیکھی جا سکتی ہے۔ احمدی اگرچہ چھیالیس برس قبل ریاستی سطح پر غیر مسلم اقلیت قرار پا چکے ہیں مگر معاملہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ پچھلے چار پانچ عشروں میں سماجی سطح پر کچھ ایسی فضا پیدا کر دی گئی ہے کہ ہندو، کرسچن اور دیگر اقلیتیں تو قابلِ قبول ہیں مگر احمدی عملاً کسی سطح پر بھی قابلِ قبول نہیں۔

اسی طرح برما میں روہنگیا آبادی کا محض نصف فیصد ہوں گے۔ مگر پچھلے کئی عشروں سے بودھ راہب اٹھانوے فیصد اکثریت کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہیں کہ اگر روہنگیا مسلمانوں کا وجود برما میں باقی رہ گیا تو پھر ہمارا وجود نہیں رہے گا۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ نسلی نظریہ یا مذہب کوئی بھی ہو۔ اسے اگر ہتھیار بنانے کے عمل کو بروقت نہ روکا جائے تو آگ لگانے والے سات سر ایک ہی بانسری سے نکلتے ہیں۔ بھلے بانسری پر آپ گیروا رنگ کروا لیں، سبز نقش و نگار بنا لیں، سفید کر دیں یا سرخ۔

جو نہ بولے جے شری رام، اس کو بھیجو قبرستان
بشکریہ ایکسپریس۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •