مشرف حکومت گزشتہ 19 برس میں کرپٹ ترین پاکستانی دور لیکن عمران حکومت کی تحقیقات سے باہر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی گزشتہ 19؍ برسوں کی سالانہ رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں پاکستان میں کرپشن عروج پر تھی لیکن ماضی کی حکومتوں کی کرپشن پر عمران حکومت کی تحقیقات میں فوجی آمر کی حکمرانی کا دور شامل نہیں اور اس میں صرف پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے گزشتہ 10 سال شامل ہیں۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل ہر سال کرپشن کی حد اور اس سے جڑے اعداد و شمار جاری کرتی ہے، اس میں دنیا بھر کے ملکوں میں جاری کرپشن کے اعداد و شمار اور تقابل دکھایا جاتا ہے اور فہرست مرتب کی جاتی ہے۔ اسی تنظیم کی رپورٹ میں مشرف دور کو پیپلز پارٹی اور نون لیگ کی حکومتوں سے زیادہ کرپٹ دکھایا گیا تھا۔ تنظیم کی جانب سے جاری کردہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) کی فہرست میں بتایا گیا تھا کہ 2018ء کا سال پاکستان میں کم کرپشن کا سال تھا۔ یہ نون لیگ کی حکومت، نگران حکومت اور حکومت کا سال تھا۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ 2013ء سے 2018ء تک کرپشن میں کمی کے حوالے سے پاکستان کا اسکور بہتر ہوتا گیا اور ہر سال پہلے کے مقابلے میں بہترین سال ثابت ہوا۔ تاہم، 2018ء میں پاکستان کا بہتر سے بہترین اسکور 100 میں سے 33 نمبر تھا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں اب بھی کرپشن زیادہ تھی اور اسے اس لعنت کو ختم کرنے کیلئے اب بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

اگر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل کی سی پی آئی کا 1996ء سے جائزہ لیا جائے، جب بینظیر بھٹو کا دورِ حکومت تھا، تو یہ وہ وقت تھا جب ٹرانسپیرنسی نے پہلی مرتبہ اپنی بین الاقوامی رپورٹ میں پاکستان کا جائزہ لیا تھا اور اس میں 1996ء کے پاکستان کو کرپشن کے معاملے میں بدترین ملک قرار دیا گیا تھا اور اس کا اسکور 100 میں سے صرف 10 (1/10) تھا۔ اس کے بعد پاکستان کا دوسرا کم ترین اسکور یعنی 21 (2.1/10) 2004ء اور 2005ء میں ریکارڈ کیا گیا اور یہ پرویز مشرف ملک کے حکمران تھے۔

اگرچہ پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت کو عموماً کرپٹ حکومت کہا جاتا تھا لیکن ٹرانسپیرنسی کی سالانہ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں یہ اسکور 100 میں سے 24 (2.4/10) تھا جبکہ پرویز مشرف دور میں یہ اس سے بھی بدترین یعنی 21 تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پیپلز پارٹی دور کا 3 پوائنٹس کا یہ فرق اسے پرویز مشرف دور کے مقابلے میں بہتر بناتا ہے۔

گزشتہ 23 سال کا سالانہ اسکور دیکھیں تو اعداد و شمار کچھ یوں ہوں گے: 1996ء میں 10، 1997 میں 25، 1998ء میں 27، 1999ء میں 22، (2000ء کی رپورٹ نہیں)، 2001ء میں 23، 2002ء میں 26، 2003ء میں 25، 2004ء میں 21، 2005ء میں 21، 2006ء میں 22، 2007ء میں 24، 2008ء میں 25، 2009ء میں 24، 2010ء میں 23، 2011ء میں 25، 2012ء میں 27، 2013ء میں 28، 2014ء میں 29، 2015ء میں 30، 2016ء میں 32، 2017ء میں 32 اور 2018ء میں 33 اسکور، (تمام اسکورز 100 میں سے حاصل کردہ نمبرز ہیں)۔

موجودہ حکومت نے اعلیٰ اختیارات کا حامل ایک کمیشن تشکیل دیا ہے جس کی قیادت حسین اصغر کر رہے ہیں۔ اس کمیشن کا کام گزشتہ 10 سال کے دوران بڑھتے قرضوں کی تحقیقات کرنا ہے۔ کمیشن میں 12 ارکان شامل ہیں جن میں قومی احتساب بیورو، آئی ایس آئی، ایف آئی اے، انٹیلی جنس بیورو، ملٹری انٹیلی جنس، ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے عہدیدار شامل ہیں۔

سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، وفاقی حکومت ملکی و غیر ملکی ماہرین کی خدمات حاصل کرے گی جو گزشتہ 10 سال کے دوران سابقہ حکومتوں کی سرمایہ کاری اور اخراجات کا فارنسک آڈٹ کریں گے۔ یہ کمیشن 2008ء سے 2018ء تک کے ترقیاتی منصوبوں، کک بیکس اور ٹھیکوں کا بھی جائزہ لے گا۔ سرکاری فنڈز کی خرد برد اور ترقیاتی منصوبوں میں ہونے والی مبینہ کرپشن کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔ سرکاری نوٹیفکیشن میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ پرویز مشرف دور کو بالکل نہیں چھونا۔

(انصار عباسی – بشکریہ روز نامہ نیوز)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •