فاٹا دہشت گردی سے ترقی تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بریفنگ سابق فاٹا اضلاع میں سکیورٹی صورتحال اور ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے تھی لیکن ظاہر ہے بہت سارے سوال بھی پوچھے جانے تھے اور بہت سے موضوعات بھی کھلنے تھے۔ کور کمانڈر پشاور جنرل شاھین مظہر ایک اور سینئر افسر کے ہمراہ سابق فاٹا کے ساتوں اضلاع میں سکیورٹی اور ترقی کے حوالے سے پشاور کے سینئر صحافیوں کو تفصیلی بریفنگ دینے لگے تو اُمید اور خوشگواری کی بارش پیہم برستی رہی کیونکہ دہشت گردی کا ذکر کم بلکہ بہت کم جبکہ امن اور ترقی کا ذکر زیادہ بلکہ بہت زیادہ ہوتا رہا، وہ بھی فیکٹس اور فگرز کے ساتھ سلائیڈز اور تصاویر کے ساتھ۔

بتایا گیا کہ یہ اٹھارہ سالہ نہیں بلکہ چالیس سالہ جنگ تھی، جو افغانستان میں روس کے داخل ہونے کے ساتھ ہی چنگاری بنی اور دو ہزار ایک میں امریکی حملے کے بعد ایک شدت کے ساتھ بھڑکی۔

دہشت گردی کے خلاف اس خوفناک جنگ میں 2007 سے 2019 تک ایک سے پانچ ڈویژن فوج نے حصہ لیا۔ ساڑھے چار ہزار سے زائد فوجیوں نے جام شہادت نوش کیا اور زخمیوں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے لیکن بالآخر دہشت گردوں کا قلع قمع کردیا گیا اور اب توجہ سکیورٹی اور ترقی پر ہے۔

مزید بتایا گیا کہ پاک افغان بارڈر پر پانچ سو تریسٹھ کلومیٹر باڑ مکمل ہوچکی ہے۔ لیکن چترال، کُرم اور وزیرستان کے بعض اضلاع میں برف باری اور سکیورٹی وجوھات کی وجہ سے قدرے آہستگی ہے تاہم اگلے سال کے وسط تک یہ کام مکمل ہوجائے گا۔

سینتالیس ہزار کلومیٹر علاقہ مکمل طور پر کلئیر کر دیا گیا ہے۔ اس بارڈر پر ایک ہزار سولہ پوسٹ سکیورٹی کے نقطہ نظر سے بنادیے گئے ہیں، دوسری طرف افغان حکومت نے بھی دو سو آٹھ پوسٹ قائم کی ہیں، جس کی وجہ سے سکیورٹی صورتحال میں بہترین تبدیلی آئی ہے۔

پہلے سے بچھائے گئے نصف مائنز کو تلف کیا گیا ہے، تاہم بعض علاقوں میں ابھی خطرہ موجود ہے۔ اس لئے اس کام پر پوری توجہ مرکوز ہے۔ افغانستان کے اندر طالبان اور داعش کی لڑائی کا اثر کسی حد تک ملحقہ پاکستانی علاقے پر پڑتا رہتا ہے، تاہم سکیورٹی ادارے پوری طرح الرٹ ہیں اور نا خوشگوار واقعات کو حتی الوسع حد تک روک دیا گیا ہے۔ سابق فاٹا کے تمام اضلاع میں فوج کو عوام کا مکمل تعاون حاصل ہے۔ جس کی وجہ سے سکیورٹی اور ترقی کی رفتار میں حیرت انگیز تیزی آئی ہے۔

یہاں سے بات ترقی کے سوال کی طرف مڑی تو سامنے لگے پروجیکٹر پر نئے منظر اُبھرے جسے ایک خوشگوار اور پُر اُمید حیرت کے ساتھ دیکھا جانے لگا۔

فاٹا کے ساتوں اضلاع شمالی اور جنوبی وزیرستان کرم اورکزئی خیبر۔ مھمند اور با جوڑ میں آٹھ سو تہتر کلومیٹر اعلٰی معیار کے نئے روڈز بنادئے گئے ہیں جبکہ چھ سو بیاسٹھ کلومیٹر روڈز زیر تعمیر ہیں جو جلد تکمیل کو پہنچیں گے۔

صحت عامہ کے حوالے سے ایک سوال پر بتایا گیا کہ سینتیس نئے ہیلتھ سینٹرز بن چکے ہیں اور بعض ہسپتال باقاعدہ فنگشنل بھی ہو چکے ہیں، جبکہ فوج کی طرف سے ہر ضلع میں ماہانہ تین دن کے لئے ایک ایک میڈیکل ٹیم بھی بھجوائی جاتی ہے جس میں مختلف سپیشلسٹ ڈاکٹرشامل ہوتے ہیں، یہ آفر بھی دی گئی کہ اگر سول ڈاکٹر وہاں کام کرنا چاہیں تو فوج کی طرف سے انھیں سکیورٹی رہائش حتٰی کہ فوجی میس اور کھانا بھی فراہم کیا جا سکتا ہے۔

تعلیم کے حوالے سے بتایا گیا کہ سابق فاٹا کے ہر ضلع میں کیڈٹ کالج بنا دیا گیا ہے ان کیڈٹ کالجز میں ڈھائی ہزار سے زائد مقامی طالبعلم بہترین تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

دہشت گردوں کے ہاتھوں تباہ کیے گئے تمام سکولوں کی تعمیر نو کی گئی ہے جبکہ لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لئے ا لگ الگ سے اعلی معیار کے تعلیمی ادارے بنائے گئے ہیں۔

وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے ایک خوبصورت عمارت اس مقصد کے لئے رضاکارانہ طور پر دی ہے جبکہ باجوڑ جیسے پسماندہ علاقے میں لڑکیوں کے لئے بنائے گئے ہاسٹل کا ذکر بھی ہوا جس کی کیپسٹی دو سو ہے۔

بارڈر پر باڑ مکمل ہونے کے بعد اس سے ملحق روڈ اور اس کے ساتھ مقامی آبادیوں کے لئے بزنس سینٹرز اور سکول بنانے کا منصوبہ بھی ہے۔ ٹریڈ کے حوالے سے بتایا گیا کہ تورخم، خرلاچی، غلام خان اور انگور اڈہ کے راستوں سے ٹریڈ ہو رہی ہے اور تجارتی قافلوں کو سکیورٹی فراہم کی جارہی ہے۔

سوال و جواب کا سلسلہ دراز ہوا تو اختصار کے ساتھ لکھتے ہوئے یہ باتیں سامنے آئیں کہ گڈ طالبان اور بیڈ طالبان فوج کی ٹرمینالوجی ہرگز نہیں بلکہ یہ برآمد شدہ اختراع ہے کیونکہ ہمارے ہاں ایک آدمی یا تو قانون پسند ہوتا ہے یا ریاست کا باغی۔ پورے خیبر پختونخواہ میں داعش کا کوئی وجود نہیں۔

چودہ اگست تک مزید چونسٹھ چیک پوسٹ سول حکومت کے حوالے کیے جائیں گے، تعمیر وترقی کے کام پر فاٹا اضلاع میں ابھی تک اٹھاون بلین خرچ ہوچکے ہیں جبکہ اگلے چند سال میں مزید سو بلین روپے خرچ ہوں گے۔

ساڑھے تین گھنٹے پر محیط طویل بریفنگ ختم ہوئی اور ہم لنچ کے لئے دوسرے ہال کی طرف بڑھے تو ایک پرانے صحافی دوست نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ تبدیلی تو واقعی آگئی ہے لیکن کسی اور قرینے سے کسی اور کے ہاتھوں۔

میں نے لمحوں کی خوشگواری کو سیاسی آلودگی سے بچاتے ہوئے جواب دیا واقعی تبدیلی آ گئی ہے کیونکہ اسی ہال میں ہم۔ پہلے دہشت گردوں کی تباہ کاریوں سے آگاہ ہوتے اور آج امن اور ترقی سے تعارف ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •