میں اداس ہوں مگر۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حبس گرم موسم ہو اور اس پہ مستزاد ہر طرف اک دھند چھائی ہوئی ہو تو کوفت اداسی میں بدل جاتی ہے سو میں بہت اداس ہوں بیزار ہوں، ہر چیز ہر منظر دھند میں لپٹا ہے یا لپیٹ دیا گیا ہے۔ یہ بھی سمجھ نہیں آتی معاشرتی سماجی اور سیاسی سطح پہ ہم ایک دھند زدہ ماحول کا شکار ہیں اور یہ ایک اداس کردینے والی بات ہے۔

مگر رکیے، سیاسی۔ ۔ ۔اس لفظ پہ آکر میرا قلم کچھ رک سا گیا ہے۔ ۔ کیا ہمارے معاشرے میں لفظ سیاست مناسب ہے؟

ہمارے نظام عساکر میں اس عسکریت پسندی و عسکریت پرستی میں کیا لفظ سیاست کا استعمال بھی مناسب ہوگا؟

چلیے کم ازکم ایک معاملے میں تو دھند چھٹی ہے مگر یہ بات مجھے مزید اداس کرتی ہے کہ میں آج اکیسویں صدی کا انسان ہوکر بھی ایک ایسے ملک کا باشندہ ہوں جس کے رہنے والوں کے پاس حق سیاست و انتخاب نہیں ہے اور اس کو اس بری طرح پامال کیا جاتا ہے، ہائی جیک کرلیا جاتا ہے کہ مظلوم عوام کو خبر ہی نہیں ہوتی یا پھر وہ اپنے معاشی مسائل میں اس بری طرح الجھ چکے ہیں کہ بے حسی اور اکتاہٹ سے اس کو نظر انداز کرنے پہ مجبور ہیں مگر کیا یہ اداس کرنے والی بات نہیں سو میں بہت اداس ہوں۔

آج 2019 ہے اپنی تاریخ استعمار پہ نظر ڈالیے۔ ۔ آپ کو دور تک، حد نگاہ تک یہی قوتیں راج پاٹھ کرتی نظرآئیں گی ان کی خوئے سلطنت اور عوام کی اس خاموش اطاعت نے ہمیں یہ دن دکھائے ہیں کہ آج ہم مکمل طور پہ کنفیوز ہیں، منتشرہیں، دھند میں لپٹے کھڑے ہیں اپنے اطراف میں کھڑا ہر شخص اور ہر ادارہ اسی دھند میں لپٹا ہوا ہے۔

ہر سیاستدان غداری اور کرپشن کے الزامات سے داغدار ہے۔

اسی غلاضت بھری دھند نے اب عدلیہ کی طرف مزید شدت سے رخ کرلیا ہے گو کہ ہمارا ماضی بھی داغدار ہے یہ نظریہ ضرورت اور بھٹو کے جوڈیشل مرڈر کی پراسرار دھند میں لپٹا ہوا ہے۔

میڈیا یاصحافت جو ریاست کا چوتھا ستون ہوتا ہے اسے ہم نے چکلہ بنا دیا ہے جس کی آبرو سر بازار لوٹی گئی ہے اور اٹھنے والی ہر چیخ کا گلا گھونٹے کا یہ بندوبست بھی یہ کہہ کر خوب کردیا گیا ہے کہ ہمارا میڈیا آزاد ہی نہیں بلکہ اوٹ اف کنٹرول ہے۔

یہاں سب غدار ہیں سوائے ان کے جو غداری کا فتوی بانٹتے ہیں۔

دھند ہی دھند ہے اور میں بہت اداس ہوں۔

اس دھند کے ساتھ چلتے جائیے تو آپ ماضی میں کہیں دور جا نکلتے ہیں۔ چلیے زیادہ دور نہیں جاتے آج سے اڑھائی سو برس پہلے عوامی شکست کی بات کرتے ہیں یہ سراج الدولہ ہے جس کی بنگال میں شکست برطانوی و عالمی استعمار کے بالمقابل دراصل عوام کی شکست تھی، عوامی شکست کا پھر اک طویل سلسلہ ہے اور سو برس بیتنے کے بعد غدر یا جنگ آزادی ہے یہاں پھر استعماری قوتیں شکست عوام کو دے دیتی ہیں اور ایک دفعہ پھراپنی من پسند بساط بچھاتی ہے دو ملکوں کی آزادی اس صورت عمل میں آتی ہے کہ ایک سلگتی لکیر ان عساکر و استعماری طاقتوں کے لیے ہمیشہ مرغوب غذا کے طور پہ موجود رہے کہ وار اکانومی بڑی ظالم ہوا کرتی ہے اس کی خوراک انسانوں کا لہو، ہڈیوں کا سرمہ ہے، ماؤں کی کوکھ ہے اور اس خوراک کو کھا کر ہی یہ اسلحے کی منڈیاں چلاکرتی ہیں۔

1948 ء کی بجائے یہ سلگتی آگ اگلتی لکیر 1947 ء میں ہی ابھر آئی، دو ملکوں کی تشکیل میں عوام کی آزادی کو عوام کی شکست میں بدلنے کا بھرپور انتظام کر دیا گیا۔ اس نوخیز ملک کی ابتدا ہی غلط رکھ دی گئی۔ دس سال مزید گزرے استعمار کے مزید سو سال پورے ہوئے 1958 ء یہاں ایک بار پھر عوام کے حق پہ ڈاکہ ڈالا گیا۔

آپ نے اس تاریخی سفر پہ اک سرسری نظر ڈالی؟ یہاں اک بات کی جانب توجہ دلانی ضروری ہے کہ یہ استعماری قوتیں ملکی اور عالمی اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ ملک کے اشرافیہ اور فیوڈلز کو نواز کر پہلو میں رکھیل بنا کر چلا کرتے ہیں سو ان کو نوازنے کے لیے لیز یا پٹے پہ بڑی بڑی جاگیریں عطا کردی جاتی ہیں یہ تو آپ کو پتہ ہی ہوگا کہ اس لیز کی معیاد ہر سو سال بعد ختم ہو جاتی ہے۔ اب اگلے سو سال کے راج پاٹھ کے لیے دیوتا کے چرنوں میں بلی دینا ضروری ہے سو آقا ہم ہیں ناقربانی کے بکرے، سدا سے آپ کے راج پاٹھ کے لیے ہم قربانی دیتے آئے ہیں آیندہ بھی دیں گے۔

آپ نے تو ہماری اس معصوم سی خوشی کا بھی احترام نہیں کیا کہ ہم اپنا فرعون، مطلب اپنا نمایندہ خود منتخب کر لیں تاکہ جب غصہ، بے بسی اور دھند عروج پہ ہو تو اسے گالی دے کر دل خوش کر لیں۔ اب ہم آپ کو تو گالی نہیں دے سکتے نا آخر زندگی جیسی بھی دھند آلودہ و ظالم ہو کم بخت پیاری تو ہوا کرتی ہے۔

کیا کچھ دھند چھٹی ہے؟ آپ کو دو دائرے نظر آئے؟ اک ملکی اسٹیبلشمنٹ اور اک غیر ملکی اسٹبلشمنث جس کی بھوک کا کوئی انت نہیں، عوام، حقوق جمہوریت کا بہانہ ہیں بھیڑیے کے پاس میمنے کے بچے کو کھانے کے لیے۔

اس آڑ میں شام، فلسطین، افغانستان پہ اپنے پنجے کسے جاتے ہیں سرحدوں کی نگرانی کو اور کالے سونے اور معدنی ذخائر پہ قبضہ کو، دنیا بھرکے غریب ملکوں کے وسائل کوکیسے ہضم کر لیا جاتا ہے کیا مہارت و چابکدستی ہے اس کی داد تو کم ازکم بنتی ہے۔

اور ان دونوں استعماری و اصل حاکم قوتوں کا کندھا، سہارا وردست و بازو ہمارا فیوڈل طبقہ ہے۔ ہم پہ مارشل لا کی سیاہی ان دونوں دائروں کی رضا باہمی کے بعد ان لارڈز کے تعاون کے بغیر نا ممکن تھی۔

اور اب 2018 میں اسی اسٹیبلشمنٹ نے اپنا لبادہ و پینترا بدلا ہے کہ یہ اکیسویں صدی ہے جہاں خبر خون کی طرح گردش کرتی آخری سرے تک پہنچ جاتی ہے اب شب خون مارنا اس طرح ممکن نہیں تھا، سو ہماری سیاست کا گلا سڑا سسٹم ان گِدھوں کی خوراک بننے کے لیے پھر آگے آگیا۔ عمران خان جس شرمناک حد تک اسٹیبلشمنٹ کی گود میں بیٹھ کر اپنی اننگ کھیلنے کے چکر میں ہے یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک اور سیاہ باب ہوگا، آنے والی حکومتوں کے لیے مسائل کے پہاڑ کھڑے کردیے گیے ہیں چاہے وہ حکومت تحریک انصاف کی ہی کیوں نہ ہو۔

ایک عوامی جماعت کو محض ایک ہتھیار اور ایک پریشر گروپ بنا دیا گیا ہے جس پہ تاریخ کیا انہیں کبھی معاف کر پائے گی؟ اس مردہ حکومت میں جان ڈالنے کو کیا کیا جتن کیے جارہے ہیں، واشنگٹن میں ہونے والا جلسہ اس کی مثال ہے جہاں کپتان حسب معمول کنٹینر والی تقریر کرآیا۔ منتقم مزاج کی عکاس تقریر پی ٹی آئی کی ترجمانی کرتی تھی پاکستان کی نہیں۔ عمران خان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دودھ کے دھلے نہ وہ ہیں نہ ان کی جماعت جو دوسری جماعتوں کے تھوکے ارکان پہ مشتمل ہے اور نہ ہی ان کے حلیف مشرف با اسلام ہیں۔ کل کو وہ منظور نظر نہ رہے یا سلیکشن کے معیار سے ذرا ادھر ادھر ہوئے تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

ان کو اب یہ یقین دہانی کروانے کی اشد ضرورت ہے کہ وہ وزیر اعظم پاکستان ہیں اور یہ کہ پے درپے جھوٹ بولنا مسلسل یو ٹرن لینا بھی بدترین کرپشن ہی ہے۔

مگر اس دھند میں کچھ روشنی بھی ہے۔

کل میں نے ایک بچی کو روڈ پہ تپتی دوپہر میں ٹریفک کے رش میں بڑے اعتماد و مہارت کے ساتھ موٹر سائیکل چلاتے دیکھا اردگرد تمسخرانہ نظروں کی پروا کیے بغیر وہ بچی چادر لپیٹے ہیلمٹ پہنے اپنے اختیار کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لیے منزل کی جانب رواں دواں تھی۔

آج اپنی بلی بیلا کو ویٹرنری کلینک لے کر گئی۔ میں جب بھی اس کو ریگولر چیک اپ کے لیے لے کر جاتی ہوں تو یہ ظالم نفس اپنی ذات کی نیکی پہ یوں ہی مغرور ہونے لگتا ہے وہاں حیرت کا جھٹکا میرا منتظر تھا۔ وہاں ایک آوارہ بلی کی سرجری ہورہی تھی جو ایک مردہ بچے کو یوٹرس کے حلقوم میں لیے گھوم رہی تھی کہ کچھ نیک لوگوں نے اسے اس حالت میں دیکھا، گندگی اور بدبو کی پروا کیے بغیر وہ اسے بوری میں پکڑ کے لائے، اس کا مردہ بچہ علیحدہ کروایا، دوا دی انجکشن لگوائے، فیس ادا کی، میں نے رشک و ستایش سے نیکی کے اس مقام کو دیکھا کہ جس کو چھونا شاید مرے بس کا روگ نہ تھا، خود پہ نفرین بھیجی کہ بیلا کو اپنا بچہ سمجھتے ہوئے اس کی نگہداشت مجھے ممتا کی تسکین ہی نہیں دیتی بلکہ نیکی لگتی ہے جس پہ اتراہٹ اور بھی قابل شرم ہے۔

اور تیسرا روشنی کا ماخذ صبح ملنے والے وو مسجز ہیں، یہ ان دوستوں کے ہیں جو کٹڑ اور پکے ”مومن“ یعنی پی ٹی آئی کے فالوورزہیں مگر آج بددل اور مایوس ہوکر توبہ تایب کر چکے ہیں اور دل سے اس اسٹیبلشمنٹ کے شکنجے سے نجات چاہتے ہیں یہی وہ بظاہر تھوڑی سی روشنی ہے جو سرنگ کے اس پار ہے روشنی مگر تھوڑی ہی ہوا کرتی ہے مگر اندھیرے اور دھند کو چیر دیا کرتی ہے۔

یہی پاکستان کا زندہ اور روشن اصلی چہرہ ہے جو بتاتا ہے کہ ہم مردہ قوم نہیں ہیں۔

میں اداس ضرور ہوں مگر۔ اس چہرے کو دیکھ کر مطمئن بھی ہوں کہ دھند اور اندھیرے کے بعد صبح قریب ہی ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •