شریف خاندان کا عرفان صدیقی سے ”حسن سلوک“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پروفیسر عرفان صدیقی کے ساتھ نامعلوم اشاروں پر جو کچھ اسلام آباد پولیس اور خاتون مجسٹریٹ مہرین بلوچ نے کیا، وہ ناقابل قبول اور ہماری سماجی اور معاشرتی تاریخ پر تادیر بدنما داغ رہے گا لیکن جو کچھ شریف خاندان اور اس کے حالی موالیوں نے کیا، وہ بھی سرکاری ’حسن سلوک‘ سے کچھ کم نہیں تھا

انہیں اڈیالہ جیل سے لینے کے لئے ذاتی حوالوں سے صر ف مریم اورنگ زیب پہنچیں دوسرا شخص ایک کالم نگار تھا مریم اورنگ زیب مسلم لیگ کی واحد رہنما تھیں جو اڈیالہ جیل کے باہر موجود تھیں

عرفان صدیقی وضع دار بزرگ ہیں

بے اعتنائی کے دکھ چھپا رہے ہیں

تادم تحریر کسی صف اوّل کے مسلم لیگی رہنما نے ان کے گھر پہنچ کر ان کی خیر خیریت دریافت کرنے زحمت نہیں کی تھی کہ اسے مہارانی ”مریم نواز صفدر اعوان“ کی ناراضی کا خدشہ تھا اور ہے

رہے سوشل میڈیا کے کاغذی پہلوان تو ان میں سے کوئی بھی وہاں موجود نہیں تھا سب ائیرکنڈیشنڈ مورچوں میں بیٹھے فیس بک اور ٹویٹر کے محاذ پر شدید گولہ باری کر رہے تھے

جناب عرفان صدیقی کے غم میں بے حال دانش ور جان بوجھ کر شریف خاندان کے حسن سلوک کو نظرانداز کر رہے ہیں کہ ”مہارانی“ ناراض ہو جائیں گی

ایک سنئیر اخبار نویس نے چشم دید واقعہ بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا وزیر اعظم ہاؤس کے جس حصے میں میڈیم مریم کا دربار لگا کرتا تھا حمزہ شہباز کو لاوارثوں کی طرح پھرتے دیکھا جب انہوں نے اپنے میزبان سے دریافت کیا تو اس نے عجیب بے اعتنائی سے جواب دیا کہ اس کو (حمزہ شہباز) کو مریم بی بی منہ نہیں لگاتی، ہمیں لفٹ کرانے کی کیا ضرورت ہے

کہتے ہیں مریم نواز بھی شہید بے نظیر بھٹو کی طرح (Uncle ’s syndrome) کا شکار ہیں ویسے بھی وہ مغرب کے لئے قابل قبول لبرل پاکستانی خاتون کا کردار ادا کرنے کی مشق کر رہی ہیں

ایک سوال مسلم لیگ (ن) اور اس کی ’عوامی قیادت‘ سے بھی پوچھنا ہے کہ عرفان صدیقی کی رہائی پر وہ سارے کے سارے کس جہاں سدھار گئے تھے، کسی کو توفیق نہ ملی کہ اڈیالہ جیل ہی چلا جاتا، تھانے ہی جا کر کوئی پوچھ لیتا، گھر ہی چلا جاتا۔ ایک مریم اورنگزیب خاتون آہن ہے جو بذات خود قیدخانے پہنچی اور خود کو روایت پسند ثابت کیا۔ قوم کے غم میں گھلتی قیادت کہاں تھی؟ مریم نواز شریف کی زبان کو کیوں گرہ پڑ گئی تھی؟ ان کا ٹیوٹر اکاونٹ چیک کر لیں مکمل خاموشی ملے گی

جیسے عرفان صدیقی کی گرفتاری غیرقانونی، مضحکہ خیز اور توہین آمیز تھی، ویسے ہی ان کی رہائی بھی غیرقانونی، مزید مضحکہ خیز اور پورے معاشرے، قانون، انصاف، دستور، قاعدے اور اصول کی تذلیل ہے۔

اگر گرفتاری غیرقانونی تھی، تو یہ گرفتاری کرنے، ایف آئی آر کاٹنے، درجن بھر گاڑیاں لے جانے، گرفتار کرنے والوں، خاتون میجسٹریٹ سمیت اس سارے غیرقانونی عمل میں شامل اور اسے انجام دینے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ پھر یہ کہ کس اصول، قانون اور پیمانے کے تحت انہوں نے اتوار والے دن ملزم کی رہائی کا تماشا رچایا؟ اس کا مطلب ایک ہی ہے کہ پاکستان میں کوئی آئین نہیں، جنگل کا قانون لاگو ہے حکمرانوں کے من میں جو آئے، جو سمائے وہ کر گزرتے ہیں بزرگ استاد کو پورے محلے میں گھسیٹ کر گاڑی میں ڈال دیتے ہیں۔ موج میں آئے تو چھٹی والے دن وہی خاتون میجسٹریٹ جھٹ پٹ ضمانت دے دیتی ہے جس کا ایک ایس ایچ اوکو بھی اختیار تھا لیکن میجسٹریٹ صاحبہ قبول نہ کرسکیں۔

نواز شریف اور مریم نواز شریف کی وجہ سے جو عرفان صدیقی بزرگی کے اس عالم میں قصوری چکی سے ہو آئے ہیں، اس کے پیچھے جانے اور اس کا اتہ پتہ کرنے، اڈیالہ سے رہائی کے وقت اس کے استقبال کے لئے کسی بڑے رہنما کو فرصت میسر نہ ہوئی؟ نواز شریف تو چلو جیل میں ہیں، ’خادم عوام‘ سے لے کر راولپنڈی اسلام آباد کے تیس مار خان سب کہیں غائب ہوگئے؟ پارلیمنٹ میں ”میرے قائد“ کا ورد پڑھتے خواجہ آصف کہاں تھے؟ احسن اقبال کہاں تھے؟ ایاز صادق کہاں تھے؟ راجہ ظفرالحق کہاں تھے؟ کڑاکے نکالنے ہمارے مشاہد حسین سید صاحب کہاں رہ گئے تھے؟ عرفان صدیقی جیسے شخص کے لئے چند لمحے نہ نکال کر ثابت ہوا کہ مسلم لیگ (ن) کی اپنا ساتھ دینے والوں کے لئے وفا کا درجہ حرارت کس نکتہ انجماد پر ہے۔

حرف آخر ایک بددعا جو ساتھی کالم نگار راجہ لیاقت نے دی ہے جو جناب عرفان صدیقی سے ذرا برابر لگاؤ نہیں رکھتے تھے لکھتے ہیں ”عرفان صدیقی کو ہتھکڑی میں دیکھ کر دل سے یہ بدعا نکلی کہ کاش مرنے سے پہلے یہ منظر دیکھ سکوں کہ عمران خان ’اعجاز شاہ اور آئی جی اسلام آباد عامر ذوالفقار کو بھی اسی طرح ہتھکڑی لگی ہو۔‘

راجہ لیاقت لکھتے ہیں گذشتہ دس سال میں، میں نے شاید ہی عرفان صدیقی کا کوئی کالم پڑھا ہو کیونکہ جب انہوں نے نواز شریف کی قصیدہ گوئی شروع کی تھی تو انہیں پڑھنا چھوڑ دیا تھا

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •