طالبان سے مذاکرات : چاندی کے تیس سکے کس کی جیب میں ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

طالبان سے کامیاب مذاکرات شروع ہونے کے بعد آج ایک اور دن گزرا اور درجنوں افراد ایک دھماکے سے شہید ہوگئے۔ 7 جون 2019 کو قطر میں طالبان اور مختلف افغان راہنماؤں کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا۔ ایک لحاظ سے یہ ایک امید افزا پیش رفت تھی کیونکہ 18 سال کی طویل اور خون ریز خانہ جنگی کے بعد سب قائدین مل بیٹھ کر وہ حل نکالنے کی کوشش کر رہے تھے جس کے نتیجہ میں یہ خون خرابہ ختم ہو۔ لیکن ایک پیچیدگی کی وجہ سے یہ خوشی ماند پڑ گئی۔

اور وہ پیچیدگی یہ تھی کہ طالبان نے افغان حکومت کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات سے انکار کر دیا۔ اس کی وجہ یہ بتائی کہ کیونکہ افغان حکومت امریکہ کی پٹھو ہے اس لئے ہم اس کے ساتھ مذاکرات نہیں کر سکتے۔ اگر ان کی ’غیرت‘ اس بات کی اجازت نہیں دیتی تھی کہ وہ امریکہ کی پٹھو حکومت کے ساتھ مذاکرات کریں تو بہر حال انہیں اپنی رائے کا حق حاصل ہے۔ لیکن ہم جیسے کم علموں کو یہ بات سمجھ نہیں آ سکی کہ اس سے قبل طالبان خود امریکہ کی حکومت کی سے مذاکرات کے سات دور مکمل کر چکے تھے۔

بہر حال یہ راستہ نکالا گیا کہ افغان حکومت سے وابستہ افراد اپنی ذاتی حیثیث میں مذاکرات میں شامل ہو جائیں لیکن وہ اس پٹھو حکومت کے نمائندے کے طور پر طالبان کے سامنے نہیں بیٹھ سکتے۔ سب نے اتفاق کیاکہ اس خانہ جنگی میں کم از کم عام شہریوں کی اموات تو نہ ہوں۔ گرم جوشی سے اتفاق کا اظہار ہو رہا تھا کہ 8 جولائی کو خبر آئی کہ غزنی میں طالبان نے بم دھماکہ کیا اور چھ عام شہریوں سمیت 14 افراد اللہ کو پیارے ہو گئے اور سو سے اوپر بچہ زخمی ہو گیا۔

بہر حال مزید خلوص ِ دل سے مذاکرات جاری رہے اور اگلے روز اس اتفاق ِ رائے پر یہ کامیاب مذاکرات ختم ہوئے کہ کم از کم سویلین اموات کو صفر پر لایا جائے گا۔ چند گھنٹے ہی گزرے تھے کہ خبر آئی کہ افغان حکومت کی ہوائی بمباری کی وجہ سے بہت سے سویلین افراد کی اموات ہو گئیں۔ پھر کیا تھا؟ عہد شکنی کا مقابلہ شروع ہو گیا۔ 12 کو طالبان نے ایک حکومتی کمانڈر کے خاندان کی شادی میں دھماکہ کیا اور ایک بچے سمیت 6 افراد شہید ہو گئے۔

اگلے روز طالبان نے ایک امریکی سمیت چار افراد کو مار دیا۔ اور 20 کو پھر حکومتی افواج کی بمباری سے دس سویلین مارے گئے۔ اس پس منظر میں جب ہمارے وزیرِاعظم واشنگٹن گئے تو بعض کو وہم تھاکہ اس موقع پر صدر ٹرمپ امن کی فوری بحالی کا کوئی نسخہ پیش کریں گے۔ لیکن وہ اکثر لوگوں کی امیدوں پر پورا اترے اور فرمایا کہ اگر میں چاہوں تو دس روز میں ہی افغانستان کو ختم کر کے فتح حاصل کر سکتا ہوں۔ بہر حال وزیر اعظم نے فرمایا کہ وہ بھی کامیاب مذاکرات کے لئے طالبان سے رابطہ کریں گے اور اس مسئلہ کا حل بہرحال مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔

ابھی یہ دورہ ختم ہی ہو رہا تھا کہ کابل میں تین دھماکے ہوئے جن میں عورتوں اور بچوں سمیت 15 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پہلے تو یہ آگ افغانستان میں لگی ہوئی تھی لیکن اس اعلان کے بعد یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ شمالی وزیرستان میں افغانستان کی سرحد سے فائرنگ کر کے طالبان نے 6 پاکستانی فوجیوں کو شہید کر دیا اور چار افراد کو بلوچستان میں شہید کر دیا گیا۔

ضرورت تو اس بات کی تھی افغان حکومت اور طالبان فوری رابطہ کر کے اس خون خرابے سے اپنی قوم کو نجات دلاتے لیکن 28 جولائی کو طالبان سے مذاکرات کے لئے مقرر امریکی سفارتکار زلمے خلیل زاد نے یہ ٹویٹ کی کہ جب امریکہ اور طالبان کا معاہدہ ہو جائے گا تو پھر افغان حکومت اور طالبان کے مذاکرات شروع ہوں گے اور طالبان کے نمائندے ذبیح اللہ مجاہد صاحب نے اس کی تائید کی۔ یعنی اگر کوئی ترجیح ہے تو یہی کہ امریکہ کی افواج کو باہر نکلنے کا پُر وقار راستہ مل جائے۔

طالبان کا مطالبہ ہے کہ غیر ملکی افواج جلد از جلد افغانستان سے رخصت ہو جائیں حالانکہ اپنے قیام سے اب تک طالبان بڑی باقاعدگی سے دوسرے مسلمان ممالک سے افراد کو اپنی افواج میں بھرتی کرتے رہے ہیں۔ اس ٹویٹ کا نتیجہ جو نکلنا تھا وہی نکلا۔ اگلے روز طالبان نے کابل میں نائب صدارت کے امیدوار امراللہ صالح صاحب کے دفتر پر حملہ کر کے 20 افراد ہلاک کر دیے۔ اس سے اگلے روز کوئٹہ میں دھماکہ ہوا۔ اور آج 31 جولائی کو افغانستان میں طالبان کے نصب کردہ بم سے درجنوں افراد شہید ہو گئے۔ یہ خونی روزنامچہ واضح کر دیتا ہے کہ ان مذاکرات کے بعد حالات بہتر ہونے کے بعد تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔ یہ نکات قابل ِ غور ہیں۔

1۔ طالبان کا کہنا یہ ہے کہ ان کو سب سے زیادہ اعتراض اس پر ہے کہ غیر ملکی افواج افغان سرزمین پر کیوں موجود ہیں؟ لیکن ان مذاکرات کے بعد وہ امریکی اور نیٹو افواج پر نہ ہونے کے برابر حملے کر رہے ہیں۔ خون ارزاں ہے تو افغانستان اور پاکستان کے شہریوں کا۔ کہیں نیٹو افواج کو محفوظ راستہ تو نہیں دیا جا رہا؟

2۔ جب کشمیر میں دھماکہ ہوا تو امریکی کانگرس میں فوری طور پر مذمت کی قرارداد منظور کی گئی۔ اور بڑے درد سے بھارت سے اظہار ِ یکجہتی کیا گیا۔ صدر غنی کی حکومت بھی تو کہنے کو امریکہ کی اتحادی ہے۔ طالبان کے ان بار بار کے دھماکوں پران ایوانوں میں ایک معنی خیز خاموشی طاری ہے۔ اگر زور ہے تو اس بات پر کہ امریکہ اور طالبان کا معاہدہ جلد ہوجائے۔ خوامخواہ امریکہ اتنے بلین ڈالر ہر سال افغانستان پر خرچ کیے جا رہا ہے۔ کہیں یہ فیصلہ تو نہیں ہو چکا کہ طالبان سے معاہدے میں اپنے اتحادیوں کو پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا جائے گا؟

3۔ 25 جولائی کو امریکہ کے ایوان ِ نمائندگان میں قرارداد نمبر 519 میں ایک اضافہ منظور کیا گیا۔ اس میں اظہار کیا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس بات کو یقینی بنائے امریکی افواج کے نکلنے کے بعد افغانستان میں القاعدہ اور ISISکو پنپنے کا موقع نہیں ملے گا۔ اور ایران کا رسوخ تو نہیں بڑھ جائے گا۔ اس بات کا کوئی ذکر ہی نہیں کہ ان ’کامیاب مذاکرات‘ کے بعد جو خون ریزی کی لہر پیدا کی گئی ہے وہ جاری رہی تو کیا بنے گا؟
(Congressional Record Vol 165 no۔ 126، H 7395 )

ایسا کیوں ہے؟ ان شدت پسند تنظیموں میں ایک بحث جاری رہتی ہے کہ پہلے ’دور کے دشمن‘ کو نشانہ بنانا ہے یا ’قریب کے دشمن‘ کو۔ ’دور کے دشمن‘ سے مراد امریکہ اور مغربی ممالک ہیں۔ اور ’قریب کے دشمن‘ سے وہ مسلمان ممالک اور ان کی حکومتیں ہیں جو ان کے نزدیک راہ ِ راست سے ہٹ چکی ہیں۔ روایتی طور پر طالبان ’قریب کے دشمن‘ کو نشانہ بنانے کے حق میں رہے ہیں۔ اس لئے ان کی سرگرمیاں افغانستان اور پاکستان تک محدود رہی ہیں۔

’دور کے دشمن‘ کو نشانہ بنانے کی کوشش القاعدہ کرتی رہی ہے اسی لئے اس کا نشانہ زیادہ تر مغربی ممالک رہے ہیں۔ جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ شروع کیا تھا تو اس بناء پر کیا تھا کہ طالبان نے القاعدہ کے قائدین کو پناہ دی تھی۔ ورنہ احمد رشید صاحب کی تحقیق کے مطابق پہلے تو امریکہ نے اتحادیوں کی وساطت سے طالبان کو اسلحہ بھی مہیا کیا تھا۔ اور امریکی آئل کمپنیاں طالبان سے مذاکرات بھی کر رہی تھیں۔
(Taliban by Ahmed Rashid p 170۔ 182 )

مذاکرات شروع ہونے کے بعد کے حالات تو خوش کن نہیں ہیں۔ سمجھنے والے سمجھ جائیں گے۔ ٹرمپ صاحب تو پیلاطوس کی طرح ’ہاتھ دھو‘ رہے ہیں۔ پاکستان کی حکومت مذاکرات کے وقت جائزہ لے لے کہ چاندی کے تیس سکِے کس کی جیب میں ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •