جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ حقوق دانش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن میں اکثر یہ جملہ لکھا ہوا نظر آتا تھا کہ “جملہ حقوق محفوظ ہیں” تو سوچ ابھرتی تھی کہ ایسا کیوں لکھا ہوتا ہے، اس جملے کے متعلق مکمل تفصیلات ایک دل چسپ واقعے کی بدولت علم میں آئیں۔ جب ہمارے بھائی کے دوست نے اپنی ٹریول کمپنی کا بہت دلچسپ نام اردو زبان میں رکھا، نام اتنا آسان اور عام فہم ہے کہ ناخونداہ افراد بھی بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں، ان کے نام رکھنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ ہمارے کام کی نوعیت عوام الناس کی سمجھ میں آ جائے، مشہوری بھی ہو اور نیا شروع کیا ہوا بزنس ترقی کی منازل طے کرے، چند مہینوں کے بعد ہی معلوم ہوا کہ اسی نام کی چند اور ٹریول ایجنسیز بھی میدان میں آ گئی ہیں۔

اصل مالک نے فورا عدالت سے رجوع کیا اور اپنی ایجنسی کے نام کو صرف اپنے لئے مختص کروا لیا۔ عدالت نے دوسری ایجنسیز کو سرقہ کی مد میں جرمانہ عائد کیا۔

اس کیس کی بدولت ذہن میں بہت سارے سوالات پیدا ہوئے، کہ کیا پاکستان میں اس نوعیت کے سرقے سے حوالے سے قوانین یا ادارہ موجود ہے، کیا جملہ حقوق کی اہمیت ہے۔ کیا عدالت سے رجوع کرنا درست ہے؟

ان سب سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کے لئے جب فیس بک پر دوستوں کے ایک گروپ میں پوسٹ لگائی توکوثر صبا غوری نے ایک کتابچہ گروپ کے سب احباب کو بذریعہ ڈاک بھیجا۔ کتابچے میں ”حقوق دانش“ یعنی
Intellectual Property Rights کے بنیادی اصولوں اور پا کستان میں انٹلیکچول پراپرٹی کے ادارے انٹلیکچول پراپرٹی آرگنائزیشن پا کستان (آئی پی او پاکستان ) کے بارے میں ابتدائی معلومات درج ہیں۔

جب ادارہ موجود ہے تو پھر دنیا بھر میں اور پاکستان میں سرقے کی روایت کیوں برقرار ہے، مزید سوالات کے جوابات اور مکمل آگاہی کے لئے کوثر صبا نے فیس بک گروپ کے احباب کو اپنے آفس مدعو کیا تا کہ پا کستان میں بھی اس قانون بارے آگاہی اور تخلیق کاروں کو ان کے جملہ حقوق محفوظ کرنے کے لئے معلومات فراہم کی جا، سکیں، اس ضمن میں ”کوثر صبا غوری“، کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ”محمد علی حسنی“ اور پاکستان کے مایہ ناز پیٹنٹ اٹارنی ”کمسٹن جسٹن“ نے بہت محنت سے ایک کتاب مرتب کی ہے، جس کا نام ”حقوق دانش“ ہے۔

کتاب کا مطالعہ شروع کیا تو علم میں آیا کہ ہماری دکان یا کمپنی کا نام۔ ہماری کسی بھی قسم کی تخلیق، تحقیق، تحریر، تصویر، موسیقی کی دھن، نغمہ، ڈرامے یا فلم کی کہانی، فن پارہ، اور کتاب ہماری انٹلیکچول پراپرٹی ہے اور یہی ”حقوق دانش“ ہے۔

اور اگر کوئی دوسرا فرد یا ادارہ ہماری تخلیق یا تحقیق چوری کر لے تو ہمیں صدمہ ہوتا ہے، اسی صدمے سے بچنے کے لئے بین الاقوامی سطح پر ”حقوق دانش“ کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ اور اس ضمن میں قوانین بنائے گئے ہیں۔ جن میں کاپی رائٹ، پیٹنٹ، ٹریڈ مارک کی قانونی فراہمی اور تحفظ شامل ہیں۔

کاپی رائٹ۔ جملہ حقوق سے مراد وہ تمام حقوق ہیں، جو تخلیق کار کو دیے جاتے ہیں۔ حقوق کے دائرہ کار میں تخلیق کار کی تحریر، تصویر، کتاب، دھن، مجسمہ، فلم، شاعری، کمپیوٹر کا پروگرام وغیرہ شامل ہیں۔

پیٹنٹ۔ ایک عمل ہے جو عام طور پر کچھ کرنے کا نیا راستہ فراہم کرتا ہے۔ ایک مسئلے کے لئے ایک نیا تکنیکی حل پیش کرتا ہے۔ نئی ایجاد اور اس کے موجد کو ایجاد بنانے، استعمال کرنے اور فروخت کرنے کی خصوصی قانونی آزادی دی جاتی ہے۔ پیٹنٹ تحفظ کا مطلب ہے کہ پیٹنٹ کے مالک کی رضامندی کے بغیر ایجاد کی تجارت یا، اسکا استمعال، تقسیم، برآمد یا فروخت نہ کی جا سکے۔ پیٹنٹ کی مد میں باورچی خانے میں استعمال ہونے والے ”پریشر ککر“ اور ”مکسر بلینڈر“ سے لے کر ”ٹیکنالوجی چپ“ شامل ہیں۔

ٹریڈ مارک۔ ٹریڈ مارک عام طور پر ایک جملہ، ایک لفظ، علامت، نشان یعنی ”لوگو“ ہوتا ہے جو فرد کی، کمپنی کی، اور ادارے کی شناخت ہوتا ہے۔ ٹریڈ مارک ایک اہم اثاثہ ہوتا ہے۔ یہ قانونی طور پر رجسٹرار کی جانب سے جاری کردہ ہوتا ہے۔

بر صغیر میں پہلی بار ”حقوق دانش“ تقریبا ڈیڑھ سو سال پہلے نافذ کیے گئے۔ حکومت برطانیہ کے زیر انتظام بر صغیر پاک و ہند میں حقوق دانش کی قانون سازی، بین الاقوامی منظر نامے کے ساتھ ساتھ چلتی رہی۔

پاکستان میں ابتداء میں 1940 سے مروجہ ٹریڈ مارک ایکٹ ہی کو اپنایا تھا تاہم 54 سال کے طویل عرصے کے بعد پا کستان نے اپنا ٹریڈ مارک آرڈینس 2001 میں تحریر اور لاگو کیا گیا ہے۔

اقوام عالم میں حقوق دانش کی اہمیت کو ہر سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے اور اولین ترجیح دی جاتی ہے اور حقوق دانش کو اکیسویں صدی کی ”کرنسی“ کہا جاتا ہے۔

ترقی یافتہ ممالک اپنے حقوق دانش کی ملکیت رکھنے کی بدولت عالمی معیشت پر حکمرانی کر رہے ہیں، لیکن ہمارے سماج میں یہ معاملہ آج بھی توجہ طلب ہے اور ایسا، اس لئے ہے کہ عوام الناس کو، کاروباری افراد کو اور معاشرے میں موجود تخلیق کار کو اپنے حقوق دانش کے بارے میں مکمل آگاہی نہیں ہے۔

سرقے اورچربے کی روایت سے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور تخلیق کار کو بھی اس کی محنت کا مناسب صلہ نہیں ملتا ہے، پاکستان میں ٹیکنالوجی کی منتقلی کی رفتار بے حد کم ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔

حقوق دانش سے مکمل آگاہی اور قوانین کے متعلق جاننے کے لئے ”حقوق دانش“ ایک مفید کتاب ہے۔ حال اور مستقبل میں حقوق دانش کے حوالے سے بہترین معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

پاکستان میں موجود قوانین اور ان کی رو سے ”حقوق دانش“ کو محفوظ کرنے کے لئے بہت تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ تصاویر اور چارٹ کے ذریعے قاری کو سمجھایا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی سرقے کے حوالے سے معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

”حقوق دانش“ میری ذاتی کتب کے مجموعے میں ایک اچھا اضافہ ہے، کتاب منگوانے کے لئے درج ذیل فون نمبر اور ای میل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
0324-2129016
[email protected]

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •