مقدس دعاؤں کے سائے میں دوسرے درجے کے مقتول


\"zafarullah-khan-3\"جمعہ کے روز مہمند ایجنسی کے گاﺅں پائی خان میں دوران نماز جمعہ، مسجد میں ایک خود کش دھماکہ ہوا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق پینتیس انسان جان کی بازی ہار گئے جس میں چھ بچے بھی شامل ہیں۔ زخمی ہونے والوں کی تعداد پچاس سے اوپر ہے۔ حسب توقع وزیرداخلہ صاحب نے واقعہ کی رپورٹ طلب کر لی۔ احباب کو یاد ہو گا کہ قدرت اللہ شہاب کی کتاب شہا ب نامہ میں ایک باب ’ رپورٹ پٹواری مفصل ہے‘ کے عنوان سے موجود ہے۔ بطور ڈپٹی کمشنر جھنگ قدرت اللہ شہاب کو ایک سائل ’ عیدو ولد چینا قوم جوگی ‘ کی چھ درخواستیں ایک فائل میں ملیں جو اس نے فضیلت مآب گورنر پنجاب، عزت مآب وزیراعلی، عزت مآب وزیر مالیات، فنانشل کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے نام ارسال کی تھیں۔ یہ درخواستیں ’برائے مناسب کارروائی‘ ڈپٹی کمشنر صاحب کے پاس واپس آ گئیں۔ یہ درخواستیں ہوتے ہوتے ساری پٹواری صاحب کے پاس آ گئیں۔ پٹواری صاحب نے عیدو کو بلایا اور کہا، ’ ہاں بھئی عیدو، بہت اونچا اڑنے لگے ہو۔ لو جی کھل کر اڑ لو‘۔ پٹواری صاحب نے درخواستوں کا پلندہ اٹھا کر عیدو کے منہ پر دے مارا۔ اور کہا، ’ اب تم یہ درخواستیں جھنگ ملتان یا لاہور لے جاﺅ اور ان کی بتیاں بنا کر اپنے سالے باپوں کو دے آﺅ۔ ‘عرصے کے چکروں کے بعد پٹواری صاحب نے عیدو کی درخواستوں پر لکھا، ’ جناب عالی۔ سائل مسمی عیدو فضول \"jang\"درخواست ہاء دینے کا عادی ہے۔ اسے متعدد بار سمجھایا گیا کہ اس طرح حکام اعلی کا وقت ضائع کرنا درست نہیں، لیکن سائل اپنی عادت سے مجبور ہے۔ سائل کا چال چلن بھی مشتبہ ہے۔۔۔۔ بمراد حکم مناسب رپورٹ ہذا پیش بحضور انور ہے‘۔ رپورٹ پر گرداور قانونگو نے لکھا، ’ رپورٹ پٹوار مفصل ہے۔ بمراد حکم مناسب بحضور جناب نائب تحصیلدار پیش ہو‘۔ جناب نائب تحصیلدار نے لکھا، ’رپورٹ پٹوار مفصل ہے۔ بمراد حکم مناسب بحضور جناب تحصیلدار صاحب پیش ہو‘۔ جناب تحصیلدار نے لکھا، ’ رپورٹ پٹوار مفصل ہے۔ بمراد حکم مناسب بخدمت جناب افسر مال بہادر پیش ہو‘۔ صاحب بہادر افسر مال نے لکھا، ’ رپورٹ پٹوار مفصل ہے۔ بمراد حکم مناسب صدر پیش ہو‘۔ صدر کے مسل خوان نے حکم لکھا۔ ’ رپورٹ پٹوار مفصل ہے۔ درخواست ہائے مسمی عیدو فضول ہیں۔ داخل دفتر ہوں‘۔ صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے اس پر اپنے دستخط ثبت کر دئیے۔

 یاد ش بخیر! ہمارے وزیر داخلہ صاحب اور پٹواریوں کے تعلقات کا ایک زمانہ گواہ ہے۔ ان کی بصیرت سینہ چاکان چمن نے اسلام آباد کی سڑکوں پر آتشیں اسلحہ سمیت د ندناتے سکندر نامی نیم پاگل کے وقت دیکھ لی تھی۔ یہ انہی کی ذات والا صفات تھی جو حکیم اللہ محسود کے لئے چشم پر نم تھی، نوائے سوختہ در گلو تھی، دل گرفتہ تھی۔ مہمند ایجنسی کی مفصل رپورٹ بھی آ جائے گی۔ ہم نے لیاقت علی خان کے قتل\"express\" کی رپورٹ نہیں دیکھی۔ ہمیں اسد مینگل کی خبر ملی نہ سراغ ملا، ہمیں مرتضیٰ بھٹو کے قتل کا سراغ نہیں ملا، ہم بے نظیر قتل کی رپورٹ نہیں دیکھ سکے۔ ہم ایبٹ آباد کمشین کی رپورٹ نہیں دیکھ سکے۔ ہمارا ملک کٹ کے دو ٹکڑے ہوا، ہمیں نشان نقش پا نہیں ملا، کہیں نہیں ہے، کہیں بھی نہیں لہو کا سراغ۔۔۔ تو عزیزان من، مہمند ایجنسی کی رپورٹ بھی میں اور آپ دیکھ نہیں سکیں گے۔ بقول پٹواری صاحب، جس کو ہمت ہے، فرمان شاہی اور کاغذات سرکاری کو حسب ذوق بروئے کار لائے جیسا کہ پٹواری ضلع جھنگ نے عیدو کو تجویز دی تھی۔ وزیر داخلہ نے البتہ سوگوار خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور ایک قدم آگے بڑھ کر رخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی ہے۔

مبارک گھڑی ہے اس قوم کے لئے کہ صدر جناب ممنون حسین، وزیراعظم جناب محمد نواز شریف نے مہمند ایجنسی میں دھماکے کی شدید مذمت کی ہے اور اللہ تعالی سے دعا کی ہے کہ وہ شہدا کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو یہ ناقابل تلافی صدمہ برداشت کرنے توفیق عطا فرمائے۔ جناب عمران خان نے مہمند ایجنسی میں دیشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا، ’ حکومت کی نااہلی کو شہریوں کے لئے وبال جان بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ قیام امن کے لئے نیم دلانہ نہیں، ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں‘۔ عمران خان کو سیاسی بلوغت کی داد \"dunya\"دینی چاہیے کہ انہوں اس موقع پر بھی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ایک روشن ضمیر اپوزیشن لیڈر کا کردار ادا کیا۔ البتہ جن ٹھوس اقدامات کا انہوں نے ذکر فرمایا ان سے پوچھنا چاہیے تھا کہ ان کی خیبر پختونخوا حکومت نے ڈیرہ اسماعیل خان جیل کے بعد کیا ٹھوس اقدامات اٹھائے؟ اے پی ایس حملے کے بعد انہوں نے کیا اقدامات کئے؟ باچا خان یونیورسٹی پر ٹھوس اقدامات کے باوجود حملہ کیوں ہوا؟

صرف یہی نہیں جناب وزیراعلی پنجاب شہاز شریف، وزیراعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک، جناب آصف علی زرداری، جناب بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمن، جناب سراج الحق، جناب اسفندیار ولی، علامہ ناصر عباس، جناب طاہر القادری، جناب خورشید شاہ نے بھی خود کش دھماکے کی پرزور مذمت کی ہے۔ اس بار البتہ یہ معلوم نہ ہو سکا کہ آیا یہ بھی کسی کاریڈور پر حملہ تھا یا ٹوٹی کمر والے گھسٹتے گھسٹتے پہلے کوئٹہ سے مردان پہنچے اور پھر وہاں سے مہمند ایجنسی۔ شنید یہ بھی ہے کہ مہمند کا علاقہ دہشت گردوں سے خالی کروا لیا گیا تھا۔

ایک قومی منظر نامہ یہ تھا۔ ایک قومی منظر نامہ اخبارات اور ٹی وی کا رہا۔ پہلے چوبیس گھنٹے میں اٹھائیس بے گناہ انسانوں کے جان سے \"dawn\"ہاتھ دھونے کی خبر آ چکی تھی۔ ایک آدھ استثنیٰ کے ساتھ قومی اخبارات نے مجموعی طور پر خبرکو دوسری لیڈ کے طور شائع کیا۔ ٹی وی پر دانش افروز اینکروں نے بھی ’ ذرا ہٹ کے‘ کے علاوہ خبر کو دوسرے یا تیسرے نمبر پر جگہ دی۔ پشتون قوم پرست تسلسل سے سوال اٹھا رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کا سلوک ہو رہا ہے۔ وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ گزشتہ چالیس برس سے ان کی سرزمین پر ہی کیوں جنگ جاری ہے؟ بلوچ قوم پرست کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ تیسرے درجے کے شہریوں کا سلوک ہو رہا ہے۔ سیاسی کارکن غائب ہوتے ہیں تو ان کا لاشیں ملتی ہیں۔ ہم دانش کے مسند پر بیٹھ کر ان کو سمجھاتے رہتے ہیں کہ انسانوں کو رنگ، نسل، زبان اور عقیدے کے ترازو میں تولنا انسانیت کی توہین ہے۔ ان کی بات کو تھوڑی دیر کے لئے پھر غلط کہہ دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مہمند ایجنسی میں چالیس لاشیں گرنے پر ستم گروں کی پلک کیوں نہ بھیگی۔ کیاچالیس لاشیں ایک راﺅ انوار جتنی اہمیت بھی نہیں رکھتیں؟

ہمیں بتایا گیا تھا کہ ملک کے وسیع علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کئے گئے ہیں۔ آپریشن ضرب عضب نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر گہری ضرب لگائی ہے۔ ان کے نیٹ ورک توڑ دئے گئے۔ ان کے رابطے ختم کئے گئے۔ کبھی تین ہزار تو کبھی آٹھ ہزار دہشت گردوں کے مرنے کی خبر دی جاتی ہے۔ سب تسلیم ہے۔ جان کی امان درکار ہے ان دانشوروں سے جو ابھی پل پڑیں گے کہ ادارے حالت جنگ میں ہیں۔ ایسی حالت میں ان کا موارال بلند کرنا چاہیے۔ سوال نہیں پوچھنے چاہیں۔ یہ ہمیں اس وقت بھی کہا گیا تھا جب اپریل 2004 میں نیک محمد کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا۔ ہمیں اس وقت بھی خاموش رہنے کا حکم دیا گیا تھا جب فروری 2009 سوات میں طالبان کے ساتھ معاہدہ ہوا تھا۔ \"tribune\"ہمیں اس وقت بھی خاموش رہنے کا حکم دیا گیا تھا جب جنوری 2014 میں طالبان کے ساتھ مذاکرات کے ڈھول پیٹے گئے تھے۔ ہم تو اس وقت سے حالت جنگ میں ہیں جب آپ ٹی وی پر بیٹھ کر ’ افغان باقی، کہسار باقی‘ کے نعرے لگایا کرتے تھے۔ ہمیں یاد ہے کہ کوئٹہ کے مالی باغ گراونڈ میں کون افغان طالبان کے سنگ جلسے کیا کرتے تھے۔ ہمیں یہ بھی یاد ہے کہ کس نے کوئٹہ، پشین، چمن، ژوب، قلعہ سیف اللہ میں طالبان کے لئے چندہ مہم شروع کیا تھا۔ ہم نے سب بھلا دیا۔ سوال صرف ایک ہے۔ کیا اس ملک میں اب بھی اچھے اور برے کی تمیز روا نہیں رکھی جا رہی؟ آپ کا جواب جو بھی ہو۔ لاہور سے مرید کے تک، کوئٹہ سے بولدک تک کہانی کچھ اور ہے۔ کچھ سائے اب بھی اندھیروں میں پل رہے ہیں۔ انہی اچھے سایوں کے سائبانوں میں یہ ٹوٹی کمر والے جا کر پناہ لیتے ہیں۔ ہم خاموش ہیں کیونکہ ہم سائل ہیں۔ سائل کے بارے میں پٹواری صاحب نے لکھا تھا کہ سائل کا کردار مشتبہ ہے۔ سائل لاشیں گنتے رہیں گے۔ اخبار کے ایک کونے پر ناموں کی بجائے اعداد میں شمار کی گئیں بے نام لاشیں، بے نشان لاشیں، سلامت جسم کے ساتھ بے سانس ہوتی لاشیں۔۔۔

Facebook Comments HS

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 186 posts and counting.See all posts by zafarullah