پرمیشر سنگھ کی یادمیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سکرین کا پردہ پیچھے ہٹتا ہے، پرمیشر سنگھ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ لاہور سے امرتسر ہجرت کر تا دکھائی دیتا ہے۔ اس کے ہمراہ اس کی جواں سالہ بیٹی اور بیوی ہے، ان کے ہاتھ میں لالٹین، ایک صندوقچہ اور دو کپڑوں کی گٹھڑیاں ہیں، وہ لٹے پٹے ایک ایسے ملک کی جانب بڑھ رہے ہیں جو ان کے نزدیک امن اور اخوت کی شاہکار مثال ہوگا۔ وہ جونہی واہگہ بارڈر سے بھارتی سرزمین میں داخل ہوتے ہیں، پرمیشر سنگھ چیخ اٹھتا ہے۔ ”ارے میرا کرتارا کہاں گیا، چلتے وقت تو ہمارے ساتھ تھا، واہگورو جی یہ کیا ہو گیا، ا ب کیسے ڈھونڈوں گا اپنے کرتارے کو“۔ اسٹیج پراندھیرا چھا جاتا ہے۔ ماڈریٹر نمودار ہوتا ہے اور پرمیشر سنگھ کی کہانی سناتا ہے۔

پرمیشر سنگھ ایک امن پسند سکھ ہے، وہ تقسیم کے دوران اپنا بیٹا کرتارا کھو بیٹھتا ہے اور بیٹے کی جدائی کا دکھ پرمیشر سنگھ کو مذہب اور سرحد سے ماورا ہو کر انسانیت سے محبت کرنے والا بنا دیتا ہے۔ ہندوستان کی تقسیم دنیا کی سب سے بڑی ہجرت تھی، اس ہجرت نے لاکھوں خاندانوں کو بے گھر کیا، لاکھوں لوگ اس ہجرت میں لقمہ اجل بن گئے، کتنے ہی لوگ اپنے ذہنی توازن کھو بیٹھے اور کتنی ماؤں کے حمل ضائع ہوئے، یہ ایسی المناک داستان ہے جس کے لیے تاریخ بھی ہمیشہ روتی رہے گی۔

پرمیشر سنگھ نے اپنا بیٹا کھو دیا، وہ چیختا، چلاتا ہے کہ مجھے واپس پاکستان جانے دو، مجھے بارڈر سے اس پار دیکھنے دو، کیا پتا میرا کرتارا مجھے تلاشتا ہوا نظر آ جائے مگر اب ممکن نہیں تھا، تقسیم کے بعد آمدورفت اتنی آسان نہیں تھی۔ یہ تقسیم محض جغرافیائی نہیں تھی بلکہ اس تقسیم نے لوگوں کے اذہان بھی تقسیم کر دیے اور ان کی سوچیں بھی۔ جو لوگ امن پسند تھے، اس قیامت خیز واقعے نے انھیں بھی پتھر بنا دیا، انہیں بھی متعصب بنا دیا۔

مگر پرمیشر سنگھ۔ یہ واقعہ پرمیشر سنگھ کو امن پسند بنا گیا۔ پرمیشر سنگھ اپنے کرتارے کو تلاش کرنے نکلا تو اسے ایک مسلمان بچہ اختر مل گیا، اختر بھی تقسیم کے دوران اپنی ماں سے جدا ہو گیا تھا، وہ بھی ماں ماں کرتا ہوا، چلاتا پرمیشر کی گلی میں آنکلا تھا۔ پرمیشر نے اسے اٹھایا اور اپنے گھر لے گیا، سکھ خاندان میں مسلم بچے کا داخل ہونا ایک نازک مسئلہ بن گیا، پرمیشر کی بیوی اور بیٹی نے صاف انکار کر دیا کہ وہ ایک مسلے (مسلم بچے ) کو کبھی بھی اپنے گھر برداشت نہیں کر سکتیں سو معاملہ لڑائی جھگڑے تک پہنچا، پرمیشر نے فیصلہ کیا کہ وہ اختر کو واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان چھوڑ آئے گا کیونکہ پرمیشر جان گیا تھا اگربیٹا کھو جائے تو والدین پر کیا گزرتی ہے۔

پرمیشر سنگھ، اختر کو سرحد پار کرنے جاتا ہے جہاں اسے پاکستانی سپاہی جاسوس سمجھتے ہوئے فائر کر دیتے ہیں۔ سکرین کا آخری منظر یہ ہوتا ہے کہ پرمیشر سنگھ لہولہان زمین پر گرا ہوا چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ ”ارے میں تو اختر کو اس کی ماں کے حوالے کرنے آیا تھا، ارے میں تو ایک بچھڑا ہوا بیٹا اس کی ماں کو دینے آیا تھا۔ “ دوسری جانب اختر بھاگتا ہوا پرمیشر سنگھ کو آواز لگاتا ہے جبکہ پاکستانی سپاہی اختر کو کھینچ کر سرحد پار لے آتے ہیں اور سکرین کا پردہ نیچے گر جاتا ہے۔

یہ احمد ندیم قاسمی کا لکھا ہوا ایک افسانہ تھا جسے ماس پروڈکشن نے تھیٹر فیسٹیول کے دوران الحمرا میں پکچرائز کیا تھا۔ یہ ڈرامہ ہال میں بیٹھے سینکڑوں لوگوں کو اشک بار کر گیا۔ لوگ تالیاں بجا رہے تھے اور ساتھ ساتھ ہی پرمیشر سنگھ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے رو رہے تھے۔ مجھے رحمان فارس کا شعر یاد آگیا۔

کہانی ختم ہوئی اور یوں ختم ہوئی
لوگ رونے لگے تالیاں بجاتے ہوئے

ہمیں اس افسانے کے تناظر میں ہندوستان (پاک بھارت) کو دیکھنا چاہیے۔ کیونکہ اگست کا مہینہ شروع ہو گیا، یہ مہینہ ہمیں تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کی یاد دلاتا ہے، وہ ہجرت جس نے کروڑو ں لوگوں کو بے گھر کر دیا۔ جس ہجرت کے آثار آج ستر ( 70 ) برس گزر جانے کے بعد بھی تازہ ہیں، اس کے ”آفٹر شاکس“ آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ یہ محض ایک خطہ یا دو ملک نہیں آزاد ہوئے تھے، بلکہ انسانیت آزاد ہوئی تھی، یہ تقسیم مذہب کے ساتھ ساتھ ہمیں سب سے پہلے انسانیت کا دکھ سمجھنے کی دعوت دیتی ہے مگر افسوس ہم تعصب میں پرمیشر سنگھ جیسے امن پسند لوگوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔

ہم کب تک مذہب اور قوم پرستی کے نام پر اس سرزمین کو لہولہان کرتے رہیں گے، ہم کب تک اپنی جھوٹی اناؤں اور جھوٹے نظریے کی خاطر ان دونوں ملکوں کے امن کو تباہ کرتے رہیں گے۔ یقین جانیں جب بھی کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے یا جب بھی پاک بھارت مذکرات اکام ہوتے ہیں، مجھے شدت سے پرمیشر سنگھ یاد آتا ہے، یہ افسانہ میں نے آج سے پانچ سال قبل پڑھا تھا، دو روز قبل اس کو دیکھا اور شدت سے محسوس بھی کیا۔ ہمیں پرمیشر سنگھ کی طرح مذہب کے ساتھ انسانیت کو اہمیت دینی ہے کیونکہ اصل مذہب انسانیت ہے۔

جب ہمارے اندر سے ایک دوسرے کا دکھ سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جائے گی تو ہمیں یہ سمجھ جانا چاہیے کہ ہم نے مذہب کے سب سے بنیادی درس کو بھلا دیا۔ سب سے بنیادی درس انسانیت کی بھلائی ہے۔ مذہب اور دھرم کے نام پر دونوں ملکوں کو تباہی کے دہانے پہ لے جانے والوں کو اگست کا مہینہ یہ سوچتے ہوئے گزارنا چاہیے کہ ہندوستان کی تقسیم اور دنیا کی سب سے بڑی ہجرت کا اصل مقصد کیا تھا۔ ؟ اس افسانے میں اگرچہ پرمیشر سنگھ محض ایک افسانوی کردار تھا مگر اب یہ کردار ہم سب کے ساتھ چلنا چاہیے۔

ہمیں مذہب کے متشدد رویوں اور سیاست کی متعصب چالوں سے آزاد ہو کر ایک ایسے ملک کے بارے سوچنا چاہیے جہاں انسان کو انسان سمجھا جائے۔ جہاں دھرم کے نام پر بہنوں، ماؤں اور بیٹیوں کی عزتیں تاراج نہ ہوں۔ جہاں سیاست دان اپنی اولادوں کو تو شہزادوں اور شہزادیوں کا کردار دیں اور باقی عوام کو پرمیشر سنگھ سمجھ کر مار دیں، ایسا ملک نہیں چاہیے۔ ہم نے ایک ایسے ملک کی بنیاد رکھی تھی جہاں پٹھان، بلوچی، سندھی اور پنجابی کی بجائے صرف پاکستانی بن کر سوچا جاتا مگر یہاں معاملہ الٹ ہو گیا۔

احمد ندیم قاسمی کے اس افسانے کا پرمیشر سنگھ تو مر گیا مگر وہ لہولہان ہوتے ہوئے چیخ چیخ کر یہ بتا گیا کہ ”میں تو ایک بیٹے کو اس کی ماں کے پاس چھوڑنے آیا تھا، کیونکہ میں جانتا تھا کرتارے کا دکھ“۔ 14 ؍اگست 1947 ء میں جانے کتنے کرتارے، اختر اور پرمیشر سنگھ مار دیے گئے مگر مرنے والے ایک پرامن خطے کی بنیاد رکھ کر گئے تھے۔ اب یہ خطہ پرامن کیسے بنانا ہے، ہمیں اس اگست کے مہینے میں یہ فیصلہ کرنا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •