ریاضی کی موت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ کہانی ایک ایسے انسان کی ہے جس نے اپنی لگن سے ناممکن کو ممکن بنایا اور اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔ یہ کہانی اس با ہمت اور کامیاب شخص کی ہے جسے دنیا ریاض بولانی صدیق کے نام سے پکارتی ہے۔ آپ کو شاید بولانی سے لگے کے ریاض کا تعلق صوبہ بلوچستان کے علاقے بولان سے ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بولانی میرے محلے دار ہیں اور صدیوں سے ان کا خاندان یہیں مقیم ہے۔

بولانی کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب ریاض نے سوزوکی بولان، جسے کیری ڈبہ بھی کہا جاتا ہے، خرید کر کاروبار کا آغاز کیا ان کے نام کے ساتھ لفظ ”بولانی“ لکھا اور بولا جانے لگا۔ بولانی کا مشہور قول ہے، ”اگر میٹرک میں ریاضی اور بی اے میں انگریزی لازمی مضامین نہ ہوتے تو آج پاکستان میں گریجوئیٹس کی تعداد لاکھوں کے بجائے کروڑوں میں ہوتی“ ۔ جب محلے کے نوجوانوں نے ان کا یہ سچا قول سنا، ان کے نام کے آخر میں ”صدیق“ بھی لگا دیا۔

ہر کامیاب انسان کی طرح بولانی نے بھی ایک متوسط خاندان میں آنکھ کھولی اور اپنی کامیابی سے بے شمار لوگوں کی آنکھیں کھول دیں۔ بولانی ابھی تیسری جماعت میں پڑھتے تھے کہ کھڑی سائیکل کے ٹائر سے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں والو نکال لیتے تھے۔ جب آپ کی عمر دس سال ہوئی آپ نے پہلی دفعہ موٹر سائیکل کے سائیلنسر سے بانسری چوری کر کے ریکارڈ قائم کردیا۔ اپنی ایسی ہی لا تعداد کامیابیوں کی بنا پر بولانی نے فیصلہ کیا کہ وہ بڑے ہوکر میکینیکل انجنئیر بنیں گے۔

اپنے مقصد کے حصول کے لئے انہوں نے پڑھائی میں دن رات ایک کردیا لیکن شومئی قسمت وہ میٹرک کے امتحان میں ریاضی میں فیل ہوگئے۔ پہلی ناکامی کے بعد انہوں نے دوبارہ خوب محنت کی لیکن ناکامی نے پھران کے قدم چومے۔ بہرحال دوسری بار انہوں نے سو میں سے پانچ نمبر حاصل کیے جو پہلی بار کی نسبت پانچ زیادہ تھے، اس سے انہیں حوصلہ ملا۔ انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور علم کی محبت میں کوشش جاری رکھی اور یوں تیسری اور چوتھی بار بھی ناکام ہوئے۔

پے در پے ناکامیوں کے بعد کسی بزرگ نے انہیں بتایا کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے اس لئے اس بار نقل کرکے دیکھیں قدرت نے چاہا تو آپ ضرور کامیاب ہوں گے۔ لیکن قدرت نے ایسا نہ چاہا اور الٹا بورڈ نے نقل کرنے کے جرم میں ان پر تین سال کے لئے امتحان دینے کی پابندی عائد کرکے اپنی مستقل آمدن کے ذریعہ کا گلا گھونٹ دیا۔ اس پابندی کے ساتھ بولانی کا خواب بھی چکنا چور ہوگیا اور یوں ہمارا ملک مستقبل کے عظیم انجنئیر سے محروم ہوگیا۔

بولانی کا خون منتقم مزاج ہے کیونکہ یہ ان کے نسب کی سرشت ہے اس لئے انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا کہ جیسے ریاضی نے ان کے خوابوں کا قتل کیا ہے، وہ بھی ریاضی کو دنیا سے مٹا کر دم لیں گے۔ ان کا مقصد عجیب اور ناممکن تھا لیکن پھر بھی محلے میں شرطیں لگ گئیں کہ بولانی ناکام ہوں گے یا پھر ریاضی کو صفحہ ہستی سے مٹانے کا سہرا ان کے سر سجے گا۔ محلے کے تمام پڑھے لکھے لوگ اس بات پر متفق ہوگئے کہ جس دن بولانی کے حساب کے سوال کا جواب ریاضی کے پاس نہیں ہوگا اس دن ریاض بولانی صدیق فاتح جب کہ ریاضی مفتوحہ ٹھہرے گی۔ اس کے بعد بولانی ہیگ اور جنیوا کنونشن کے ہوتے ہوئے بھی مفتوحہ سے جو چاہیں سلوک کریں کسی کو کوئی اعتراض نہ ہوگا۔

فتح کے لئے ضروری تھا کہ بولانی سب سے پہلے ریاضی کی تاریخ کا دل لگا کر مطالعہ کریں تاکہ انہیں دشمن کی خامیوں کا اندازہ ہوسکے۔ انہوں نے ریاضی کا ہندوستان کا کلاسیکل دور، الخوارزمی اور عمر خیام کے الجبرا کے ٹریٹیز کے بعد اپلائیڈ میتھیمیٹکس کے قوانین تک پڑھ لئے لیکن ریاضی میں کوئی خامی نہیں نکال سکے۔ ریاضی کے ایک پروفیسر نے انہیں بتایا کہ ریاضی میں ہر سوال کا آغاز، ”فرض کریں“ سے ہوتا ہے۔ یہ اس کی کمزوری ہے اس پر کام کریں۔

بولانی نے پروفیسر صاحب سے درخواست کی کہ یہ بات انہیں مثال دے کر سمجھائی جائے۔ پروفیسر نے بتایا جیسے فرض کریں آپ کا کیری ڈبہ دس منٹ میں ایک کلو میٹر کا فاصلہ طے کرتا ہے تو سو کلومیٹر کا فاصلہ کتنے وقت میں طے کرے گا؟ اب حساب کا یہ سوال فرض ہی کیا جاسکتا ہے کیونکہ حقیقت میں تو آپ کی گاڑی اسٹارٹ ہونے میں آدھا گھنٹہ لے لیتی ہے۔ انہوں نے نصیحت پلے باندھ لی لیکن بات چونکہ ریاضی کی تھی اس لئے انہیں سمجھ نہیں آئی۔

وقت کے ساتھ ساتھ ریاضی پر بولانی کا غصہ اور اس کے خلاف نفرت بڑھتی چلی گئی۔ وہ وقتاً فوقتاً اپنی اس نفرت کا اظہار کرتے رہتے۔ انہوں نے ریاضی دشمنی میں اپنی بولان کے پیچھے لکھوا لیا کہ دو اور دو پانچ ہوتے ہیں اور اپنے پہلے بیٹے کو گنتی تک غلط سکھا دی۔ ان کا بیٹا ایک دو تین کے بجائے نو، دو، گیارہ اور اس کے بعد تین، تیرہ بولنے لگ گیا۔ ایک دفع انہوں نے محلے کے دکاندار سے سوال کیا، ”بتاؤ صفر کی کیا حیثیت ہے؟“ ۔

دکاندار نے بتایا صفر کی کوئی حیثیت نہیں۔ بولانی نے دکاندار کی ادھار والی کاپی کھول کر اپنے کھاتے کو جمع کیا اور چودہ سو کے دو صفر مٹا کر چودہ روپے دکاندار کو پکڑائے اور ساتھ اسے خدا کا شکر ادا کرنے کا کہا کہ اگر یہ ادھار ایک لاکھ روپے ہوتا تو تمہیں صرف ایک روپیہ ملنا تھا۔ ان کی ایسی تمام حرکتوں کے باوجود ریاضی پر کوئی فرق نہیں پڑا اور ایسا لگنے لگا کہ کامیابی بولانی کے مقدر میں نہیں ہے۔

ہمارے تمام اندازے غلط نکلے اور یکم اگست کا سورج بولانی کے لئے فتح کا پیغام لایا۔ اس شام بولانی نے محلے کے تمام بچوں، جوانوں اور بزرگوں کو اپنے گھرعشائیے پر مدعو کیا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ریاضی کے پانچ پروفیسرز، ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر، دو سول انجنئیرز اور ایک کیلکولیس (calculus) میں پی ایچ ڈی بھی بولانی کے گھر موجود ہیں۔ بولانی نے کھانا شروع ہونے سے پہلے اپنی وکٹری اسپیچ میں ہمیں بتایا کہ، ”دوستو بالآخر آج میں نے حساب کا ایسا سوال ڈھونڈھ لیا ہے جس کا جواب ریاضی کے پاس نہیں ہے“ ۔

وہ سوال ہے، ”فرض کریں ایک بیلٹ پیپر پر دو مہریں لگانے کا معاوضہ بیس کروڑ روپے ہے تو بتائیں ایک مہر لگانے کا معاوضہ کتنا ہوگا؟“ ہیڈ ماسٹر صاحب نے فوراً جواب دیا، دس کروڑ روپے۔ قہقہوں کی گونج میں ریاض بولانی صدیق نے بتایا کہ اصل جواب صفر روپے ہے اور یوں ریاضی ہار گئی ہے۔ پھر تالیوں کی گونج میں انہوں نے میز پر پڑے پھولوں کے ہار کو اٹھا کر اپنے گلے میں ڈال لیا۔ میرا دوست فراز آگے بڑھا اور ان کے گلے سے ہار اتارتے ہوئے بولا، ”بولانی صاحب اس سوال میں ریاضی ہاری ہے تو آپ نہیں جیتے، جمہوریت جیتی ہے“ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •