اپوزیشن کی شکست کے چند مثبت پہلو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینیٹ کے چئیر مین کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد ناکامی سے دوچار ہوئی مگر موجودہ حکومت کے چہرے سے جمہوری حکومت کی رہی سہی برائے نام ملمّع کاری کا بھرم بھی جاتا رہا۔ میری طرح بے شمار لوگوں کا یہ خیال تھا کہ اگر صادق سنجرانی ووٹنگ سے پہلے اپنی شکست کے خوف سے مستعفی نہیں ہوتے اور تادم آخریں ڈٹے رہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ اپوزیشن کے کچھ لوگ درپردہ اختیاری یا مجبوری کے عالم میں حکومت کے ساتھ رابطہ میں ہیں۔

وہ ظہرانے، عشایے، دعوتیں اور ضیافتیں تو شہباز شریف اور بلاول زرداری کی اڑاتے رہے مگر ووٹنگ کے وقت میر جعفر و میر صادق کا کردار ادا کریں گے۔ تحریک عدم اعتماد کے انعقاد کے لیے جس طرح حکومت نے وقت حاصل کر کے دھونس، دباٶ، طمع یا لالچ کے حربوں کے ذریعے ایک یقینی طور پر ہاری ہوئی بازی کو اپنے حق میں پلٹا اس کے لیے حکومت کو داد نہ دینا زیادتی ہے۔ جب کوئی دلال دھندہ ہے اگرچہ گندہ ہے کا نعرہ لگا کر کھیل کے تمام اصول و ضوابط تج کر اور جنگ و محبت میں سب کچھ جائز ہے کا عزم لے کر میدان غلاظت میں کود پڑتا ہے تو اس کی حتمی منزل فتح ہوتی ہے، چاہیے یہ کسی طرح ہی کیوں نہ حاصل کی جائے۔

ووٹنگ سے قبل، ووٹنگ کے دوران اور نتیجے کے اعلان سے ذرا پہلے تک حکومت کے علاوہ سب کو یقین تھا کہ تحریک عد م اعتماد آرام سے کامیاب ہو جائے گی۔ یوں بھی نہیں تھا کہ اس تحریک کی کامیابی اپوزیشن کی عظیم اور فیصلہ کن فتح پر منتج ہوتی اور جیل میں موجود نواز زرداری کی زنجیریں فوراً ٹوٹ جاتیں تاہم اس کی علامتی اہمیت ضرور تھی۔ اس سے اپوزیشن کی نفسیاتی برتری قائم ہو جاتی اور حکومت جو پہلے ہی معاشی زبوں حالی وجہ سے دباٶ کا شکار ہے، مزید بیک فٹ پر چلی جاتی۔

حکومت کی یہ کامیابی جمہوریت پسندوں کے لیے ایک کڑوی گولی ہے۔ اپوزیشن کے حامی اور غیر جمہوری قوتوں کے ناقد بہت سے لوگ تو اپوزیشن کی اس ناکامی سے اس قدر دل برداشتہ ہوئے ہیں کہ سوشل میڈیا پر ایسی غلیظ و گھٹیا سیاست بازی سے اعلانِ برات کر رہے ہیں۔ مگر میرا خیال ہے کہ ان کا یہ طرز عمل جذباتی اور ہنگامی نوعیت کا ہے۔ اگرچہ حکومتی ایوانوں میں جش طرب کا سا سماں ہے۔ فتح کے شادیانے بج رہے ہیں مگر اندر سے وہ بھی شکست خوردہ اور سہمے ہوئے ہیں۔ حکومت کی یہ خوشی ڈپٹی چئیرمین کے خلاف عدم اعتماد کے لیے ووٹنگ اور شکست پر ادھوری رہ گئی ہے اور اپوزیشن نے عزم تازہ سے مستقبل قریب میں ایک مرتبہ پھر عدم اعتماد کی تحریک لانے کا اعلان کر دیا ہے۔

دیکھا جائے تو یہ ناکامی اپوزیشن کے لیے عزت، وقار، نیک نامی اور ولولہ تازہ کا پیغام بن کر آئی ہے۔ اپوزیشن ہار کر بھی کامیاب ہو گئی اور حکومت جیت کر بھی ناکام ہو گئی۔ فیض نے اسی لیے کہا تھا کہ

گر بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنے ہارے بھی تو بازی مات نہیں

اپوزیشن کو اس نا کامی سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ انہیں اپنی صفوں کا از سر نو جائزہ لے کر میر جعفروں اور میر صادقوں سے نجات حاصل کرنے کا موقع مل گیا ہے۔ آستین کے وہ سانپ جنہوں نے جمہوریت کو ڈسنے کی کوشش کی ہے وہ بری طرح بے نقاب ہوئے ہیں۔ جو لوگ اب بھی اس مخمصے اور تذبذب میں تھے کہ پچھلے الیکشن صاف و شفاف ہوئے تھے انہیں اس گندے دھندے سے یقین ہو چلا ہے کہ سلیکٹرز نے سلیکٹڈ کو کیسے لایا ہے۔ حکومت لوگوں سے ملک کی معاشی زبوں حالی کو ٹھیک کرنے کے لیے نادر شاہ کی طرح بزور ٹیکس اکٹھا کر رہی ہے مگر تاثر یہ بن رہا ہے کہ وہ پیسہ سینیٹرز کو خریدنے کے لیے بے دردی سے خرچ کر رہی ہے۔

عمران خان کی دوغلی پالیسی اور قول و فعل میں بد ترین تضاد ایک بار پھر پتھر کی لکیر کی طرح واضح ہو گیا۔ یہ وہی عمران خان ہیں جنہوں نے ڈیڑھ سال قبل اپنے اسمبلی اراکین کے بکنے پر انہیں پارٹی سے نکال دیا تھا مگر آج دوسری بار سینیٹ الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کر کے اور بھاری پیسہ لگا کر دراصل جمہوریت پر شب خون مارا ہے۔ اپوزیشن کے چودہ سینیٹرز کا سیاست کی منڈی میں بولی لگوا کر بکنے کا عمل قابل مذمت ہے مگر عوام ان پچاس سینیٹرز کے مثالی کردار کو تحسین سے دیکھ رہے ہیں جنہوں نے ہر قسم کی دھونس، دھاندلی، دباٶ، دھمکی، خوف اور لالچ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے جمہوریت اور جمہوری قدروں کے ساتھ کھڑ ے رہنے کا کمال کر دکھایا۔

فرعون کے دربار میں آخر کتنے حق پرستوں نے موسٰی کا ساتھ دیا تھا؟ سقراط کے ساتھ اس وقت کتنے لوگ کھڑے تھے؟ جب ہر طرف سنگینوں کے سائے اور بوٹوں کی دھمک ہو۔ جب ہر زبان گنگ کر دی گئی ہو۔ جب خرد پر پہرے بٹھا دیے جائیں۔ جب سچائی اور عدل و انصاف کو سر عام تہ تیغ کر دیا جائے۔ جب ہر حرف کی حرمت، ووٹ کا تقدس، اظہار کی آزادی، ضمیر کی آواز اور نوائے حق کو بری طرح پائے مال کر دیا جائے اور ملک بائیس کروڑ عوام کے لیے عقوبت خانہ بنا دیا جائے تو یہ پچاس سر فروش لشکر جرار کا کام کرتے ہیں۔

اپوزیشن کی عدم اعتماد تحریک کی ناکامی کا سب سے مثبت پہلو یہ کہ نواز شریف کے بیانیے ووٹ کو عزت دو کی حقانیت پر مہر تصدیق ثبت ہو گئی ہے اور فلم نئے پاکستان کے ڈائرکٹرز، پروڈیوسرز اور اداکار و صدا کار مکمل طور پر ایکسپوز ہو رہے ہیں۔ حکومت کی اس جیت سے تو ورلڈ کپ میں انگلیڈذ کی ڈرامائی فتح کہیں زیادہ باوقار اور شاندار تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •