اپوزیشن سینٹ الیکشن کیوں ہاری؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سینٹ الیکشن 2018 میں ن لیگ اکثریتی پارٹی تھی۔ اسمبلی میں دو تہائی اکثریت ہونے کی وجہ سے ن لیگ کا سینٹ الیکشن جیتنا طے تھا۔ لیکن جب الیکشن ہوئے تو ن لیگ سینٹ الیکشن ہار گئی۔ آصف زرداری کو اس وقت جوڑ توڑ کا بادشاہ قرار دیا گیا۔ زرداری صاحب اپنی ذو معنی ہنسی میں اس جیت کا کریڈٹ لیتے دکھائی دیے۔ وہ محفلوں میں اکثر ذکر کیا کرتے تھے کہ میں بلوچستان اور کے پی کے جا کر بیٹھ گیا اور الیکشن مینج کیا۔ لیکن صاحب بصیرت لوگ جانتے تھے کہ زرداری صاحب تو صرف مہرہ ہیں اصل کھیل مقتدر قوتوں نے کھیلا ہے۔

آج کے سینٹ الیکشن میں اپوزیشن کے تمام سینٹرز ملا کر 65 ووٹ بنتے تھے جبکہ حکومت کے صرف 36 ووٹ تھے۔ لیکن جب الیکشن ہوا تو اپوزیشن ہار گئی۔ جہانگیر ترین کو اس جوڑ توڑ کا بادشاہ قرار دیا جا رہا ہے۔ جہانگیر ترین ٹی وی شوز اور نجی محفلوں میں اس کا کریڈٹ لیتے نظر آرہے ہیں۔ تحریک انصاف والے ترین صاحب کو ہیرو قرار دے رہے ہیں اور کچھ اپوزیشن کے رہنما بھی جہانگیر ترین کو اس سانحے کا ذمہ دار سمجھ رہے ہیں لیکن یہاں بھی صاحب بصیرت لوگ جانتے ہیں کہ جہانگیر ترین تو ایک مہرہ ہے۔ اصل کھیل مقتدر قوتوں نے کھیلا ہے۔

افسوس اس بات کا ہے کہ بچے خود کو باپ سے سیانا سمجھنے لگے ہیں۔ جس آصف علی زرداری نے 2018 کی سینٹ الیکشن میں اسٹبلشمنٹ کے آشیرباد سے ن لیگ کی صفوں میں کھلبلی مچا دی تھی اور ان کی اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا تھا وہ آج کیونکر یہ بھول گئے کہ جو پی پی نے دکھائی تھی وہ طاقت دراصل اسٹبلشمنٹ کی تھی۔ جو آپ کی اقلیت کو اکثریت میں بدل سکتے ہیں وہ آپ کی اکثریت کواقلیت میں بھی بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

آپ کو کیوں یاد نہ رہا کہ آپ اپنا جو قد کاٹھ محسوس کرتے تھے اس کے پیروں میں اسٹبلشمنٹ کے قدآور جوتے تھے۔ آپ کیوں یہ حقیقت فراموش کر بیٹھے کہ جن کے تلوے چاٹ کر آپ نے 2018 کا سینٹ الیکشن جیتا تھا اس تلوے کے چاٹنے کے امیدوار اور بھی ہیں۔ جو خدمات آپ نے ماضی میں پیش کی ہیں ان خدمات کی ادائیگی کے لیے اور بھی لوگ موجودہیں۔ آپ نے کیسے سوچ لیا کہ اپنے ہاتھ کاٹ کر مقتدر قوتوں کے پاس گروی رکھوانے کی بعد آپ آزادانہ پرواز کی صلاحیت برقرار رکھ سکیں گے۔

آصف علی زرداری صاحب آپ تو اتنے بیوقوف نہ تھے پھر آپ سے یہ حماقت کیسے سرزرد ہو گئی۔ بغاوت کے اصولوں میں بنیادی شرط یہ ہوتی ہے کہ آپ کی طاقت کم از کم کسی ایک پہلو سے مخالف کی نسبت زیادہ ہو یا آپ کے پیادے ایمان کی حد تک آپ سے وفادار ہوں۔ لیکن آپ تو دونوں محاذوں پر کمزور اور نالائق ثابت ہوئے ہیں۔ حیرت اس بات پر ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ تو پہلے سے ہی چاروں شانے چت ہیں آپ نے جنگ کا محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا اور جہاں تک بات ہے پیادوں کی وفاداری اور ایمانداری کی تو جناب اعلی یہ انڈے آپ کے جیسے ہی ہیں۔

یہ سینٹرز اور وزرا اسمبلی میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر قسم اٹھاتے ہیں کہ وہ کرپشن نہیں کریں گے۔ لیکن جیسے ہی یہ وزارتوں میں آتے ہیں یہ پہلے ہی دن حلف توڑ دیتے ہیں۔ کرپشن، لوٹ مار اور ملک دشمنی کی ایسی مثالیں قائم کرتے ہیں کہ شیطان بھی شرما جائے۔ جو پیادے ملک کے ساتھ وفادار نہیں رہ سکے وہ آپ کے ساتھ کس طرح وفادار رہ سکتے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ آپ جیسے زیرک سیاستدان نے ایسے پیادوں پر بھروسا کر کے طبل جنگ کیونکر بجا دیا۔

زرداری صاحب جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں کہ آپ طاقت کا غلط اندازہ لگانے کے ساتھ ایک فطری غلط فہمی کا شکار بھی ہو گئے تھے۔ انسان فطری طور پر خود کو مقتدر قوتوں کا لاڈلا سمجھتا ہے۔ انسان کا خیال ہے کہ جو برا میرے مخالف کے ساتھ ہو رہا ہے ایسا برا میرے ساتھ نہیں ہو سکتا کیونکہ میں آقاکا لاڈلا ہوں۔ لہذا وہ اس غلط فہمی میں احتیاطی تدابیر کرنا اور برے وقت کی تیاری کرنا بھول جاتا ہے۔ لیکن جیسے ہی اس پر برا وقت آتا ہے تو وہ اپنی اوقات میں آ جاتا ہے۔ آپ نے اچھے وقت میں برے وقت کا خیال نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ آج آپ سابق صدر پاکستان ہونے کے باوجود بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور اکثریت رکھنے کے باوجود سینٹ الیکشن ہار گئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •