جدید مسلم ذہن میں علم کی دوئی کا مسئلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’مذہب پسند‘ کی اصطلاح کوا ن سب طبقات تک محدود کرتے ہوئے جو اس قضیے سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں کہ معاشرتی ڈھانچے کے سیاسی و سماجی خدوخال مرتب کرنے میں تن تنہا مذہب ہی ایک واحد بامعنی قدر ہے، اگر ان تمام طبقات کا ایک عمومی سا جائزہ لیا جائے تو ہمارے ہاں فلسفہ و سائنس کو لے کر دو قسم کے فکری دھارے دیکھنے میں آتے ہیں۔ ان مذہب پسندوں میں سے ایک تو وہ ہیں جو اپنے علمی منہج کو غزالی سے منسوب کر کے ’تہافت الفلاسفہ‘ میں مشغول ہیں اور ’جدید مغربی تہذیب‘ نامی کسی ایک ٹھوس اکائی کو نظریاتی طور پراپنے مقابل فرض کر کے اس کے خلاف جہاد کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

روایتی جہاد و قتال کے لئے چونکہ ہتھیار مغربی تہذیب سے لینا واضح شرعی عذر کے کارن مباح ہے لہٰذا اس تنقیدی معرکے میں بھی ہتھیار وں کی سپلائی کا کام مغرب کے ان مارکسسٹ اور پوسٹ مارکسسٹ نقادوں سے لیا جاتا ہے جن کی ’سرمایہ دارانہ لبرل ہیومنزم‘ پر ہونے والی پچھلی نصف صدی کی تنقیدوں کو ان کے خاص سماجی وسیاسی تناظر سے نکال کر کسی حد تک کامیابی سے ایک چوں چوں کا مربہ تیار کیا جاتا ہے جو ہمارے ہاں کے لبرل طبقات(جن میں سے کچھ اپنے ردعمل پر مبنی استدلال میں ان مذہب پسندوں جتنے ہی علمی متشدد ہو چکے ہیں ) کے سامنے کھڑے ایک سادہ لوح ’مذہب پسند‘ کو تقریباًٍ اسی طرح استعمال کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے جس طرح مناظراتی تربیت کے کورسوں میں طالبعلموں کو ’مخالف کو زیر کرنے کے دس اہم ترین ہتھکنڈے‘ سکھلائے جاتے ہیں۔

اس طبقے سے اختلاف کے ساتھ بہرحال ہمیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ یہ طبقہ کچھ مخصوص نفسیاتی مجبوریوں اور عارضہ نرگسیت کے باعث تہذیبی مباحث کا تجزیہ کسی عالمگیر انسانی تناظر میں کرنے کی قوت ہی نہیں رکھتا لہٰذا مجبورِ محض ہوتے ہوئے حلق کے ایک حصے سے تو ’سرمایہ دارانہ تہذیب‘ کی مئے فرنگ کا درد تہ جام تک اپنے اندر انڈیلتا رہتا ہے اور اسی حلق کے دوسرے حصے سے تیزی سے تنقیدیں باہر اگلنے کا کام جاری رکھے ہے۔ سچ پوچھئیے تو ہمیں ان سے اس کے علاوہ کوئی شکایت نہیں کہ وہ ہم جیسے کیوں نہیں، یعنی مان کیوں نہیں لیتے کہ جدید دور میں تہذیبی سرحدیں تیزی سے انہدام پذیر ہیں اور کم از کم اتنی دھندلا چکی ہیں کہ مشرق و مغرب کی تہذیبی دوئی ایک ایسا قصہ پارینہ ہے جو بس تاریخِ فکر کی کتابوں میں ہی ڈھونڈنے سے ملتا ہے۔

دوسرا طبقہ پہلے طبقے کی نسبت کہیں زیادہ دلچسپ اور تخریبِ ذہن و فکر کی ہلاکت خیزیوں میں اس سے کہیں آگے ہے۔ اس کی وجہ اس کی تجاہل عارفانہ میں ڈوبی وہ رجعت پسندی ہے جو فلسفے کو تفکر، تجسس، جستجو، تحقیق، خرد افروزی، ندرتِ فکر وغیرہ جیسے انسانی خواص سے علیحدہ کر کے اس کو مذہب کا روایتی حریف گردانتی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس طبقے کے نزدیک سوال کا ذہن میں پیدا ہونا تفلسف کی علت نہیں بلکہ فلسفیانہ ذہن کی تربیت ’بے جا‘ سوال اٹھانے کے مرض کی علت ہے۔

ہماری رائے میں علتوں کا یہ الٹ پھیر اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ اس طبقے کے نزدیک فلسفہ چونکہ سوال اٹھانے اور عمومی طور پر اٹل سمجھے جانے والے مفروضوں پر تشکیک و تحقیق کی دعوت ہے، لہٰذا وہ ایک ایسے ذہن کو تیار کرتا ہے جو اپنے طرف پھینکی جانے والی اٹل مذہبی اور صرف مذہب کی بنیاد پر سماجی تعبیرات کو فکر پر حاکم ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔

انگریزی محاورے کی رو سے اگر ہمیں ایک لحظہ کے لئے شیطان کی وکالت کرنی ہو تواس مخصوص مذہبی تناظر میں جدید (سیکولر)تعلیم و تربیت کا سارا ڈھانچہ ہی از سر نو ترتیب کا تقاضہ کرتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو ہماری رائے میں نہ صرف روایتی مسلم ذہن کو ’تشکیل نو‘ ، ’تجدد پسندی‘ ، ’روشن خیالی‘ وغیرہ جیسی تراکیب کو ایک مخصوص شک کی نگاہ سے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے بلکہ ذہن میں موجود نظریہ علم کے خدوخال کو دو مختلف خانوں میں تقسیم کرتا بھی نظر آتا ہے۔

قرونِ وسطی کے مذہبی متون کا ایک سرسری سا جائزہ بھی ا س مخصوص مسلم ذہنیت کے تخمِ اول کی نشاندہی کے لئے کافی ہے جب ہمیں ابن رشد فکرِ غزالی کے خلاف فلاسفہ کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔ گوراقم کی رائے میں جدید مسلم ذہن کے لئے اوراقِ تاریخ میں دبی ان بحثوں سے چند مبہم اشاروں سے زیادہ کچھ خاص استفادے کی امید نہیں لیکن یہ مبہم سے اشارے بھی پچھلے دو سو سال کے روایتی مسلم ذہن کی کسی بھی قسم کی خردافروزی کو شک کی نگاہ سے دیکھنے کی کیفیت سمجھنے کے لئے بہت کافی ہیں۔

یہ ایک ایسا مسلم ذہن ہے جو ایک طرف تواپنی تمام تر پسماندگیوں کا الزام مغرب بالخصوص مغربی استعماریت پر دھرنے میں ذرا دیر نہیں لگاتا اور دوسری طرف اپنے نظریہ علم میں ایک وحشت ناک قسم کی دوئی میں بٹا ہے۔ وحشت کے اس احساس کا تجرباتی جائزہ لینا ہو تو مذہبی کتابوں کے کسی بھی اسٹال سے ’حصول علم کے فضائل‘ یا ’علم کی برکتیں‘ نامی کوئی بھی رسالہ اٹھا کر تلاش کیجئے کہ ایک اوسط مسلم ذہن علم کا کیا تصور قائم کیے بیٹھا ہے۔

مثالیں ان گنت ہو سکتی ہیں لیکن اگر سند ہی کی تلاش ہے تو ابن رجب حنبلی کے رسالے ”ورثہ الانبیا“ کو دیکھ لیجیے جس کا انگریزی ترجمہ The Heirs of the Prophets کے نام سے مغرب کے اعلی تعلیم یافتہ مذہبی عالم زید شاکر کے ہاتھوں ہوا ہے اور ہمارے ہاں پیٹروڈالرز سے چلنے والے مشہور سعودی کتب خانے ’مکتبہ دارالسلام‘ میں موجود ہے۔

مقصد یقیناً ابن رجب یا مخصوص سلفی فکر پر تنقید نہیں بلکہ صرف اتنا واضح کرنا ہے کہ روایتی مسلم فکر، چاہے اس کا تعلق کسی بھی تعبیراتی دھارے سے ہو، علم کو حقیقی اور اضافی کے درجہ اولی اور درجہ ثانیہ میں بانٹتی نظر آتی ہے۔ چونکہ اول الذکر کا تعلق خالص مذہبی متون یعنی قرآن و حدیث اور فقہ وغیرہ سے ہے، لہٰذا طبقہ علما کی تعبیرات میں ایک ایسے خدا اور رسول کا تصور ابھرتا نظر آتا ہے جو ایک فقیہ اور ماہرِ طبیعات میں ان کی علمی ترجیحات کی بنیاد پر لازماً فرق کرتا نظر آتا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 77 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

One thought on “جدید مسلم ذہن میں علم کی دوئی کا مسئلہ

  • 20/09/2016 at 2:40 pm
    Permalink

    bhai agr mushkil zuban likhne pr kam zor diya hota to shayd apki baat samjh main ajati .

Comments are closed.