خدارا اس قوم پر رحم کیجیئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ملک میں تعلیم یافتہ افراد کی تعدادکتنی ہے۔ گریجویٹ کتنے ہیں، پروفیسرز کتنے ہیں، ڈاکٹرز کتنے ہیں، انجینئرز کتنے ہیں۔ اس ملک کی تعلیمی شرح کتنے فیصد ہے۔ ملک میں سرکاری سکولوں کی صورتھال کیسی ہے۔ اُن میں پڑھائی کا معیار کیسا ہے؟ کیا اُنہوں نے اپنا تعلیمی معیار اس قدر بہتر بنایا ہے کہ عام آدمی اُس پر اعتماد کرتے ہوئے اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کروانا چاہتا ہے۔

ماضی میں سرکاری سکولوں کا ریکارڈ انتہائی شاندار تھا جس کی وجہ سے ملک کو اعلیٰ خدمات دینے والے دانشور میسر آئے لیکن جیسے جیسے تعلیم کو بزنس بنا دیا گیا ویسے ہی ملک بھر کے طول و عرض میں غیر سرکاری سکولوں کی بھرمار ہوئی جن کے لئے محض متعلقہ بورڈ سے رجسٹرڈ ہونا ہی کافی تھا۔ نتیجہ یہ ہو اکہ سرکاری سکولوں میں طلباء و طالبات کی حاضری نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔ سرکاری سکولوں میں عدم توجہی، اساتذہ کی غیر حاضری، سہولیات کے فقدان اور روایتی طریقہ تدریس نے اس ضمن میں خاصا اہم کردار ادا کیا۔

26 ستمبر 2016 کو روزنامہ ایکسپریس، ملتان میں شائع ہونے والے محمد امین امجد کے کالم کے مطابق ”ملک بھر میں پرائمری سے ہائر سیکنڈری سطح کے سکولوں کی تعداد 153941 ہے جن میں خواتین اساتذہ کی تعداد 283852 جبکہ مرد اساتذہ کی تعداد 406422 ہے۔ زیر تعلیم لڑکوں کی تعداد 98638 جبکہ لڑکیوں کی تعداد 52822 ہے۔ اگر اُن کی استعداد کا جائزہ لیں تو ان سکولوں میں پڑھنے والے 47 %اُردو کی کہانی بھی نہیں پڑھ سکتے 51 %کے لئے انگریزی کا ایک جملہ پڑھنا مشکل ہے 53 %طلباء ایسے ہیں جو دو رقمی تقسیم سے نابلد ہیں۔

” ایسی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے گزشتہ حکومت نے“ پڑھا لکھا پنجاب ”کے حوالے سے ایک پروگرام شروع کیا جبکہ اسی طرز کے پروگرام ملک کے دوسرے شعبوں میں بھی شروع کیے گئے۔ جس کی وجہ سے سرکاری سکولوں میں طلباء و طالبات کی تعداد بتدریج بڑھنے لگی۔ اس میں والدین اور بچوں کے لئے جو دلچسپی تھی وہ یہ کہ سرکاری سکول انگلش میڈیم ہو چکے ہیں، اُنہیں کتابیں او ر یونیفارم مفت فراہم کی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ اب جبکہ سرکاری سکولوں کی حالت تھوڑی بہتر ہورہی ہے اور عوام کا اعتماد سرکاری سکولوں پر بحال ہو رہا ہے تو موجود حکومت نے اپنی دانست میں ایک“ انقلابی قدم ”اُٹھانے کا فیصلہ کیا کہ سرکاری پرائمری انگلش میڈیم سکولوں کو اُردو میڈیم میں تبدیل کیا جائے اور اس کے لئے توجیح نکالی گئی کہ ان سکولوں کے اساتذہ جن کا زیادہ وقت نصاب کو سمجھنے میں صرف ہو جاتا ہے اس لئے وہ بچوں کو بہتر طور تعلیم نہیں دے سکتے۔

حکومت کے اس انقلابی قدم سے عام آدمی جس کے بچے اُن انگلش میڈیم سرکای سکولوں میں پڑھ رہے ہیں اور جن کے لئے وہ پُر امید ہے کہ کل کو اس کے بچے بھی انگریزی پر عبور حاصل کر کے مقابلے کی دوڑ میں شامل ہو سکیں گے اُس کی اُمید دم توڑتی نظر آرہی ہے کیونکہ غیر سرکاری انگلش میڈیم سکولوں میں تعلیم دلوانا اُن کے بس سے باہر ہے، خاص کر موجودہ حکومت کے دور میں جہاں بنیادی ضروریات کو پورا کرنا ہی عام آدمی کے لئے کڑا امتحان بنا ہے تو ایسی صورتحال میں وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کیسے دلوائے یہ ایک سوالیہ نشان ہے اور جس کی وجہ سے اُس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے اور جس کا اظہار اُس نے احتجاج کے ذریعے کرنا شروع کر دیا ہے۔

یہاں ایک اور سول بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا سرکاری سکولوں کو اُردو میڈیم بنانے سے قوم کو اس قابل بنایا جا سکتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر چیلنجز کا سامنا کر سکے۔ وہ کیسے اُن تمام پلیٹ فارم پر کھڑا ہو سکے گا جن کے لئے انگریزی پر عبور رکھنا ضروری ہے۔ آپ بخوبی دیکھ سکتے ہیں کہ کتنے فیصد پاکستانی انگریزی سے واقف ہیں اور کتنے فیصد عوام کو صحیح انگریزی آتی ہے۔ اس کی سب ے بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ چونکہ تعلیمی ابتداء ہی جب کمزور سکول اور کمزور اساتذہ سے ہوئی تو نتیجے میں اُس طالب علم کو اعلیٰ تعلیم تک پہنچنے کے لئے خاصی دشواری ہوئی جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں طلباء و طالبات کی بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم تک پہنچنے سے قبل ہی تعلیم کو خیر آباد کہہ دیتی ہے۔ ایسے اقدمات سے عام آدمی کے لئے اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں تعلیم دلوانے کے لئے سوال پیدا ہو رہے ہیں کیونکہ اگر اُردو میڈیم تعلیم ہی دلوانی ہے تو اس کے لئے پھر مدرسہ سکول ہی کافی ہیں جہاں پر دین کی تعلیم کے علاوہ دنیاؤ ی تعلیم بھی دی جاتی ہے جو تمام اُردو زبان میں ہوتی ہے۔

ملک میں اُردو تعلیم کے رائج ہونے کی بحث نئی نہیں ہے لیکن روشن خیال طبقے کی وجہ سے اس کو کبھی بھی پذیرائی نہیں ملی اور اب موجود ہ حکومت جس کے بارے میں تصور کیا جاتا تھا کہ پڑھے لکھے، روشن خیال اور نئے سیاستدانوں کی جماعت ہو گی اور وہ ہر اُس کام سے اجتناب کرے گی جسے ماضی کی حکومتیں کرتی آئی ہیں لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ حکومت کے اس فیصلے سے پاکستان کا روشن خیال طبقہ جو اپنے ملک کی ترقی کا موازنہ ترقی یافتہ ممالک سے کرتا ہے اُس کے لئے لمحہ فکریہ ہے کیونکہ موجودہ حکومت ایک طرف تو پہلے خلائی مشن کو خلا میں بھیجنے کا کریڈٹ لینا چاہتی ہے لیکن دوسری طرف تعلیم کے حوالے سے ایس اقدامات کررہی ہے کہ نئی نسل کو آگے بڑھنے میں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس ضمن میں عام آدمی کی ادنیٰ سی استدعا ہے کہ خدا را اس قوم پررحم کرتے ہوئے سرکاری سکولوں کی تعلیمی حالت کو اگر بہتر نہیں کر سکتے تو کم ازکم خراب تو مت کریں۔

اس ضمن میں کچھ گزارشات ہیں کہ سرکاری سکولوں میں ایسے اساتذہ کو بھرتی کریں جنہیں انگریزی کو سمجھنا اور سمجھانا آتا ہو۔ آپ سفارشی اور انگریزی سے نابلد ٹیچرز کو اُن کے معاون بنائیں تاکہ وہ خود بھی جدید تعلیم اور نئی مہارتوں سے واقفیت حاصل کر سکیں۔ آپ کو یہ ہر قیمت پر کرنا ہے کیونکہ ملک بھر کے طول و عرض میں ہزاروں گاؤں اور قصبے ایسے ہیں جہاں صرف سرکاری سکولوں ہی ہیں۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ اگر اُس دور دراز کے علاقوں کے بچوں کو مقابلے کی دوڑ میں دیکھنا چاہتے ہیں تو ایمرجنسی بنیادوں پر یہ کام کریں۔

اساتذہ کی میرٹ پر بھرتی اور اُن کی حاضری کو یقینی بنانا۔ جدید طریقہ تدریس کو اپنانا۔ سکول میں بچوں کی کو نسلنگ کے لئے ٹیچرز مقرر کیے جائیں تاکہ بچوں کو اُن کی ذہنی استعداد اور اُن کی دلچسپی کے مطابق متعلقہ شعبوں میں بھیجا جائے۔ مندرجہ بالا سارے اقدامات بچوں کو نہ صرف تعلیمی لحاظ سے بہتر بنائیں گے بلکہ اُن کے اندر خود اعتمادی کا معیار بھی بلند ہو گا۔ اگر آپ واقعی نئی نسل کو ایک مضبوط قوم کے طور پر تیار کرنا چاہتے ہیں تو دُنیا کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے بچوں کو ابھی سے تیار کریں تا کہ مستقبل میں ہمارے بچے ہر سطح پر مقابلے کی دوڑ میں شامل ہو سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •